بند کریں
بدھ جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حقائق بے نقاب، صورتحال سنبھل گئی
میڈیا کے لوگ معاشرے کا با خبر طبقہ ہوتے ہیں، لوگ ان سے جاننا چاہتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور آگے کیا ہو گا؟ ان کی توقع بے جا بھی نہیں ہوتی مثلاً موجودہ ساری سیاسی صورتحال کا جہاں تک تعلق ہے عام آدمی محسوس کرتاہے
فرخ سعید خواجہ:
پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے ون پوائنٹ ایجنڈا وزیر اعظم نواز شریف سے استعفیٰ لینا اب تک نا کام رہا ہے، تھرڈ ایمپائر بھی اس سلسلے میں کوئی مدد نہیں کر سکا تا ہم ملک کی اہم سیاسی جماعتوں کے رہنما پوری کوشش میں ہیں کہ معاملات مذاکرات کے ذریعے طے پا جائیں وہ پارلیمنٹ کو ضامن بنانے کی پیشکش کرتے رہے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان اور طاہر القادری جنہوں نے آرمی چیف کو ضامن کی حیثیت سے قبول کر لیا تھا وہ پارلیمنٹ کو یہ کردار دینے پر آمادہ ہیں۔
یا نہیں ؟ ابھی دو دن پہلے یوں لگتا تھا کہ سیاست بند گلی میں داخل ہو گئی ہے اور اب مارشل لاء آکے ر ہے گامگر بھلا ہو مخدوم جاوید ہاشمی کا اس نے بر وقت دھماکہ کیا جس کی خوفناک آواز سے سب اپنی اپنی جگہ سنبھل گئے ہیں۔
اب ایک مرتبہ پھر مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے منگل کی شب پارلیمنٹ کی جماعتوں کے اہم رہنماؤں نے ایک وفد ،کمیٹی یا جرگہ (جو کچھ بھی لیں) نے عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری سے ملاقاتیں کیں اور طے پایا کہ پارلیمنٹ کی کمیٹی کے بدھ کی شام چار بچے رحمن ملک کی رہائش گاہ پر تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی کمیٹیوں سے مذاکرات ہوں گے۔
جب یہ سطریں آپ کی نگاہ سے گزر رہی ہوں گی تو بہت ممکن ہے کہ ان مذاکرات کا کچھ مثبت نتیجہ سامنے آ چکا ہو۔ عام لوگ ہوں یا خواص ہر کسی کا یہی سوال ہے کہ حکومت کا ایک سال پورا ہوا تھا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنے ․․․․عوام کی حالت بہتر بنانے کے لئے کوشاں تھیں۔ ان سب کو عوامی دباؤ کا سامنا تھا۔ البتہ اچانک احتجاج کی فضا بنتی دکھائی دی اور دیکھتے ہی دیکھتے سیاسی طوفان آ گیا۔
ایسا کیوں ہوا؟ یہ غمی خوشی کی کوئی تقریب ہو یا گلی محلہ، دفاتر یا کاروباری مراکز ہر جگہ لوگ یہ ہی سوال پوچھتے ہیں۔
میڈیا کے لوگ معاشرے کا با خبر طبقہ ہوتے ہیں، لوگ ان سے جاننا چاہتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور آگے کیا ہو گا؟ ان کی توقع بے جا بھی نہیں ہوتی مثلاً موجودہ ساری سیاسی صورت حال کا جہاں تک تعلق ہے عام آدمی محسوس کرتا ہے کہ یہ سب کچھ اچانک ہوا لیکن اس کی منصوبہ بندی لگ بھگ آٹھ ماہ پہلے ہو چکی تھی دسمبر 2013کے آخری ہفتے کی ایک دو پہر کو پاکستان تحریک انصاف لاہور کے صدر عبدالعلیم خان کے گلبرگ آفس میں لاہور سے تعلق رکھنے والے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے سینئر لوگوں کے اعزاز میں ظہرانہ تھا۔
اس میں تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان ،سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین، عوامی مسلم لیگ کے سر براہ شیخ رشید احمدکے علاوہ عبدالعلیم خان سمیت پی ٹی آئی کے متعدد لیڈر موجود تھے ، صحافیوں میں چیف ایڈیٹر پاکستان گروپ مجیب الرحمن شامی، چیف ایڈیٹر خبریں گروپ ضیاء شاہد، چیف ایڈیٹر دنیا گروپ میاں عامر محمود سمیت معروف اینکر پرسن افتخار احمد ، سلمان غنی اور بہت سے دیگر صحافی موجود تھے۔
کھانے سے پہلے سوال و جواب کی نشست جاری تھی، گفتگو کے دوران عمران خان نے کہا کہ ” میں نے اپنی پارٹی سے کہہ دیا ہے کہ مئی میں نئے عام انتخابات کی تیاری کریں۔” اس پر شامی صاحب نے مسکراتے ہوئے دریافت کیا کہ کونسی مئی جناب خان نے پر اعتماد لہجے میں کہا ” مئی جو آرہی ہے،مئی 2014ء اس پر ابھی کوئی اور کچھ نہیں بولا تھا کہ شیخ رشید نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے جہانگیر ترین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ” ان سے پوچھو کہ میں ابھی ان سے کیا کہ رہا تھا۔
