بند کریں
جمعہ جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا ڈی چوک سے طبل جنگ
پہلے تین شہر پھر پورا ملک بند کرنے کا اعلان۔۔۔۔چئرمین تحریک انصاف نواز شریف حکومت سے برملا مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ حکومتی ٹیم نے جو وعدہ کیا تھا
عزیز علوی:
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 11 مئی2013 ء کے عام انتخابات میں دھاندلی سے ان کی جماعت کو ہرانے کے نعرے پر جس احتجاجی سفر کا آغاز کیا تھا اسے 30 نومبر کے جلسے کے ذریعے انہوں نے بام عروج تک لے جانے کے اپنے پلان سی کے اعلان سے یہ کہہ کر نئی شکل دے ڈالی کہ وہ 6دسمبر کو لاہور جا کر لاہور کو بند کریں گے8 دسمبر کو فیصل آباد پہنچ کر پاکستان کا مانچسٹر بند کر دیں گے اور 12 دسمبر کو کراچی جاکر وہ شہر قائد کو بند کردیں گے اور16 دسمبر کو وہ پورا ملک ہی بند کر دیں گے لیکن اگر ان کا یہ پلان بھی نہ چلا تو وہ پھر اپنا پلان ڈی سامنے لے آئیں گے۔
مگر اب تحریک انصاف نے شیڈول میں تبدیلی کر کے لاہور 15 دسمبر جبکہ ملک کو 18دسمبرکو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔عمران خان وزیراعظم کو ایک تجویز بھی دے گئے کہ میاں صاحب اب گیند آپ کے کورٹ میں ہے ہمارے ساتھ مذاکرات کرکے چار سے چھ ہفتے میں الیکشن میں دھاندلی کا معاملہ طے کرلیں ورنہ آپ کی حکومت نہیں چلنے دی جائے گی اب ہمارامقصد ہی صرف یہ ہے کہ نواز شریف حکومت کو نہیں چلنے دینا ہے جبکہ ہمارا دھرنا تو ادھر ہی رہے گاعمران خان ساتھ ہی یہ بھی پیشگوئی کرگئے کہ 2015 ء میں نیا پاکستان بنے گا عمران خان نے عام انتخابات کا ایک سال مکمل ہونے پر 11 مئی 2014 ء کو اسی جگہ ڈی چوک میں احتجاجی جلسہ کرکے یہیں سے اعلان کیا تھا کہ وہ اب پہلا جلسہ فیصل آباد میں دوسرا جلسہ سیالکوٹ میں کریں گے جبکہ تیسرا جلسہ بہاولپور کرکے حکومت کے خلاف 14 اگست کو ملین مارچ اسلام آباد لانے کا اعلان کردیا جس کے بعد سے وہ ڈی چوک میں ہی کنٹینر میں دھرنا دئے بیٹھے ہیں اب عمران خان نے30 نومبر کے جلسے سے بھی ملک کے جن تین بڑے شہروں کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے ان میں بھی فیصل آباد شامل ہے چئرمین پی ٹی آئی نے حکومت کے خلاف اپنی احتجاجی سیاست میں پہلے پتے کے طور پر چار حلقے کھولنے کا مطالبہ رکھا دھرنے سے اپنے خطاب میں اس مطالبے پر وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ یہ مطالبہ تو میں نے حکومت کو پھنسانے کیلئے رکھا تھا کہ وہ کسی طرح چار حلقے کھولے پھر اسے سارے حلقے کھولنے پڑ جائیں گے اب چیئرمین تحریک انصاف نواز شریف حکومت سے برملا مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ حکومتی ٹیم نے جو وعدہ کیا تھا کہ چار حلقوں کی دھاندلی کی تحقیقات کیلئے انکوائری کمیشن میں آئی ایس آئی، ایم آئی ،آئی بی ، ایف آئی اے کی ٹیمیں بھی شامل کی جائیں گی اس مطالبے کو مان کر تحقیقات شروع کی جائیں اس دوران ہمارا دھرنا تو جاری رہے گا اور نواز شریف بھی حکومت کرتے رہیں لیکن اگر انکوائری کمیشن دھاندلی ثابت کردے تو پھر وزیراعظم نواز شریف کو جانا پڑے گا اپنے مطالبات اور احتجاج میں عمران خان کے سامنے ایک ہی نکتہ ہے کہ وہ کسی طرح اس کھیل میں فاتح بن کر ابھریں اور سیاسی میدان میں بھی وہی مین آف دی میچ رہیں اور اس کھیل کا کپ بھی وہی فضاء میں لہرائیں ن لیگ ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ف ان کے سامنے شکست خوردہ بن جائیں اور اس طرح وہ ایک ہی بال سے تین وکٹیں اڑانے کا اعزاز بھی پالیں سوال یہ ہے آیا تحریک انصاف کے سیاسی مدمقابل کیا اسے اتنا چانس دینے پر تیار ہوجائیں گے جس کا جواب یقیناً بڑا ہی مشکل ہے یا پھر عمران خان اپنے اگلے پلان ڈی کا نسخہ آزمانے پر ہی اکتفاء کریں گے عمران خان وزیراعظم نواز شریف کے موٹر وے ، میٹرو بس ، سڑکیں شاہراہیں بنانے کے منصوبوں کو بھی فضول قرار دیتے ہیں ان کا موقف ہے کہ حکومت یہ پیسہ انسانی ترقی پر خرچ کرے عمران خان نے نواز شریف خاندان کے بزنس کو بھی مسلسل اپنی تنقید کی زدمیں رکھا ہوا ہے چئرمین تحریک انصاف کی جانب سے پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن کی سیاسی مخالفت بھی ان کی ن لیگ سے سیاسی رفاقت کا سبب ہی قرار دی جاتی ہے پی ٹی آئی کے مخالف سیاسی حلقے عمران خان کے سخت گیر موقف کو ان کی سیاسی تنہائی کی وجہ قرار دیتے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کا جواب ہوتا ہے کہ ہم نے دھاندلی پر حکومت کو گردن سے پکڑ لیا ہے عمران خان تو 2013 ء کے الیکشن کا سارا میچ ہی فکس قرار دیتے ہیں جس کیلئے وہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بہت زیادہ مورد الزام ٹھہراتے ہیں30 نومبر کے جلسے سے ایک روز قبل عمران خان نے پریس کانفرنس کی جس کیلئے وہ خوب اعلان کرتے رہے کہ ان کے پاس الیکشن میں دھاندلی کے نئے ثبوت آگئے ہیں وہ ثبوت ڈاکٹر عارف علوی نے ملٹی میڈیا پر دکھائے لیکن عمران خان کی وہ پریس کانفرنس انتخابی دھاندلی کے حوالے سے پی ٹی آئی کے پرانے ثبوتوں سے کسی طرح ہٹ کر نہ تھی اب عمران خان ملک کے تین بڑے شہر بند کرنے کا اعلان کرچکے ہیں جو یقینی طور پر پی ٹی آئی اور حکومت دونوں کیلئے ایک بڑا امتحان بھی ہوگا جبکہ عمران خان تو پہلے ہی کہہ گئے ہیں کہ اگر ان کا یہ پلان نہ چلا تو وہ ڈی پلان دے کر حکومت کو نئی مشکل سے دوچار کردیں گے جس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ عمران خان اس سیاسی کھیل میں صرف کھیلتے رہنا چاہتے ہیں تاکہ حکومت ہی نہیں عوام کی نظربھی صرف ان کی جماعت پر ہی مرکوز رہے جے یو آئی کے رہنماء کے قتل پر احتجاج بھی اسی دوران ہورہا تھا جب پی ٹی آئی کے جلسے کا سٹیج ڈی چوک میں سجا ہوا تھا لیکن مختلف سڑکیں ، شاہراہیں بند ہونے سے پی ٹی آئی کے قافلوں کی آمد میں تاخیر ہوئی تو اس پر بھی