بند کریں
جمعرات جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ ، جاوید ہاشمی پھر متحرک ہوگئے
گزشتہ کئی ماہ انہوں نے کافی حد تک خاموشی سے گزارے تھے۔ عمران خان نے انہیں جب کنٹینر سے گلے لگا کر رخصت کیا تھا۔ تو صورتحال ایسی تھی کہ کسی بھی لمحے کچھ بھی ہونے کی توقع کی جا سکتی تھی
راوٴ شمیم اصغر:
پاکستان تحریک انصاف کے سابق صدر مخدوم محمد جاوید ہاشمی جوڈیشل کمیشن کی جانب سے فیصلے کے اعلان کے بعد ان دنوں خبروں میں پوری طرح ان ہیں۔ گزشتہ کئی ماہ انہوں نے کافی حد تک خاموشی سے گزارے تھے۔ عمران خان نے انہیں جب کنٹینر سے گلے لگا کر رخصت کیا تھا۔ تو صورتحال ایسی تھی کہ کسی بھی لمحے کچھ بھی ہونے کی توقع کی جا سکتی تھی۔
تحریک انصاف اور اس کی قیادت کو زمان پارک لاہور سے اٹھا کر اسلام آباد لانے والے پوری طرح متحرک تھے۔ زمان پارک لاہور سے چلتے وقت ہی پارٹی قائدین نے اندازہ کر لیا تھا کہ مطلوبہ افرادی قوت ان کے ساتھ نہیں لیکن ان کے پیچھے جو کمک آ رہی تھی اس سے بہت زیادہ توقعات وابستہ تھیں۔ گوجرانوالہ میں قافلہ ”تبدیلی “نے افرادی قوت میں اضافے کے لئے کافی انتظار بھی کیا لیکن پھر انکشاف ہوا کہ افرادی قوت میں اضافے کی بجائے ہر گزرتے لمحے کے ساتھ کمی ہو رہی ہے تو ڈی جے بٹ کی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد کا رخ کیا گیا۔
اسلام آباد میں بھی بقول مخدوم جاوید ہاشمی نفری 36 ہزار چند سو سے زیادہ نہ بڑھ سکی۔ یہ گنتی بھی اس وقت کی ہے جب ڈی جی بٹ کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا اور اہلیان اسلام آباد و راولپنڈی کو ہر شام اچھی تفریح میسر آ گئی تھی۔ مخدوم محمد جاوید ہاشمی کو عمران خان نے رخصت کیا تو کنٹینر پر ان کے ارد گرد کھڑے کچھ لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا تھا۔
ان کا خیال تھا کہ عمران خان کے سونامی سے الگ ہو کر ایک چیونٹی کنٹینر سے نیچے اتر گئی ہے اور پھر ٹی وی کیمروں کی آنکھوں نے عوام کو دیکھایا کہ کنٹینر کی چھت کا ماحول ایسا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ ایسے میں تحریک انصاف کے کچھ رہنماؤں کو یہ بات سمجھ آ رہی تھی کہ کنٹینر کی چھت سے نیچے اترنے والا گھر کا بھیدی ہے اسے کنٹینر سے باہر نہ جانے دیا جائے سمجھا بجھا کر راضی کر لیا جائے۔
ان لوگوں نے عمران خان کو بھی قائل کرنے کی کوشش کی کہ ایسے وقت میں جب کسی بھی لمحے کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ مخدوم جاوید ہاشمی کے کنٹینر سے اترنے کے نقصانات ہو سکتے ہیں۔ لیکن عمران خان اور اس کے ارد گرد کھڑے لوگوں کو پارلیمنٹ ہاؤس۔ ایوان صدر اور ان کے عقب میں وزیر اعظم ہاؤس نظر آ رہے تھے مخدوم جاوید ہاشمی کنٹینر سے اتر گئے۔ جیسے چیونٹی سمجھا گیا گھر کے اس بھیدی نے لنکا ڈاھا دی۔
مخدوم جاوید ہاشمی پھر اچانک قومی اسمبلی میں نمودار ہوئے اور پوری تحریک انصاف دفاعی پوزیشن پر آ گئی۔ مسلم لیگ ن کے ایک رہنما کے مطابق مسلم لیگ ن کو دفنانے کی تیاریاں کر لی گئی تھیں۔ مخدوم جاوید ہاشمی مدد کو آ گئے۔ کنٹینر اس کے بعد بھی کافی دنوں تک آباد رہا۔ ڈی جے بٹ کی دھنوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے عین سامنے سہانی شاموں کو زندہ رکھا لیکن پھر مسلم لیگ ن پر مٹی ڈالنے کی باتیں قصہ پارنیہ بن گئیں۔
خود تحریک انصاف کے گلے میں دھرنا اٹک کر رہ گیا۔ مخدوم جاوید ہاشمی ملتان آ گئے۔ کافی دنوں تک وہ اس سوچ بچار میں رہے کہ اپنی چھوڑی ہوئی نشست پر ضمنی الیکشن آزاد حیثیت میں لڑنا ہے یا مسلم لیگ ن کی ٹکٹ کی آفر کو قبول کر لیا جائے۔ پیپلز پارٹی نے مد مقابل امیدوار کھڑا نہ کرنے کی یقین دہانی کروالی تھی۔ دیگر جماعتوں نے بھی ایسے ہی وعدے کئے تھے۔
بظاہر منظر اور میدان صاف نظر آ رہا تھا۔ لیکن وہ لوگ جو تحریک انصاف کو زمان پارک لاہور سے اٹھا کر اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے لے گئے تھے انہوں نے اپنی سْبکی کا پوری طرح بدلہ لیا۔ سب نے دیکھا کہ پیپلز پارٹی سمیت وعدہ کرنے والے جماعتوں نے مخدوم جاوید ہاشمی کے خلاف امیدوار کھڑے کر دئیے۔ خود مخدوم جاوید ہاشمی کے بقول الیکشن والے دن دوپہر کے وقت ان کے نادیدہ ” دوستوں “ نے انہیں باور کروا دیا تھا کہ انہوں نے بدلہ لیا ہے الیکشن میں شکست بھی تسلیم کر لی گئی۔
اور کافی حد تک خاموشی اختیار کر لی گئی۔ اس خاموشی کے پیچھے بھی کافی راز پنہاں ہیں۔ حالانکہ اس دوران گورنر پنجاب مستعفیٰ ہوئے پھر سینیٹر ملک محمد رفیق رجوانہ گورنر بنے اور ان کی سیٹ خالی ہوئی۔ ان عہدوں کے لئے مخدوم محمد جاوید ہاشمی کا نام لیا جاتا رہا۔ لیکن عہدہ دینے اور لینے کا وقت ابھی نہیں آیا تھا۔ نادیدہ ” دوستوں “ میں ابھی دم خم باقی تھا۔
طے کیا گیا کہ ابھی انتظار کیا جائے۔ جوڈیشل کمیشن نے 45 دن میں فیصلہ کرنا تھا اسے لگ بھگ 85 دن لگ گئے۔ اس دوران نادیدہ دوست بھی تتر بتر ہو نا شروع ہو گئے۔
رمضان شریف میں میاں نواز شریف سعودی عرب گئے تو اطلاعات کے مطابق وہاں بھی ان کا رابطہ مخدوم جاوید ہاشمی سے قائم تھا اور طے کیا گیا کہ عید الفطر کے بعد جب جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کی تفصیلات سامنے آچکی ہونگی۔
پھر مخدوم جاوید ہاشمی کے ساتھ ان کے مستقبل کی تفصیلات طے کی جائیں گی۔ عید الفطر کے بعد جب فیصلہ سامنے آیا تو تحریک انصاف کو اپنی ساکھ بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنے پڑے یہی موقع تھا جب جاوید ہاشمی نے چپ کا روزہ توڑا اور انکشافات کی بھر مار کر دی یہ سلسلہ ابھی جاری ہے تحریک انصاف کی قیادت کو گھر کے بھیدی کے انکشافات کا جواب دینا مشکل ہو رہا ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مخدوم جاوید ہاشمی نے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ بھی اب چند دنوں تک کر لینا ہے۔ اور ایسی اطلاعات بھی موجود ہیں کہ وفاقی وزیر احسن اقبال کو یہ ذمہ داری سونپی جا چکی ہے کہ وہ مخدوم جاوید ہاشمی سے رابطے میں رہیں اور انہیں مسلم لیگ ن میں واپس لانے کا با عزت راستہ تلاش کیا جائے۔ کہا جا رہا ہے کہ احسن اقبال کسی بھی وقت ملتان آ سکتے ہیں۔
اور ان کی مخدوم جاوید ہاشمی سے ملاقات کے بعد ہی تفصیلات طے ہونگی۔ دوسری جانب جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کے اعلان کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر خان ترین ان دنوں تنقید کی زد میں ہیں۔ ملتان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو بہت سارے الزامات جہانگیر خان ترین پر عائد کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دھرنے پر ساڑھے تین ارب روپے خرچ ہوئے ، صرف ڈی جے بٹ کو آٹھ کروڑ روپے کی ادائیگی دھرنے کے دنوں میں ہو چکی تھی۔
دھرنے کے دیگر اخراجات علاوہ ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دھرنے کے دنوں میں ملتان سے رحیم یار خان تک کے تمام فقیروں کو روزانہ کے معاوضے پر اسلام آباد لے جایا گیا تھا۔ ممکن ہے کہ ان الزامات میں کچھ مبالغہ آرائی ہو لیکن اس امر میں کوئی مضائقہ نہیں کہ ایک کمیشن اور بنایا جائے جو دھرنے کے ساتھ منسلک منفی باتوں کی چھان بین کرے۔ ہم نے ملک میں جمہوریت کو مستحکم کرنا ہے تو اب دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جانا چاہئے۔
تاریخ اشاعت: 2015-07-31

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان