بند کریں
اتوار جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
دھاندلی کی آڑ میں سیاسی کھیل
عام کے انتخاب کے انعقاد کو دو سال ہو گئے ہیں وفاقی حکومت اور سیاسی جماعتوں بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کے درمیان 11مئی 2013ء کے درمیان انتخابات کی شفافیت کے معاملہ شدید لڑائی جاری ہے کو ئی فریق شکست قبول کرنے کے لئے تیار نہیں
نواز رضا:
عام کے انتخاب کے انعقاد کو دو سال ہو گئے ہیں وفاقی حکومت اور سیاسی جماعتوں بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کے درمیان 11مئی 2013ء کے درمیان انتخابات کی شفافیت کے معاملہ شدید لڑائی جاری ہے کو ئی فریق شکست قبول کرنے کے لئے تیار نہیں اس وقت اعصاب کی مضبوطی کی جنگ لڑی جارہی ہے اگر عمران خان کوئی ”شوشہ “چھوڑ تے ہیں تو حکومت کی طرف سے ترکی بہ ترکی جواب آجاتا ہے جب کہ وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید جنہیں ”ماہر عمرانیات “ کا خطاب دے دیا گیا ہے عمران خان بھی اپنی مکّرر عادات پر ان کا جواب سنے بغیر مطمئن نہیں ہوپاتے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں دوسری بار مبینہ دھاندلیوں کے کے خلاف تحریک چلائی گئی ہے پہلی بار 1977ء میں انتخابی دھاندلیوں کے خلاف پی این اے کی ملک گیر تحریک چلائی گئی۔جس نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت گرا دی۔ لیکن پاکستان تحریک انصاف مبینہ انتخابی دھاندلیوں کی آ ڑ میں نواز شریف حکومت گرانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ عمران خان نے 126روز تک پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کا ناٹک رچایا ملک کے بڑے بڑے شہروں میں جلسے جلوس بھی نکالے لیکن” تھرڈ امپائر“ کی انگلی کھڑی ہوئی او نہ ہی عمران خان نواز شریف کی وکٹ گرا سکے اور پھر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ”ٹرمز آف ریفرنس “ پر جوڈیشل کمیشن کے قیام پر راضی ہو گئے۔
تاحال پاکستان تحریک انصاف جو ڈیشل کمیشن کے سامنے منظم دھاندلی کے ثبوت پیش نہیں کر سکی البتہ جو ڈیشل کمیشن میں ہر پیشی کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کارروائی کی اپنی مرضی کی تاویلیں کر رہے ہیں ایک طرف جوڈیشل کمیشن عام انتخابات میں ”منظم دھاندلی “ کی تحقیقات کر ہی رہا ہے لیکن تاحال پاکستان تحریک انصاف جو ڈیشل کمیشن کے سامنے ایسے شواہد پیش کرنے میں ناکام رہی جس سے پورے ملک میں طوفان کھڑا ہو جائے۔
در اصل پاکستان تحریک کو انتخابی دھاندلیاں کو ثابت کرنے میں زیادہ دلچسپی نظر نہیں آتی بلکہ وہ” دھاندلی کے الزامات“ کی آڑ میں ” سیاسی کھیل“ کھیل رہی ہے۔ ممکن ہے پاکستان تحریک انصاف ” منظم دھاندلی“ ثابت نہ کر سکے۔ لیکن اس کے مسلسل پراپیگنڈے نے حکومت کو زچ کر دیا ہے۔ اسے عمران خان کے ہر الزام کا جواب دینا پڑتا ہے۔ موجودہ حکومت پچھلے دو سال سے اپنی تمام تر توجہ عام انتخابات کی شفافیت کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے پر مرکوز کر رکھی ہے عمران خان 126روز تک عام انتخابات کی” شفافیت“ کو” داغدار“ کرنے کے لئے جو الزامات عائد کرتے رہے ان میں سے کسی الزام کا جوڈیشل کمیشن کے سامنے ذکر تک نہیں کیا یہ بات قابل ذکر ہے عام انتخابات کی شفافیت کو وہ جماعتیں بھی چیلنج کر رہی ہیں جو سندھ میں دھاندلی میں ملوث تھیں پچھلے دو سال سے وفاقی حکومت پاکستان تحریک انصاف کے دباؤ میں ہے جس کے باعث وہ اپنے منشور کے اہداف کے حصول پر کما حقہ توجہ نہیں دے سکی یہ تو نہیں کہا سکتا کہ پاکستان تحریک انصاف کی ایجی ٹیشن کی سیاست حکومت کو شاید زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکی لیکن ملکی مفادارت کو کو ناقابل تلافی نقضان پہنچایا جس کا سالوں میں ازالہ ممکن نہیں چینی صدر شی جن پنگ کے دورے کے 6ماہ التوا سے قومی اہمیت کے ترقیاتی منصوبے التوا میں پڑ گئے تاہم حکومت نے شروع دن سے توانائی کے بحران اور دہشت گردی کے خاتمے پر خصوصی توجہ دی ہے بجلی پیدا کرنے کے نئے منصوبوں کے شروع ہونے سے 2017ء کے اواخر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ پر قابو پائے جانے کا امکان ہے پچھلے دوسال کے دوران وزیر اعظم محمد نواز شریف کی سب سے بڑی کامیابی ان کی حکومت کو گرانے کی کوششوں کا ناکام بنانا ہے جب کہ سب سے بڑی ناکامی فیصلوں پر عملدرآمد کرنے میں تاخیر ہے الیکشن ٹریبونل نے این اے 125 سے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق کا انتخاب کالعدم قرار دینے کے بعد دوبارہ انتخاب کرانے حکم جاری کیا تھا تو پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے” ڈفلیاں“ بجانے لگی تھی اسے مسلم لیگ (ن) پر برتی حاصل ہو گئی تھی لیکن پاکستان تحریک انصاف کی خوشی اسی روز کافور ہوگئی جب سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق سے متعلق الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ معطل کردیا اور الیکشن ٹریبونل سے انتخابات کا تمام ریکارڈ طلب کرتے ہوئے مزید سماعت چار ہفتے تک کے لئے ملتوی کردی سپریم کورٹ سے حکم امتناعی جاری ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ” میں میرٹ پر اپنا مقدمہ لڑوں گا، عمران خان اور حامد خان نے مجھے ٹارگٹ بنایا ، عوامی عدالت میں جانا چاہتا تھا تاکہ مجھ پر لگائے گئے جھوٹے الزامات غلط ثابت ہوں ، مقدمہ سپریم کورٹ میں ہے، اس پر بات کرنا مناسب نہیں ،ٹریبونل کا جو فیصلہ آیا اس پر تکلیف ہوئی ،مجھ پر الزام کی تکلیف وہ سمجھ سکتا ہے جسے جرم کے بغیر سزا ہوجائے۔

منگل کو خیبر پختونخوا اسمبلی خیبرپختونخوا اسمبلی کے ارکان نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی قیادت میں صوبے میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ،این ایف سی ایوارڈ ، اور پاک چین اقتصادی راہداری کا روٹ تبدیل کئے جانے کے خلاف پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دیا پاکستان تحریک انصاف کے ٹریک ریکارڈ کے باعث خیبر پختونخوا اسمبلی کے ارکان کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کی اجازت دینا ایک مشکل فیصلہ تھا وفاقی حکومت 126روزہ دھرنے کے بعد دوبارہ پاکستان تحریک سمیت دیگر جماعتوں کو پارلیمنٹ کے باہر سیاسی شو کرنے کی اجازت دینے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی تھی لیکن وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اس معاملہ سے سیاسی انداز میں نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے انہوں نے بڑے گھر سے منظوری لینے کی بجائے خود ہی ایک بڑا فیصلہ کیا اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو دھرنا دینے کی اجازت دے دی بارش کے باعث خیبر پختونخوا اسمبلی کے ارکان کوئی بڑا شو نہیں کر سکے وفاقی وزیر داخلہ نے نے دھرنے کی اجازت دے کر ممکنہ ہنگامہ آرائی نہیں ہونے دی شنید ہے ایک روز قبل ہی پرویز خٹک کا وفاقی حکومت سے رابطہ ہو گیا اس لئے ” فیس سیونگ“ پر دھرنا جلد ہی ختم ہو گیا شنید ہے عمران خان نے دو گھنٹے میں ہی دھرنا ختم کرنے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے اور پرویز خٹک سے کہا ہے کہ وہ کم از کم 24گھنٹے تک تو دھرنا دیتے۔
گذشتہ سال اگست میں پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی یلغار کو چوہدری نثار علی خان ہی نے روکا تھا انہوں نے اپنے گھر میں ’ قید ہونے کی بجائے شاہراہ دستور پر ”بلوائیوں “ کو پارلیمنٹ اور وزیر اعظم ہاؤس کی طرف بڑھنے سے دیا انہوں نے وزیر اعلی کے پی کے کو باور کرادیاکہ شاہراہ دستور پر امن و امان کا مسئلہ پیدا کرنے والوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹنا جائے گا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کی قیادت میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے ارکان جن میں جمعیت علماء اسلام (ف) ، جماعت اسلامی ، پیپلزپارٹی ، قومی وطن پارٹی اور عوامی جمہوری اتحاد کے ارکان نے خیبرپختونخوا ہاؤس سے پارلیمنٹ ہاؤس تک بارش میں مارچ کیا وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے پاکستان تحریک انصاف کے دھرنے پر دلچسپ تبصرہ کیا ہے اور کہا کہ کہ پارلیمنٹ کو گرانے والے آج اسی پارلیمنٹ سے سے مانگنے آئے ہیں‘ حکومت خیبر پختونخوا پیسے مانگنے سے پہلے وصول کردہ رقم کا حساب دے‘ کے پی کے حکومت ترقیاتی بجٹ کا چالیس فیصد بھی خرچ نہیں کرسکی انہوں نے کہا کہ،عمران کو کس نے منع کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں بجلی پیدا نہ کریں اپنے تحفظات کے لئے عمران خان کو پارلیمنٹ کی اہمیت محسوس ہوئی عمران پارلیمنٹ کی چھتری کو عوام کے سروں سے ہٹانے کی بات بند کریں۔
گردنیں ماپنے کی باتیں کرنے والے آج ہماری جیبیں ٹٹولنے آرہے ہیں۔ تحریک انصاف کی پارلیمنٹ گرانے کی کوششیں ناکام ہوگئی ہیں بہر حال وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کا موقف ہے کہ ہم سب سے زیادہ بجلی پیدا کرکے دیتے ہیں اور ہمارے ہی صوبے میں لوڈشیڈنگ زیادہ ہورہی ہے۔ اپنے صوبے کے حقوق کے لئے احتجاج کررہے ہیں۔علامتی احتجاج ریکارڈ کرا دیا ہے اگر مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو پورا صوبہ سراپا احتجاج ہو جائے گا وفاقی حکومت اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے درمیان طے پا گیا ہے کہ جمعہ کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کے ایشو پر مذاکرات ہوں گے جب کہ نیشنل فنانس کمشن سے متعلق امور بھی ایک ہفتے کے اندر طے پا جائیں گے اب دیکھنا یہ ہے پرویز خٹک مذاکرات کی میز پر کس حد تک اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب ہوتے ہیں جب کہ ان قائد عمران خان دھاندلی ثابت کرنے سے زیادہ سیاست کرنے میں مصروف ہیں ان کو اپنے سیاسی مقاصد میں کس حد تک کامیابی ہوتی سر دست کچھ نہیں کہا جا سکتا بہرحال ان کا” ایڈونچر ازم “ ان کی سیاست کی لٹیا ہی ڈبو سکتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-15

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان