بند کریں
جمعرات جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ
کیا دھرنا سیاست ناکام ہوگئی ۔۔۔۔۔ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو پوری قوم ست معافی مانگنی چاہئے
سالک مجید :
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں 3رکنی جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد 2013کے عام انتخابات میں دھاندلی اور سازش سے متعلق عمران خان اور پی ٹی آئی قیادت کے تاریخی اور شاندار مسترد ہوگئے ہیں اور نوازشریف حکومت کو بہت بڑی بلکہ تاریخی اور شاندار فتح حاصل ہوئی ہے اور پانچ سالہ دور کے باقی ماندہ 3سال کے لئے بہت بڑا ریلیف بھی مل گیا ہے اب حکومت یکسوئی کے ساتھ عوامی خدمت وملکی ترقی کے ایجنڈے پر کام کر سکے گی جبکہ عمران خان اور ان کے حواریوں کو بھی بہت بڑا سبق مل گیا ہے اگر وہ سیکھنے کے لئے تیار ہوں تو اس مرحلے پر اپنی غلطیوں کو سدھارنے کا موقع ہے تاکہ مستقبل میں قدرے مختلف سنجیدہ اور بردبار انداز سیاست اختیار کر سکیں تاکہ انہیں پوری قوم بلکہ پوری دنیا کے سامنے یوں باربار شرمندہ نہ ہونا پڑے ۔

اللہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے ۔ دھرنے کے 126دنوں میں عمران خان اور ان کے جھوٹے الزامات لگانے والے ساتھیوں نے کوئی دن ایسا نہیں جانے دیا تھا جب وزیراعظم نوازشریف پر بہتان تراشی نہ کی ہو اور وہ مسلسل کردار کشی کی مہم چلاتے رہے لیکن نوازشریف کا صبر جیت گیا ور اللہ بے شک صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔ سیاسی مخالفین نے لاکھ کوشش کر لی کہ نوازشریف سے اقتدار چھین لیا جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے نوازشریف کو تیسری مرتبہ وزیراعظم بنا کر عزت دی اور پھر دھرنے والوں کا جھوٹ بھی قوم کے سامنے آگیا ۔
ایک بار پھر جھوٹ ہار گیا اور سچ کی جیت ہوئی ۔ نواز شریف کی جیت ہوئی ۔
سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے کہ جوڈیشل کمیشن کا یہ تاریخ ساز فیصلہ درحقیقت صرف جھوٹے الزامات لگانے والے سیاستدانوں کی ہی شکست نہیں ہے بلکہ ان نام نہاد اینکرز ، بکاؤٹی وی چینلز اور کٹھ پتلی تجزیہ کاروں اور پے رول صحافیوں کی بھی شکست ہے جنہوں نے جھوٹے الزامات لگانے کی دوڑ میں خود کو سب سے آگے رکھا اور آج اپنے گھروں اپنے خاندان اپنے دوستوں اور پوری قوم اور دنیا کے سامنے ذلیل اور شرمندہ ہورہے ہیں بلکہ منہ چھپاتے پھر رہے ہیں شاید خواجہ آصف کی تقریر ایسے ہی لوگوں کے لئے تھی کچھ شرم کرو کچھ حیاء کرو ، شوشل میڈیا پر بھی یہ تصبرے ہورہے ہیں ۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے فیصلے سے جہاں عمران خان اور ان کی سیاست کو زبردست نقصان ہوا ہے اور بڑا دھچکہ لگا ہے وہاں وزیراعظم نواز شریف اور ان کی پارٹی کا سیاسی قدمزید بلند ہوگیا ہے عوام کو سچ اور جھوٹ کافرق پتہ لگ گیا ہے جوڈیشل کمشن کی رپورٹ نے دودھ کا دودھ اور پانی صاف کردیا ہے سچ جیت گیا ہے اور جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے ۔
ایک جھوٹ بولنے والوں کو 126دن تک مسلسل جھوٹ بولتے رہنا پڑا لیکن کچھ ہاتھ نہیں آیا ۔ دوسروں پر کیچڑا چھالنے والوں کے اپنے ہاتھ گندے ہوگئے جو لوگ بڑے غرور اور تکبر کے ساتھ حکمرانوں کی وکٹیں گرانے آئے تھے ان کی اپنی وکٹیں اکھڑگئیں ان کی پوری بولنگ ہی نوبال قرار پاگئی بلکہ ایکشن ہی متنازعہ بن گیا ۔
غرور کا سر ایک بار نیچا ہوا ۔ دوسروں پر 35پنکچر کا الزام لگانے والوں کی اپنی سیاست پنکچر ہوگی ہے ۔
یہ صرف حکومت اور مسلم لیگ (ن) کی فتح نہیں بلکہ یہ الیکشن کمشن آف پاکستان کی بھی فتح ہے یہ نگران حکومتوں کی بھی فتح ہے یہ فخروبھائی کی بھی فتح ہے یہ افتخار چودھری کی بھی فتح ہے ۔ یہ خلیل رمدے کی بھی فتح ہے ، یہ ہر اس شخص کی فتح ہے جس پر عمران خان اور ان کے حواریوں نے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگائے اور قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی یہ نجم سیٹھی کی بھی فتح ہے بلکہ یہ مسلم لیگ (ن) کے تمام رہنماؤں اور پوری قیادت کی فتح ہے بلکہ یہ تمام ووٹرزاور پاکستان کی پوری قوم کی فتح ہے ۔
یہ جمہوری نظام اور پارلیمانی نظام کی فتح ہے یہ جمہوریت کی فتح ہے اور یہ جمہوریت کے خلاف سازش کرنے والے تمام شیطانوں کی شکست ہے ۔ یہ ان تمام لوگوں کی شکست ہے جو اس جمہوری پارلیمانی نظام کو لپیٹنے آئے تھے جنہوں نے آگ لگا دو ، جلادوماردو کانعرہ لگایا تھا جنہوں نے گریبان سے پکڑکر کھینچ لینے کی بات کی تھی جنہوں نے پی ٹی وی پر حملہ کیا اور جنہوں نے پارلیمنٹ کو جعلی پارلیمنٹ کہا تھا اور وزیراعظم ہاؤس پر قبضہ کرنے چلے تھے ۔
یہ ان تمام شیطانو ں کی شکست ہے ۔
سیاسی وسفارتی حلقوں میں جوڈیشل کمشن کی رپورٹ اور اس کے سیاسی اثرات کے حوالے سے بحث جاری ہے ۔ وزیراعظم نواز شریف کے قوم سے کئے گئے خطاب کوہر شخص نے سراہا ہے ۔ انہوں نے مثبت باتیں کی ہیں اور اب اس بات پر زور دیا جارہا ہے کہ ملک وقوم کا بہت وقت ضائع کیا جاچکا مزید وقت ضائع کرنے کی بجائے صوبائی اور وفاتی حکومتیں اپنی تمام تر توجہ ترقی وخوشحالی کے راستے پر مرکوز کریں اور منفی سیاست اور احتجاجی دھرنے بند کئے جائیں ۔
اگر دھرناسیاست پر اتنا قیمتی وقت بردنہ کیا گیا ہوتا اگر وزیراعلیٰ پرویز خٹک کینٹیسز پرڈانس کرنے کی بجائے اپنے صوبے کے لئے کام کرنے پر دھیان دیتے تو آج خیبرپی کے میں سیلاب یہ تباہی نہ مچاپاتا ۔ خود عمران خان نے اعتراف کر لیا کہ دھرنے کی وجہ سے خیبرپی کے پر توجہ نہیں دے سکا ۔ اب خیبرپی کے پر توجہ دوں گا۔ کاش یہ خیال عمران خان کو پچھلے سال آجاتا ۔
اللہ کرے اب بھی پی ٹی آئی اور دیگر جماعتیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور جھوٹے الزامات لگا نے پر توانائی خرچ کرنے کی بجائے عوام کی خدمت پر توجہ دیں ۔
کراچی کی مخصوص سیاست اور کشیدہ صورتحال کے باوجود سیاسی حلقوں میں جوڈیشل کمشن کی رپورٹ اور وزیراعظم کے قوم سے خطاب کو سراہا جارہا ہے اور پی ٹی آئی سے اب بہتر رویئے اور سنجیدہ سیاست کی توقعات وابستہ کی جارہی ہیں ۔
تاریخ اشاعت: 2015-07-30

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان