بند کریں
پیر جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بزرگ رہنما کا ”حسن سلوک“ اور پارٹی سے توقع
سردار صاحب نے کبھی مطالبہ نہیں کیا لیکن وہ خود کو وزارتِ اعلیٰ پنجاب کا شہباز شریف سے زیادہ حقدار سمجھتے تھے اس وجہ سے انہوں نے میاں شہباز شریف کی پچھلی کابینہ میں وزیر بننے سے معذرت کر لی
فرخ سعید خواجہ:
پاکستان عوامی تحریک کو اپنے قائد ڈاکٹر طاہر القادری کی وطن واپسی کا انتظار ہے اور اْن کی پارٹی کی یہاں باقی ماندہ قیادت اور اتحادی بھی سستا رہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف البتہ دھیرے دھیرے اپنے 30 نومبر کے اسلام آباد کے احتجاج کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ایک طرف اس احتجاج کے لئے تیاریاں جاری ہیں جبکہ دوسری طرف پارٹی کے اندر انٹرا پارٹی الیکشن میں ڈسے لوگ چیئرمین عمران خان سے انصاف کی امید کی آس لگائے دھاندلی کرنے اور کروانے والوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) میں بھی جنوبی پنجاب کی سرکردہ شخصیت سردار ذوالفقار علی کھوسہ کی بغاوت سامنے آ چکی ہے، وہ واقعی پارٹی کے اندر اور پارلیمانی پارٹی میں کوئی دراڑ ڈال سکیں گے اس کا جائزہ لیتے ہیں لیکن پہلے تحریک انصاف کا ذکر ہو جائے۔
30 نومبر کے اسلام آباد احتجاج کے سلسلے میں تحریک انصاف کے جو عہدیداران صوبہ پنجاب کے کارکنوں کو متحرک کرنے کے ئے کوشاں ہیں اُن میں سے بعض کے خلاف انٹرا پارٹی الیکشن میں دھاندلی کا الزام ہے۔
اُن کے دورہ گوجرانوالہ میں انہیں اپنے کارکنوں کے غیض و غضب کا نشانہ بننا پڑا اور اْن کے خلاف گو گو کے نعرے بھی لگے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ عمران خان نے اپنی پارٹی کے بیشتر رہنما?ں کی مخالفت کے باوجود عام انتخابات سے پہلے پارٹی میں الیکشن کروا دئیے تھے۔ اْن انتخابات میں جہاں دھاندلی کی بڑے پیمانے پر شکایات سامنے آئیں بلکہ ان انتخابات نے پارٹی کے اندر دھڑے بندیوں کو جنم دیا، ان دھڑوں کی باہمی چپقلش کا مظاہرہ بھی اکثر دیکھنے میں آتا ہے۔
پارٹی میں ہونے والے الیکشن کے شکایات سیل کے انچارج جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے ان انتخابات کو سرے سے غلط قرار دے دیا تھا۔ ہمارے گوجرانوالہ میں دوست فاروق عالم انصاری تحریک انصاف کے اہم رکن ہیں اور نوائے وقت کے کالم نگار ہیں، اْن کے والد علامہ عزیز انصاری لاہور گوجرانوالہ ہی نہیں پنجاب بھر کی معرفت مجلسی شخصیت تھے۔ فاروق عالم انصاری بھی اپنے والد کی طرح یاداش شخص ہیں، وہ 27 اکتوبر کو روز نامہ نوائے وقت میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں قلمطراز ہیں کہ پارٹی کے انٹرا الیکشن میں اس الیکشن سے زیادہ دھاندلی ہوئی جس دھاندلی کے خلاف خان صاحب شہر شہر، گلی گلی احتجاج کر رہے ہیں۔
تحریک انصاف کے الیکشن سیل کے انچارج جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے اس الیکشن کو سرے سے ہی غلط قرار دے دیا۔ انہوں نے نئے پارٹی الیکشن کے لئے چند ماہ ہی کی مہلت دی ہے۔ مستند ہے انصاری صاحب کا لکھا ہوا۔
اب ہم سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ صاحب کی طرف آتے ہیں۔ بلاشبہ سردار صاحب ایک قابل احترام شخصیت ہیں، مسلم لیگ (ن) کے جنوبی پنجاب میں سب سے قد آور رہنما ہیں اْن کی ناراضگی پہلے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے ساتھ تھی، سردار صاحب نے کبھی مطالبہ نہیں کیا لیکن وہ خود کو وزارتِ اعلیٰ پنجاب کا شہباز شریف سے زیادہ حقدار سمجھتے تھے اس وجہ سے انہوں نے میاں شہباز شریف کی پچھلی کابینہ میں وزیر بننے سے معذرت کر لی البتہ سینئر مشیر کا عہدہ قبول کر لیا۔
اْن کو اب وزیراعظم میاں نواز شریف سے بھی شکوہ ہے جس کا وہ مختلف ٹی وی چینلز پر اظہار کر رہے ہیں۔ سردار صاحب پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر پارٹی لیڈر شپ کی جانب سے شوکاز نوٹس کی توقع رکھتے ہیں۔ اْن کا اپنا احساس ہے کہ پارٹی پلیٹ فارم کی بجائے میڈیا میں جانے پر انہیں شوکاز نوٹس جاری کیا جائے گا تاہم اْن کی توقع پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔
میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف نے اس وقت بھی خاموشی اختیار کئے رکھی تھی جب نوجوان سردار دوست محمد کھوسہ نے تند و تیز لہجہ اختیار کیا تھا حتیٰ کہ ذاتی حملوں سے بھی گریز نہیں کیا تھا۔ سردار صاحب بزرگ آدمی ہیں انہیں شوکاز نوٹس ہرگز جاری نہیں ہو گا البتہ شریفوں کی جانب سے یہ کہا جا سکتا ہے چھوٹے میاں تو چھوٹے میاں بڑے میاں سبحان اللہ!
اِدھر مسلم لیگ (ن) میں سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کے دست راست مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ پنجاب کے صدر میاں غلام حسین شاہد، لیبر ونگ پنجاب کے صدر سید مشتاق حسین شاہ، کسان ونگ پنجاب کے صدر میجر (ر) سید ذوالفقار شاہ، مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر رانا محمد ارشد برملا کہہ رہے ہیں کہ ہمارے لیڈر میاں نواز شریف ہیں۔
سردار ذوالفقار کھوسہ کی کمان میں ہمیں میاں صاحب ہی نے دیا تھا۔ اِن لوگوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سردار صاحب پارٹی کے بزرگ رہنما ہیں اور وہ سب توقع رکھتے ہیں کہ سردار صاحب ایک حد سے آگے نہیں بڑھیں گے۔
ہماری رائے میں سردار صاحب کو طیش دلانے میں میڈیا کا بہت اہم کردار ہے۔ پچھلے دنوں جب حکمران مسلم لیگ (ن) کے خلاف ہَوا چلی تو وہی صاحب جنہوں نے اُن کے صاحبزادے کی اداکارہ اہلیہ کا قصہ عام کیا تھا انہیں اپنے چینل پر لے آئے اور اُن سے اُن کی پارٹی کی لیڈر شپ کی مہربانیوں کا ذکر کیا۔
سردار صاحب جلے بُھنے بیٹھے تھے اور پھر باقی لوگ اس بحث کو لے اْڑے کہ مسلم لیگ (ن) میں فارورڈ بلاک بن رہا ہے۔ اْن دنوں سردار صاحب نے راقم الحروف سے گِلہ کیا کہ انہوں نے کسی کے ساتھ بھی رابطہ قائم نہیں کیا بلکہ ممبران اسمبلی اور پارٹی عہدیدار ازخود اُن کو ملنے آ رہے ہیں۔ میں قومی اسمبلی کا ممبر ہوں نہ ہی صوبائی اسمبلی کا میں فارورڈ بلاک کیسے بناوٴں گا اس بات کی شہادت ہم بھی دیتے ہیں کہ اس وقت تک بڑے سردار صاحب نے پارٹی کے کسی عہدیدار یا ممبر اسمبلی سے رابطہ نہیں کیا تھا۔
ہمارے استفسار پر اْن تمام لوگوں نے جو ماضی میں سردار صاحب کے قریب رہے ایک ہی جواب دیا تھا کہ سردار صاحب نے ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا، تاہم اب سردار صاحب دوستوں سے رابطے کر رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ انہیں روزانہ ہزاروں ایس ایم ایس آتے ہیں جن میں انہیں اپنی حمایت کا یقین دلایا جاتا ہے جبکہ لیڈر شپ کی بے رْخی کا گِلہ ہوتا ہے۔ اس پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کا ووٹر اور سپورٹر مہنگی بجلی اور مہنگائی پر سیخ پا ضرور ہے لیکن نواز شریف سے اب بھی توقع رکھتا ہے کہ اْن کو ریلیف دیں گے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کئے جانے کے فیصلے سے انہیں حوصلہ ملا ہے۔ سردار صاحب جیسے دانا و بینا سیاستدان یقینا کوئی انتہائی قدم اٹھانے سے پہلے ہزار بار سوچیں گے۔ ہماری تمنا ہے کہ مشرف آمریت میں سر اٹھا کر سیاست کرنے والے اس سیاستدان کا سر بلند ہی رہے اور ان پر ایسا وقت نہ آئے کہ وہ پوچھتے پھیریں کہ مجھے دھکا کس نے دیا تھا۔
تاریخ اشاعت: 2014-11-07

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان