بند کریں
جمعرات جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
خریدو فروخت کیلئے ایوان کو منڈی بنانے کی کوشش
5 مارچ کو سینٹ کے الیکشن ہونے والے ہیں۔ ان انتخابات کے حوالے سے بڑے بڑے جغادری رہنماوٴں نے ہارس ٹریڈنگ کا وہ واویلا کیا کہ محسوس ہوتا ہے کہ منتخب نمائندگان اسمبلی ووٹوں کے سوداگر ہیں
فرخ سعید خواجہ:
5 مارچ کو سینٹ کے الیکشن ہونے والے ہیں۔ ان انتخابات کے حوالے سے بڑے بڑے جغادری رہنماوٴں نے ہارس ٹریڈنگ کا وہ واویلا کیا کہ محسوس ہوتا ہے کہ منتخب نمائندگان اسمبلی ووٹوں کے سوداگر ہیں اور سینٹ کا الیکشن نہیں ہو رہا بلکہ ووٹوں کی خرید و فروخت کی منڈی لگی ہوئی ہے۔ ہمیں یہ رائے ظاہر کرنے میں کوئی باک نہیں کہ پاکستانی قوم میں اکثریت انتہا پسند ہے کسی کو فرشتہ قرار دینے میں انتہا پسندی کی جاتی ہے اور کسی کو شیطان کا درجہ دینے میں بھی انتہا پسندی سے کام لیا جاتا ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ کروڑوں روپے کا ووٹ خریدنا ہر ”مما شما“ کا کام نہیں ہے۔ ماضی میں سینٹ کے لئے ووٹوں کی خریداری کے سلسلے میں ایک ہی معروف خاندان نے کامیابی کے ریکارڈ قائم کئے۔ پہلے باپ اور پھر باپ بیٹا دولت کے بل بوتے پر سینٹ کے ممبر رہے اب بھی اس خاندان کے دو افراد میدان میں ہیں۔
ہمیں حیرت ہے کہ اْن امیدواروں یا اْن کے خاندان کا نام تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے لیا اور نہ ہی جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے لیا۔
جہاں تک عمران خان کے یہ کہنے کا تعلق ہے کہ ”مجھے بھی ایک شخص نے کہا کہ 15 کروڑ روپے شوکت خانم ہسپتال کو دیتا ہوں، مجھے سینٹر بنا دیں، مجھے آفرز کی جا رہی ہیں تو سوچا جا سکتا ہے کہ سینٹ انتخابات میں کتنی ہارس ٹریڈنگ ہوتی ہے۔“ اب بھلا عمران خان کو کون سمجھائے کہ آپ کو ایک ووٹ کا 15 کروڑ روپے پیش نہیں کیا جا رہا بلکہ تحریک انصاف کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے آپ کو یہ پیشکش کی گئی ہے۔
سیاسی پارٹیوں میں ٹکٹوں کی الاٹمنٹ کے د وران پارٹی فنڈ یا پارٹی لیڈر کے کسی ادارے کو چندہ دینا اور ٹکٹ حاصل کرنے جیسی خرافات ہمارے نظام سیاست میں موجود ہیں۔ ٹکٹوں کے حصول اور ووٹوں کے حصول کے لئے رقوم خرچ کرنے کے خواہش مندوں کو ایک پلڑے میں رکھنا چاہئے اور نہ ہی ان معاملات کو ایک دوسرے میں میں گڈمڈ کرنا چاہئے۔ عمران خان نے سینٹ کا الیکشن شو آف ہینڈ کے ذریعے کروانے کا مطالبہ کر دیا تاکہ الیکشن کو شفاف بنایا جا سکے اْدھر تحریک انصاف کو محاذ آرائی سے دور رکھنے اور موجودہ نظام کے ساتھ چلانے کی خواہاں مسلم لیگ (ن) نے عمران خان کے مطالبے کو بہت سنجیدگی کے ساتھ لیا اور اعلیٰ قانونی ماہرین پر مشتمل کمیٹی قائم کی جس نے آئین کے آرٹیکل 226 میں تبدیلی کیلئے 22ویں آئینی ترمیم کی سفارش کی ہے۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی اور معروف قانون دان بیرسٹر ظفراللہ خان کے مطابق ماہرین کی کمیٹی نے متفقہ طور پر آئین کے آرٹیکل 226 میں ترمیم کی سفارش کی ہے تاکہ سینٹ کے الیکشن کو شفاف بنانے کے لئے خفیہ رائے شماری کا طریقہ ختم کیا جا سکے۔ وزیراعظم نواز شریف نے ان سفارشات کو عملی شکل دینے سے پہلے خواجہ سعد رفیق اور انوشہ رحمن پر مشتمل دو کمیٹیاں قائم کیں جنہیں سیاسی جماعتوں سے رابطے کر کے اتفاق رائے پیدا کرنے کی ہدایت کی۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اس حکومتی کاوش کو سراہا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ تیزی سے شو آف ہینڈ کے طریقہ کار پر عملدرآمد کیا جائے تاہم ہماری رائے ہے کہ کمیٹیوں کے ذریعے اتفاق رائے پیدا کرنے کی بجائے انتخابی اصلاحات کے لئے قائم پارلیمانی کمیٹی میں یہ معاملہ لایا جاتا اور وہاں جو فیصلہ ہوتا اس پر علمدرآمد ہوتا تو زیادہ بہتر تھا۔
اب تک کی صورتحال میں شو آف ہینڈ کے طریقہ کار پر متضاد آرا سامنے آ رہی ہیں جن جماعتوں کی جانب سے شو آف ہینڈ کی مخالفت کی جا رہی ہے ان میں زیادہ تر خیبر پی کے کی پارٹیاں ہیں جن میں عوامی نیشنل پارٹی، قومی وطن پارٹی سمیت جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی اور بلوچستان نیشنل پارٹی شامل ہیں۔ کاش اب بھی انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی کو معاملہ بھجوا کر نہ صرف اس میں اس معاملے کا فیصلہ کروا لیا جائے بلکہ اس کے ساتھ ہی ساتھ ملک میں انتخابی طریقہ کار کو تبدیل کر کے متناسب نمائندگی کا نظام لانے پر بھی غور کیا جائے تاہم حتمی فیصلے پارلیمنٹ کے ذریعے ہی کئے جائیں۔

اب ہم پنجاب سے سینٹ کے الیکشن کی طرف آتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے سینٹ کی سات جنرل، ٹیکنو کریٹ/ علماء کی دو اور خواتین کی دو نشستوں کے لئے بحیثیت امیدوار اپنی جماعتوں کے عہدیدار اور کارکن اتارے جو کہ خوش آئند ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے اعلان کردہ امیدواروں میں وزیراعظم کے پولیٹیکل سیکرٹری ڈاکٹر آصف کرمانی اس لحاظ سے خوش قسمت قرار نہیں دئیے جا سکتے کہ کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے مرحلے میں معلوم ہوا ہے کہ بیورو کریسی نے ڈیڑھ سال پہلے اُن سے ہاتھ کر دیا تھا۔
معاون خصوصی یا مشیر کی طرح اُن کے تنخواہ اور مراعات نہیں دی گئی تھیں بلکہ 21ویں گریڈ کے افسر کا سٹیٹس تھا وہ الیکشن لڑنے کی اہلیت سے محروم ہو گئے۔ وزیراعظم پاکستان کو اپنے قابل اعتماد کارکن کے الیکشن لڑنے سے محروم رہ جانے پر دلی افسوس ہوا ہے۔ اُدھر اُن کی جگہ سندھ سے مسلم لیگ (ن) کے مرکزی نائب صدر سلیم ضیاء کو لایا گیا ہے اْن کو کوررنگ امیدوار چلتے پھرتے مسلم لیگی مسلم لیگ (ن) لائرز فورم کے سابق صدر خواجہ محمود احمد اور گورنر پنجاب کے فیورٹ قرار دئیے جانے والے امیدوار سعود مجید بنائے گئے تاہم سعود مجید کے کاغذات مسترد کر دئیے گئے اور اب وہ الیکشن کمیشن کے پاس اپیل میں جا چکے ہیں۔
پیپلز پارٹی نے بھی ندیم افضل چن اور شوکت بسرا کو میدان میں اتار کر یہ پیغام دیا کہ پیپلز پارٹی میں آج بھی سیاسی کارکنوں کے لئے آگے بڑھنے کی گنجائش موجود ہے۔ ندیم افضل چن اور شوکت بسرا کے سامنے لانے میں پیپلز پارٹی سنٹرل پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ میاں منظور وٹو بہت پُرامید ہیں کہ پنجاب سے سینٹ کے الیکشن میں پیپلز پارٹی سرپرائز دے گی اور ایک سیٹ نکال لے گی حالانکہ ہماری رائے میں پنجاب سے گیارہ کی گیارہ نشستیں مسلم لیگ (ن) باآسانی جیت جائے گی۔
تاریخ اشاعت: 2015-02-27

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان