بند کریں
اتوار فروری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بلوچستان میں بڑی سیاسی تبدیلیاں
نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں فاصلے بڑھ گئے ۔۔۔۔۔ خان آف قلات کی وطن واپسی کسی سیاسی بریک تھر وکاامکان نہیں
عدن جی :
بلوچستان میں امن وامان کی بہتری کیلئے ڈرون کیمروں کی مددلی جائے گی ۔ ان کیمروں کی خریداری کیلئے 16لاکھ روپے کا خرچ کئے جائیں گے۔ موجودہ صوبائی حکومت نے اس حوالے سے وفاتی حکومت کو سمری بھجوا دی ہے ۔ یہ ڈرون کیمرے دہشت گردوں کے خلاف کسی بھی آپریشن میں استعمال کئے جاسکیں گے تاکہ متعلقہ علاقے میں نقل وحرکت کے حوالے سے معلومات حاصل کی جاسکیں ان ڈرون کیمروں کو دہشت گردوں کے تعاقب کے لئے بھی استعمال کیا جاسکے گا۔
ان کیمروں کو چلانے کے لیے پولیس کو خصوصی تربیت دی جارہی ہے ۔ ان کیمروں کی خریداری کے لئے دفاتی حکومت سے اجازت لینا لازمی ہے اس لئے سمری وفاتی حکومت کو بھیج دی گئی ہے اور بعض اطلاعات کے مطابق دہشت گردی کے حساس علاقوں میں ان کیمروں کے بعد ڈرون اطیاروں کے استعمال کے بارے بھی سوچاجاسکتا ہے ۔
گزشتہ ہفتے چیف آف آرمی سٹاف نے دور کوئٹہ کے دوران بلوچستان کے امن امان پر بات کی اور کو ر کمانڈر سمیت دیگر حکام سے اس بارے بریفنگ بھی لی صوبے میں امن وامان کے لئے کیا کیا اقدامات کئے جاسکتے ہیں اور عام تاثر ہت ڈرون ٹیکنالوجی سے استفادہ پر سب متفق ہوں گے کیونکہ بھارت نے اب بلوچستان میں دہشت گردی کے لئے اپناؤ دائرہ کار بڑھانے اور نیت ورک مضبوط کرنے کے لئے بھاری بجٹ رکھا ہے ۔
جس کا اندازہ اس امر سے ہوتا ہے کہ بلوچستان بھر میں سرچ آپریشن جاری ہے مشتبہ افراد گرفتار ہورہے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی بھاری مقدار میں اسلحہ گولہ بارود بھی برآمد ہورہے ہیں ۔ صوبائی دارالحکومت میں سخت سکیورٹی کے باجود بم دھماکے ہورہے ہیں ۔ ٹارگٹ کنگ میں بے گناہ جانیں جارہی ہیں ۔ روز کسی معصوم کا لہو بہنے سے شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس زیادہ ہورہا ہے ۔
کاروبار زندگی متاثر ہورہا ہے ۔ معیشت تباہ ہوگئی ہے۔ جب پولیس اور ایف سی کو نشانہ بنیا جارہا ہوتو حکومت بھی بے بس نظر آتی ہے ۔
لندن سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن رہا ہے وزیر اعلی مالک بلوچ کے بعد مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر ثناء اللہ زہری بھی دورہ لندن کی تیاریاں کررہے ہیں اوروزیراعلی ماسکومیں مصروف ہیں ۔ شاید وہ شہبازشریف وزیراعلی پنجاب کی طرح صوبے کے لئے سرمایہ کاری لانے میں کامیاب نہ ہوسکیں کہ بلوچستان کے امن وامان کے باعث کوئی بھی سرمایہ کار یہاں آنے کو تیار نہیں ۔

عید کے بعد بلوچستان میں سیاسی بلچل کے آثار زیادہ نمایاں ہوتے جارہے ہیں کیونکہ نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ (ن) اور (ق) میں فاصلے بڑھ رہے ہیں اور نیشنل پارٹی کی جانب سے نظرانداز کرنے کے رویوں پر شکایات بڑھ رہی ہے اسی کے ساتھ ہی مسلم لیگ (ن) اور (ق) اپنے اپنے حلقوں میں مداخلت کے شکوے کررہی ہیں ۔ شاید معاہدے کے تحت دسمبر تک انتقال اقتدار کا انتظار مشکل لگ رہا ہے اور نیشنل پارٹی کو مینگل پارٹی کی جانب سے تندوتیز بیانات الزامات کا سلسلہ جاری ہے اور لگتا ہے کہ عید کے بعد بلوچستان میں سیاسی تبدیلیاں ہوں گی اور سیاسی بازار سجے کہ پارٹی کے کارکن دفاداریاں بدلنے کو تیار بیٹھے ہیں ۔

ویسے تو خان آف قلات کی وطن واپسی کا بہت شور ہے مگر ان کی قبائلی حیثیت تو اپنی جگہ مسلم ہے مگر سیاسی طور پر مستقبل میں ان کا کوئی کردار نظر نہیں آرہا۔ وہ بھی عید کے بعد وطن واپس آجائیں گے مگر ان کی آمد سے کوئی سیاسی بریک تھرو نہیں ہوگا ۔
اس سارے سیاسی گرم موسم میں جے یو آئی بہت مزے سے لابنگ اور رابطوں میں مصروف ہے اور اس کا مقصد معاہدہ مری کے بعد مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اقتدار میں شامل ہونا ہے مگر پشتو نخواہ میپ بھی اتحادی رہنا چاہتی ہے ۔
دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ بلوچستان حکومت میں مسلم لیگ (ن ) کس کو ساتھ رکھے گی مگر اصل مسئلہ سوبے میں امن وامان ہے اور اب عید کے حوالے سے مساجد اور بازار مین سخت سکیورٹی لگائی جارہی ہے ۔ کوئٹہ میں عید کی تیاریاں بھی خوف کے عالم میں جاری ہیں ۔
تاریخ اشاعت: 2015-07-27

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان