بند کریں
منگل جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بلدیاتی انتخابات کا آخری مرحلہ
پنجاب کے 12‘ کراچی کے 6اضلاع میں کل انتخابی دنگل ہوگا پنجاب میں مسلم لیگ(ن)اورکراچی میں ایم کیوایم‘ تحریک انصاف سے پنجہ آزمائی کرینگے بلدیاتی انتخابات میں بھی ووٹوں کا ہیر پھیر، الیکشن کے شفاف ہونے پر سوالیہ نشان۔۔۔۔۔؟؟؟
مصنف : ثنا اللہ ناگرہ
بلدیاتی انتخابات کے تیسرے اور آخری مرحلے کے تحت پنجاب کے 12اضلاع اورسندھ میں کراچی کے 6اضلاع میں 5دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے انتخابی معرکے کو سر کرنے کیلئے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کی انتخابی مہم فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئی ہے، انتخابی معرکے میں مسلم لیگ(ن)،تحریک انصاف ،جماعت اسلامی،پیپلزپارٹی،مسلم لیگ(ق)سمیت آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد حصہ لے رہی ہے،ان اضلاع میں پنجاب کے متعددشہری علاقوں راولپنڈی، ملتان، ڈیرہ غازیخان ،بہاولپور،سیالکوٹ، نارووال، خوشاب،جھنگ،راجن پور،مظفرگڑھ، لیہ اور رحیم یار خان میں حکومتی جماعت مسلم لیگ(ن) کا اصل مقابلہ تحریک انصاف اور آزاد امیدواروں سے ہے جبکہ ملتان، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور،خوشاب،جھنگ، راجن پور، مظفرگڑھ،لیہ اور رحیم یار خان اضلاع میں پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ(ق)، جماعت اسلامی اور آزاد امیدوار مسلم لیگ نواز کو ٹف ٹائم دینے کیلئے مضبوط پوزیشن میں ہیں، اسی طرح دیہاتی علاقوں میں مسلم لیگ(ن) کاحقیقی مقابلہ برادری ازم، پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ(ق) اور مسلم لیگ(ن)کے اپنے ہی آزاد امیدواروں سے بھی ہے۔
صوبہ سندھ میں کراچی کے 6اضلاع کراچی ایسٹ،کراچی ویسٹ،کراچی ساؤتھ،کراچی سنٹرل،کورنگی اور ملیر میں متحدہ قومی موومنٹ کا حقیقی مقابلہ پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی سے متوقع ہے،لیکن تحریک انصاف کراچی کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے اچھی پوزیشن میں ہے ۔صوبہ پنجاب کے اضلاع میں کسی سیاسی جماعت کی برتری کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مسلم لیگ(ن) کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا ہے کیونکہ مسلم لیگ(ن)کو حکومتی اور بڑی سیاسی جماعت ہونے کافائدہ حاصل ہے جس کے پاس قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں موجود ہیں اسی طرح مسلم لیگ(ن)کو کسان پیکج،ترقیاتی کاموں کا بھی بڑا فائدہ پہنچے گا۔
اگر دیکھا جائے تو ووٹرز کیلئے الیکشن میں برادری ازم، کاروباری شراکت داری،سب سے بڑھ کر سیاسی پارٹی سے وابستگی بڑی اہمیت کے حامل عناصر تصور کیے جاتے ہیں جو کسی بھی امیدوار کے الیکشن جیتنے کیلئے بڑا کردار ادا کرتے ہیں ۔پنجاب کے تیسرے مرحلے کے بلدیاتی الیکشن میں حکومتی جماعت مسلم لیگ(ن) یا دوسری جماعتوں کے الیکشن جیتنے کیلئے پنجاب میں پہلے اور دوسرے مرحلے میں ہونے والے انتخابی نتائج اور پارٹی کی برتری سیاسی لحاظ سے بڑی اہمیت کی حامل ہوگی جو ووٹرز کی دلکشی کا ایک باعث بھی بن جائیگی۔
قابل غور بات یہ ہے کہ تحریک انصاف ،پیپلز پارٹی اورمسلم لیگ(ق) نے دھاندلی کا الزام عائدکیا ہے،انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ بھی کیا کہ پنجاب حکومت کی طرف سے بلدیاتی الیکشن کے پہلے اور دوسرے مرحلے میں بد ترین دھاندلی کا نوٹس لیا جائے جبکہ الیکشن کے تیسرے مرحلے میں سرکاری افسران کو ریٹرننگ آفیسرزتعینات کرنے کی بجائے عدالتوں کے ججز کو ریٹرننگ افسران بنایا جائے،پنجاب میں اضلاع کے انچارج ڈی سی اوز کو بلدیاتی الیکشن میں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز بنایا گیاجو وزیراعلیٰ پنجاب کے تعینات کردہ افسران ہیں، ان افسران نے مسلم لیگ(ن)کے امیدواروں کوالیکشن جتوانے کیلئے الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد ترقیاتی کاموں میں وسائل کا بے جا استعمال کیا ، تمام تر الزامات کو مدنظررکھتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو چاہیئے کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کا واویلہ کرنے والی جماعتوں کے تحفظات کو دور کرنے کیلئے اقدامات کیے جائیں،اسی طرح الیکشن کمیشن کے کل رجسٹرڈ ووٹوں میں عام انتخابات کے ووٹوں کے مقابلے میں واضح کمی دکھائی دے رہی ہے جبکہ عام انتخابات کے اڑھائی سال گزرنے کے بعد نئے ووٹوں کے اضافہ سے تعداد بڑھنی چاہیئے تھی ،گڑبڑ کہا ں ہے اس کا تعین بھی الیکشن کمیشن اور سیاسی جماعتوں کو کرنا چاہیئے کہ نئی حلقہ بندیاں کرتے وقت ووٹ باہر گئے یا نئے ووٹ شامل نہیں کیے گئے ؟
بلدیاتی انتخابات چونکہ اقتداراور وسائل کی نچلی سطح تک منتقلی کا بہترین ذریعہ ہیں اسی لیے بلدیاتی انتخابات کو جمہوریت کا حُسن تصور کیا جاتا ہے جس سے عوامی مسائل کے حل میں فوری مدد ملتی ہے ۔
سرکاری فنڈز کا کافی حصہ نچلی سطح پر منتخب لوگوں کو بھی دیا جاتا ہے جس سے منتخب عوامی نمائندے مقامی سطح پراپنے اپنے علاقوں میں تعلیم و صحت اور ترقیاتی کاموں،ڈرینج سسٹم ،گلی کوچوں میں سڑکوں و سولنگ کی تعمیرومرمت، عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار جماعتی بنیادوں پر ہونیوالے بلدیاتی انتخابات سے یہ بات واضح ہوجائیگی کہ کس علاقے میں کس جماعت کی سیاسی جڑیں کتنی زیادہ مضبوط ہیں جبکہ انتخابی عمل سے ہر سیاسی جماعت کو جہاں اپنے نامزد امیدواروں کے ووٹوں کی تعداد سے اپنی مقبولیت کا اندازاہ ہوگا وہاں پھر ہر جماعت اپنی مقبولیت بڑھانے کیلئے حقیقی معنوں میں عوام کے فلاحی کاموں اور مسائل حل کرنے کی جانب بھی کوشاں ہوگی۔
بلدیاتی انتخابات کے باعث گلی محلوں،تھڑوں کی سیاست بھی جاگ اٹھی ہے ،انتخابی حلقوں میں خوب گہما گہمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔جگہ جگہ چھوٹی بڑی فلیکسسز،بینرز لگائے گئے ہیں جن پر پارٹی قیادت کی تصاویر بھی نمایاں ہیں۔کارنر میٹنگز کا انعقاد کیا گیا اور ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم کا سلسلہ بھی جاری رہا۔الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے تحت جمعرات اور جمعہ کی رات جلسے جلوسوں اور کارنرمیٹنگز کی شکل میں انتخابی مہم ختم ہو جائیگی۔

