بند کریں
جمعرات جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کیا بلدیاتی انتخابات خاندانِ غلاماں میں اضافہ ہیں؟
پاکستان میں لوگوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ جمہوریت ہی ملک کی بہترین دوست ہے مگر پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے کنٹرول رومز کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جمہوریت کا کنٹرول عوام کے پاس ہے یا مزاجاً ڈکٹیٹر اور خاندانی سیاسی وارثوں کے پاس ہے
سید سردار احمد پیرزادہ:
ترقی یافتہ ممالک کی ایک ادا بھی خوب ہے۔ وہ جو چیز بھی تیار کرتے ہیں اسکے کئی ماڈل بناتے ہیں۔ مثلاً اگر کوئی کار مارکیٹ میں آئے تو اس کا یورپ اور امریکہ کیلئے ماڈل الگ ہوگا جبکہ ایشیاء کیلئے ماڈل مختلف ہوگا۔ عوام پر حکمرانی کرنے کا موجودہ پسندیدہ طریقہ جمہوریت ہے۔ یہ بھی گوروں کی ہی ایجاد ہے۔ انہوں نے جمہوریت کے بھی الگ الگ ماڈل بناکر اپنی اْس انوکھی ادا کو قائم رکھا۔
انکے ہاں جمہوریت میں کسی ایک فرد یا مخصوص گروہ کو عوام پر نازل نہیں کیا جاسکتا۔ انکی حکومتیں ہوں، سیاسی جماعتیں ہوں یا عوامی نمائندگی کے ادارے، سب میں اکثریت کی رائے اور مشورے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں نے جمہوریت کا جو ماڈل اپنے لئے بنایا وہ غیرترقی یافتہ ملکوں میں نہیں پہنچایا گیا۔ وہاں کاروں کی طرح ہی جمہوریت کا ”غیرمعیاری“ ماڈل موجود ہے۔
جمہوریت کے اس غیرمعیاری ماڈل میں اکثر اوقات بادشاہ اور مارشل لاء ڈکٹیٹر بھی فِٹ ہوجاتے ہیں یا ایسی جمہوریت لائی جاتی ہے جو سراسر دھوکہ ہوتی ہے۔ یہاں عوام سے جمہوریت کا نعرہ لگوانے والے خود مزاجاً ”سنگین ڈکٹیٹر“ ہوتے ہیں۔ جمہوریت کے اس دھوکہ دہی والے ماڈل میں سب سے بڑا فراڈ یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں اور جمہوری اداروں میں مخصوص لوگ یا مخصوص خاندان قابض ہوتے ہیں۔
جیسے بادشاہ کی اولاد بادشاہ بنتی ہے ویسے ہی جمہوریت کے اس ماڈل میں سیاسی لیڈر کی اولاد بھی ڈائریکٹ سیاسی لیڈر بنتی ہے۔ پاکستان میں لوگوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ جمہوریت ہی ملک کی بہترین دوست ہے مگر پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے کنٹرول رومز کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جمہوریت کا کنٹرول عوام کے پاس ہے یا مزاجاً ڈکٹیٹر اور خاندانی سیاسی وارثوں کے پاس ہے۔
مسلم لیگ نواز پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں میں سے ایک ہے۔ اسکا نام رکھ کر ہی قیادت کا مسئلہ شاید سب پر واضح کردیا گیا۔ یعنی مسلم لیگ نواز کی قیادت صرف اور صرف نواز شریف یا ان کے خاندان کے افراد ہی کرسکتے ہیں۔ اسکے کسی کارکن یا لیڈر کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ خواب میں بھی پارٹی کی سربراہی کرنے کا سوچ سکے۔ نواز شریف اور شہباز شریف تین دہائیوں سے پارٹی کا کنٹرول روم چلا رہے ہیں۔
اب مستقبل کی منصوبہ بندی کرکے حمزہ شہباز اور مریم نواز کو آگے لایا جارہا ہے تاکہ پارٹی قیادت میں خاندانی برتری کو دھچکا نہ لگے۔ پاکستان پیپلز پارٹی وہ سیاسی جماعت ہے جو ملک میں جمہوریت کا فلسفہ لے کر آئی لیکن پہلے دن سے لیکر آج تک اسکے کنٹرول روم پر بھی ایک ہی خاندان کا قبضہ ہے۔ کیا بھٹو خاندان کے علاوہ پیپلز پارٹی میں کسی کے پاس اتنی عقل یا قائدانہ صلاحیتیں نہیں ہیں کہ وہ پارٹی کی سربراہی کرسکے؟ اگر بھٹو ایک نظریہ تھا تو اس نظریئے کو خاندانی وراثت کیوں بنا دیا گیا؟ امریکہ کے ہردل عزیز صدر کینیڈی کے قتل ہونے کے بعد کیا ان کا خاندان سیاسی جماعت پر قابض ہوگیا؟ کیا پیپلز پارٹی کے کسی مخلص اور باصلاحیت ورکر کو بلاول بھٹو کی جگہ پیپلز پارٹی کی قیادت کے بارے میں سوچنے کا حق نہیں ہے؟ عوامی نیشنل پارٹی میں بھی خاندانی قبضہ موجود ہے۔
سیاسی وراثت کی تقسیم پر اختلاف کے باعث ولی خان کا خاندان تقسیم ہوگیا لیکن اے این پی کا عام کارکن سربراہی کا اہل نہیں سمجھا گیا۔ ایم کیو ایم مڈل کلاس کی جماعت ہے۔ وہاں بھی قیادت کے مخصوص شخصی نظریئے کو ہی اپنایا گیا۔ یعنی مائنس الطاف حسین فارمولا انہیں بھی پسند نہیں ہے۔ مذہبی سیاسی جماعتیں بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام ف کا لیڈر مولانا فضل الرحمٰن یا ان کے خاندان کے علاوہ کوئی اور ہو؟ کیا جے یو ا?ئی ف کے کارکنوں میں عالمانہ اور قائدانہ صلاحیتوں کا فقدان ہے؟ جماعت اسلامی وہ مذہبی سیاسی جماعت ہے جو جمہوریت میں قیادت کے فلسفے پر پوری اترتی ہے۔
انکے ہاں انتخابات کے ذریعے جماعت کا سربراہ چنا جاتا ہے۔ جماعت اسلامی کے اندر شخصی قبضہ نہیں ہے لیکن اس جماعت نے عوام پر قبضے کا ایک نیا سٹائل متعارف کروا رکھا ہے یعنی جماعت اسلامی کے نزدیک پاکستانی سیاست صرف جماعت کے مذہبی نظریئے کے تحت ہی ہوسکتی ہے۔ اس سیاسی مذہبی آمرانہ نظریے کے باعث ہی ووٹروں نے انہیں ہمیشہ مسترد کیا۔اسی لیے جماعت اسلامی ابس سکڑ کر دوسری جماعتوں کی ماتحت جماعت بن کر رہ گئی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف تمام قبضہ گروپوں اور خاندانی سیاست کیخلاف آواز بن کر ابھری لیکن پی ٹی آئی کی قیادت میں بھی مکمل ڈکٹیٹرشپ کا مزاج موجود ہے۔ سب جانتے ہیں کہ عمران خان کسی کا مشورہ قبول نہیں کرتے اور ان کا کہا ہوا ہی آخری فیصلہ ہوتا ہے۔ عمران خان کی اسی ہٹ دھرمی نے پارٹی کے دانشوروں اور معزز شخصیات کو پارٹی سے علیحدہ ہونے پر مجبور کردیا۔
عمران خان کی اولاد ابھی سیاست کی عمر سے پیچھے ہے اس لئے فی الحال پی ٹی آئی میں عمران خان کی سیاسی خاندانی وراثت کی بات کرنا قبل از وقت ہوگا۔ تاہم پی ٹی ا?ئی کے دیگر رہنماؤں کے خاندان پارٹی کی مختلف سیٹوں پر موجود ہیں۔ اس لئے پی ٹی آئی بھی ڈکٹیٹرشپ کے مزاج اور خاندانی سیاست کے حمام میں ننگی ہی ہے۔ پرویز مشرف کی اے پی ایم ایل، چوہدری برادران کی ق لیگ، طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک اور شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ سمیت سب سیاسی جماعتیں بھی اسی فہرست میں شامل ہیں۔
قطب الدین ایبک نے ایک غلام کی حیثیت سے زندگی کا آغاز کیا اور اپنی قابلیت پر ہندوستان کا حکمران بنا۔بعد ازاں اس کے خاندان کے افراد اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر تخت نشین ہوئے۔ برصغیر کی تاریخ میں اِس عہد کو خاندانِ غلاماں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی ہسٹری میں بھی خاندانِ غلاماں کی نئی شکل موجود ہے۔ ہمارے سیاسی ورکرز اور چھوٹے موٹے لیڈر بھی اپنی اپنی جماعتوں کی کنٹرولڈ خاندانی قیادتوں کے سیاسی غلام ہیں۔
اصل جمہوری سیاسی لوگ اپنی قیادت سے اختلاف نہیں کرسکتے اور نہ ہی صلاحیتیں ہونے کے باوجود پارٹی کی سربراہی کا سوچ سکتے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات سیاست میں نرسری ہوتے ہیں جہاں سے نئی قیادتیں ابھرتی ہیں۔ کیا ان نئے چہروں میں سے کبھی کسی کو صلاحیتوں کی بنیاد پر اپنی پارٹی کے کنٹرول روم کو چلانے کا موقع ملے گا یا بلدیاتی انتخابات خاندانِ غلاماں میں محض ایک اضافہ ہی ثابت ہوں گے؟
تاریخ اشاعت: 2015-12-04

(0) ووٹ وصول ہوئے