بند کریں
منگل فروری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حکومت کو درپیش رکاوٹوں کے باوجود سیاسی عمل کا تسلسل برقرار
الیکشن 2013ء سے پہلے پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں مختلف سیاسی جماعتوں کا گھٹتا بڑھتا کردار اہل نظر بھانپ گئے تھے جس کا تذکرہ سیاسی تجزیوں میں کیا جاتا رہا۔ الیکشن 2013ء کے نتائج لگ بھگ سیاسی تجزیوں کے مطابق ہی سامنے آئے
فرخ سعید خواجہ
جوڈیشل کمشن میں پاکستان کی سیاسی تاریخ کا اہم ترین مقدمہ زیر سماعت ہے کمشن کا اس مقدمے کے بارے میں فیصلہ پاکستان میں شفاف الیکشن کے مستقبل کی بنیاد رکھے گا فیصلہ حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے حق میں آیا تو وزیر اعظم محمد نواز شریف اپنی پانچ سالہ حکومتی میعاد پوری کریں گے اور اس کے بعد 2018ء میں ہونے والے انتخابات میں عوام ان کی کارکردگی کو سامنے رکھتے ہوئے ان کو اور ان کی جماعت کو ووٹ ڈالیں گے۔
جوڈیشل کمشن منظم دھاندلی کے الزام کو حقیقت قرار دیدے تو پھر نواز شریف حکومت کو گھر جانا ہو گا اور 2015ء عام انتخابات کا سال بن جائے گا۔تاہم پس پردہ سازشوں کے علمبرداروں کے ایجنٹ ہمیشہ ہی کی طرح سرگوشیاں کر رہے ہیں کہ ”یوں ہو گا اور یوں ہو گا“۔ ہماری رائے میں اللہ نے چاہا تو ایسا کچھ نہیں ہو گا۔ہر دو صورتوں میں ایک ہی جوابی عمل کو فوقیت حاصل ہو گی اور پاکستان میں بھی جمہوریت مغرب ہی طرح استحکام کی راہ پر گامزن رہے گی۔

الیکشن 2013ء سے پہلے پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں مختلف سیاسی جماعتوں کا گھٹتا بڑھتا کردار اہل نظر بھانپ گئے تھے جس کا تذکرہ سیاسی تجزیوں میں کیا جاتا رہا۔ الیکشن 2013ء کے نتائج لگ بھگ سیاسی تجزیوں کے مطابق ہی سامنے آئے اس میں کوئی شک نہیں کہ عام انتخابات میں زور آور امیدواروں نے حسب سابق جہاں بس چلا کام دکھایا لیکن اس بات پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے ہے کہ پولنگ کے مرحلے میں شفاف الیکشن ہوئے اعتراض ریٹرننگ افسروں کے پاس نتائج کے اعلان کے مرحلے پر کیا جا رہا ہے اور اب اس الزام کی سماعت جوڈیشل کمشن کے پاس ہے لہٰذا اس پر مزید کچھ لکھنا بے جا ہو گا۔
جوڈیشل کمشن ہی بہتر فورم ہے جو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دے گا۔
جہاں تک حکمران مسلم لیگ (ن) اور اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کا تعلق ہے یہ دونوں سیاسی جماعتیں عوام میں جڑیں رکھتی ہیں اور ان کے ووٹ بنک سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا۔ ان کے امیدواروں کا عام انتخابات میں ٹاکڑا ہوا تھا اور آنے والے تمام انتخابات بلدیاتی ہوں یا قومی وصوبائی اسمبلیوں کے ان دونوں جماعتوں کی بالخصوص پنجاب میں ہتھ جوڑی لازمی ہو گی۔
کنٹونمنٹ بورڈوں کے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں پنجاب کے کنٹونٹمنٹس بورڈ کے بلدیاتی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف ہی کامیاب جماعتیں بن کر سامنے آئیں۔ مسلم لیگ ن کے امیدوار بالخصوص لاہور، راولپنڈی اور سیالکوٹ کے کنٹونمنٹس بورڈ کے بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدواروں کو پچھاڑنے میں کامیاب ہو گئے۔ لاہور کے دو کنٹونٹمنس بورڈ میں 20میں سے 15 اور راولپنڈی کے دو کنٹونمنٹس بورڈ کی 20 میں سے 19 وارڈوں میں مسلم لیگ ن کے امیدواروں نے تحریک انصاف کے امیدواروں کو ناک آوٴٹ کر دیا جبکہ سیالکوٹ میں بھی وفاقی وزیر پانی و بجلی و دفاع خواجہ آصف کے قومی اسمبلی کے حلقے میں آنے والے کنٹونمنٹس بورڈ کے الیکشن میں تحریک انصاف بری طرح شکست کا شکار ہوئی۔
ان انتخابات نے تحریک انصاف کی سیاسی حیثیت کو بہت دھچکا لگایا اور ان کا دھاندلی کے الزام کا مقدمہ دھندلا کر رہ گیا۔ تاہم چند روز کے وقفے کے بعد وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 125 کے بارے میں انتخابی ٹریبونل کے فیصلے نے تحریک انصاف کو نئی زندگی دے دی جو لوگ پس پردہ سازشوں کی تھیوری پر یقین رکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ایسا ان لوگوں نے کروایا ہے جو مسلم لیگ ن کی حکومت کی راہ میں حائل اور اس کو فری ہینڈ دینے کے حق میں نہیں ہیں۔

بہرحال جو ہوا اور جو ہو رہا ہے اس سے توقع رکھنی چاہیے کہ سیاسی عمل کا تسلسل برقرار رہے گا۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے بدھ کو مشاورتی اجلاس بلایا ہے اور جب تک یہ سطریں آپ کی نگاہوں سے گزریں گی این اے 125 کے بارے میں انتخابی ٹریبونل کے فیصلے کے حوالے سے مشاورتی اجلاس کے فیصلے سامنے آ چکے ہوں گے۔ ہمارا اندازہ ہے کہ مسلم لیگ ن فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی تاہم الیکشن کے سلسلے میں حکم امتناعی نہیں مانگا جائے گا بلکہ مسلم لیگ ن این اے 125 میں الیکشن میں جائے گی خواجہ سعید رفیق وزارت سے مستعفی ہو جائیں گے جبکہ انتخابی ٹریبونل کے فیصلے کے بارے میں سپریم کورٹ سے فیصلہ لیے جانے کے لیے کارروائی جاری رہے گی۔
این اے 125 کے انتخابات تحریک انصاف کے لیے بہت بڑا امتحان بن جائیں گے کیونکہ این اے 125 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار خواجہ سعد رفیق تنظیمی آدمی ہیں اس لئے ان کی منظم انتخابی مہم تحریک انصاف کی پوری قیادت کی کوششوں پر بھاری پڑ جائے گی۔
جہاں تک مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف، شہباز شریف کی حکومتوں کا تعلق ہے وہ ٹریک پر چڑھ چکی ہیں۔ بہاولپور میں قائد اعظم سولر پارک میں 100میگاواٹ بجلی کے منصوبے کی تکمیل اور نندی پور پاور سٹیشن کے دوبارہ چالو ہونے سے عام آدمی محسوس کر رہا ہے کہ حکمران لوڈشیڈنگ کے خاتمے اور سستی بجلی کی فراہمی کیلئے سنجیدہ ہیں۔
عوامی جمہوریہ چین کے صدر شی چن پنگ کے پاکستان کے دورے کے دوران صرف بجلی کے لیے 20 ارب ڈالر کے معاہدوں نے عوام میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف بار بار کہہ رہے ہیں کہ بلاشبہ چین نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی ہے لیکن پاکستان پر مشکل وقت میں 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری دراصل پاکستان پر احسان ہے، پاکستان سے محبت کا عملی اظہار ہے۔
جس کا جواب نواز شریف، شہباز شریف حکومتیں چین کے یہاں تمام منصوبوں کو بروقت مکمل کروانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لا کر کر رہے ہیں۔اور اس اعلان کے ساتھ ساتھ عوام سے بھی اپیل کر رہے ہیں کہ وہ اپنی اپنی جگہ ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ا فواج پاکستان جس طرح حکومت کو معاونت فراہم کر رہی ہے ، ضرب عضب کی کامیابی اس کا واضح ثبوت ہے جس نے دہشت گردی کی کمر توڑ دی ہے اور اب حکمران عوامی شعبے میں خدمت کے لیے کمر کس چکے ہیں۔
یکم مئی کو مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر لاہور قصور کی سرحد پر سندر اسٹیٹ میں ورکرز ویلفیئر فنڈ پاکستان کی تقریب میں وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے محنت کشوں کے لیے 7ہزار فلیٹ تعمیر کرنے کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔ انہوں نے ایسی کالونیوں میں الاٹیوں کو ضرورت کے مطابق الاٹ شدہ فلیٹ فروخت کرنے کا حق دینے کا بھی اعلان کیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف اپنی ان کاوشوں سے عوام سے داد پا رہے ہیں لیکن صوبہ پنجاب کے خادم اعلیٰ ہونے کی حیثیت سے انہیں پاکستان ورکرز ویلفیئر فنڈ کے ادارے کے ”مال“ کو محنت کشوں پر ایمانداری سے خرچ کیے جانے کو یقینی بنانا چاہیے۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-08

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان