بند کریں
جمعرات جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
جے یو آئی اور جے یو پی کی پی پی سے مفاہمت متوقع
پی پی نے کسی بڑے سیاسی الائنس کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے حیدر آباد میں جمعیت علمائے پاکستان، بالائی سندھ میں جمعیت علمائے اسلام سے گفتار شنید جاری ہے ماضی میں اس کا ٹنڈوآدم میں جماعت اسلامی سے اتحاد تھا
الطاف مجاہد:
چودھری شجاعت کی ایک بار پھر سندھ یاترا اور سیاسی عمائدین سے ملاقاتیں سیاسی حلقوں کو چونکا گئی ہیں اس پر دو موٴقف ہیں ایک یہ کہ مقتدر حلقوں کے ایما پر ق لیگ کے احیا کی کوششیں ہو رہی ہیں دوسرے یہ کہ حکومت کے خلاف وسیع تر اتحاد کی سمت پر ایک نئی پیشرفت ہے چونکہ 31 اکتوبر کو سندھ کے شکارپور، جیکب آباد، کشمور، لاڑکانہ، قمبر، خیرپو، سکھر اور گھوٹکی اضلاع میں بلدیاتی الیکشن ہونے جا رہے ہیں اس لئے پی پی کا مقابلہ تن تنہا کرنے کی بجائے اس کے مخالف اس ”کارخیر“ میں دیگر کی شمولیت بھی چاہتے ہیں بعض مقامات پر تو یہ کوشش بھان متی کا کنبہ ثابت ہو رہی ہے کہ تحریک انصاف، ن لیگ، جماعت اسلامی حتی کہ متحدہ قومی موومنٹ کو بھی شامل کیا جا رہا ہے حالانکہ سنگین الزام اور باتیں کی گئی تھیں اس کے بعد یہ اتحاد کچھ عبث سا لگتا ہے۔
دوسری طرف پی پی نے کسی بڑے سیاسی الائنس کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے حیدر آباد میں جمعیت علمائے پاکستان، بالائی سندھ میں جمعیت علمائے اسلام سے گفتار شنید جاری ہے ماضی میں اس کا ٹنڈوآدم میں جماعت اسلامی سے اتحاد تھا بعض اضلاع کی حد تک متحدہ سے مفاہمت تھی اور کئی دیگر اضلاع مختلف برادریوں نے ”راجوانی اتحاد“ تشکیل دیئے تھے سندھ میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہوں گے پہلے مرحلے میں بالائی سندھ کے لاڑکانہ اور سکھر ڈویڑنوں کو چنا گیا ہے یہاں دلچسپ معرکے متوقع ہیں بالخصوص روایتی گھرانے آزمودہ کار سیاست دان، گھاگ وڈیرے اور دیگر لوگ جب مدمقابل ہوں گے تو صورتحال خاصی معنی خیز ہو گی بڑے گھرانوں نے تو اپنے امیدوار بھی نامزد کر دیئے ماضی کے ق لیگی اور ان دنوں فنکشنل لیگ سے وابستہ غوث بخش مہر نے ضلع شکار پور کے لئے اپنے بیٹے عارف مہر کی نامزدگی کا اعلان کیا ہے اسی ضلع سے پی پی کے سپیکر آغا سراج درانی کی کوشش ہے کہ آغا مسیح الدین درانی عوام دوست امیدوار کے طور پر سامنے آئیں لاڑکانہ میں تحریک انصاف، مسلم لیگ ن، فنکشنل لیگ اور پی پی ورکرز یعنی ناہید خان گروپ پر مشتمل اتحاد کی تیاریاں جاری ہیں جب کہ پڑوسی ضلع قمبر شہداد کوٹ میں بھی پی پی کے تمام مخالف مجتمع ہو رہے ہیں گویا گھمسان کا رن پڑے گا۔
بلاول بھٹو زرداری نے اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں لیکن چھاپے اور گرفتاریاں پی پی کے لیے نیک شگون نہیں کیونکہ 22 اہم شخصیات کی گرفتاری متوقع ہے اور سندھ کابینہ میں ایک بار پھر ردوبدل کی اطلاعات ہیں اس بار قلمدان تبدیل نہیں ہوں گے بلکہ کئی بڑے نام گھروں کو سدھاریں گے ان میں شرجیل میمن، مکین چاؤلہ، ممتاز جاکھرانی اور حال ہی میں کچی آبادیز کے محکمے کا چارج سنبھالے والے طارق مسعود آرائیں کا نام بھی لیا جا رہا ہے کچھ مشیر اور معاونین خصوصی بھی تطہیر کے عمل کا نشانہ بنیں گے۔
دوسری طرف سابق متحدہ مجلس عمل کو بھی بلدیاتی الیکشن کے لئے فعال کرنے کے لئے جماعت اسلامی کی کوششیں سامنے آئیں تھیں اگر ایسا ہو جاتا تو دینی ووٹ کراچی، حیدر آباد، سکھر، میرپور خاص ہی نہیں صوبے کے بالائی اور زیریں اضلاع میں بھی کچھ نشستیں حاصل کر سکتا تھا لیکن جمعیت علمائے اسلام اور پی پی میں اتحاد کی کوششیں اور حیدر آباد سکھر کراچی کی سطح پر جمعیت علمائے پاکستان نورانی اور پی پی میں مفاہمت کے امکانات اس کوشش کو سبوتاڑ کر گئے حیدر آباد میں سابق وفاقی وزیر اور پی پی کے سنیٹر مولا بخش چانڈیو نے جے یو پی کے سربراہ صاحبزادہ ابوالخیر زبیر سے ملاقات کی اور آئندہ بلدیاتی الیکشن پر تبادلہ خیال کیا جامعہ مجددیہ رکن الاسلام کی ملاقات میں طے پایا کہ جمعیت اور پی پی بلدیاتی الیکشن مل کر لڑیں گے ایسے ہی مذاکرات جے یو آئی ف سے جاری ہیں اور یہ مفاہمت پورے صوبے کی سطح پر ہو گی اصل سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ سندھ میں تمام جماعتیں بھی سرگرم فعال ہیں۔
تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ ممتاز بھٹو اسے جوائن کر لیں عارف علوی کے رابطوں اور ملاقاتوں کے حوالے سے باخبر حلقے دعوی کرتے ہیں ممتاز بھٹو کے بیٹے امیر بخش کو سندھ کی صدارت دی جا سکتی ہے مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی اپنے مریدوں کی غوثیہ جماعت کو ہدایت دے چکے ہیں کہ وہ فعال ہو جائیں فنکشنل لیگ کے سربراہ پیر پگارو اور ان کے بھائی صدر الدین راشدی بھی مریدوں، مقتدوں اور سپورٹروں سے رابطے میں ہیں ایسے میں ن لیگ کے مرحوم جنرل سیکرٹری مخدوم شاہ نوازکے بھائی مخدوم عطا نے شہر شہر رابطے شروع کئے تو صوبائی صدر اسماعیل راہو نے بھی میرپور خاص میں کنونشن طلب کیا اس موقع پر یہ خبر توجہ کے ساتھ سنی گئی کہ جام معشوق علی کو وزیراعظم نے سندھ سے اپنا سیاسی مشیر مقرر کیا ہے جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہو چکا ہے خاص بات یہ ہے کہ جام معشوق کے گاؤں جام نواز علی اور مخدوم شاہ نواز کے قبضے ہالا میں منٹوں کا فاصلہ ہے جام معشوق کی انٹری سندھ میں نواز شریف کا پارٹی کے منحرفین کے لئے ایک پیغام بھی ہے اس سے قبل بھی اسماعیل راہو، ماروی میمن، راحیلہ مگسی کو نمایاں کرنے پر سینئر کارکنان کو تحفظات تھے حالیہ تقرری ان اعتراضات میں شدت لائے گی۔
صوبے میں یہ بات عام کہی جاتی ہے کہ نواز شریف براہ راست اپنے ووٹروں سے رابطے کی بجائے اپر کلاس پر انحصار کر رہے ہیں جس سے لگتا ہے کہ ان کے سیاسی ایجنڈے میں سندھ شامل نہیں ہے۔ چودھری شجاعت کی سندھ اور پیر پگارا پرویز مشرف سے ملاقاتیں وفاق میں ن لیگ، فنکشنل لیگ مفاہمت پر سوالیہ نشان ضرور ہیں کیونکہ مقصد ق لیگ کا احیا ہو یا کسی نئے اتحاد کی پیش رفت ہر صورت میں سیاسی نقصان سندھ میں مسلم لیگ ن کو ہی پہنچے گا۔
تاریخ اشاعت: 2015-09-05

(0) ووٹ وصول ہوئے