بند کریں
پیر جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
دارالحکومت کی سیاسی سرگرمیاں ماندپڑگئیں
عید پر سکیورٹی کے سخت انتظامات دیکھنے میں آئے۔۔۔۔ جہاں تک اسلام آباد کی سیاسی فضا اور اس میں گرمی کا تعلق ہے تو بلدیاتی انتخابات میں تعطل کی وجہ سے عوامی جوش کم ہوا ہے اور سیاسی سرگرمیاں بھی رمضان المبارک کی وجہ سے سست روی کا شکار رہیں
زاہد حسین مشوانی :
اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں اور عوامی جوش وخروش ماند پڑ گیا اور اب وعوام کی نظریں سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن پر ہیں کہ دارلحکومت میں بلدیاتی انتخابات کا نیا شیڈول کب جاری کیا جاتا ہے ۔ عید کے موقع پر ملک کے دیگر شہروں کی طرح اسلام آباد میں بھی سکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا اور سکیورٹی اداروں کو خصوصی فرائض سونپے گئے ۔
رمضان کے آخری عشرے میں اسلام آباد کی مسجد نمازیوں سے بھری رہیں جبکہ محافل شبینہ کا بھی خصوصی اہتمام کیا گیا ۔ فصل مسجد میں تین روزہ محفل شبینہ کا اہتمام کیا گیا جبکہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اعتکاف بھی بیٹھی ۔ اس رمضان میں سیاسی افطاریوں کا رحجان کم رہا جہاں تک اسلام آباد کی سیاسی فضا اور اس میں گرمی کا تعلق ہے تو بلدیاتی انتخابات میں تعطل کی وجہ سے عوامی جوش کم ہوا ہے اور سیاسی سرگرمیاں بھی رمضان المبارک کی وجہ سے سست روی کا شکار رہیں تاہم رمضان میں پارلیمنٹ کے اجلاس طلب کئے گئے اور کئی عوامی مسائل اور قانون سازی پر بھی کام کیا گیا۔
کئی بل پاس کئے گئے ۔سینیٹ میں اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا قانون پاس کیا گیا لیکن جماعتی بنیادوں پر انتخابات کی ترمیم کی گئی ۔ اس سے قبل قومی اسمبلی نے یہ قانون غیر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے یہ قانون پاس کیا تھا ۔ یہ قانون اب ایک بار پھر قومی اسمبلی سے منظور کیا جائے گا ۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے بھی حکومت سے جواب طلب کیا گیا ۔
تین اگست کو عدالت میں اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کیلئے الیکشن کمیشن نیا شیڈول پیش کرے گا ۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ جماعتی بنیادوں پر انتخابات کے لئے اسلام آباد کی تمام یونین کونسلوں کو وارڈز میں تبدیل کیا جائے گا جبکہ نئی حلقہ بندیاں بھی کیا جائیں گی جس کے لئے کم ازکم ایک ماہ کاوقت درکار ہے ۔ الیکشن کمیشن نے اب اسلام آباد میں جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کرانے کی تیاریاں شروع کردی ہیں اور اس پرمشاورت بھی جاری ہے ۔
الیکشن کمیشن کے اعلی حکام کا کہنا ہے کہ جب تک ان کو انتخابی رولز اور قانون فراہم نہیں کئے جاتے اس وقت تک وہ شیڈول جاری نہیں کر سکتے ۔ وزیر اعظم میاں نوازشریف کی روس میں سنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے دوران بھاری وزیراعظم سے ملاقات پر بھی سیاسی رہنما اور تجزیہ کار اپنی رائے ظاہر کرتے رہے اور ملے جلے ردعمل کا اظہار دیکھنے میں آیا۔
یہ کہا گیا کہ کشمیر کو پس پشت ڈال کر بھارت سے بات چیت اور معاملات آگے بڑھانے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ پاکستان پیپلزپارٹی ، پاکستان تحریک انصاف اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے پاک بھارت وزراعظم کی ملاقات پر ردعمل میں کہا کہ نوازشریف پاکستان کا کیس مضبوطی سے پیش کرنے میں ایک بار پھر ناکام رہے ۔ ایسے وقت میں جب بھارت پاک چاینہ اکنامک کوریڈورتباہ کرنے کے درپے ہے اور بھارتی قیادت ہر سطح پر پاکستان کے خلاف مذموم کوششیں کررہا ہے ، وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے بلوچستان میں بھارتی مداخلت پروخاموشی اور یندرمودی کو ضرورت سے زیادہ سفارتی پور ٹوکول دینا حیران کن ہے انہوں نے مزید کہا ہے کہ نریندرمودی نے ممبئی کا مسئلہ اٹھایا مگر نوازشریف کی کشمیر تنازعے پر خاموشی باالکل سمجھ سے باہر ہے باجبکہ وزیراعظم نے نریندرمودی کو سارک کو نفرس میں سرکت کی دعوت دے کر غلط کیا ۔
خطے میں ہم سب امن اور استحکام چاہتے ہیں مگر باہمی تنازعات کے بغیر یہ ممکن نہیں ۔ پاکستان مسلم لیگ نوازکی خارجہ پالیسی کی تیاری اچھی نہیں تھی ۔ سابق صدراصف زرداری کی مبینہ بیوی کی حیثیت سے شہرت پانے والی ڈاکٹر تنویر زمانی کے تذکرے بھی میڈیا پر عام رہے اور عوام میں بھی یہ ایک موضوع رہا ۔ یہ افواہیں ایک ایسے وقت تیزی اختیار کرگئیں جب سابق صدر آصف علی زارداری ملک سے باہر ہیں ۔
تنویرزمانی کو اس کی تردید کرنا پڑی اور انہوں نے اس پر پریس کانفرنس بھی کی ۔ تنویر زمانی نے آصف زرداری کے ساتھ میاں بیوی کے رشتے کی تروید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آصف زرداری ان کے قائد ہیں اختلافات پیدا کرنے کے لیئے الزام تراشی کی گئی اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں تنویرزمانی نے کہا کہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کے لیئے ان کی شادی کی سازش کی گئی انہوں نے کہا کہ وہ پیپلزپارٹی کی رکن ہیں اور پارٹی کے لیئے ان کی خدمات ہیں تنویر زمانی نے کہا کہ وہ آصف زرداری کے ساتھ مل کر ملک کی خدمت کریں گی ان کا کہنا تھا کہا ان کی شادی تحسین جایودصدیقی سے ہوئی ان کے چار بچے ہیں مگر انہیں بلاوجہ تنازعات کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔
تحریک آزادی کشمیر کے صف اول کے رہنما اور سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردار عبدالقیوم خان بھی رمضان کے آخری عشرے میں انتقال کر گئے ان کی نماز جنازہ اسلام آباد میں ادا کرنے کے بعد ان کی میت آبائی علاقے کو روانہ کی گئی جہاں ان کو سپروخاکیا گیا ۔ ان کی نماز جنازہ پریڈگراؤنڈشکر پڑیاں اسلام آبادمیں ادا کردی گئی ۔ مرحوم طویل علالت کے بعد آج راولپنڈی میں انتقال کر گئے تھے ۔
نماز جنازہ میں وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری عبدالمجید ، کورکمانڈرراولپنڈی لیفٹنینٹ جنرل قمر جاوید باجوہ جنرل آفیسر کمانڈنگ مری میجر جنرل کلیم آصف ، راجہ ظفر الحق ، مولانا فضل الرحمان ، گورنر کے پی کے مہتاب عباسی شاہد خاقان عباسی سابق وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر ، بیرسٹر سلطان محمود ، راجہ ذوالقرنین حیدر سمیت سینکڑوں افراد نے شرکت کی ۔
نماز جنازہ کے بعد مرحوم کا جسد خاکی تدفین کے لیے ان کی آبائی علاقے ضلع باغ آزادکشمیر روآنہ کردیا گیا۔ آزادکشمیر حکومت نے سردار عبدالقیوم کی وفات پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ آج آزاد کشمیر میں عام تعطیل کا اعلان کردی گئی ہے ۔ تدفین سے قبل ان کی نماز جنازہ ان کے آبائی علاقے غازی آباد میں ادا کی گئی جس میں سول وفوجی حکام م سمیت ہزاروں افرادنے شرکت کی ۔
فوج اور پولیس کے چاق وچوبند دستوں نے مجاہداول سردار عبدالقیوم کی میت کو سلامی دی اور قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی ۔ تدفین کے بعد ان کی قبر پر آزاد کشمیر اور دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ۔ اسلام آباد میں کسی قسم کی تھریٹ الرٹ نہیں ہے لیکن پولیس پھر بھی چوکنا ہے ۔ اسلام آباد میں شہریوں کی سکیورٹی کے ٹھوس اقدامات کیے گئے ہیں ۔ پولیس کسی بھی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے تیار رہی ۔ سلام آباد کے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سول کپڑوں میں بھی بڑی تعداد میں اہلکار تعینات کیے گئے ۔ شہریوں کو کہا گیا کہ کسی پریشانی کی صورت میں گشت کرتے ہوئے پولیس اور اطلاع دی جائے ۔ شہریوں کے لیے ہلپ لائن قائم کی گئی ۔
تاریخ اشاعت: 2015-07-23

(0) ووٹ وصول ہوئے