بند کریں
بدھ مارچ

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
”گو ۔۔۔گو“ کی سیاست
عوام کو تصویر کا اصل رُخ نہیں دکھایا جاتا۔۔۔۔۔ ”گو۔۔۔گو“ کا نعرہ معمولی تبدیل یلی کے بعد اب ہماری سیاست کا لازمی حصہ بن گیا ہے۔ہمارے لوگوں کی دورکی یاداشت شاید کمزور ہے۔
خالد نجیب خان :
وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ”عمران خان سیاست چھوڑ دیں کیونکہ گو عمران گو کا نعرہ لگ گیا ہے۔“ یہ بات انہوں نے عمران خان کو ان کا ایک وعدہ یاد دلاتے ہوئے کہی ہے ۔ چند ماہ قبل اسلام آباد میں احتجاجی دھرنے کے دوران میں عمران خان نے کہا تھا” گو نواز گو“ کا نعرہ اتنا لگ گیا ہے کہ اب نواز شریف کو چلے ہی جانا چاہیے۔
اتنی مرتبہ اگرمیرے بارے میں یہ نعرہ لگتا تو میں سیاست چھوڑ دیتا۔عمران خان کا یہ بیان یقینا ایک سیاسی بیان تھا جو ایک خاص وقت پر خاص انداز میں دیا گیا تھا اور اس پر عمل کرنا بھی شاید اُن کیلئے ضروری نہیں ہے۔
”گو۔۔۔گو“ کا نعرہ معمولی تبدیل یلی کے بعد اب ہماری سیاست کا لازمی حصہ بن گیا ہے۔ہمارے لوگوں کی دورکی یاداشت شاید کمزور ہے۔
اسی لئے وہ ہر کسی کیلئے ”گو۔۔۔گو“ کے نعرے لگانے کیلئے جمع ہو جاتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب سیاسی جلسوں میں زندہ باد پائندہ باد کے نعرے لگا کرتے تھے۔
”جیتے گا بھی جیتے گا“ ”آوے ای آوے“ ”۔۔۔۔ساڈا شیراے“ جیسے نعرے سنے اب بہت عرصہ ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اب اپنے لیڈ ر کو بڑا بنانے کی بجائے مخالف لیڈر کو برا بھلا کہہ کر اُسے کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
نعروں میں تبدیلی یا نئے نعرے بنانا ایک اچھی بات ہے لیکن تبدیلی اگر مثبت انداز میں ہو تو زیادہ مقبول ہوتی ہے۔ ”گو۔۔گو“ کا نعرہ بھی پہلی مرتبہ شاید 90ء کی دہائی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے صدر غلام اسحاق خان کیلئے لگایاتھا۔ اس کے بعد یہ نعرہ بدل کر تقریباََ تمام حکمرانوں کیلئے لگایا گیا۔ اسحاق خان کے بعد صدر لغاری کے بارے میں بھی پوری شدت سے ”گو لغاری گو“ کا نعرہ لگایا گیا اور وہ اپنے گھر واپس چلے گئے۔
صدر رفیق تارڑ وہ خوش قسمت صدر تھے جن کے بارے میں ایسے نعرے نہیں لگائے گئے مگر وہ پھر بھی چپ چاپ چلے گئے۔ اس کے بعد آنے والے صدر پرویز مشرف اور آصف علی زرداری کے بارے میں تو اس قدر شدت سے یہ نعرے لگے کہ سب نے سنا مگر اُن کے کان تک یہ بات نہیں پہنچی۔ اسی لئے اُنہوں نے اپنے عہدے کی معیاد پوری کی۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ”گو۔۔گو“ کا نعرہ جتنی تعداد میں سنجیدگی سے نواز شریف کے بارے میں لگایا گیا ہے اس کی نظیر کم از کم پاکستانی سیاست میں تو نہیں ملتی لیکن اُن پر تویہ نعرہ بالکل بھی بے اثر ہوگیا۔

”گو۔۔۔گو“ کا نعرہ سیاست کے میدان میں اسلئے اچھا سمجھا جاتا ہے کہ ماضی میں اس کی بجائے جو نعرہ لگایا جاتا تھا اس میں سیاست دان کے نام کے ساتھ ایک پالتو جانور کا نام بھی لیا جاتا تھا۔ ایوب خان پر اس نعرے کا اثر ہوا اور وہ سیاست سے کنارہ کش ہو گئے۔ پھر بھٹو دور میں بھی یہ نعرہ بلند ہوا اور اُن کی حکومت ختم کر کے اُنہیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔
ضیاء الحق کے بعد یہ غیر مہذہب نعرہ متردک ہو گیا اور پھر کسی اور حکمران کیلئے نہیں لگایا گیا اور اگر لگایا گیا تو اس کی پذیرائی نہ ملی ۔ تب تک پاکستانی قوم کا اخلاق اس قدر بہتر ہو گیا تھا کہ اُنہیں اپنے حکمران کے نام کے ساتھ پالتو جانور کا نام لگانا اچھا نہیں لگتا تھا۔
ماضی قریب کی مثالیں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ”گو۔۔گو“ نے نعرے بھی اب اپنی تاثیر کھو چکے ہیں۔
ان کی جگہ کون سے پُر تاثیر نعرے آئیں گئے ابھی بتانا ممکن نہیں ہے۔
میاں نواز شریف پر ”گو۔۔گو“ کے نعرے کیوں بلند ہوئے اوربے اثر کیوں ثابت ہوئے ، اس کے بارے میں اُن کے اور اُن کے کارکنوں کے پاس کئی جوابات ہیں مگر عمران خان کے خلاف لگنے والے ان نعروں کے بارے میں سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر انُہوں نے سوگ کے ان دنوں میں دوسری شادی نہ کی ہوتی تو ایسا نہ ہوتا۔
ایک اور مبصر کا خیال ہے کہ یہ نعرے لگائے نہیں گئے بلکہ لگوائے گئے ہیں۔ جبکہ نعرے لگانے والوں کا کہنا ہے کہ ہمارے بچے شہید ہو گئے ہیں اور ہمیں اُلٹا برا کہا جا رہا ہے ۔ ایک اور تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان آرمی پبلک سکول جلدی چلے جاتے تو شاید ایسا نہ ہوتا۔
سیاسی قیادت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ بروقت فیصلے نہیں کرتے وقت گزرنے کے بعد کئے گئے فیصلے میں وہ تاثیر نہیں ہوتی۔
تحریک انصاف کے ذمہ داروں نے یہ بات بھی تسلیم کی ہے کہ آرمی پبلک سکول کے باہر مظاہرہ کرنے والے لوگ غیر سیاسی تھے اور زیادہ ترنے تو اُن کی پارٹ کو ووٹ بھی دیا تھا۔
”گو۔۔۔گو“ نے نعرے سیاسی کارکن لگائیں یا غیر سیاسی لوگ ایک جیسی بات نہیں ہے۔ اپنی سیاسی جماعت کے موقف کو لے کر یا لیڈر کی بات کو آگے بڑھانے کیلئے توکوئی کچھ بھی کر سکتا ہے مگر انفرادی طور پر جب لوگ ایک ہی بات پر اکٹھے ہو جائیں تو وہ الگ بات ہے۔
جمہوریت میں انفرادی یا چھوٹے گروہ کی اہمیت پارٹی کارکنوں یا بڑے گروہ سے زیادہ نہیں ہے ۔”گو۔۔۔گو“ کے یا اس کے متبادل نعرے جب بھی لگے عوام نے اپنی مرضی یا شعور سے نہیں لگائے بلکہ نعرے لگانے والوں کو کسی نہ کسی چیز کا لالچ دے کر لگوائے گئے۔ کہیں یہ لالچ دیا گیا کہ اس کے جانے کے بعد اُن کی اپنی حکومت آجائے گی اور اُس دور میں عیش کریں گے۔
کہیں یہ بتایا گیاکہ اس کے چلے جانے سے برائی یا کرپشن ختم ہوجائے گی۔ کہیں یہ بتایا گیا کہ یہ غلط حکمران ہیں ان کا جانا ضروری ہے ۔ حالانکہ ہو خود بھی دودھ کے دُھلے نہیں ہوتے ہیں۔ عوام کی اصل آواز تو انفرادی ہی ہوتی ہے۔ جب ہر فرد کی آواز ایک ہی ہو جائے تو پھر اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے اور اسے سیاسی کارکردگی یا سیاسی عمل قرار دینا چاہیے ورنہ نہ تو یہ سیاسی عمل ہوتا ہے نہ ہی اس کا کوئی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-01-24

(0) ووٹ وصول ہوئے