“ قبل اس کے کوئی پوچھے جہانگیر ترین بولے شیخ صاحب کہہ رہے تھے کہ مئی 2014ء میں نئے الیکشن ہو کر رہیں گے۔” لگ بھگ تمام حاضرین کے نزدیک یہ بات نا قابل فہم تھی کہ ابھی سات ماہ پہلے 11مئی کو عام انتخابات ہوئے ہیں صرف ایک سال بعد مئی 2014ء میں نئے انتخابات کس طرح ہو سکتے ہیں۔ سو تابڑ توڑ سوالات ہونے لگے جس پر عمران خان گڑ بڑا گئے لیکن شیخ صاحب اپنی بات پر ڈٹے رہے اور ان کے موقف کا خلاصہ یہ تھا ” ہم چار حلقوں میں دھاندلی کا معاملہ طریقہ سلیقے سے اٹھائیں اور اسے آگے لے کر چلیں تو ایسا ہو کر رہے گا۔
“ اس مجلس میں انہوں نے کچھ ہی روز پہلے آرمی چیف کا عہدہ سنبھالنے والے جنرل صاحب کے ساتھ اپنے تعلقات کے حوالے سے بھی باتیں کیں۔
سو آگے چل کر جو کچھ ہوا اور اب جو کچھ ہو رہا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ سب کچھ ” پلان“ کے مطابق ہی ہوا البتہ مئی کی بجائے ستمبر آ گیا ہے، لوگوں کو نہیں بھولا ہو گا کہ خان صاحب اور ڈاکٹر صاحب نے کام شروع کیا تو ان کا کہنا تھا کہ 31 اگست تک موجودہ حکومت نہیں رہے گی۔
ڈاکٹر صاحب نے چوہدری شجاعت حسین، چوہدری پرویز الٰہی کی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بہت اعتماد سے کہا تھا کہ یکم ستمبر کو نواز شریف کی حکومت نہیں رہے گی۔ ان دونوں رہنماؤں کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں البتہ اس عرصے کے دوران حکومت یوں ڈولتی رہی کہ ہر دم کہیں کہ ہے مگر نہیں ہے والی کیفیت رہی۔ جناب شیخ سیانے آدمی ہیں جنہوں نے اگرچہ ان دونوں رہنماؤں سے پہلے اس حکومت کے جانے کی پیشن گوئی کی تھی لیکن بہت محتاط انداز میں، انہوں نے فیصل آباد کے جلسہ عام میں کہا کہ” عید قربان سے پہلے قربانی ہو گی۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ چو گا ہو گا یا شیگا میں ابھی نہیں کہہ سکتا۔
اب ہم اس طرف آتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا؟ اور اب کیا ہو گا؟ ہوایوں کہ میاں نواز شریف ، فوج کے سیاست میں دخل دینے کے بھی خلاف ہیں، سونجی محفلوں کے علاوہ بھی اس بارے میں ان کی گفتگو فوجی حلقوں کے لئے ناپسندیدہ رہی ہے۔ بھارت کے ساتھ میاں صاحب کے عشق نے فوجی قیادت اور ان کے درمیان تعلقات میں مزید تلخی گھول دی، پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ غداری کے باعث معاملات مزید بگڑ گئے اور بھی وجوہات ہیں جنہیں لکھنے سے تحریر میں طوالت آئے گی لہٰذا ہم آگے بڑھتے ہیں کہ اب کیا ہو گا؟
میاں نواز شریف کے مستعفیٰ ہونے کا امکان دس فیصد ہے، مارشل لاء لگنے کا امکان بھی لگ بھگ دس فیصد ہے۔
عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری سے مذاکرات کی کامیابی کا امکان ساٹھ فیصد ہے اور سپریم کورٹ کے کمشن کا قیام سو فیصد ہے جو کہ الیکشن 2013ء میں دھاندلی کی تحقیقات کرے گا۔ ہمارے نزدیک نواز شریف کو جبر اً حکومت سے نکالا جائے تو وہ مظلوم بن جاتے ہیں اور الیکشن ہونے کی صورت میں ان کی جماعت ایک مرتبہ پھر بر سر اقتدار نہ بھی آ سکے تو 1993ء کی طرح ملک کی بڑی سیاسی جماعت بن کر ضرور ابھرے گی اور وہی اس کے قائد حزب اختلاف بن کر رہیں گے۔
چونکہ مقصد نواز شریف کو سزا دینا ہے لہٰذا الیکشن 2013ء میں کمیشن کی تحقیقات کے نتیجے میں دھاندلی ثابت ہو جاتی ہے تو ایسا ممکن ہے کہ دھاندلی زدہ الیکشن کے نتائج ہی چیلنج ہو جائیں اور حکومت کیلئے اسمبلیاں توڑ کر نیا الیکشن کروانا نا گزیر ہو جائے۔ چنانچہ ہمارے نزدیک یہ سب ممکنات کا حصہ ہے اورہمارا تجزیہ بھی، وگرنہ غیب کا حال اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-09-05

(0) ووٹ وصول ہوئے