بند کریں
جمعرات جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کراچی ضمنی الیکشن نے آپریشن اور میڈیا ٹرائل پر غلبہ پا لیا
کراچی میں قومی اسمبلی کا ضمنی انتخاب فریقین کے درمیان جنگ میں تبدیل ہوگیا جس کے ساتھ کراچی ایک بار پھر توجہ اورسیاست کا مرکز بن گیا ہے پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے درمیان تصادم اور پتھراوٴ کے بعد
کراچی میں قومی اسمبلی کا ضمنی انتخاب فریقین کے درمیان جنگ میں تبدیل ہوگیا جس کے ساتھ کراچی ایک بار پھر توجہ اورسیاست کا مرکز بن گیا ہے پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے درمیان تصادم اور پتھراوٴ کے بعد اب وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے ضمنی انتخاب رینجرز کی نگرانی میں کرانے کا فیصلہ کیا ہے اورحکومت سندھ نے اس کیلئے ا لیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا ہے۔
اسمبلیوں میں واپسی کے بعد لعن طعن سے نڈھال تحریک انصاف نے کراچی کے انتخاب میں پناہ لینے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ کراچی میں یہ بات موضوع بحث بنی ہوئی ہے کہ کیا عمران خان میدان مار لیں گے 19اپریل کو جناح گرآنڈ میں عمران خان کے تاریخی جلسہ عام سے قبل عزیز آباد میں سیاسی کارکنوں کے درمیان کشمکش بڑھ گئی ہے۔ اس دوران نعرے بازی اورپتھراوٴ کے واقعات ہوئے ہیں کمشنر کراچی انتباہ کرچکے ہیں کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔
یہ ضابطہ اخلاق گورنر ہاوٴس میں طے ہوا تھا۔ لیکن دوسرے دن اس وقت سوالیہ نشان بن گیا۔ جب عائشہ منزل فلائی اوور پر تحریک انصاف کی ریلی پر پتھراوٴ کیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد وزیراعلیٰ سندھ نے رینجرز کو بلانے کا فیصلہ کیا۔ ایم کیو ایم نے کہا کہ اس کو رینجرز یا فوج طلب کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ عمران خان بیشک جارحانہ موڈ ہیں لیکن ایم کیوا یم کی جانب سے ضمنی انتخاب کے بائیکاٹ کے بادل چھٹ گئے ہیں۔
19 اپریل کو تحریک انصاف کے جلسہ عام سے قبل تناوٴ کا اندیشہ ہے کیو نکہ عمران خان نے جناح گراوٴنڈ میں جلسہ عام کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ دوسری جانب جناح گراوٴنڈ میں ایم کیو ایم کا مرکزی الیکشن آفس قائم ہے۔ جلسہ کے انعقاد کیلئے الیکشن آفس ختم کرنا ہوگا اس معاملہ پر تنازعہ کو خارج از امکان قرار نہیں دیاجاسکتا۔ حکومت سندھ کا محکمہ داخلہ حلقہ نمبر246 کے انتخاب کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔
بعض افسران بار بار ا ستفسار کررہے ہیں کیا ان حالات میں انتخابات ہوسکتے ہیں۔ محکمہ داخلہ پولیس سے یہ رپورٹ مانگ چکا ہے کہ کیا عزیز آباد میں الیکشن ہوسکتے ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری کراچی میں ہر صورت میں امن برقرار رکھنے کی ہدایت کی تھی۔حلقہ 246کے انتخاب سے ایم کیو ایم کوفائدہ بھی ہوا اورنقصان بھی ہوسکتا ہے۔ فائدہ یہ ہوا ہے کہ آپریشن پس منظر میں چلا گیا ہے اورچینلوں پر ایم کیو ایم کا میڈیا ٹرائل رک گیا نقصان یہ ہوا ہے۔
تحریک انصاف کریم آباد کی گلیوں میں گھس گئی اور اس کے کارکنوں نے ایم کیو ایم کے گڑھ میں جھنڈے لہرا دیئے ہیں۔ 11مئی 2013 کے الیکشن میں پی ٹی آئی نے کریم آباد سے 31ہزار ووٹ لئے تھے کریم آباد پرنس کریم آغا خان کے نام سے منسوب ہے اوریہاں برگرکلاس زیادہ رہتی ہے کریم آباد کے ووٹ بنک کے بل بوتے پر تحریک انصاف میدان مارنے کیلئے بے چین ہے اور اس کا خیال ہے کہ 23اپریل کو اپ سیٹ ہوجائے گا۔
نائن زیرو کے حلقہ سے تحریک انصاف ایم کیو ایم جماعت اسلامی اورپاسبان کے امیدوار میدان میں ہیں۔ اصل مقابلہ ایم کیوایم اورتحریک انصاف کے درمیا ن ہے۔ لیکن جماعت اسلامی کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا 87ء کے بلدیاتی اور88ء کے عام انتخابات سے قبل کراچی وسطی جماعت اسلامی کا گڑھ تھا 2002 ء کے الیکشن میں بھی جماعت اسلامی نے آئی جے آئی کے پلیٹ فارم سے اپ سیٹ کردیا تھا جب ایم کیو ایم کے ووٹ گھٹ کر50فیصد رہ گئے تھے۔
جماعت اسلامی نے اس حلقے سے پہلے کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کو ٹکٹ دیا اب راشد نسیم کو میدان میں اتارا ہے راشد نسیم ایم کیو ایم سے زیادہ تحریک انصاف کیلئے خطرہ ہیں۔ گزشتہ سال تحریک انصاف اورجماعت اسلامی کے درمیان بلدیاتی انتخابات مل کر لڑنے پر اتفاق رائے ہوگیا تھا۔ لیکن ضمنی انتخابات میں اشتراک عمل نہیں ہوسکا۔ 11مئی 2013ء کے الیکشن میں تحریک انصاف نے حلقہ نمبر246سے 31ہزار ووٹ حاصل کئے تھے۔
ضمنی انتخابات میں چونکہ ٹرن آوٴٹ کم ہوتا ہے اس لئے تحریک انصاف کویقین ہے کہ وہ اپنا ووٹ بنک برقرار رکھتے ہوئے کامیابی حاصل کرلے گی ادھر ایم کیو ایم کی صفیں بکھری ہوئی ہیں۔ ایم کیو ایم کا المیہ یہ ہے کہ اس کے پاس اب کارکنوں کا کال پڑ گیا ہے 11مارچ کے بعد اب 23اپریل کو عزیز آباد کی گلیاں رینجرز سے بھری ہوں گی۔ تووہاں ایم کیو ایم کے کارکن کیسے پر مار سکیں گے۔
ایک اہم صوبائی وزیر جوکہ خوابوں کے شہزادے کہلاتے ہیں وہ پی ٹی آئی کی کامیابی کی پیش گوئی کرچکے ہیں۔یہ صوبائی وزیر سابق صدر کے بہت نزدیک ہیں اور ان کی پیش گوئیاں درست ہوتی ہیں انہوں نے 11 مئی 2013 کے انتخابات سے پہلے پیش گوئی تھی کی کہ پیپلز پارٹی کو سندھ میں 72براہ راست نشستیں ملیں گی اور ان کا دعویٰ 100فیصد درست ثابت ہوا۔وہ اب کہہ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی 26ہزار ووٹ لے کر جیت جائے گی۔
ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی کو سینٹ میں ووٹ دیئے تھے ایم کیو ایم کے حلقے حالیہ آپریشن کو اس گستاخی کاشاخسانہ بھی قرار دے رہے ہیں۔ لیکن پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کی قربانیوں کو تسلیم تک کرنے کیلئے تیار نہیں۔ دونوں جماعتوں کے درمیان ویسے تو مفاہمت ہے۔ لیکن جب سے ایم کیو ایم پربرا وقت آیا ہے پیپلز پارٹی نے اسے کابینہ میں شامل کرنے سے بھی گریز کیا ہے۔
اب وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے یہ اعلان بھی کردیا ہے کہ ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔جمعہ کو کراچی کی فضا ایک بار پھر اس وقت کشیدہ ہوگئی جب تحریک انصاف کے انتخابی کیمپ پر حملہ کیا گیا۔اس دوران دونوں جانب سے نعرہ بازی ہوئی اور صورتحال پر قابو پانے کیلئے پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔
ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اس واقعہ کی مذمت کی اورکہا کہ حملہ ایم کیو ایم کے کارکنوں نے نہیں کیا۔ گورنر ہاوٴس میں ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے درمیان ہونے والی صلح عارضی ثابت ہوئی ایم کیو ایم کو اب سب آنکھیں دکھا رہے ہیں اورعزیز آباد جاکر جناح گراوٴنڈ میں تصاویر بنوارہے ہیں۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سندھ وزیر جیل خانہ جات منظوروسان بھی صولت مرزا کو کراچی سینٹرل جیل سے مچھ جیل شفٹ کرنے کی داد وصول کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میرے دور میں یہ کارنامہ انجام دیا گیا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ سال سوا سال میں کراچی میں امن ہوجائے گا۔ایم کیو ایم کی مشکلات کراچی سے لندن تک بڑھ رہی ہیں۔ لندن میں الطاف حسین کے جانشین کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی گئی۔ا یم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اعتراف کرچکے ہیں کہ ایم کیو ایم پر چاروں طرف سے حملے ہورہے ہیں یہ تو نہیں کہاجاسکتا ہے کہ ایم کیو ایم کو پہلی بار کڑے وقت کا سامنا ہے کیونکہ 92ء 95ء اور 98ء میں ایم کیو ایم زیادہ برے حالات سے گزرچکی ہے۔

دوسری جانب سندھ کے وزیراطلاعات شرجیل میمن کا کریڈٹ یہ ہے کہ انہوں نے اب تک 100سے زائد شادی ہال مسمار کردیئے ہیں۔ جن میں ایک سابق وفاقی وزیر بابر غوری اور ایم کیو ایم کے رہنماوٴں کے شادی ہال شامل ہیں ایم کیو ایم کے ایک گرفتار رہنما کے شادی ہال کو غلط گرایا گیا جس پر ان سے معذرت کی گئی اب شرجیل میمن جہاں جاتے ہیں وہاں شرجیل میمن زندہ باد کے نعرے لگتے ہیں۔
دریں اثناء یمن میں پھنسے ہوئے 147افراد کو لے کر پاک بحریہ کا جہاز پی این ایس کا جہاز کراچی کی بندرگاہ پر پہنچ گیا جس کے ساتھ جذباتی اور رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ پاکستانی مسافر وطن کی سرزمین پرقدم رکھتے ہی سجدہ ریز ہوگئے اور انہوں نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔ اس موقع پر مسافروں اور ان کے اہل خانہ کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو تھے۔
بحری جہاز اصلت کی آمد کے موقع پر مسافروں کے رشتہ دار صبح ہی سے کیماڑی پہنچ گئے تھے۔ ان کے ہاتھ میں پاکستان کے پرچم پھولوں کے ہار ا ور گلدستے تھے پاکستانیوں کے رشتہ داروں نے جہاز کے عملہ کو ہار پہنائے اورپاکستان بحریہ کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے اور پرچم لہرائے۔ سب سے پہلے غیر ملکیوں کو اتارا گیا۔
جہاز میں خواتین اور بچے شامل تھے۔ منگل کو جو مسافرو کراچی آئے ان کا تعلق صنعا عدن اور الحدیدہ سے تھا۔ جہاز سے اترتے ہی مسافر رشتہ داروں سے لپٹ کر رونے لگے۔ وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے رکن صوبائی اسمبلی ہمایوں خان نے مسافروں کا استقبال کیا جبکہ مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ سندھ کے صدر آصف خان اور دوسرے مسلم لیگی موجود تھے۔ پاک بحریہ کے جہاز کی آمد پر ایک ہیلی کاپٹر فضائی نگرانی کی۔ 27مارچ کو ایک محصور خاتون نوشین نے یمن سے وزیراعظم محمد نواز شریف کو پکارا تھا جس کے بعد حکومت نے پاکستانیوں کی واپسی کے انتظامات کیے۔ کراچی کے شہریوں نے بھی پاک بحریہ کو خراج تحسین پیش کیا۔ پاک بحریہ کا ریسکیو مشن 10روز میں مکمل ہوا۔
تاریخ اشاعت: 2015-04-11

(0) ووٹ وصول ہوئے