بند کریں
پیر فروری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
برطانوی صلیبی ٹونی بلیئر کی معافی طلبی کے مضمرات
روس نے افغانستان پرامریکی اتحادی حملے کی اقوام متحدہ میں حمایت کی تھی جارج بش اور ٹونی بلیئر کی خفیہ میلزنے عراق پر صلیبی حملے کی مصبوبہ سازی کابھانڈا پھوڑدیا
محسن فارانی:
سابق برطانوی وزیراعظم تونی بلیئر نے بالآخر12سال بعد جنگ عراق میں شامل ہونے کی غلطی کااعتراف کرتے ہوئے معافی مانگ لی ہے اور کہا ہے کہ عراق پرچڑھائی نے داعش کی تشکیل کاراستہ ہموار کرنے میں اہم کردارادا کیاہے۔ انہوں نے 25اکتوبر کوایک ٹی وی انٹرویومیں امریکی صدرجارج بش کے ساتھ جنگ عراق کاحصہ دار بننے پرافسوس کااظہار کیااور عراق پرحملے کوجنگی جرم بھی قراردیا ۔
صلیبی جنگجو ٹونی بلیئر کا اب کہناہے کہ عراق کے حوالے سے جومعلومات دی گئی تھیں وہ غلط تھیں اور انہیں اس بات پر بھی افسوس ہے کہ عراق پرحملے اوروہاں صدام حکومت ختم کرنے کی منصوبہ بندی میں غلطیاں ہوئیں۔ انہوں نے اعتراف کیاکہ عراق جنگ کی وجہ سے شدت پسند تنظیم داعش وجود میں آئی اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے قیام میں وہ بھی کسی حد تک ذمہ دار ہیں۔
اس سے پہلے ٹونی بلیئر نے متعددبارجنگ عراق پرمعافی مانگنے کامطالبہ مسترد کردیاتھا۔ یہ بیان ایک ایسے وقت پر دیاگیاہے جب ٹونی بلیئر کے بارے میں میڈیا میں یہ رپورٹس آئیں کہ انہوں نے عراق کے خلاف فوجی کارروائی کے معاملے میں ایک سال پہلے ہی امریکہ کی حمایت کردی تھی اس سے پہلے ٹونی بلیئریہ تاثر دیتے رہے کہ عراق کاتنارع سفارتی طریقے سے حل ہوجانا چاہیے تھالیکن کچھ روز قبل جنگ عراق کے متعلق خفیہ دستاویزات منظرعام پر آئیں جن میں صدر جارج بش اور ٹونی بلیئر کے درمیان خفیہ ای میلز اور پیغامات کاانکشاف ہوا جس سے پتہ چلاکہ دونوں سربراہان اس چھوٹی جنگ کے منصوبہ ساز تھے۔

اب یہ خبیث صلیبی ٹونی بلیئر کس سے معافی مانگ ریاہے؟ کیادس لاکھ عراقی مسلمانوں سے جوبش وبلیئر کی ظالمانہ صلیبی جنگ میں مارے گئے۔ بلیئر نے جوانگریزی لفظ” سوری“ کہااس نے انگریزی تہذیب کے گورے چہرے پرکالک مل دی ہے۔ ان صلیبی غنڈوں اور عالمی دہشت گردوں سے کوئی پوچھے کہ تم نے افغانستان میں ڈیزی کٹربم اور ہیل فائر میزائل برساکر لاکھوں شہیدکئے اور عراق میں کشت وخون کاانتہاکردی۔
اب تمہارے ” سوری“ کہہ دینے سے کیاتمہاری رب کی پکڑی بڑی سخت ہے۔ صدارتی دوڑ میں سفاک جارج بُش کی پارٹی کاامیدوار اسلام دشمن ارب پتی دونلڈٹرمپ آج یہ کہنے پر مجبور ہے کہ ”صدام حسین اور معمرقذافی کوہٹاکرہم نے شرق اوسط کوجہنم بنادیاہے اگر آج وہ اقتدار میں ہوتے توشرق اوسط کی یہ حالت ہرگزنہ ہوتی سفاک انسانوں کایہ صلیبی ٹولہ‘ بش‘ بلیئر امریکی وزیر دفاع ڈونلڈرمز فیلڈ‘ کونڈولیزا رائس عرف”کالی کونڈی“ سیاہ فام وزیر خارجہ کولن پاول نائب صدر چینی اور نائب وزیر دفاع یہودی پال ولفوٹزپر مشتمل تھا۔
نائن الیون کاسانحہ اگر واقعی کچھ شیلے عرب، فلسطینی اورمصری نوجوانوں کی کارروائی تھی تویہ نہتے فلسطینی مسلمانوں پروحشیانہ اسرائیلی مظالم کاردعمل تھاجبکہ امریکہ خونخواریہودیوں کی ناجائزریاست اسرائیل کامائی باپ بناہوا ہے۔
امریکی وبرطانوی صلیبیوں نے ظالم اسرائیل کالگام دینے کے بجائے یہود کی محبت میں اور اسرائیل کے تحفظ کیلئے چھوٹے عذرکی بناپر پہلے افغانستان پر چڑھائی کردی اور پھر عراق کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔
عراق پر حملے کے لئے صدام حسین کے ایٹمی وکیمیائی ہتھیاروں کاافسانہ تراشا گیااور جنگ آزادی کویت 1991ء کے امریکی جنرل کولن پاول نے جواب امریکہ کے وزیر خارجہ کے منصب پر فائز تھا۔ 15فروری 2003ء کوسلامتی کونسل کے اجلاس میں عراق کے مبینہ تباہ کن ہتھیاروں کارونا رویا۔ ان وسیع تباہی کے ہتھیاروں WMDsکو غدربناکر 19مارچ2003ء کوامریکہ وبرطانیہ نے عراق پر حملہ کردیا۔
2009ء میں وزارت خارجہ کے منصب سے بٹنے کے بعد اسی کولن پاول نے یہ کہہ کراعتراف جرم کیاکہ 15فروری 2003ء ان کی زندگی کاسیاہ ترین دن “ تھا۔اب بلیئر نے اعتراف جرم کرلیاہے۔لیکن عراق پرحملے کے چار بڑے مجرم صدرجارج واکربُش نائب صدرڈک چینی ‘ پال ولفوٹز اور ڈونلڈرمزفیلڈ ابھی خاموش ہیں۔ پال ولفوٹزنے تونائن الیون (11ستمبر2001ء)کے فوراََ بعد ہی صدربُش سے کہاتھا کہ اب ہمیں عراق پر حمہ کردینا چاہیے مگر بُش مسلم کش نے اسے اپنی یہ تجویز کسی اگلے موقع پر پیش کرنے کوکہاتھا کیونکہ بش بلیئر اور ڈک چینی افغانستان پر فوری حملے کافیصلہ کرچکے تھے۔
کالی کونڈی“ جوصدربُش کی پہلی ٹرم میں مشیرقومی سلامتی تھی وہ بھی شریک جرم تھی۔ بش کی دوسری ٹرم (2005-9ء)میں وہ وزیرخارجہ بنی۔ اسی نے بے نظیر اور غاصب پرویز مشرف کے درمیان 2007ء میں نام نہادNational Reconollation Orders(NROیاقومی ممفاہمتی نظام) طے کرایاتھا جس میں یہ طے پایاتھا کہ پرویز مشرف بدستور صدررہیں گیے اور پی پی پی شریک اقتدار ہوگی جبکہ آصف زرداری اور بے نظیرکے خلاف کرپشن کے مقدمات ختم کردئیے جائیں گے لیکن پھر بے نظیر کی قبل ازوقت پاکستان آمدپر ساراکھیل بگڑگیاتھا۔

ٹوبی بلیئر کی معافی طلبی کے بعد دیگر شریک جرائم صلیبیوں کی باری ہے۔ ان سب کی سزایابی کے لئے ایک عالمی جنگی جرائم ٹربیونل بنناچاہیے۔ جوممکن نہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ میں سے چار مستقل ارکان جوویٹوپاور کے حامل ہیں‘صلیبی ہیں‘ کسی مسلم ملک کوسلامتی کونسل کامستقل رکن نہیں بنایا گیا‘ اسی لئے اقوام متحدہ کاادارہ یہودونصاری کے مفادات کامحافظ بناہواہے۔
افغانستان پر حملے میں تیسری ویٹوپاور(فرانس) نے بھی امریکہ وبرطانیہ کاساتھ دیاتھا اور چوتھی ویٹوپاور (روس) نے اقوام متحدہ میں ان تینوں کی حمایت کی تھی۔ ان صلیبی طاقتوں کی افواج نے افغانستان اور عراق میں مسلمانوں کے خلاف اخلاق سوز اور گھناؤنے جرائم کاارتکاب کیا‘ درندہ صفت صلیبی فوجیوں نے مسلم خواتین کی آبروریزی کی۔ پر امن شہریوں اور شادی کی تقریبات پر میزائل اور بم برسائے گئےْ بگرام ‘ابوغریب (بغداد) اور گوانتاناموکے بندی خانوں میں شرف انسانیت اور قرآن پاک کی توہین کی گئی۔
برطانوی فوجیوں نے شہداء کی لاشوں پرپیشاب کرنے کی گندی حرکت کی۔ امریکی فوجی شہداء کی انگلیاں وغیرہ کاٹ کربطور سووینئرامریکہ لے جاتے رہے۔ صلیبی پائلٹ شغل کے طعر پر نہتے شہریوں کوگولیاں مارتے اور خوش ہوتے تھے اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹرعافیہ صدیقی کومشرک دور میں امریکی اغواکرکے افغانستان لے گئے۔ بگرام جیل میں ان سے زیادتی کی گئی اور پھر امریکہ لے جاکرجھوٹے مقدمے میں 86سال کی سزا سنادی گئی۔
امریکی بدمعاشی اورسفاکی کاتازہ ترین واقعہوز (افغانستان) کے ہسپتال پرفضائی بمباری سے بیس تیس افراد کی شہادت کاہے جن میں مرد‘ عورتین‘ بچے‘ ٹرسیں اور ڈاکٹر شامل تھے۔ اس خونریزی کی عالمی اداروں نے بھی مذمے کی ہے۔ یہ صلیبی بدمعاشیاں اور خونریزیاں کسی طور قابل معافی نہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-15

(0) ووٹ وصول ہوئے