عمران خان مولانا فضل الرحمٰن پر خوب برستے رہے اور یہ کہہ ڈالا کہ وہ ہمارے خلاف حکومت سے ملے ہوئے ہیں عمران خان نے مولانا فضل الرحمٰن کے بارے میں اور سخت لب و لہجہ اپنایا اور یہ تک کہہ گئے کہ آپ صرف دو وزارتوں کے پیچھے ایسا کر رہے ہیں جبکہ عمران خان کو صرف مولانا فضل الرحمٰن سے ہی نہیں بلکہ انہیں الیکشن کمیشن ، الیکشن ٹریبونل ، عدلیہ ، سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے بھی بڑا گلہ رہتا ہے وہ برملا کہتے ہیں ہر دروازے پر دستک دی لیکن شنوائی نہ ہوئی ملک میں نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا معاملہ آیا ہے تو حکومت اور اپوزیشن نے جس نام پر اتفاق کیا اسے بھی عمران خان نے رد کردیا اور پی ٹی آئی کی قیادت برملا کہہ رہی ہے کہ اس کی مرضی کے بغیر کوئی چیف الیکشن کمشنر بھی اسے قبول نہیں ہوگا اس طرح پی ٹی آئی حکومت اور پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے سامنے ایک بڑی اپوزیشن بن کر کھڑی ہوگئی جو ہر حال میں صرف اپنی بات منوانے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے عمران خان نے جلسے میں بھی اپنے ہر سیاسی مخالف کے بارے میں خوب بھڑاس نکالی جلسہ میں پی ٹی آئی کے سربراہ ہی نہیں بلکہ ان کے ساتھی بھی ڈی چوک میں حکومت پر خوب گرجے خوب برسے ہر مقرر نے اپنا خطاب کیا تو اس نے سیدھا سیدھا وزیراعظم نواز شریف کو ہی آڑے ہاتھوں لینا ہے جلسہ میں عطا اللہ نیازی نے وہ گانا گایا جس میں بھی حکمرانوں کو اگلے امتحان کیلئے تیار ہوجانے کے سر پہنچائے گئے پی ٹی آئی کا سٹیج دن سے شام تک حکومت مخالف نغموں سے گونجتا رہاپاکستان تحریک انصاف کے قائدین جہانگیر ترین وفاقی وزیر اطلاعات کے اس بیان پر کہ اب ان کے کھاتے کھل چکے ہیں اپنی تقریر میں خاصے برہم رہے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ کی ساری تقریر ہی جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف ہی گھومتی رہی جنہوں نے چیلنج کیا کہ آج تو انہوں نے سڑکیں بند کرکے ہمارا راستہ روکا ہے لیکن وہ کل پھر سڑکیں بند کرکے دکھا دیں جہانگیر ترین یہ تک کہہ گئے نئے پاکستان میں نواز شریف اور آصف زرداری نہیں ہوں گے ہمارے یا کھاتے کھلنے ہیں وہ تو پہلے ہی صاف ہیں لیکن نئے پاکستان میں ٹیکس چور جیل میں ہوں گے شاہ محمود قریشی نے اپنا خطاب سیاسی سروں پر ہی استوار رکھا اور اپنی ہر تان نواز شریف حکومت کے خلاف احتجاج پر ہی توڑی ڈاکٹر عارف علوی نے الیکشن میں دھاندلی کے سارے تانے بانے ن لیگ کے قائد نواز شریف سے ہی جوڑے جبکہ ڈاکٹر شیریں مزاری نے حکومتی وزراء کے بیانات کے ردعمل دکھانے میں ہی زور خطابت صرف کردیا عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے تو اپنی تقریرخیر سے لال حویلی اور جاتی امرا ء کے محاذون تک بڑہا دی اور یہ تک کہہ گئے نواز شریف صاحب آپ تو میری لال حویلی کے چپے چپے سے واقف ہیں لیکن ایسا نہ ہو لال حویلی پر نظر رکھتے ہوئے آپ کو جاتی امراء سے بھی ہاتھ دھونے پڑیں شیخ رشید نے اپنی تقریر میں ماردو آگ لگا دو کی گھن گرج بھی خوب دکھائی جبکہ پی ٹی آئی کے جلسے کے مہمان برطانوی رکن پارلیمنٹ لارڈ نزیر نے برٹش پارلیمٹ اور حکومتی امور پر خطاب کیا اور جلسہ کے شرکاء کو بتایا کہ وہاں ٹیکس نہ دینے والوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے میں عمران خان سے کہوں گا جب پی ٹی آئی کی حکومت آئے تو وہ ٹیکس چوروں کی دولت قبضے میں لے کر غریبوں میں بانٹ دیں پی ٹی آئی وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے افراد کے خلاف حکومت میں رہتے ہوئے مالی کرپشن کے الزامات در الزامات لگا رہی ہے جبکہ عمران خان کو کرپشن کے خلاف ایک نجات دہندہ بنا کر عوام کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے لیکن حکومت نے بھی عمران خان کے اثاثے اور مال ودولت کے اشتہار چلوادئے جس پر بھی عمران خان نے یہ موقف اپنا لیا ہے کہ وہ یہی چاہتے تھے حکومت ان پی پچ پر کھیلے میں اب عدالت جاوٴں گا اور حکومت سے پوچھوں گا کہ میرے ٹیکس کے پیسے سے اس نے یہ اشتہار اپنے لئے کیوں چلائے ہیں اس کا مطلب ہے عمران خان حکومت کو کوئی راستہ دینا ہی نہیں چاہتا جس سے حکومت کی سیاسی سرخروئی کی سبیل نکلے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ احتجاج ، دھرنوں اور جلسوں پر قوم کا پیسہ اور توانائیاں بھی بہت زیادہ خرچ ہوتی ہیں پولیس ، ایف سی ، رینجرز ، پنجاب کانسٹیبلری کے دستے بار بار اسلام آباد کی سیکیورٹی کیلئے منگوائے جاتے ہیں دھرنے کے موقع پر اسلام آباد میں50 ہزار اہلکار منگوائے گئے جبکہ 30 نومبر کے جلسے کیلئے 15 ہزار پولیس اور سیکیورٹی کے اہلکار ڈیوٹی کیلئے طلب کئے گئے جبکہ تمام مواقع پر دن بھر ہیلی کاپٹروں سے بھی فضائی نگرانی کی جاتی رہی اسلام آباد کے تاجروں نے تو شہر میں جگہ جگہ بینر بھی لگا دئے کہ اب احتجاج اس شہر سے باہر لے جائیں لیکن پی ٹی آئی ان سب باتوں کو بھی حکومت کا ہی منفی پروپیگنڈہ قرار دے کر رد کرتی ہے عمران خان نے جلسے میں یہ بھی کہا کہ ہم تو ڈی چوک کے ایک ویران کونے میں کنٹینر میں بیٹھے ہیں جدھر نہ کوئی مارکیٹ نہ دفتر ہے حکومت یہ کیسے واویلا کرتی ہے کہ ہم ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں قبل ازیں جلسہ میں تحریک انصاف کے رہنماء علیم خان ، اسد عمر ،ڈاکٹر شہزاد وسیم ، مراد سعید ، منزہ حسن ، نفیسہ خٹک راولپنڈی اسلام آباد اور ملک بھر سے آنے والے جلوسوں کا استقبال کرتے رہے سٹیج کا تمام کنٹرول سیف اللہ خان نیازی نے سنبھال رکھا تھا جلسے میں بار بار اعلان کیا جاتا کہ حکومت ہمارے قافلوں کی آمد میں رکاوٹیں ہٹائے اس موقع پر سٹیج سے گو نواز گو کے نعرے بھی لگائے جاتے رہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-12-03

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان