بند کریں
بدھ جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ڈی چوک پہنچنا عمران خان اور طاہر القادری کے لئے کڑا امتحان
مظاہرین کی پیشقدمی روکنے کیلئے داخلی راستوں کے ارد گرد مورچے تک کھودے گئے ہیں مٹی کے ڈھیروں سے بھی عقبی رکاوٹیں بنائی گئی ہیں تاکہ کوئی گروپ پولیس اور قانون نافذ کرنے والوں اداروں کے اہلکاروں تک نہ پہنچ سکے
عزیز علوی:
پاکستان تحریک انصاف کے بعد پاکستان عوامی تحریک کے اسلام آباد تک لانگ مارچ کے اعلانات سے نمٹنے کیلئے وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی میں مشترکہ سیکورٹی پلان کے تحت30 ہزار کی پولیس نفری طلب کرلی گئی ہے آزاد کشمیر ، پنجاب پولیس کے علاوہ رینجرز ، فرنتئر کانسٹیبلری ، پنجاب کانسٹیبلری کی خدمات بھی حاصل کر لی گئی ہیں سیکیورٹی پلان کے مطابق لانگ مارچ کے شرکاء کو دور دراز علاقوں میں روکنے کی حکمت عملی طے کی گئی ہے اسلام آباد میں ڈپلومیٹک انکلیو ، شاہراہ دستور ، آبپارہ ، ایمبیسی روڈ ، جناح ایونیو ، مارگلہ روڈ اور شاہراہ سہر وردی ،بھارہ کہو ، ترامڑی چوک تک مظاہرین کو پہنچنے سے روکنے کیلئے شہر بھر کے راستوں ، پلوں پر کنٹینرز ، ٹرک ، ٹرالرز کھڑے کرکے شہر کو سیل کیا جا رہا ہے فیض آباد انٹر چینج ، لہتراڑ روڈ ، کاک پل ، کھنہ پل ، کورال چوک ، سہالہ ، ترنول ، گولڑہ موڑ ، کشمیر ہائی وے ، آئی جے پرنسپل روڈ اور موٹر وے چوک کے داخلی راستے مکمل طور پر بند ہوں گے مظاہرین کی پیشقدمی روکنے کیلئے داخلی راستوں کے ارد گرد مورچے تک کھودے گئے ہیں مٹی کے ڈھیروں سے بھی عقبی رکاوٹیں بنائی گئی ہیں تاکہ کوئی گروپ پولیس اور قانون نافذ کرنے والوں اداروں کے اہلکاروں تک نہ پہنچ سکے وفاقی پولیس نے امریکہ سے منگوائی گئی انٹی رائٹ کٹس بھی پولیس اہلکاروں کو دی جا چکی ہیں پولیس نے اسلام آباد میں مظاہرین کو منتشر رکھنے اور انہیں کسی ایک جگہ زیادہ دیر رکے رہنے سے روکنے کیلئے آنسو گیس اور واٹر کینن کے ذریعے منتشر رکھنے کیلئے حکمت عملی مرتب کر لی ہے پولیس کی بھاری نفری کمک کے طور پر بھی تھانہ آبپارہ ، تھانہ سیکرٹریٹ ، سیکیورٹی ڈویڑن ، تھانہ ترنول ، تھانہ کوہسار کے ارد گرد ،موجود رکھی جائے گی راولپنڈی پولیس نے نصیر آباد ، چکری روڈ ، گوجر خان ، روات ، مندرہ ، مری ، سترہ میل ، مری روڈ پر سیکیورٹی ہائی الرٹ رکھے گی راولپنڈی اسلام آباد کی پولیس ائرپورٹ روڈ ، اسلام آباد ایکسپریس وے اور فیض آباد چوک میں مشترکہ طور پر پی ٹی آئی اور پی اے ٹی سمیت دیگر مظاہرین کو روکنے کیلئے اصل دیوار بنے گی اسلام آباد اور راولپنڈی کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ رہے گی جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں صورتحال کی مسلسل فضائی نگرانی کے ذریعے بھی سیکیورٹی پر نگاہ رکھی جائے گی جڑواں شہروں کی پولیس کے سامنے ہمہ وقت پارلیمنٹ ہاؤس کا ڈی چوک ہوگا جس تک مظاہرین کے پہنچنے کے راستے زیادہ سے زیادہ مسدود رہیں گے تاہم یہ بات طے ہے کہ پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کے کارکنوں کا ڈی تک پہنچنا ہی اصل ٹارگٹ ہوگا اس حوالے سے عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کی لیڈر شپ کا بھی کڑا امتحان ہوگا وزارت داخلہ تمام صورتحال کو براہ راست کنٹرول کرے گی۔
تاریخ اشاعت: 2014-08-13

(0) ووٹ وصول ہوئے