بند کریں
جمعہ جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین

فیصل آباد

فیصل آباد میں اقتدار کی جنگ
فیصل آباد کے میئر، ڈپٹی میئرز، چیئرمین ضلع کونسل اور دیگر مخصوص نشستوں کے لئے صوبائی وزیرقانون و بلدیات رانا ثناء اللہ خاں اور سابق میئر چوہدری شیرعلی کے گروپوں کے مابین اندرون خانہ اپنی بالادستی کے لئے کھینچاتانی جاری ہے
احمد کمال نظامی
فیصل آباد کے میئر، ڈپٹی میئرز، چیئرمین ضلع کونسل اور دیگر مخصوص نشستوں کے لئے صوبائی وزیرقانون و بلدیات رانا ثناء اللہ خاں اور سابق میئر چوہدری شیرعلی کے گروپوں کے مابین اندرون خانہ اپنی بالادستی کے لئے کھینچاتانی جاری ہے اور 5دسمبر کے بعد مسلم لیگ(ن) کے قائدین وزیراعظم نوازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہبازشریف کی طرف سے اپنی جماعت کے امیدواروں کو ٹکٹیں جاری کرنے کے بعد ان اختلافات کا کیا نقشہ ہو گا اس بارے میں قبل ازوقت کچھ بھی کہنا ممکن نہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ پارٹی امیدوار کے لئے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں جس انداز میں کھلم کھلا ایک دوسرے کے ساتھ اختلاف کیا گیا اور محاذ آرائی کا بازار سرگرم رکھا گیا، اس طرح کی صورت حال نہیں ہو گی تاہم دونوں گروپ اپنے پاس واضح اکثریت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔
چوہدری شیرعلی گروپ کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ ان کے پاس میئر کے لئے درکار تعداد سے زیادہ نومنتخب چیئرمین موجود ہیں اور پاورشو کرنے پر مخالفین کی نیندیں اڑ جائیں گی جبکہ دوسری طرف رانا ثناء اللہ خاں کا موقف ہے کہ ان کے پاس زیادہ اکثریت ہے اور جیتنے والے تمام کا تعلق مسلم لیگ(ن) سے ہے۔ انہوں نے مختلف تقریبات میں آزاد حیثیت سے منتخب ہونے والے چیئرمینز کو بھی پارٹی میں لینا شروع کر دیا ہے۔
گویا اپنے تمام تر دعووٴں اور ضابطہ اخلاق کے نعروں کے باوجود جوڑ توڑ اور کھینچا تانی نکتہ عروج پر ہے۔اس وقت صورت حال انتہائی مبہم ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کی ہدایت پر میئر، ڈپٹی میئرز اور چیئرمین ضلع کونسل کے لئے جو پارلیمانی بورڈ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی سربراہی میں قائم کیا گیا ہے اس میں رانا ثناء اللہ اور عابد شیرعلی دونوں کو شامل کیا گیا ہے لیکن اس بورڈ کی طرف سے درخواستیں طلب کرنے پر مسلسل مسلم لیگ (ن) کے نظریاتی اور دیرینہ کارکن اس انداز میں نظرانداز ہو رہے ہیں کہ پارٹی کی طرف سے لاکھوں روپیہ فیس مقرر کی گئی ہے جس سے یہ تاثر ابھر کر سامنے آتا ہے کہ تمام جماعتیں کارکنوں کو درحقیقت کوئی اہمیت نہیں دیتی اور صرف کارکنوں کو ان کے حقوق کی یقین دہانی کا ڈھکوصلہ دیا جاتا ہے۔
صوبائی وزیرقانون و بلدیات رانا ثناء اللہ نے کئی مواقع پراعلان کیا تھا کہ میئر، ڈپٹی میئرز اور چیئرمین ضلع کونسل مسلم لیگ(ن) کا ہو گا جو مسلم لیگ(ن) کے انتخابی نشان شیر پر الیکشن جیت کر چیئرمین منتخب ہوا ہو گا صرف وہی مسلم لیگ(ن) کے امیدوار کے طور پر سامنے آ سکے گا لیکن تمام دعووٴں اورنعروں کی نفی سامنے آ رہی ہے جس طرح گذشتہ روز 13نومنتخب چیئرمین رانا ثناء اللہ کی موجودگی میں مسلم لیگ(ن) میں شامل ہوئے، یہ تمام آزاد حیثیت سے منتخب ہوئے تھے اب ان کے حوالے سے خود صوبائی وزیرقانون نے کہا ہے کہ وہ پارٹی پالیسی کے تحت میئرور ڈپٹی میئرز کے لئے پارٹی کو اپلائی کر سکتے ہیں۔
اس وقت شاید زیادہ سے زیادہ پارٹی فنڈ ریونیو اکٹھا کرنے کے لئے ایسا کیا جا رہا ہے۔ فیصل آباد کو مسلم لیگ(ن) کا قلعہ قرار دینے اور عام انتخابات میں ثابت کروانے کے باوجود میئر اور ڈپٹی میئرز کے لئے پارٹی کوئی بھی ایسا چہرہ سامنے نہیں لا سکی جو پارٹی کے حوالے سے واضح شناخت رکھتا ہو ،اس کی مسلم لیگ(ن) سیاست اور شہر کے لئے کوئی خدمت ہو ایسا ہی محسوس ہو رہا ہے کہ دولت پیمانہ قرار پائے گی اوراسی کے تحت کسی نہ کسی کو میئر اور ڈپٹی میئرز بنا دیا جائے گا۔
مسلم لیگ(ن) اس وقت وطن عزیز میں سب سے بڑی سیاسی جماعت کے طور پر اقتدار میں موجود ہے اسی لئے بلدیاتی انتخابات بھی مسلم لیگ(ن) بمقابلہ مسلم لیگ(ن) ہی تھے لیکن کیا وجہ ہے کہ دھڑے بندیوں اور اختلافات کے باوجود کوئی بھی قدآور سیاسی چہرہ یا شخصیت سامنے نہیں لائی جا سکی، جس کے حوالے سے شہری اور سیاسی حلقے کم از کم اتنا اطمینان محسوس کر سکیں کہ سیاسی طور پر کوئی ایسا ایڈمنسٹریٹر امیر شہر کی حیثیت سے سامنے آئے گا جو تمام معاملات کو بہتر انداز میں چلا سکے، شہر کی تعمیروترقی سمیت میئر اور ڈپٹی میئرز کے ذمے تمام امور کو بہ احسن انداز میں سرانجام دے سکے۔
پارٹی پالیسی کے تحت یہ درست نہیں کہ ایک ہی گھر کو تمام سیٹیں دے دی جائیں۔اگر یہ اختلاف درست تھا اور اسے موروثی سیاست کے حوالے سے یقینا درست قرار نہیں دیا جا سکتا تو پھر خود رانا ثناء اللہ گروپ کی طرف سے ایسے ہی اقدامات کیوں سامنے آ رہے ہیں جس پر وہ اپنے مدمقابل گروپ کے سربراہ پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے نہیں تھکتے۔ مسلم لیگ(ن) کے تمام ذرائع کے مطابق تاحال رانا ثناء اللہ ملک محمد نواز ایم پی اے کے بھائی رزاق ملک کو فیصل آباد کے میئر کے لئے اپنا فیورٹ امیدوار قرار دیتے ہیں۔
رانا ثناء اللہ اس امر کی تردید بھی نہیں کی۔
مسلم لیگ(ن) کے ایم این اے میاں عبدالمنان نے اپنے بھانجے اور میاں محمد فاروق ایم این اے کے داماد کو ا پنے گھر کی سٹی کونسل سے الیکشن میں اتارا تاکہ میدان میں کسی چانس کو آزمایا جا سکے لیکن ان کا بھانجا شکست سے دوچار ہو گیا۔ میاں محمد فاروق ایم این اے نے اپنے بیٹے اور مسلم لیگ(ن) کے ضلعی صدر میاں قاسم فاروق کو میدان میں اتارا تاکہ چیئرمین ضلع کونسل منتخب کروا سکیں لیکن میاں قاسم فاروق بھی شکست سے دوچار ہو گئے اور انہیں شکست ان کے چچا نے دی جو تحریک انصاف کے امیدوار تھے۔
اسی طرح مسلم لیگ(ن) کے ایم پی اے فقیر حسین ڈوگر نے اپنے بیٹے کو اپنے گھر کی سٹی کونسل سے بلدیاتی انتخابات میں قسمت آزمائی کے لئے اتارا مگر ان کا بیٹا بھی کامیاب نہ ہو سکا۔ مسلم لیگ(ن) کے ایم پی اے چوہدری افضل ساہی سابق سپیکر پنجاب اسمبلی کا بیٹا جنید افضل ساہی بلدیاتی انتخابات میں کامیاب ہو چکا ہے وہ بھی اسے چیئرمین ضلع کونسل کا حکمران جماعت کا امیدوار دیکھنے کے خواہاں ہیں۔
مسلم لیگ(ن) کے ایم این اے چوہدری عاصم نذیر اپنے بھائی اور سابق چیئرمین ضلع کونسل زاہد نذیرچوہدری کو چیئرمین ضلع کونسل بنوانے کے لئے جوڑ توڑ میں مصروف ہیں۔مسلم لیگ(ن) کے ایم این اے رانا محمد افضل اور ان کی اہلیہ نجمہ افضل ایم پی اے نے اپنے بیٹے انعام افضل کے لئے ٹیکنوکریٹ کی نشست کے لئے اپلائی کر رکھا ہے وہ بھی ایسے ہی خواب دیکھ رہے ہوں گے۔
میاں محمد فاروق ایم این اے کے بیٹے میاں قاسم فاروق کی شکست کے بعد میاں محمد فاروق نے اپنے دوسرے صاحبزادے معظم فاروق کی طرف سے کسان کی مخصوص نشست کے حوالے سے پارلیمانی بورڈ کو درخواست جمع کروا رکھی ہے وہ معظم فاروق کو چیئرمین ضلع کونسل دیکھنا چاہتے ہیں۔ معظم فاروق ماضی میں بھی چیئرمین ضلع کونسل فیصل آباد رہ چکے ہیں۔ الیاس انصاری ایم پی اے کے بھائی انوار انصاری بھی یہی خواب دیکھ رہے ہیں ، اسی طرح کا معاملہ ہر دوسرے سیاسی گھر میں جاری ہے جن میں سے اکثریت کا تعلق رانا ثناء اللہ گروپ سے ہے۔
چوہدری شیرعلی کی طرح یہ تمام بھی حق پر نہیں ہیں، یہ سب جمہوری روایات کی صریحاً نفی ہے۔ ایسی ہی روایات موروثی سیاست کے درودیوار مضبوط ہونے کے باعث ہمارے سیاسی کلچر کی تنزلی ،ملکی مسائل میں حد سے زیادہ اضافہ جاری ہے جس کے براہ راست تمام زہرقاتل مسائل عوام پر پڑ رہے ہیں جس وجہ سے عوام حکومت سے کسی طور پر مطمئن ہونے کے لئے تیار نہیں ہے۔
اگر صرف پارٹی کے حوالے سے بات کریں تو مسلم لیگ(ن) میں کسی بھی ارکان اسمبلی میں سے جن جن نے اپنے بیٹوں، بھائیوں اور بھتیجوں وغیرہ کے حوالے سے پارٹی کو میئر، ڈپٹی میئر،چیئرمین ضلع کونسل کے لئے درخواستیں دے رکھی ہیں ان میں سے کوئی بھی پارٹی میں متحرک نہیں۔پارٹی کارکن کی حیثیت سے بھی ان کی شناخت موجود نہیں ہے،تمام ارکان اسمبلی کے گھرانے صرف امیرشہر کی اقتدار کی کرسی پر براجمان ہونے کے خواب میں طاقت کے استعمال کی جستجو کرتے ہوئے میدان میں موجود ہیں۔
وزیراعظم نے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے سے قبل اعلان کر دیا تھا کہ کسی بھی ارکان اسمبلی کے رشتے داروں کو کسی یونین کونسل و سٹی کونسل کا بھی ٹکٹ جاری نہیں کیا جائے گا لیکن اراکین اسمبلی کے قائم کردہ حوالے سے بورڈز نے اس کی مکمل طور پر نفی کی،جس کے بعد تمام اراکین اسمبلی نے اپنے قریبی رشتے داروں کو پارٹی کارکنوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ٹکٹیں جاری کیں جس پر مسلم لیگ(ن) میں حد سے زیادہ اختلافات بڑھے۔
جس سے مسلم لیگ(ن) کی ساکھ متاثر ہونے لگی۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جو ہر وقت مسلم لیگ(ن) کے خلاف کسی نہ کسی محاذ کی تلاش میں رہتے ہیں انہوں نے بے ساختہ کہہ ڈالا کہ مسلم لیگ(ن) پنجاب کی ایم کیو ایم ہے۔ مسلم لیگ(ن) کو اس وقت واقعی اگر کوئی خطرہ ہے تو وہ اندرونی اختلافات ہے اس بات کا احاطہ مسلم لیگ(ن) کے ذرائع کے مطابق وزیراعظم متعدد مرتبہ کر چکے ہیں اور اس بات پر حیران و پریشان بھی ہیں کہ وہ کون سے طاقتور ہاتھ ہیں جن سے فیصل آباد میں مسلم لیگ(ن) کے داخلی اختلافات کو ملکی سطح پر وفاق و صوبے کے مابین لڑائی کا رنگ دیا جاتا ہے۔
مسلم لیگ(ن) کے اندرونی اختلافات کو ملک گیر سطح پر اسی کا نام دیا گیا۔بہت سارے سیاسی حلقے انہی نکات پر تاحال چہ میگوئیاں کرتے نظر آتے ہیں۔ فیصل آباد میں عام تاثر ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب صوبائی وزیر قانون کے ساتھ خصوصی شفقت رکھتے ہیں،اس لئے چوہدری شیرعلی گروپ کی کوئی شنوائی نہیں۔ ان اختلافات کا نتیجہ یہ نکلا کہ چوہدری شیرعلی گروپ کے رکن قومی اسمبلی چوہدری نثار احمد جٹ نے قومی اسمبلی میں بھولا گجر قتل کیس پر تحریک پیش کر دی اور کہا وزیراعلیٰ پنجاب نے فیصل آباد کے ارکان اسمبلی کے ساتھ وعدے کے باوجود اس حوالے سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی قائم نہیں کی۔
فیصل آباد میں مسلم لیگ(ن) کے دونوں دھڑوں کے مابین اختلافات کی اصل وجہ چوہدراہٹ کی لڑائی ہے،صوبائی وزیرقانون پر حد سے زیادہ دست شفقت سے یہ مسائل بڑھتے ہیں واضح طور پر اراکین اسمبلی کا ایک گروپ جو بالخصوص اراکین صوبائی اسمبلی پر مشتمل ہے اس کا سارے کا سارا جھکاوٴ صوبائی وزیر قانون کی طرف ہے،صوبائی وزیرقانون کی گروپ بندی کے سلسلے میں ماہرانہ سرگرمیوں سے اختلافات حد سے زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔
اس وقت لڑائی میئر اور ڈپٹی میئرز کے حوالے سے جاری ہے۔میئروچیئرمین ضلع کونسل کے لئے کھینچاتانی اور جوڑ توڑعروج پر ہے۔آخری تاریخ ختم ہو جانے کے بعد ممکن ہے دونوں گروپ پاور شو کے لئے بھی پرتولیں اور اختلافات ایک مرتبہ پھر کھل کر سامنے آئیں۔ اس سلسلے میں پارٹی قیادت کو قبل از وقت حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے کیونکہ اراکین قومی اسمبلی واضح طور پر رانا ثناء اللہ گروپ میں موجود نہیں،ان کا تمام تر جھکاوٴ چوہدری شیرعلی گروپ کی طرف ہے میاں عبدالمنان ایم این اے رانا ثناء اللہ گروپ میں شامل ہیں تاہم میئر، ڈپٹی میئرز چیئرمین ضلع کونسل کے لئے اب تک پارٹی کی طرف سے بھاری فیسوں کے ساتھ درخواستیں جمع کروانے کا سلسلہ جو جاری رہا اس میں بہت سارے نام سامنے آئے ہیں۔

جن میں رانا اسرار احمد خاں، شیخ محمد یوسف، سابق نائب ٹاوٴن ناظم شیخ محمد ذوالفقار، شرافت علی خاں خٹک، پرویز کموکا، انوار انصاری، حسن جاوید، سارہ امجد یٰسین، محسن سلیم، عبدالحفیظ باوا، راوٴ ظہیر اقبال، ساجد سہیل، شوکت علی وغیرہ شامل ہیں جبکہ ڈپٹی میئرز کے لئے اعجاز الحق بیگ، رانا اسرار احمد خاں، حق نواز غفاری، حسن جاوید، ارشد طاہر، عاشق رحمانی، یٰسین امین، اعجاز احمد، شیخ اسلم، پرویزاقبال کموکا، رانا افتخار، مجیرالشریف پوما، محسن سلیم، عبدالغفور، ریاض احمد، عثمان شیخ، امانت ساہی، رشید احمد، افضل ڈوگر، سارہ امجد یٰسین، عارف حسین، رانا عمردراز، رانا ایوب منج، شرافت خٹک، راوٴ ظہیراقبال، عاطف کسانہ، عتیق الرحمن انصاری، ہدایت انصاری، فریاد خٹک، ساجد سہیل، راجہ سلیم عابد، عامر رفیق کمبوہ، عارف بخاری، رانا یاسر وغیرہ شامل ہیں۔

حکمران جماعت کی طرف سے یوتھ کی نشست ختم کئے جانے کے باوجود 15ہزار روپے فیس کے ساتھ درخواستوں کا سلسلہ جاری ہے کہ شاید لیگی قیادت قانون میں ترمیم کر کے یوتھ نشستوں کے ساتھ ڈپٹی میئر اور وائس چیئرمین ضلع کونسل کی نشست بھی بڑھا دے۔ اس ضمن میں پارٹی لیڈروں کی طرف سے چند اعلانات بھی سامنے آئے تھے۔ آئندہ کیا نقشہ ہو گا؟ میئر اور ڈپٹی میئرز کے لئے پارٹی کارکن اور پارٹی کے لئے شناخت رکھنے والا کوئی چہرہ سامنے نظر نہیں آ رہا تاہم صوبائی وزیرقانون و بلدیات رانا ثناء اللہ خاں نے کہا ہے کہ ضلع کونسل میں ہر تحصیل کی سطح پر 5وائس چیئرمین ہوں گے، شہر میں 10لاکھ سے کم کی آبادی پر ایک جبکہ 10 لاکھ سے زائد آبادی پر 2 اور 20لاکھ سے زائد آبادی پر 3ڈپٹی میئرز لانے کی تجویز زیرغور ہے، 6 سے 8 ڈپٹی میئرز کی تجویز بھی زیرغور ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بارے میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا،یا کوئی نیا چہرہ سامنے آ کر سب کو حیران کر دے گا؟ اس سلسلے میں قائم کردہ بورڈ میں دونوں گروپوں سے عابد شیرعلی اور رانا ثناء اللہ شامل ہیں لہٰذا کسی کو بھی نظرانداز کرنے کی صورت میں اختلافات مزید شدت اختیار کریں گے،کسی کو بھی نظرانداز کرنے کی صورت میں کارکنوں کا احتجاج بھی سامنے آ سکتا ہے اس لئے وزیراعلیٰ پنجاب کو غیرجانبدار رہتے ہوئے اہم فیصلے کرنے ہوں گے ، آخر حتمی فیصلہ تو وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے ہی کرنا ہے لیکن وزیراعلیٰ پنجاب کی مشاورت خاص اہمیت رکھے گی وزیراعظم وزیراعلیٰ پنجاب کی سفارشات کو نظرانداز نہیں کریں گے۔
میاں محمد فاروق اپنے دوسرے صاحبزادے کو کسان کی مخصوص نشست کے امیدوار کے طور پر سامنے لے آئے ہیں۔ چوہدری افضل ساہی اپنے بیٹے کے لئے جوڑ توڑ میں مصروف ہیں۔ چوہدری عاصم نذیر اپنے بھائی اور سابق چیئرمین ضلع کونسل زاہد نذیر چوہدری کے ساتھ اس حوالے سے کوششوں میں مگن نظر آ رہے ہیں اس کے علاوہ کئی لوگ چیئرمین کی کرسی اقتدار پر بیٹھنے کے خواہش مند ہیں۔
ضلع میں بھی اختلافات بدستور موجود ہیں اور کم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ ضلع میں بھی اراکین اسمبلی کے مدمقابل دیرینہ اور نظریاتی کارکن نظر آ رہے ہیں جس پر اراکین اسمبلی کو جہاں مزاحمت کا سامنا ہے وہاں وہ پارٹی قائدین سے رابطے قائم کرنے میں تیزی کے ساتھ مصروف ہیں کہ کسی طرح وہ چیئرمین ضلع کونسل کا حکمران جماعت کا ٹکٹ حاصل کر سکیں۔ مسلم لیگ(ن) کے قائدین کو چاہیے کہ وہ پارٹی پالیسی اور کارکنوں کو لازمی طور پر پیش نظر رکھیں کیونکہ فیصل آباد شہر ہی نہیں بلکہ ضلع میں بھی کارکنوں کو بری طرح نظرانداز کیا گیا۔
چک جھمرہ، سمندری، جڑانوالہ اور تاندلیانوالہ سے کارکنوں کی بازگشت تاحال سامنے آ رہی ہے۔ صوبائی وزیرقانون رانا ثناء اللہ ضلع میں بھی چیئرمین ضلع کونسل کی نشست کے حوالے سے غیر محسو س انداز میں میدان میں موجود ہیں۔ ضلع میں پہلے ہی حد سے زیادہ گروپنگ موجود ہے۔سیاسی خاندان ماضی کے اختلافات کو سیاست میں سامنے رکھ کر چل رہے ہیں، نتیجتاً مسلم لیگ(ن) کی ساکھ انتہائی بری طرح مجروح ہو رہی ہے۔
کاروباری اور ذاتی اختلافات جماعت کے اندر چلائے جا رہے ہیں جس کا کارکنوں پر بھی براہ راست اثر پڑ رہا ہے،عوامی سطح پر بھی مسلم لیگ(ن) کی ساکھ مجروح ہو رہی ہے۔ شہر میں میئر، ڈپٹی میئرز اور چیئرمین ضلع کونسل اور اگر وائس چیئرمین ضلع کونسل کی نشست سامنے لائی جاتی ہے تو حکمران جماعت معاملے کو مزید مسائل میں تبدیل ہونے سے پہلے براہ راست خود مداخلت کرے۔
کسی بھی ایک گروپ کا پلڑا بھاری کرنے سے قائدین میں سے کسی کی بھی جانبداری سے پارٹی کو ناقابل تلافی نقصانات سامنے آ سکتے ہیں کہ پہلے ہی کارکن اگر چوہدری شیرعلی ورکرز میئر گروپ تشکیل نہ دیتے تو تحریک انصاف اور دوسری سیاسی جماعتوں کا رخ کر سکتے تھے۔ شہر کے علاوہ ضلع میں بھی ایسی ہی بدترین صورت حال جاری ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے قائدین کو چاہیے کہ وہ بلدیاتی اداروں کے اقتدار پر براجمان ہونے کے لئے جاری ہوس کی لڑائی کو ایک مرتبہ پھر گھمسان کی لڑائی میں تبدیل ہونے سے پہلے مداخلت کرے جماعت پر لگنے والے نئے دھبوں سے اسے بچا لے وگرنہ اختلافات کا پٹارا گرم ہے، جوڑتوڑ نکتہ عروج پر ہے ،اگر حکمت عملی کے سا تھ غیرجانبدارانہ پالیسی نہ اپنائی گئی تو پھر ایک مرتبہ پھر لاوا پھٹے گا اور اس کی زد میں سب آئیں گے۔
ماضی میں جو الزامات چوہدری شیرعلی پر عائد ہوتے تھے آج اس کی زد رمیں رانا ثناء اللہ گروپ بھی ہے اور دونوں گروپ ہی تو ایک دوسرے پر ٹکٹیں فروخت کرنے، کرپشن اور کارکنوں کو نظرانداز کر کے کارکنوں کے حقوق کا قتل کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ کیا وزیراعظم نوازشریف ایسے مزید اختلافات کی آتش فشاں کو دوبارہ برداشت کریں گے؟
تاریخ اشاعت: 2015-12-02

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان