بند کریں
پیر جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کارکردگی: پنجاب حکومت بمقابلہ خیبرپختونخوا
جہاں تک مسلم لیگ (ن) کی نئی مدمقابل سیاسی قوت بننے والی تحریک انصاف کا تعلق ہے۔ بلاشبہ اس کی خیبر پی کے حکومت کی کارکردگی شہباز شریف کی پنجاب حکومت سے کم تر ہے لیکن سیاسی لحاظ سے وہ صوبہ پنجاب سے بہتر جارہے ہیں
فرخ سعید خواجہ:
ملک بھر کی طرح حکومت طالبان کمیٹیوں کے مذاکرات کے لگ بھگ خاتمے اور دہشت گردی کے واقعات پر صوبائی دارالحکومت کے عوامی و سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے، جہاں ان مذاکرات کے بے نتیجہ رہنے اور تعطل کا شکار ہونے کے برے اثرات کا تعلق ہے اس پر تمام میڈیا ہاوٴسز کے قلمکار اور تجزیہ کار روشنی ڈال رہے ہیں لہٰذا ہم خود کو لاہور تک محدود رکھتے ہوئے ہی چند گزارشات نذر قارئین کریں گے۔
ملک کی حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے صدر اور ملک کے وزیراعظم محمد نوازشریف نے برسر اقتدار آنے کے بعد پارٹی کے عہدیداروں و کارکنوں سے مسلسل دوری کا ادراک کرتے ہوئے اْن سے پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاوٴن لاہور میں ملاقاتوں کا پروگرام بنایا تھا۔ انہوں نے پارٹی کے سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا سے ملاقات میں اْن کی اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کے ذریعے کارکنوں کے ساتھ رابطہ بنانا اہمیت کا حامل ہو گا۔
جناب نوازشریف کا فرمانا تھا کہ کارکنوں و قیادت کے درمیان رابطہ مستحکم بنا کر ہی تنظیمی قوت میں اضافہ ممکن ہے۔ نئی صورتحال میں نہیں لگتا کہ وزیراعظم پاکستان اپنی پارٹی کے مرکزی سیکرٹر یٹ میں سیاسی سرگرمیوں بالخصوص پارٹی کارکنوں سے ملاقاتوں کے لئے وقت نہیں نکال سکیں گے۔ مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر اور وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف البتہ اپنی صوبائی پارلیمانی پارٹی کے باقاعدہ اجلاس منعقد کرنے کا سلسلہ شروع کر سکتے ہیں۔
11 مئی کے الیکشن کے بعد ماسوائے مخصوص نشستوں کے انتخابات سے پہلے انہوں نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت ضرور کی تھی مگر اس کے بعد پنجاب اسمبلی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلانے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی گئی۔ میاں شہباز شریف 1997ء اور 2008ء میں بھی وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں، ان ادوار میں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس ہوا کرتے تھے جن میں ممبران اسمبلی مفید آراء کا اظہار کرنے کے جرم کے مرتکب ہوتے رہے ہیں۔
ہماری رائے میں انہیں پارٹی اور صوبے کے حق میں جو صحیح سمجھیں اس موٴقف کو بیان کرنے سے روکنا نہ جمہوریت کی کوئی خدمت ہے اور نہ ہی مسلم لیگ (ن) کی۔
جہاں تک مسلم لیگ (ن) کی نئی مدمقابل سیاسی قوت بننے والی تحریک انصاف کا تعلق ہے۔ بلاشبہ اس کی خیبر پی کے حکومت کی کارکردگی شہباز شریف کی پنجاب حکومت سے کم تر ہے لیکن سیاسی لحاظ سے وہ صوبہ پنجاب سے بہتر جا رہے ہیں۔
خیبر پی کے کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے پارٹی چیئرمین عمران خان کو صوبے میں مداخلت سے ایک حد سے کبھی بڑھنے نہیں دیا۔ تمام اہم معاملات پر مشاورت کا عمل بھی پاکستان تحریک انصاف میں مسلم لیگ (ن) سے بہتر ہے۔ حکومت طالبان مذاکرات پر حال ہی میں تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اجلاس بلا کر فیصلوں کا اعلان کیا گیا ہے، جہاں تک ہماری رائے کا تعلق ہے ہمیں پارٹی کے آئینی اداروں مثلاً سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی یا سنٹرل ورکنگ کمیٹی کی بجائے کور کمیٹیوں یا پارٹی کے اعلیٰ سطحی اجلاسوں یا عہدیداران کے اجلاس کی روش پر اعتراض ہے۔
سیاسی جماعتیں اگر اپنی پارٹیاں اپنی ہی پارٹیوں کے آئین کے مطابق نہیں چلائیں گی تو ملک کے آئین پر کیا خاک عمل کریں گی۔
سابق حکمران اور سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے شہزادے بلاول بھٹو کی لاہور آمد کے چرچے جاری ہیں لیکن ہماری اطلاع کے مطابق تاحال اْن کی لاہور آمد کا کوئی حتمی شیڈول تیار نہیں کیا گیا ہے تاہم پارٹی کے صوبائی صدر میاں منظور وٹو پریس کانفرنسوں، اجلاسوں کے ذریعے اپنے ساتھیوں کا خون گرمانے کی کوششیں ضرور کر رہے ہیں۔
مسلم لیگ (ق) بھی صوبائی دارالحکومت تک اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے، کامل علی آغا بھی میدان میں نکل آئے ہیں۔ اْن کے ساتھ میاں محمد منیر، خواجہ طاہر ضیاء، شیخ عمر حیات بھی سرگرم عمل ہو گئے ہیں اور اِن لوگوں نے پارٹی کی جاندار خواتین سیمل کامران، خدیجہ فاروقی، ماجدہ زیدی، آمنہ الفت کے ساتھ مل کر لاہور کے مختلف علاقوں میں کارنر میٹنگز کا آغاز کر دیا ہے جسے تنظیمی اجلاس بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ باوجود ملک پر چھائی ہوئی دہشت گردی کی فضا کے سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی طور پر اپنے وجود کا عوام کو احساس دلائے ہوئے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کا پنپنا ہی ملک میں جمہوریت کی بقا کا باعث بن سکتا ہے وگرنہ مسلح گروہ لوگوں کا جینا اجیرن کر دیں گے۔
تاریخ اشاعت: 2014-02-21

(6) ووٹ وصول ہوئے