بند کریں
بدھ جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بلوچستان میں معاہدے کے مطابق حکومت کی تبدیلی
دسمبر میں بلوچستان نیشنل پارٹی کو اڑھائی سالہ حکومت کی اپنی مدت پوری کرنے کے بعد معاہدہ مری کے مطابق مسلم لیگ کے سپرد کرنا ہو گی۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں مگر پنجاب میں بیٹھے بہت سے لوگ اور بلوچستان میں موجود بعض سیاستدان ایسا کرنے کے موڈ میں نظر نہیں آتے
جی این بھٹ:
وعدے نبھانے کی روایات بلوچ اور پٹھان قبائل میں بہت پختہ ہیں۔ وہ وعدوں کی اہمیت جانتے ہیں اور ان کو نبھانا بھی جانتے ہیں۔ دسمبر میں بلوچستان نیشنل پارٹی کو اڑھائی سالہ حکومت کی اپنی مدت پوری کرنے کے بعد معاہدہ مری کے مطابق مسلم لیگ کے سپرد کرنا ہو گی۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں مگر پنجاب میں بیٹھے بہت سے لوگ اور بلوچستان میں موجود بعض سیاستدان ایسا کرنے کے موڈ میں نظر نہیں آتے۔
شاید سابق صدر آصف علی زرداری کے کہے گئے الفاظ کو ہمارے باقی سیاستدانوں نے بھی حزر جاں بنا لیا ہے کہ وعدے کون سے قرآن و حدیث ہوتے ہیں جن کو پورا کرنا ضروری ہو۔ ہمارے ہاں اکثر سیاستدان خواہ حکمران ہوں یا حزب اختلاف سب کے نزدیک شاید وعدوں کی یہی حرمت رہ گئی ہے۔ کہ انہیں ضرورت نکلنے کے بعد حرف غلط کی طرح مٹا دیا جائے۔
ایک بات شریف برادران کو بہرصورت یاد رکھنا ہو گی کہ بلوچستان میں مسلم لیگ صرف اس وقت نظر آتی ہے جب مسلم لیگ کے کسی دھڑے کی مرکز میں حکومت ہو۔
ورنہ چند ایک پرانے مسلم لیگیوں کے علاوہ ڈھونڈنے سے بھی مسلم لیگ کا سراغ نہیں ملتا۔ کوئی قابل ذکر رہنما یا متحرک قیادت کا یہاں فقدان ہے۔ بی این اے کے دونوں دھڑے پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی‘ جے یو آئی اور جمہوری وطن پارٹی اپنا حلقہ اثر بھی رکھتی ہیں اور ووٹ بنک بھی۔ ان کے پاس متحرک اور موثر قیادت بھی ہے۔ اس وقت پیپلز پارٹی تو ذکر عجیب سا لگتا ہے حالانکہ اسکے بھی خیرخواہ کہیں کہیں نڈھال نظر آتے ہیں۔
ایسے حالات میں اگر مسلم لیگ بلوچستان کو عرصہ بعد موثر اور متحرک قیادت ثنا اللہ زہری اور سرفراز بگٹی کی شکل میں ملی ہے تو ان کے خدشات دور کرنا ان کو بھرپور تعاون فراہم کرنا مسلم لیگ کی ذمہ داری ہے۔ میاں صاحبان جانتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالمالک کے بعد معاہدے کی رو سے ثناء اللہ زہری وزارت اعلیٰ کے حقدار ہیں اور اس معاہدے کے گواہ محمود خان اچکزئی بھی موجود ہیں۔

اب مکمل معاہدے اور اس کے ضامنوں یعنی محمود خان اچکزئی کے ہوتے ہوئے کہیں اور سے کوئی خطرہ بھی نہیں تو ثناء اللہ زہری کی حکومت سازی کے بارے میں ابہام پھیلانا کیا مطلب رکھتا ہے۔ کیا مسلم لیگی حکمرانوں کو اپنے عہدیداروں پر اعتماد نہیں۔کیا مسلم لیگ کو اپنی راہوں میں کانٹے بچھانے کا شوق ہے یا اسے یہ اچھا لگتا ہے کہ اسکے خلاف شور شرابا ہوتا رہے۔
بی این اے اور ڈاکٹر عبدالمالک نے اڑھائی سالہ دور حکومت میں جو کچھ کیا اس کا پھل اسے آئندہ الیکشن میں ملے گا۔ اب مسلم لیگ والوں کو بھی کھل کر اپنی پالیسیوں پر عمل کرنے کا وقت ملنا چاہئے۔ تاکہ عوام کو پتہ چل سکے کہ مسلم لیگ بلوچستان میں کونسی تبدیلی یا ترقی لاتی ہے۔ تاکہ آئندہ کے لئے بلوچستان میں مسلم لیگ کے قدم مضبوط ہوں۔
اگر ڈاکٹر عبدالمالک کے دل میں مزید حکومت کرنے کی خواہش ہے تو انہیں یہ سب کچھ معاہدہ مری سے قبل سوچنا چاہئے تھا ورنہ یوں ایک اکثریتی جماعت کو جسے بلوچستان میں اپنے دیگر حمایتیوں کی بھی حمایت حاصل ہے۔
یوں بھی معاہدے کے خلاف چلنا اخلاقی طور پر بھی درست نہیں۔ اس طرح بلوچستان میں سیاسی بدامنی پھیلے گی۔ میاں نواز شریف بھی بلوچستان کے سیاسی حالات پر توجہ دیں کیونکہ اگر یہاں مسلم لیگ میں بغاوت ہوئی یا ٹوٹ پھوٹ ہوئی تو اسکا نتیجہ مسلم لیگ کے لئے بہت برا ہو سکتا ہے۔ اس لئے اس وقت باقی مدت کے لئے بلوچستان کی حکومت مسلم لیگ (ن) کے سپرد کرنا بے حد ضروری ہے۔
کوئی مصلحت یا دباوٴ کو خاطر میں لانے کا مطلب خود اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنا ہے۔ حلیفوں کا آپس میں معاہدے کرنا اور ان کی پاسداری کرنا فرض ہے۔ اس وقت حکومت سازی کے مسئلے پر بلوچستان میں سیاسی حالات اتھل پتھل کرنے کی بجائے دہشت گردی کے خاتمے‘ عوام کی خوشحالی اور ترقی کے منصوبوں پر عمل اور گوادر روٹ کی تعمیر پر توجہ کی ضرورت ہے۔
جس کی راہ میں ہمارے دشمن رکاوٹیں ڈالنے کیلئے کوشاں ہیں۔ ان حالات میں بلوچستان میں سیاسی افراتفری پھیلانا دشمن کے ایجنڈے پر عمل کرنے کے مترادف ہو گا۔ اس وقت ثناء اللہ زہری پر بھی انکے ممبران اسمبلی کا بہت دباؤ ہے۔ جو حکومت نہ ملنے پر بغاوت یا علیحدہ گروپ بنانے کا بھی سوچ رہے ہیں۔ بلوچستان پنجاب نہیں جہاں دھونس یا دباؤ سے کسی کو چپ کرایا جا سکے۔ یہاں قبائلی معاشرہ ہے۔ اس لئے معاہدہ پر عمل کرنا ہی بہتر ہو گا۔ یہ بات پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی اور جے یو آئی والے بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-04

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان