بند کریں
جمعہ فروری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
انقلابی نعروں سے اسمبلی نشستوں کی مانگ تک۔۔۔۔۔
عمران خان نے حکومت، الیکشن کمشن اور عدلیہ پر دباؤ ڈالنے کے لئے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ”احتجاجی دھرنا“ دینے کا اعلان کیا تھا لیکن جلد ہی زمینی حقائق کے پیش نظر احتجاجی دھرنے کو جلسہ میں تبدیل کر دیاگیا تھا
نواز رضا :
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے عام انتخابات کے انعقاد کا ایک سال مکمل ہونے پر ”مبینہ انتخابی دھاندلیوں“ کے خلاف 11 مئی 2014ء پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ”ایکسپریس چوک “ ایک بڑا جلسہ منعقد کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرا دیا ہے۔ جبکہ پاکستان عوامی تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر طاہر القادری کی کال پر ”سیاست نہیں ریاست بچاؤ“ کے لئے 60 شہروں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے خطاب میں ”انقلاب“ برپا کرنے کے لئے 10نکاتی ایجنڈے کے اعلان پر اکتفاکیا گیاہے۔
عمران خان نے اپنے مطالبات کو انتخابی اصلاحات تک ہی محدود رکھاہے۔ شاہراہ جناح پر تحریک انصاف کے جلسہ میں کوئی ہنگامہ ہوا اور نہ کسی کارکن نے ”ریڈ زون “ میں داخل ہونے کی کوشش کی جسے ایک روز قبل ہی 50 سے زائد کنٹینرز کھڑے کر کے آمد و رفت کے لئے بند کر دیا گیا تھا۔ عمران خان نے حکومت، الیکشن کمشن اور عدلیہ پر دباؤ ڈالنے کے لئے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ”احتجاجی دھرنا“ دینے کا اعلان کیا تھا لیکن جلد ہی زمینی حقائق کے پیش نظر احتجاجی دھرنے کو جلسہ میں تبدیل کر دیاگیا تھا۔
اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے شاہراہ جناح پر اپنی بھرپور سیاسی قوت کا مظاہرہ کیا ہے لیکن یہ اجتماع کسی طور بھی لاہور میں مینار پاکستان کے سائے میں آنے والی ”سونامی“ اور عام انتخابات سے قبل اسی مقام پر منعقد ہونے والے تحریک انصاف کے جلسے سے بڑا نہیں تھا۔ تحریک انصاف کے آخری انتخابی جلسہ میں پورا راولپنڈی اور اسلام آباد آیا تھا جب کہ 11 مئی 2014ء کے جلسہ میں راولپنڈی اور اسلام آبا کی حاضری نہ ہونے کے برابر تھی اگر اسے خیبر پی کے کے لوگوں کا جلسہ کہا جائے تو مبالغہ آرائی نہ ہو گی۔
کیونکہ جلسہ میں ہر پانچ آدمیوں میں سے چار کا تعلق خیبر پی کے سے تھا اسی طرح پاکستان عوامی تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر طاہر القادری کا سوا سال قبل اسی جگہ دیا جانے والا تین روزہ احتجاجی دھرنا بھی ”عمران خان شو“ سے بڑا تھا۔ سیاسی حلقوں میں بحث چل رہی ہے کہ عمران خان شو“ کے شرکاء کی کس قدر تعدا د تھی؟ تحریک انصاف کی قیادت نے بھی لاکھوں عوام کی شرکت کا دعویٰ نہیں کیا۔
جلسہ کے شرکاء کی تعداد ہزاروں میں تھی جو محتاط اندازے کے مطابق 15 سے 20 ہزار کے درمیان تھی۔ عمران شو کو بڑا ظاہر کرنے کے لئے کھلی کھلی کرسیاں لگائی گئیں ”پرچموں کی بہار“ سے بھی جلسہ کے شرکاء کی تعداد کا اندازہ لگانا قدرے مشکل بنا دیا گیا۔ پرچموں نے جلسہ کے شرکاء کی”پردہ داری“ میں اہم کردار ادا کیا۔ رات کے اندھیرے میں ٹی وی کیمرے کی آنکھ ہزاروں کے اجتماع کو لاکھوں کا دکھانے کی مہارت رکھتی ہے شاہراہ جناح پر عمران شو اس لئے” متاثر کن“ نہیں تھا کہ اس کے شرکاء اس طرح پْرجوشcharged mob) ) نہیں تھا جو عمران خان کے جلسوں کا طرہء امتیاز رہا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے مسلم لیگی حکومت کے ”عقابوں“ کی مخالفت کے باوجود تحریک انصاف کو شاہراہ جناح پر ڈی چوک کی بجائے ”ایکسپریس چوک“ میں مشروط طور جلسہ کرنے اجازت دے کر سیاسی فیصلہ کیا، دراصل انہوں نے تحریک انصاف کو سیاسی قوت کا مظاہرہ کرنے سے روک کر پھیلنے والی ممکنہ ”بدامنی“ کی بجائے پْر امن جلسہ کے انعقاد کو ترجیح دی۔
یہ بات قابل ذکر ہے تحریک انصاف کی قیادت نے چوہدری نثار علی خان کو 11 مئی 2014ء کو دھرنا نہ دینے اور جلسہ کے انعقاد کے بعد کار کنوں کے پرامن طور پر منتشر ہونے کی یقین دہانی کرا دی تھی۔ وفاقی وزیر داخلہ نے شاہراہ جناح پر امن جلسہ کے انعقاد کے لئے سکیورٹی کا ”فول پروف“ انتظام کیا وہ رات گئے تک خود سکیورٹی انتظامات کی نگرانی کرتے رہے۔
جلسہ میں شرکت کے لئے آنے والے قافلوں کے لئے روٹ کا تعین کیا۔ ”واک تھرو گیٹ“ لگا کر جلسہ گاہ کو ہر لحاظ سے سے محفوظ بنایا گیا۔ البتہ تحرک انصاف کے سیاسی لحاظ سے نابالغ کارکنوں نے جلسہ میں شریک خواتین کے لئے ”ناپسندیدہ صورتحال“ پیدا کر دی۔ عمران خان نے جہاں 4 انتخابی حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کے لئے سپریم کورٹ سے بھی رجوع کر رکھا ہے وہیں انہوں نے اپنا ”سیاسی دباؤ“ بڑھانے کے لئے سپریم کورٹ سے چند فرلانگ کے فاصلے پر ”عوامی عدالت“ لگائی۔
دراصل وہ 11 مئی 2013ء کو ہونے والے انتخابات کو ”مشکوک“ بنانا چاہتے ہیں۔ عمران خان نے قومی اسمبلی کے رواں سیشن میں 4 انتخابی حلقوں میں ووٹرز کے انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کا معاملہ اٹھایا تو وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے ان کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے 4، 4 انتخابی حلقوں کے بارے میں تحقیقات کرانے کی پیشکش کا ایک بار پھر اعادہ کیا لیکن تحریک انصاف نے اس پیشکش کا مثبت جواب نہیں دیا اور اپنا دباؤ بڑھانے کے لئے ہر جمعہ کو الیکشن کمشن کے سامنے احتجاجی مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے۔
11 مئی 2014ء کو شاہراہ جناح پر ہونے والا جلسہ ایک ”سیاسی ایڈونچر“ کے سوا کچھ نہیں ہے اور عمران خان اس سے اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ عمران خان پْرجوش تقریر کرنے کی شہرت رکھتے ہیں لیکن 11 مئی 2014ء کو ان کی تقریر جوش سے عاری تھی عمران خان تھکے تھکے دکھائی دے رہے تھے اگرچہ عوامی مسلم لیگ اور پاکستان مسلم لیگ (ق) نے پاکستان تحریک انصاف کے جلسہ کی حمایت کی تھی لیکن جماعتوں کے کارکنوں کی شرکت نہ ہونے کے برابر تھی۔
البتہ جماعت اسلامی پاکستان جو خیبر پی کے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا حصہ ہے اس نے 11 مئی2014ء کو لاہور اور کراچی میں اپنے الگ مظاہرے کر کے اپنے آپ کو پاکستان تحریک انصاف کی احتجاجی ریلی سے عملاً الگ رکھا۔ جماعت اسلامی نے میاں محمد اسلم کی قیادت میں اپنا وفد بھیج کر ”علامتی“ شرکت کی۔ اگرچہ عوامی مسلم لیگ کے صدر شیخ رشید احمد کا دعویٰ ہے۔
پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک جلد یکجا ہو کر حکومت کے خلاف تحریک چلائیں گی لیکن 11 مئی کو پاکستان عوامی تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر طاہر القادری نے 60 شہروں میں اپنی سیاسی قوت کا الگ مظاہرہ کر کے یہ تاثر دیا ہے کہ ان کا عمران خان سے ایجنڈا الگ ہے۔ پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں نے راولپنڈی میں الگ احتجاجی ریلی نکالی اور اپنے آپ کو پاکستان تحریک انصاف کے ”سیاسی شو“ سے الگ رکھا۔
ڈاکٹر طاہر القادری جو ”احتجاجی دھرنا “ کے بعد اپنے ملک ”کینیڈا “ چلے گئے تھے نے پاکستان واپس آ کر حکومت کے خلاف تحریک کی قیادت کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی بلکہ کینیڈا سے ہی ویڈیو لنک کے ذریعے مظاہرین سے خطاب کر کے انقلاب برپا کرنے کے لئے 10نکاتی ایجنڈے کا اعلان کر دیا۔ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے پاکستان عوامی تحریک کا شو دراصل ڈاکٹر طاہر القادری کے صاحبزادگان کو عملی سیاست میں متعارف کرانا تھا۔
پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں نے اسلام آباد کا رُخ ہی نہیں کیا اور اپنے احتجاج کو راولپنڈی میں چاندنی چوک سے لیاقت باغ تک محدود رکھا۔ راولپنڈی میں پاکستان عوامی تحریک کی ریلی کے شرکاء کی تعداد 5 ہزار سے زائد نہ تھی۔ مجلس وحدت المسلمین کے کارکنوں نے مظاہرے میں شرکت کر کے ڈاکٹر طاہر القادری سے اظہار یکجہتی کیا۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ جلد اسلام آباد جانے کی فائنل کال دیں گے۔
ایسا دکھائی دیتا ہے ڈاکٹر طاہر القادری، عمران خان کا طفیلی بننے کے لئے تیار نہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) جو ایک بڑی جماعت تھی اور عوامی مسلم لیگ کے صدر شیخ رشید احمد جو عمران خان کی ”مہربانی“ سے پارلیمنٹ پہنچے ہیں پاکستان تحریک انصاف کے سہارے تلاش کر رہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، اے این پی سمیت اپوزیشن کی کسی سیاسی جماعت نے عمران خان شو میں شرکت نہیں کی۔
عمران خان نے جلسہ میں انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاجی تحریک کے سات نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے نئے الیکشن کمشن کی تشکیل نوکا مطالبہ کیا ہے لیکن شاید وہ یہ بات بھول گئے الیکشن کمشن کا آئین میں طریقہ کار درج ہے۔ تحریک انصاف کو اپنی مجوزہ اصلاحات کے لئے آئینی ترمیم لانا پڑے گی۔ عمران خان کے ”سونامی“ نے اسلام آباد سے فیصل آباد کا رُخ کر رہی ہے۔ انہوں نے عوام کو ”قبل از وقت“ سڑکوں پر آنے کی کال دے کر ”غیر سیاسی فیصلہ کیا ہے کیونکہ عوام اس وقت کسی ایجی ٹیشن کے موڈ میں نہیں۔ عمران خان کو اپنے ”بے وقت کی راگنی“ کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-16

(0) ووٹ وصول ہوئے