بند کریں
اتوار جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
عمران بنام اسحاق ڈار، چالیس لاکھ ڈالر کا ”پھڈا“!
لاکھوں ڈالر نفع دینے والا کاروبار منظر عام پر نہ آنا، چہ میگوئیوں کا باعث۔۔۔ بیٹے کے دوبئی اکاوٴنٹ میں ڈالروں کی منتقلی نے سوالات کھڑے کر دئیے

اسرار بخاری:
کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ہو جاتا ہے۔ جب ذہن میں یہ سوچ کُلبلانے لگتی ہے کہ کیا یہ پیارا پاکستان ایک طبقے کیلئے معرض وجود میں آیا تھا یہ جو اس ملک کے قیام کی جدوجہد میں لاکھوں لوگوں نے حصہ لیا جانی اور مالی قربانیاں دیں ہزاروں مسلمان عورتوں اور لڑکیوں کی عزتیں پامال ہوئیں۔ کیا یہ محض حکمرانوں ان کے چہیتوں اور حکومتی ایوانوں تک رسائی رکھنے والوں بڑے زمینداروں اور بڑے سرمایہ داروں کے مفادات کے حصول اور تحفظ کے لیے تھا۔

اس طبقہ نے کہاں کہاں ہاتھ نہیں مارے، قرض کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ایک مجبور اور ضرورت ہی ہے کہ وہ قرض کے جال میں پھنس کر سود خورمہاجن کا بے دام غلام بن جاتا ہے مگر پیارے پاکستان میں ستم بالائے ستم یہ ہے کہ قرض کے بھی اس اثر ورسوخ رکھنے والے طبقے کیلئے مخصوص ہو گیا ہے جس شخص کی حکومتی دیوانوں تک جتنی رسائی ہے ۔ وہ کسی بھی بنک سے اتنا ہی زیادہ قر ض لے سکتا ہے لیکن کیا یہ زیادہ قرض اس کیلئے یا اس کے بچوں کے لیے سوہان روح بن جائے گا ہر گز نہیں کیونکہ یہ کروڑوں اربوں کا قرض چشم زدن میں رائٹ آف ہو جائے گا اس کامطلب ہے حرف غلط کی طرح مٹ جائے گا۔
پاکستان میں چند گنے چنے لوگوں کے علاوہ کون سا سیاستدان، بڑا زمیندار صنعت کار یا تاجر ہے جس نے بینکوں سے اربوں کروڑوں کا قرض لیا اور پھر ملی بھگت سے معاف کرالیا۔ عام طورپر خود کو دیوالیہ ظاہر کر کے جبکہ اس کی معمول کی زندگی پر دیوالیہ پن کا کوئی داغ دھبہ نظر نہیں آتا۔ پیارے پاکستان میں حقیقی ضرورت مند کو اول تو کسی بینک سے قرض ملتا ہی نہیں اور اگر تھوڑا بہت مل جائے تو اس ایک ایک پائی واپس کرنی پڑتی ہے بصورت دیگر اس ضبطگیوں اور جیل کی سلاخوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے ایک پیغام میں الزام عائد کیا تھا کہ وفاقی وزیر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ یہ ریکارڈ موجود ہے کہ اسحا ق ڈار نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کے دبئی اکاونٹ میں 40 لاکھ امریکی ڈالر منتقل کئے تھے ۔ جوکہ ٹیکس سے بچنے کیلئے منتقل کئے گئے جبکہ انہوں نے ایف بی آر کو بھی پیسے واپس لانے سے روک دیا ہے۔ جس پر جناب اسحاق ڈار نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس سلسلے میں عمران خان کو خط لکھیں گئے ہفتہ کے روز سے یہ خط عمران خان کو بھیجا گیا جس کے مندرجات ذیل ہیں ۔

میرے بیٹے سے متعلق آپ کے بیان پرا فسوس ہوا ہے بیٹے کو ٹیکسوں سے بچانے کیلئے 40لاکھ ڈالر دبئی منتقل کرنے کا الزام غلط ہے بیٹے کو کبھی ایک روپیہ بھی پاکستان سے دبئی منتقل نہیں کیاقانونی آمدن سے بیٹے کو کچھ رقم بطور تحفہ دی بیٹے کو 40 لاکھ ڈالر بطور قرض دیا، بیٹے نے بنک کے ذریعے رقم واپس بھی کر دی ہے۔ بیٹے کی رقم واپسی سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا آپ کا بیان بے بنیاد اور گمراہ کن او ر سیاسی فائدہ اٹھانے کیلئے ہے بطوررکن پارلیمنٹ باقاعدگی سے ٹیکس گوشوارے جمع کراتا ہوں۔
حکومت سوئس بینکوں سے رقم واپس لانے کی کوششوں میں ہیں۔ سوئس حکام کے ساتھ دوسرے راوٴنڈ کے مذکرات باقی ہیں۔ سوئس بینکوں سے رقم واپس لانے کیلئے معاہدے کا الزام جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔ بیان حقائق کے یکسر منافی ہے۔
تحریک انصاف کی جانب سے خط ملنے کی رسید ان الفاظ میں دی گئی ہے۔ ”اسحاق ڈار کا خط عمران خان کو مل گیا ہے۔ اسحاق ڈار نے خط میں ہمارے موقف کو تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو چالیس لاکھ ڈالر دئیے۔
وزیر خزانہ اب قوم کو اپنے اثاثوں اور ذرائع آمدن سے بھی آگاہ کریں۔ اسحاق ڈار بتائیں یہ رقم کن ذرائع سے حاصل کی ہے۔
اپنے خط میں اسحاق ڈار کا زیادہ تر کاروبار دوبئی اور لندن میں ہے جو ان کے اکلوتے بیٹے علی ڈار چلا رہے ہیں۔ پاکستان میں جناب اسحاق ڈار کا اتنا وسیع کاروبار جس سے لاکھوں ڈالر کی آمدنی ہو منظر عام پر نہیں ہے اس لئے قدرتی طور پر یہ سوچ جنم لے سکتی ہے کہ اگر جناب اسحاق ڈار اپنے بیٹے علی ڈار سے لاکھوں ڈالر منگوائیں یا قرض حاصل کریں تو یہ عوامی لوگوں کے لئے قابل قبول ہو گا۔
یہ کنفیوژن یا دذہنی الجھاوٴ عوامی سطح پر اس وقت تک پھیلا رہے گا جب تک جناب اسحاق ڈار تحریک انصاف کے مطالبے پر نہ سہی خود اپنی پوزیشن واضح کرنے کیلئے پاکستان میں لاکھوں ڈالر نفع دینے والے کاروبار کو منظر عام پر لائیں۔ ادھر وزارت خزانہ کے ترجمان نے اسحاق ڈار اپنے اثاثے اور ذرائع آمدن ظاہر کر چکے ہیں تحریک انصاف کی جانب سے یہ مطالبہ دوبارہ دورہرانا شرانگیزی پھیلانے اور جہالت کی انتہا کے سواکچھ نہیں۔
وزیر خزانہ درحقیقت مناسب بیکنگ کے ذریعہ اپنے بیٹے سے دبئی سے پاکستان رقم وصول کی۔ باپ بیٹے سے رقم وصول کرے یا بیٹا باپ کو رقم دے یہ قابل اعتراض نہیں بات یہ ہے کہ جناب اسحاق ڈار کے ذرائع آمدن مثلاََ فلاں جگہ کارخانہ یا فیکٹری ہے ، دیگر تجارتی ادارے فلاں فلاں اور کس جگہ پرہیں کہاں کہاں سرمایہ کاری ہے اگر یہ سب منظر عام پر ہوتا تو نہ شکوک وشبہات پیدا ہوتے نہ اعتراضات اٹھائے جاتے۔

تاریخ اشاعت: 2015-03-04

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان