بند کریں
منگل فروری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حکومت کی ایم کیو ایم کو ممکنہ تعاون کی یقین دہانی
الطاف حسین کی حراست کے بعد ایم کیو ایم میں قیادت کا خلا پیدا ہوگیا ہے یا نہیں یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ ایم کیو ایم کو کون چلائے گا۔ ایم کیو ایم کے قائد کوگرفتاری کی اطلاع پہلے دیدی گئی تھی
شہزاد چغتائی:
منی لانڈرنگ کیس میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی لندن میں گرفتاری کے بعد کراچی میں حالات کشیدہ ہوگئے ایم کیوا یم کے کارکنوں پر بجلی بن کر گری اور وہ سکتہ میں آگئے۔ گرفتاری کے بعد بلدیاتی اداروں کے ملازمین مشتعل ہوگئے اور انہوں نے توڑ پھوڑ بھی کی۔ درحقیقت کارکن ان کی گرفتاری کی خبر پر یقین کرنے کے لئے تیار نہ تھے اور بہت پریشان تھے۔
ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی گرفتاری کی اطلاع ملتے ہی کراچی میں معمولات زندگی اور اسٹاک مارکیٹ کا رجحان متاثر ہو کرگیا۔ سرمایہ کاری میں 67 ارب 92 کروڑ کی کمی واقع ہوگئی۔ دوسری جانب نظم ونسق درہم برہم ہوگیا، افراتفری اور تشویش میں بازار ، شاپنگ سینٹر، بزنس کے دفاتر اور پیٹرول پمپ بند ہوگئے۔ شہری بازاروں اور دفاتر سے نکل کر بدحواسی کے عالم میں گھروں کی جانب بھاگنے لگے۔
جس کے بعد بدترین ٹریفک جام ہوگیا۔اس دوران مختلف علاقوں میں گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا جس کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہوگی۔ اس بار ایک اہم بات یہ تھی کہ کراچی کو کسی نے بزور بند نہ کیا بلکہ خود بخود بند ہوگیا اور لوگ رضا کارانہ طور پر بند کاورباری مراکز بند کر کے گھروں کو چلے گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سناٹا چھا گیا رات کو سائیں سائیں کرتا کراچی بھوتوں کے شہر میں تبدیل ہوگیا۔
کراچی سمیت ملک بھر میں دھرنوں کی لہر بھی آ گئی۔ مرکزی دھرنا پرانی نمائش پر دیا گیا۔ جہاں احتجاج کے شرکاء سڑکوں پر سو گئے اورپریس کلب میں بھوک ہڑتال شروع ہوگئی۔ اس بار ایم کیو ایم نے اگلے روز کیلئے ہڑتال کی کال نہیں دی۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کراچی کے معمولات کئی دن تک متاثر رہیں گے۔ الطاف حسین کی حراست کے بعد ایم کیو ایم میں قیادت کا خلا پیدا ہوگیا ہے یا نہیں یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ ایم کیو ایم کو کون چلائے گا۔
ایم کیو ایم کے قائد کوگرفتاری کی اطلاع پہلے دیدی گئی تھی لیکن انہوں نے اپنا جانشین مقرر نہیں کیا۔ حالانکہ 17 مئی کو جب ایم کیو ایم نے کراچی میں الطاف حسین سے اظہار یکجہتی کے لئے جب طاقت کا مظاہرہ کیا تھا اس دوران یہ بات منظر عام پر آ گئی تھی کہ الطاف حسین کے گرد گھیرا تنگ ہوگیا ہے۔ خود ایم کیو ایم کے قائد یہ اعتراف کر رہے تھے کہ ان کو گرفتار کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں لیکن انہوں نے متبادل قیادت تیار نہیں کی۔
ایم کیوا یم پر ایک ایسے وقت افتاد ٹوٹی ہے جب الطاف حسین کے سب سے بڑے مخالف اور سابق دست راست آفاق احمد دل کا دوروہ پڑنے کے بعد اسپتال میں داخل ہیں۔ الطاف حسین ایک عرصے سے آفاق احمد کو ایم کیو ایم میں لانے کے لئے کوشاں تھے اور ان سے رابطے کر رہے تھے لیکن آفاق احمد تمام پیش کشوں کو ٹھکراتے رہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے اندر اقتدار کی کشمکش بھی سر اٹھا سکتی ہے ،جس سے پارٹی کو نقصان کا اندیشہ ہوسکتا ہے۔
قبل ازیں الطاف حسین سازشوں سے نمٹتے چلے آئے ہیں اور ایم کیو ایم کے قائد کا پارٹی پر مکمل کنٹرول رہا ہے۔ ان کی گرفت جس قدر پہلے مضبوط تھی، اب ڈھیلی بھی پڑ سکتی ہے۔ اس وقت عامر خان کے سوا ایم کیو ایم میں کوئی بڑا لیڈر نہیں ہے۔ وائس چیئرمین سلیم شہزاد کو سائید لائن کردیا گیا تھا۔ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کردیئے گئے۔ مصطفٰے کمال روٹھ کر دبئی چلے گئے اور ڈاکٹر فاروق ستار کو رابطہ کمیٹی سے ہٹا دیا گیا تھا۔
جہاں تک گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کا تعلق ہے ان دنوں قائد تحریک اور گورنر سندھ کے تعلقات مثالی نہیں تھے۔ 14 مئی کو کراچی میں ہونے والے سول و عسکری قیادت کے امن و امان کے بارے میں اجلاس کے بعد الطاف حسین گورنر سندھ پر برس پڑے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں ایم کیو ایم کو برابھلا کہا جاتا رہا اور گورنر سندھ خاموش بیٹھے رہے۔اس وقت تمام نگاہیں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد پر مرکوز ہیں جو قدآور شخصیت کے مالک ہیں اور اپنی جماعت کو بحران سے نکال سکتے ہیں۔
اس مقصد کیلئے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے منگل کو برطانوی حکومت صدر مملکت سید ممنون حسین اور وزیراعظم محمد نوازشریف سے رابطے کئے اور ان کوکراچی کے شہریوں میں اضطراب کی کیفیت سے آگاہ کیا۔انہوں نے صدر اور وزیراعظم سے درخواست کی کہ وہ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی مدد کریں۔ الطاف حسین کی خوش قسمتی یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں نے ایم کیو ایم سے لاتعلقی کا اظہار نہیں کیااور ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ پر شادیانے بجانے سے گریز کیا۔
وزیراعظم محمد نواز شریف نے گورنر سندھ کو ہر ممکن قانونی مدد کا یقین دلایا ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا کہ ایم کیو ایم بڑی جماعت ہے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ ہم نے مشکل حالات کے باوجود ایم کیو ایم کا ساتھ دیا ہے اور اب بھی دیں گے۔ گرفتاری کی اطلاع کے بعد کراچی میں برطانوی قونصل خانہ بند کردیا گیا ہے اور اس کو جانے والے راستے بھی بند کردیئے گئے ہیں۔
دوسری جانب امن و امان کی بحالی کیلئے آپریشن بھی موخر کردیا گیا ہے۔ ایم کیو ایم کے کارکنوں نے منی لانڈرنگ کیس کو سیاسی مقدمہ اور ایم کیو ایم کے خلاف سازش قرار دیا۔ سیاسی حلقوں نے بھی اس پر استفسار کیا ہے اور کہا کہ الطاف حسین کا کیس منی لانڈرنگ میں نہیں آتا کیونکہ الطاف حسین 22سال سے لندن میں مقیم ہیں ان کو پوری دنیا سے ایم کیو ایم کے کارکن 22سال سے لندن سیکریٹریٹ کے اخراجات چلانے کیلئے رقم بھجواتے تھے۔
ایک اندازہ کے مطابق لندن سیکریٹریٹ کے ماہانہ اخراجات 60ہزار سے 65ہزار پاؤنڈ ہیں۔ ان کارکنوں کا کہنا ہے کہ الطاف حسین کو جوبھی رقم بھجوائی جاتی تھی وہ کالا دھن یا منشیات کی آمدنی نہ تھی۔تاہم اس بات پر بحث ہوسکتی ہے کہ ان رقوم کی ترسیل کیلئے قانونی طریقے اختیار نہ کئے گئے ہوں۔ کارکنوں کی سوچی سمجھی رائے ہے کہ برطانیہ میں ان کے قائد کے ساتھ کوئی بڑا کھیل کھیل جارہا ہے۔
کارکنوں کو جب یہ بتایا گیا کہ اسکاٹ لینڈ یارڈکے معاملات کا برطانیہ کی سیاسی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اسکاٹ یارڈ پولیس کی تفتیش میں برطانوی وزیراعظم کوئی مداخلت کر سکتا ہے۔ کارکنوں کا موقف ہے کہ مقدمہ حکومت نے بنایا ہے اور جس کی وجوہ سیاسی ہیں۔ واضح رہے منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کیلئے برطانوی ٹیم پاکستان بھی آئی تھی اور جن لوگوں نے 4لاکھ پونڈ لندن بھجوائے تھے انہوں نے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کو بتایا تھا کہ انہوں نے ہی یہ رقم بھجوائی تھی۔
تاریخ اشاعت: 2014-06-06

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان