بند کریں
ہفتہ فروری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کنٹونمنٹ بورڈوں میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر
پاکستان کے 42 کنٹونمنٹس بورڈ کے بلدیاتی انتخابات 25 اپریل کو ہونے جا رہے ہیں۔ صوبائی دارلحکومت لاہور میں 10 یونین کونسل کنٹونمنٹ بورڈ کی جبکہ 10 یونین کونسلیں والٹن کنٹونمنٹ بورڈ میں شامل ہیں
فرخ سعید خواجہ
پاکستان کے 42 کنٹونمنٹس بورڈ کے بلدیاتی انتخابات 25 اپریل کو ہونے جا رہے ہیں۔ صوبائی دارلحکومت لاہور میں 10 یونین کونسل کنٹونمنٹ بورڈ کی جبکہ 10 یونین کونسلیں والٹن کنٹونمنٹ بورڈ میں شامل ہیں۔ لاہور کی سیاسی اہمیت کے پیش نظر ان دونوں کنٹونمنٹ بورڈز کی یونین کونسلوں کے انتخابی نتائج پرسیاسی حلقوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔
مسلم لیگ ن، تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور پاکستان عوامی تحریک نے انتخابی میدان میں اپنے امیدوار اتار دیئے ہیں۔ ان جماعتوں میں سب سے زیادہ امیدوار مسلم لیگ ن کے ہیں جس نے کنٹونمنٹ بورڈ لاہور کی صرف ایک وارڈ میں اپنا امیدوار دینے کی بجائے عرفان اکبر کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وارڈ نمبر 6 میں مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ عرفان اکبر کا مقابلہ تحریک انصاف کے تیمور اختر اور جماعت اسلامی کے افتخار احمد اعوان سے ہو گا۔
تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور پاکستان عوامی تحریک کے درمیان انتخابی اتحاد کے لئے مذاکرات جاری ہیں اگر وہ کامیابی سے ہمکنار ہو گئے تو اس حلقے میں مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ کے ساتھ ون ٹو ون مقابلہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم ہر وارڈ کے امیدواروں کا جائزہ لیں یہاں یہ امر بیان کرنا بے جا نہ ہو گا کہ تحریک انصاف نے 18 امیدوار کھڑے کئے ہیں۔
پیپلز پارٹی نے 15 امیدوار میدان میں اتارے ہیں اور 5 خالی نشستوں پر اپنی حمایت دینے کے عوض کچھ حمایت حاصل کرنے کی خواہاں ہے۔ جماعت اسلامی اور پاکستان عوامی تحریک پر اس کی نظریں جمی ہیں۔ جماعت اسلامی نے 20 میں سے 13 اور پاکستان عوامی تحریک نے 20 میں سے 7 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ حلقہ وار جائزہ لیں تو کنٹونمنٹ بورڈ وارڈ نمبر ایک میں مسلم لیگ ن کے شاہد علی شیخ، تحریک انصاف کے محمد علی، پیپلز پارٹی کے واجد علی سمیت آزاد امیدوار چودھری ناصر محمود، حافظ امیر اسلام، ندیم حسین، صابر حفیظ بٹ اور سید اخلاص حسن کے درمیان الیکشن ہے لیکن یہاں اصل معرکہ مسلم لیگ ن کے شاہد علی شیخ اور تحریک انصاف کے محمد علی کے درمیان ہو گا۔
وارڈ نمبر 2 میں مسلم لیگ ن کے عباد محمود قریشی تحریک انصاف کے اخلاق حسین، پیپلز پارٹی کے علی مہدی، جماعت اسلامی کے احمد نسیم سمیت عباس ڈوگر، عذرا پروین، محمد آصف، محمد عظیم، جمیل شہزاد، کاشف خان، مسرور انصاری اور رضوان صابر امیدوار ہیں۔ تاہم مسلم لیگ ن کے امیدوار عباد محمود قریشی کا پلڑا بھاری ہے۔ وارڈ نمبر 3 میں مسلم لیگ ن کے حاجی محمد اقبال اور تحریک انصاف کے استاد رشید میں کانٹے دار مقابلہ ہو گا۔
یہاں پیپلز پارٹی کے طارق محمود، جماعت اسلامی کے محمود ایاز یوسف سمیت مراد، راجہ لیاقت بھی امیدوار ہیں۔ وارڈ نمبر 4 میں مسلم لیگ ن کا ووٹ بنک بہت زیادہ ہے لیکن تحریک انصاف کے فیصل فریاد اعوان مسلم لیگ ن کے کمزور امیدوار پر غلبہ پا سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ جماعت اسلامی کے خالد صدیقی بھی متحرک ہیں۔ وارڈ نمبر 5 میں مسلم لیگ ن کے میجر جاوید ضمیر احمد اور تحریک انصاف کے شہزاد حسین میں کانٹے دار مقابلہ ہو گا۔
تاہم میجر ضمیر کا پلڑا بھاری ہے۔ جبکہ دیگر امیدواروں میں خورشید عالم، محمد علی، سید فراز زیدی، سید عشرت نقوی شامل ہیں۔وارڈ نمبر 6 کا ابتداء میں ذکر ہو چکا ہے وارڈ نمبر 7 میں مسلم لیگ ن کے رانا تنویر تحریک انصاف کے چودھری عمر اکبر، پیپلز پارٹی کے عمران علی، جماعت اسلامی کے عبدالرزاق عابد سمیت عبدالستار، اشرف مسیح، غلام مصطفے، محمد مقصود، عمیر احسن، سجاد حسین، طاہر علی اور ذیشان رفاقت امیدوار ہیں۔
اس حلقہ انتخاب میں مسلم لیگ ن کا بہت بڑا ووٹ بنک نادر آباد اور عارف آباد میں ہے لیکن یہاں کے تحریک انصاف کے امیدوار عمر اکبر بہت جان ماری کر رہے ہیں۔ وارڈ نمبر 8 میں مسلم لیگ ن کے رشید حسین سندھو، تحریک انصاف کے محمد عتیق، پیپلز پارٹی کے شیر علی، جماعت اسلامی کے سکندر اعظم سمیت چودھری دلشاد اکبر، غلام نبی، محمد اشرف اور شریف سندھو امیدوار ہیں۔
رشید حسین سندھو اور محمد عتیق میں زبردست جوڑ پڑے گا۔ وارڈ نمبر 9 میں مسلم لیگ ن کے نعیم شہزاد، تحریک انصاف کے نزاکت علی، پیپلز پارٹی کے رشید فیروز سہوترا میں جوڑ پڑے گا ان کے مقابل دیگر امیدواروں میں بلال اسلم، محمد اکرم، محمد الیاس، محمد یوسف، راؤ بشیر اور طاہر جاوید شامل ہیں۔ وارڈ نمبر 10 میں مسلم لیگ ن کے محمد جعفر اور تحریک انصاف کے الیاس علی بھٹی کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہو گا۔
یہاں ہار جیت کا فیصلہ سجیال اور باغ باؤوالہ گاؤں کے اکثریتی ووٹر کرینگے۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار زاہد انجم پرویز سمیت صفدر علی عاصم حسین، میاں سخاوت علی اور شفیق احمد بھی اس حلقے میں اچھے امیدوار ہیں۔
کنٹونمنٹ بورڈ والٹن کی 10 نشستوں پر بھی دلچسپ مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔ وارڈ نمبر 1 میں مسلم لیگ ن کے اشفاق احمد، تحریک انصاف کے احسان محمود اور جماعت اسلامی کے مرغوب اقبال مضبوط امیدوار ہیں۔
گل خطاب، منظور احمد، محمد اکرم، محمد اشرف، محمد ندیم، محمد پرویز اور محمد شکیل بھی امیدوار ہیں۔ وارڈ نمبر 2 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار قاری محمد حنیف معروف سماجی و سیاسی کارکنوں میں ان کے مد مقابل تحریک انصاف کے ملک طاہر محمود، جماعت اسلامی کے ذکی الدین شیخ بھی اچھے امیدوار ہیں لیکن قاری محمد حنیف یہاں سے سبقت حاصل کریں گے۔ دیگر امیدواروں میں آصف نثار، چودھری رمضان، فرحت مختار قریشی، ملک اعجاز اعوان، ملک طاہر محمود، مبارک آفتاب گل، محمد صیام، طارق صدیقی، راجہ اطہر زمرد اور رانا عمر شہزاد بھی امیدوار ہیں۔
وارڈ نمبر 3 میں مسلم لیگ ن کے محمد اعظم، تحریک انصاف کے فیصل مسعود بھٹی، جماعت اسلامی کے افتخار اشرف، پاکستان عوامی تحریک کے محمد برکت سمیت محمد میران، محمد اقبال، محمد آصف، معراج حسن اور فوزیہ امیر امیدوار ہیں یہاں مسلم لیگ ن کے محمد اعظم کی پوزیشن زیادہ مستحکم ہے۔ وارڈ نمبر 4 میں مسلم لیگ ن کے فقیر حسین، تحریک انصاف کے محمد اسلم، پیپلز پارٹی کے محمد رفیق اور جماعت اسلامی کے شاہد بھٹی میں جوڑ پڑے گا۔
ارشد محمود، جمشید یوسف، لئیق مرزا اور رخسانہ نوید بھی یہاں سے امیدوار وارڈ نمبر 5 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار محمد اکرم سوہل یہاں کے ایم پی اے یسینٰ سوہل کے بھائی ہیں۔ تحریک انصاف کے امیدوار محمد اکبر پیپلز پارٹی کے رابسن گل (Rob son)، جماعت اسلامی کے محمد طاہر اور پاکستان عوامی تحریک کے سجاد خان امیدوار ہیں۔ اکرم سوہل کی پوزیشن بہتر ہے۔
وارڈ نمبر 6 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار چودھری سجاد احمد، تحریک انصاف کے امیدوار ساجد حسین، پیپلز پارٹی کے امیدوار غلام رسول، جماعت اسلامی کے محمد حبیب نذیر سمیت عبدالواجد، انور علی، آصف مسیح، چودھری شاہد اقبال، عمران رشید بٹ، محمد اعظم، محمد لطیف، عثمان یوسف، رانا انیس، شاہد شہزاد، شہزادہ محمد شکیل اور تنویر اکرم شیخ امیدوار ہیں مسلم لیگ ن کے چودھری سجاد احمد اس حلقہ انتخاب میں پچھلے 25 برس سے رہ رہے ہیں سماجی کارکن ہیں اور مسلم لیگ ن کے سینئر کارکنوں میں شمار ہوتے ہیں ان کی جیت یقینی دکھائی دیتی ہے۔
وارڈ نمبر 7 میں مسلم لیگ ن کے چودھری طاہر حمید، تحریک انصاف کے ناصر مشاہد لودھی، پیپلز پارٹی کے چودھری شریف، پاکستان عوامی تحریک کے ارشد علی سمیت عامر قیصر، عظمت اللہ وڑائچ، افتخار نذیر، خالد محمود، خواجہ عمران، محمد علی، رانا عبدالقدیر، نعیم رضا، طیب اور محمد آصف میدان میں ہیں۔ مسلم لیگ ن کے چودھری طاہر حمید کی پوزیشن ان سب میں اچھی ہے۔
وارڈ نمبر 9 میں مسلم لیگ ن کے منیر حسین، پیپلز پارٹی کے خدمت علی میں مقابلہ ہو گا۔ پاکستان عوامی تحریک عبدالرؤف بٹ اور جماعت اسلامی کے محمد یعقوب مان بھی اہم امیدوار ہیں دیگر امیدواروں میں بشارت علی، کامران شہزاد، محمد اقبال، محمد طفیل، زبیر علی، مرشد محمود خان، مظفر اقبال، شوکت علی اور شازیہ شہزاد قاضی شامل ہیں اس حلقہ انتخاب میں دلچسپ مقابلہ دیکھنے میں آئے گا۔
وارڈ نمبر 10 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار خالد احمد، تحریک انصاف کے چودھری اختر علی، پیپلز پارٹی کے چودھری عدنان سرور، جماعت اسلامی کے حافظ عتیق احمد شاہد، پاکستان عوامی تحریک کے عمران صدیقی سمیت وسیم احمد خاں، رانا غضنفر علی احمد قریشی اور فہیم احمد امیدوار ہیں۔مسلم لیگ ن کے خالد احمد اور تحریک انصاف کے چودھری اختر علی میں جوڑ پڑے گا۔مندرجہ بالا یونین کونسلوں کی تعداد اگرچہ 20 ہے لیکن ان کے نتائج فیصلہ کریں گے کہ ا?یا مسلم لیگ ن کو اب بھی 11 مئی 2013ء کی طرح عوامی مقبولیت حاصل ہے یا ان کی مقبولیت میں کمی آئی ہے جہاں تک انتخابی مہم کا تعلق ہے اس کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ ن دونوں کنٹونمنٹس میں برتری کے ساتھ آگے آگے دکھائی دے رہی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-04-20

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان