بند کریں
منگل فروری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حکومت کے صبر کا پیمانہ لبریز۔۔۔ٹھکائی کی تیاریاں
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 30نومبر2014ء کو” فیصلہ کن جنگ “ کا اعلان کر دیا ہے اگرچہ انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ ”جنگ“کی کیا شکل ہو گی۔ عمران خان کی ماضی کے دھمکی آمیز لہجے کو پیش نظر رکھا جائے
نواز رضا:
پاکستان تحریک انصاف کے چےئرمین عمران خان نے 30نومبر2014ء کو” فیصلہ کن جنگ “ کا اعلان کر دیا ہے اگرچہ انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ ”جنگ“کی کیا شکل ہو گی تاہم ان کے ”شامل بینڈ باجہ “ نے ننکانہ صاحب کے جلسہ میں ان کی موجودگی میں 30نومبر2014ء کو”مارو یا مر جاوٴاور گھیراوٴ جلاوٴ “ کی کال دے کر جہاں مولانا بھاشانی مرحوم کی روح کو عمران خان میں داخل کرنے کی کوشش کی ہے وہیں انہوں نے پی ٹی آئی کو بھی مشکل صورت حال سے دوچار کر دیا ہے عمران خان نے شیخ رشید احمد کے بیان سے لا تعلقی کا اعلان نہیں کیا تاہم تحریک انصاف کی ترجمان شیریں مزاری نے شیخ رشید احمد کے بیان کی تائید نہیں کی اور کہا کہ تحریک انصاف ایک پرامن جماعت ہے لیکن سیاسی حلقوں میں 30نومبر2014ء کے ”عمران شو “کے حوالے سے ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے اگرچہ عمران خان مطالبات تسلیم نہ کرنے پر مسلسل حکومت کو سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں لیکن عمران خان کی ماضی کے دھمکی آمیز لہجے کو پیش نظر رکھا جائے تو پریشانی کی کوئی بات نہیں۔
کیونکہ وہ پہلے بھی حکومت کو اس نوعیت کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں، لیکن وہ اپنی دھمکیوں میں کبھی سنجیدہ دکھائی نہیں دئیے۔اگر عمران خان” لندن پلان پارٹ۔1“ کی ناکامی کے بعد ”لندن پلان پارٹ۔ 2“ کے تحت اسلام آباد پر ”سیاسی لشکر کشی“کرتے ہیں تو وفاقی حکومت کسی صورت بھی 14اگست 2014ء کی غلطی کا اعادہ نہیں کرے گی۔ عمران خان کے لندن پلان۔
2کے خدو خال تو سامنے نہیں آئے تاہم ایک با ت واضح ہے اب کی بار عمران خان کو ڈاکٹر طاہر القادری کی مدد حاصل نہیں ہو گی ان کو اسلام آباد پہنچنے کے لئے تنہا ”آگ کا دریا “عبور کرنا پڑے گا۔ عمران خان کی جانب سے30 نومبر 2014ء کے جلسہ کے اعلان کے بعد منگل کو وزیر اعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت اعلی سطح کا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں جلسہ کے موقع پر دارالحکومت اسلام آباد کو” محفوظ شہر“ بنانے کیلئے پوری ریاستی مشنری کو بروئے کا ر لانے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں طے پایا کہ کسی سیاسی جماعت یا گروہ کو شاہراہ دستور پر دوبار قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔وزیر اعظم محمد نواز شریف نے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو شہر میں امن وامان قائم کرنے کے لئے پوری ریاستی قوت کو استعمال کرنے کی اجازت دے دی حکومت نے ”مارو مر جاوٴ اور گھیراوٴ جلاوٴ “ کا سختی سے نوٹس لیا ہے اور کہا ہے کہ قانون شکنوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے گا وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد کی سیکیورٹی کے لئے رینجرز، ایف سی اور پولیس کی مزید نفری طلب کر لی گئی ہے اسلام آباد میں تحریک انصاف کے جلسہ کے پیش نظر رینجرز اور ایف سی کے 22 ہزار اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پنجاب اور آزاد کشمیر سے اضافی نفری فراہم کرنے کے لیے خطوط ارسال کر دیئے گئے ہیں۔ تحریک انصاف کو 30 نومبر 2014ء کے جلسہ کے لیے جگہ لئے ضلعی انتظامیہ سے اجازت حاصل کرنا ہو گی تاہم شاہراہ دستور پر جلسہ منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اس کے لئے قانون سازی کی جارہی ہے ادھر پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی 30 نومبر2014ء کو اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے جلسہ سے اظہار لا تعلقی کر دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ پی ٹی آئی کا اپنا جلسہ ہے ہم نے انقلاب کے دھرنے کو ملک گیر تحریک بنا دیا ہے۔
جب سے شیخ رشید نے 30نومبر2014ء کو ”مارو مر جائے اور گھیراوٴ جلاوٴ“ کی کا ل دی ہے حکومت کو بھی تحریک انصاف کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لینے کا موقع مل گیا وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید جنہوں نے زمانہ طالبعلمی میں شیخ رشید احمد سے پنجہ آزمائی کی تھی تین عشرے گذرنے کے بعد آج دونوں اس مقام پر کھڑے ہیں۔ جہاں وہ 70 ء کے عشرے میں کھڑے تھے لیکن اب پرویز رشید میاں نوز شریف کے مورچہ کے محافظ ہیں جب کہ شیخ رشید احمد ،عمران خان کا شامل بینڈ باجہ ہیں پرویز رشید نے کہا ہے کہ جب شیخ رشید احمد تحریک انصاف کے کارکنوں کو ”گھیراوٴجلاوٴ “کے لئے اکسا رہے تھے عمران خان اس بات کی وضاحت کریں کہ وہ اس وقت سو رہے تھے یا جاگ رہے تھے اور اگر جاگ رہے تھے تو بتائیں وہ شیخ رشید کی اشتعال انگیز تقریر کو قبول کر تے ہیں یا مسترد۔
پرویزرشید نے عمران خان پر پھبتی کسی ہے کہ جب سے آپریشن ضرب عضب کا آغاز ہوا ہے عمران خان کا اس ملک وقوم پر غضب ٹوٹ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیخ رشید احمد نہ صرف عمران خان کے ترجمان ہیں بلکہ بزعم خویش سیاسی استاد بھی ہیں اب دیکھنا یہ ہے عمران کے ”سیاسی استاد “عمران خان کا کیا سیاسی انجام کرتے ہیں ؟آنے والے دنوں میں صورت حال واضح ہو جائے گی۔
جب سے مسلم لیگ (ق) کی اعلیٰ قیادت کے پاکستان عوامی تحریک کے چےئرمین ڈاکٹر طاہر القادری کے درمیان فاصلے پیدا ہوئے ہیں مسلم لیگ (ق) اپنا الگ وجود تسلیم کرانے کے لئے میدان میں اتر آئی ہے مسلم لیگ (ق) کی قیادت نے عوامی تحریک کے دھرنا کے شرکاء کو ” وسائل “ فراہم کئے اور چوہدری برادران نے ڈاکٹر طاہر القادری کو سیاسی رہنمائی بھی کی لیکن اب ایسا دکھائی دیتا ہے پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ” پاور بیس“ پنجاب کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا ہے اور پنجاب کے عوام کے مقبول ترین نعرے ” کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو پارٹی منشور میں اولین ترجیح دینے کافیصلہ کیا ہے کا باغ ڈیم کی تعمیر کے ایشو پر ماضی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی حکومتیں مصلحتوں کا شکار رہی ہیں۔
پیپلز پارٹی کالا باغ ڈیم کے باب کو ختم کر چکی ہے جب کہ مسلم لیگ (ن) اس ڈیم کی تعمیر پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے پر زور دیتی رہی ہے۔ مسلم لیگ (ق) نے در حقیقت کا لاباغ ڈیم پر قومی سیمینار منعقد کر کے اپنی ”غیر اعلانیہ انتخابی مہم “شروع کر دی ہے۔سیمینار میں سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا شمس الملک کا کلیدی خطاب تھا جنہوں نے کالا باغ ڈیم کی تعمیرکے حق میں مدلل تقریر کی۔
مسلم لیگ (ق) کے سینئررہنماچوہدری پرویز الہی نے تجویز پیش کی ہے کہ اگر کسی کو کالاباغ کا نام پسند نہیں تو اس کا نام ” پاکستان ڈیم“ رکھ دیا جائے۔ کالاباغ ڈیم چاروں صوبوں کیلئے پانی، سستی بجلی، خوشحالی اور غریبوں کے مستقبل کا ضامن ہو سکتا ہے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ بطور وزیراعلیٰ پنجاب این ایف سی ایوارڈ کی میٹنگ میں بجلی اور گیس کی تقسیم کے ضمن میں آبادی کے بجائے Source Based Formulaکی تجویز پر کہا کہ میری صرف ایک شرط ہے اور آئیں آج سب مل کر کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے منصوبہ پر دستخط کردیں، لیکن اس دوران تمام وزرائے اعلیٰ نے خاموشی اختیارکر لینے میں ہی مصلحت جانی۔

اسلام آباد میں 5سیاسی و مذہبی جماعتوں جمعیت علما ء اسلام (ف)، جماعت اسلامی ،عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور قومی وطن پارٹی کے جرگہ میں جناح کنونشن سنٹر اسلام آباد میں ماہ رواں میں” قبائلی عمائدین کا گرینڈ جرگہ “ طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں آئی ڈی پیزکے مسائل کے حل کے لئے لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ جرگہ میں جمعیت علماء اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق،قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب خان شیرپاوٴ، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے شرکت کی جب کہ مسلم لیگ(ن) تحریک انصاف کو مدعو نہیں کیا گیا اگلے روز مولانا فضل الرحمنٰ نے وزیر اعظم محمد نواز شریف سے ملاقات کرکے انہیں جرگہ کے فیصلوں سے آگاہ کیا اس بات کا قوی امکان ہے” گرینڈ جرگہ“ میں حکومت بھرپور شرکت کرے گی۔
تاریخ اشاعت: 2014-11-21

(2) ووٹ وصول ہوئے