بلدیاتی الیکشن 2015ء کے تیسرے اور آخری مرحلے میں پنجاب کے 12اضلاع راولپنڈی،ملتان،ڈیرہ غازیخان، بہاولپور ، سیالکوٹ،نارووال،خوشاب،جھنگ،راجن پور،مظفرگڑھ،لیہ اور رحیم یار خان میں الیکشن کمیشن کے رجسٹرڈ ووٹوں کے مطابق پنجاب میں مرد اور خواتین کے کل رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 16986946جن میں مرد وں کے رجسٹرڈووٹرز کی تعداد9447933جبکہ خواتین کے رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد7539013ہے ،ان بارہ اضلاع میں عام انتخابات کے اڑھائی سال گزرنے کے بعد نئے ووٹوں کے اضافہ سے یہ تعداد بڑھنی چاہیئے تھی ،گڑبڑ کہا ں ہے اس کا تعین الیکشن کمیشن اور سیاسی جماعتوں کو کرنا چاہیئے کہ نئی حلقہ بندیاں کرتے وقت ووٹ باہر گئے یا نئے ووٹ شامل نہیں کیے گئے ؟
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق ان 12اضلاع میں کُل 10517انتخابی حلقے ہیں جن میں 1335یونین کونسلز، 8010وارڈز،58میونسپل کمیٹیاں،اسی طرح میونسپل کمیٹیوں میں وارڈز کی کُل تعداد1172ہے۔
جبکہ الیکشن عملے کی تعداد جن میں12ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز،259ریٹرننگ آفیسرز اور 518اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسرزشامل ہیں۔پولنگ عملے کی تعدادجن میں پریزائیڈنگ آفیسرز 14470،اسسٹنٹ پریزائیڈنگ آفیسرز 80000،پولنگ آفیسرز40000شامل ہیں۔دوسرے مرحلے کے انتخابات کیلئے 12اضلاع میں 14470پولنگ اسٹیشنز اور 40000پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔ پنجاب کے ان بارہ اضلاع میں جنرل نشستوں پر31848امیدوارجبکہ چیئرمین اوروائس چیئرمین کی 5251 نشستوں پر انتخاب ہو گا،میڈیا رپورٹس کے مطابق چیئرمین،وائس چیئرمین کی نشستوں پر 18امیدواراور جنرل نشستوں پر 520امیدوار بلامقابلہ منتخب بھی ہوگئے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے دوران قواعدوضوابط کی خلاف ورزی روکنے اور الیکشن کو شفاف بنانے کیلئے پنجاب اور سندھ میں کنٹرول روم قائم کر دیا ہے جس کیلئے چار ٹیمیں تشکیل دی گئیں ہیں جو دو شفٹوں میں کام کرینگی ،صوبہ پنجاب کیلئے تین اور صوبہ سندھ کیلئے ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔پنجاب پولیس نے انتخابات میں سیکورٹی کے پیش نظر 13723پولنگ اسٹیشنز کو اے پلس،اے اور بی کیٹگری میں تقسیم کیا ہے جبکہ بارہ اضلاع میں قائم کیے گئے پولنگ اسٹیشنز پر 118792اہلکار تعینات کیے جائینگے۔

سیاسی ماہرین کے مطابق بلدیاتی الیکشن میں امیدواروں نے انتخابی مہم پر کروڑوں روپے لگا دیئے ہیں جو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے قواعدوضوابط کی خلاف ورزی ہے ،اگر بلدیاتی الیکشن کے پہلے اور دوسرے مرحلے پر نظر ڈالیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ پنجاب اور سندھ میں جس سیاسی جماعت کی حکومت ہے الیکشن میں برتری بھی اسی جماعت کی نظر آئی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-04

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     ثنا اللہ ناگرہ

ثنا اللہ ناگرہ کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان