بند کریں
پیر جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
”آزادی مارچ“ آزادی جلسہ میں تبدیل ہوسکتا ہے
حکومت اور تحریک انصاف میں معاملات طے ہونے کی چہ میگوئیاں۔۔۔۔۔ دوسری جانب حکومت کے خلاف پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی الگ الگ مہم جوئی کیلئے بھی تیاریاں تیز کردی گئی ہیں
زاہد حسین مشوانی:
ملک میں یوم آزادی کی تیارایں زوروں پر ہیں جبکہ وفاقی جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد میں بھی سرکاری اور نجی سطح پر تقریبات کا سلسلہ جاری ہے۔ اسلام آباد میں فوج کی تعیناتی کے علاوہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کے عمران خان کو 20ارب روپے کے ہر جانے کے نوٹس کا معاملہ بھی زیر بحث رہا اور دوسری جانب حکومت کے خلاف پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی الگ الگ مہم جوئی کیلئے بھی تیاریاں تیز کردی گئی ہیں۔
یہ کہا گیا کہ پارٹی چیئرمین عمران خان لاہور سے آزادی مارچ کی قیادت کریں گے۔ آزادی مارچ کے حوالے سے تحریک انصاف کی خصوصی رابطہ کمیٹی میں بھی حکمت عملی طے کی گئی ۔ تحریک انصاف کے کارکن اسلام آباد میں گھر گھر جاکر اس آزادی مارچ کی دعوت دیتے رہے اس سے قبل کارکنوں کو باقاعدہ ہدایت کی گئی کہ وہاں عوامی رابطہ مہم تیز کردیں۔ یہ کہا گیا کہ فاٹا اور آزاد کشمیر سمیت چاروں صوبوں سے قافلے مارچ میں شرکت کیلئے اسلام آباد پہنچیں گے۔
اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اپنے حلقوں سے نکلنے والے جلوسوں کی قیادت کریں گے۔ تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ کوئی طاقت لانگ مارچ کا راستہ نہیں روک سکتی، عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ کارکن رکاوٹیں عبور کر کے اسلام آباد پہنچیں گے۔ آزادی مارچ کو روکنے کی کوشش کی گئی تو پورا ملک جا م کردیں گے۔ حکومت کی جانب سے پبلک ٹرانسپورٹ بند کئے جانے پر مارچ موٹر سائیکلوں پر کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ کے موقع پر کارکنوں سے راطبہ تیز کرنے کیلئے پارٹی کے سینٹرل سیکرٹریٹ میں کنٹرول روم قائم کیا جائے گا۔ تحریک انصاف کی طرف سے قومی اسمبلی سے ان کے ارکان کی طرف سے استعفوں کی بھی دھمکی دی گئی جس پر الیکش کمیشن کی طرف سے کہا گیا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے ارکان کی طرف سے استعفے کی صورت میں خالی ہونے والے حلقوں کی نشستوں پر مقررہ مدت میں ضمنی انتخابات کرائے جائیں گے۔
حکومت کو درپیش ان چیلنجز سے نمٹنے کیلئے حکمران سر جوڑے رہے۔ وزیراعظم نواز شریف کی زیر قیادت مری میں حکمراں جماعت کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں انقلاب مارچ اور آزادی مارچ سمیت ملک کی مجموعی سیاسی اور امن و امان کی صورتحال پر غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ تیرہ اور چودہ اگست کی درمیانی رات یوم آزادی کی تقریبات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
نوازشریف نے اجلاس کو بتایا کہ وہ آئندہ چند روز میں سیاسی جماعتوں کی قیادت کو یوم آزادی کی تقریبات میں شرکت کی خود دعوت دیں گے۔ اس اجلاس میں وزیراعلیٰ شہباز شریفک، وفاقی وزرا چوہدری نثار علی خان، خواجہ سعد رفیق، اسحاق ڈار اور پرویز رشید شریک رہے۔ اس سے قبل یہ افواہیں بھی عام تھیں کہ حکومت نے عمراں خان سے رابطہ کیا ہے اور مذاکرات کی پیش کش کی ہے اور یہ کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات بھی کی ہے اور کئی نکات پر عمران خان اور حکومت میں اتفاق بھی ہوا ہے اور آزادی مارچ کو آزادی جلسہ میں تبدیل کردیا گیا ہے اور جلسہ کے بعد پی ٹی آئی کے کارکنوں اور واپس کردیا جائے گا اور عمران خان جذباتی تقریر کے بعد ایک اور تاریخ دیں گے۔
تاہم وزرات داخلہ نے اس بات کی وضاحت کی ہے اور اس بات کی بھی تردید کی کہ وزیر داخلہ 14اگست کے پروگرام کے پس منظر میں پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کررہے ہیں۔ ترجمان نے اس رپورٹ کو بھی بالکل بے بنیاد قرار دیا کہ اس سلسلہ میں وزیر داخلہ بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ پر خفیہ طور پر گئے تھے۔ اس بات کی بھی تردید کی گئی کہ وزیر داخلہ نے پی ٹی آئی کے چیئرمین کے ساتھ 14اگست کے معاملے پر کسی بھی جگہ یا کسی بھی طرح کے کوئی مذاکرات نہیں کئے۔
مذاکرات ہوئے ہیں یا نہیں حکومت اور اس کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ‘ آزادی مارچ یا کوئی اور مہم جوئی کسی بھی صورت ملک کیلئے اور ملک میں جمہوری نظام کیلئے مناسب نہیں اور یہ ملک پاکستان ایک جمہوری و سیاسی عمل کی پیداوار ہے نہ کہ کسی احتجاجی تحریک یا لانگ مارچ کی۔ وزیراعظم میاں نواز شریف‘ وزیرا داخلہ چوہدری نثار علی خان اور دوسرے وزراء کا کہنا ہے کہ اس ملک کی بقا اور ترقی کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کے عمل کو مضبوط کیا جائے ۔
قیام پاکستان سے لے کر آج تک جب بھی پاکستان نے ترقی کی سعی کی تو غیر جمہوری قوتوں نے جمہوریت کے عمل کو سبوتاژ کردیا۔ اگر جمہوریت کو پنپنے کا موقع دیا جاتا تو آج یقیناََ پاکستان کا نقشہ کچھ مختلف ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر طاہر القادری ایک غیر ملکی شہری اور شاطر انسان ہیں جو اپنے ذاتی ایجنڈے کی تکمیل میں کسی حد تک بھی جاسکتے ہیں۔
حب الوطنی کا تقاضہ ہے کہ اس قسم کے ابن الوقت کی ریشہ دوانیوں سے ہوشیار اور باز رہا جائے اور انکی چالوں کا حصہ نہ بنا جائے۔ حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کو چاہئے کہ جمہوری عمل کے استحکام کیلئے حکومتی کاوشوں کا ساتھ دیں۔ احتجاج مسائل کا حل نہی ہواکرتے۔ سیاستدانوں کا شیوہ ہے کہ وہ مسائل کو گلیوں بازاروں کی بجائے پارلیمنٹ میں حل کرتے ہیں اور ڈائیلاگ کو اپنا ہتھیار بناتے ہیں۔
ریلیاں ، احتجاج، لانگ مارچ اور دنگا فساد سیاسی فلسفے کی روح سے ہی متصادم ہے۔ سیاست او جمہوریت کا حس اس بات میں ہے کہ قومی نوعیت کے فیصلوں کو پارلیمنٹ میں کیا جائے۔ عمران خان اگر اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہیں گے تو اس بات کا امکان ہے کہ غیر جمہوری قوتیں جو پہلے ہی اس تاک میں بیٹھی ہیں فائدہ اٹھائیں گی اور ملکی حالات بہتری کی بجائے مزید ابتری کی جانب جائیں گے۔
اسلام آباد میں فوج تعینات کرنے کے فیصلے پر بھی اپوزیشن کی جماعتوں اور خاص طور پرپاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے علاوہ مسلم لیگ قاف اور عوامی مسلم لیگ کی طرف سے بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گی اور کہا گیا کہ حکومت کا یہ اقدام ان کے مارچ میں رخنہ ڈالنے کیلئے ہے اور حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے۔ اور آرٹیکل 245 کا استعمال بھی اسی لیے کیا گیا ہے کہ حکومت مخالف ریلیوں کو روکا جائے۔
دوسری جانب حکومت اور اس کے قانونی ماہرین نے اپوزیشن کی جانب سے پیدا کئے گئے اس تاثر کو مسترد کردیا ہے کہ اس سے کسی سیاسی پارٹی کی ریلی کو روکنے کیلئے استعمال کیا جائے گا یا اس سے فوج کا کردار متنازعہ بن جائے گا۔ حکمران جماعت کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے سابق دور میں 11مرتبہ اس آرٹیکل کو نافذ کیا۔ فوج کو اس آرٹیکل کے تحت 245 اسلام آباد میں تین ماہ کیلئے بلانے کا تعلق کسی بھی سیاسی ریلی یا پارٹی کو روکنا نہیں بلکہ عوام سمیت ان کو تحفظ فراہم کرنا ہے تاکہ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال متاثر نہ ہو۔
ان کا کہنا ہے کہ فوج کو طلب کرنے کا فیصلہ حکومت سے منسوب کرنا اور اس پر تنقید کرنا یہ صرف پوائنٹ سکورننگ ہے اور اسے فوج کے کردارکو ضرورت کے وقت طلب کرنے کے معاملے کو متنازعہ بنانا ہے۔ مسلم لیگ ن کا موقف ہے کہ پہلی حکومت نہیں ہے جس سے فوج کو بلایا ہے بلکہ اس سے پہلے کئی حکومتوں بشمول پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی متعدد بار آئین کے اسی آرٹیکل کے تحت سول حکومت کی مدد کیلئے فوج کو طلب کیا ۔
حکومت کے اس اقدام کا مطلب ہے کہ دہشت گرد پہلے حملہ کر کے لوگوں کو نقصان نہ پہنچا سکیں اور یہ کہ ماضی میں بھی متعدد بار سول حکومت کی مدد کیلئے فوج کو طلب کیا گیا حتیٰ کہ فوجی عدالتوں کا قیام بھی اسی آرٹیکل کے تحت عمل میں لایا گیا۔ سابق چیف جسٹس (ر) افتخار محمد چوہدری نے جمعرات کو اپنے وکلاء کے ذریعے عمران خان کو کسی ثبوت کے بغیر انہیں تنازع میں ملوث کرنے پر ہتک عزت کا قانونی نوٹس دیا اور عمران خان سے کہا گیا کہ وہ عام انتخابات میں دھاندلی میں ملوث ہونے سے متعلق ان پر عائد کئے گئے الزامات ان پر ثابت کریں۔
سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے خود قانونی جنگ لڑنے کا راستہ اختیار کیا ہے لہٰذا یہ عمران خان کیلئے موقع ہے کہ وہ اس شخص کے خلاف ثبوت پیش کریں جس پر وہ الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ عمران خان جو 14اگست کو مبینہ دھاندلی کے خلاف وفاقی دارالحکومت کی طرف لانگ مارچ کا ارادہ رکھتے ہیں انہوں نے اس سال مئی میں بھی انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے ڈی چوک میں ایک ریلی منعقد کی تھی۔
تاہم پی ٹی آئی کے سربراہ نے اپنے خطاب میں اس وقت دھاندلی کے علاوہ الزامات عائد کئے تھے۔ سابق چیف جسٹس کے صاحبزادے ارسلان افتخار کی طرف سے بھی عمران خان کے خلاف ریفرنس کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ عید کے موقع پر کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کیلئے وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے۔ پولیس نے ایک جامع سکیورٹی پروگرام ترتیب دیا ہے جس کے تحت 4500سے زائد اسلام آباد پولیس کے اہلکار فرائض سر انجام دیں گے۔
667 مقامات پر جس میں 19 کھلے مقامات جس میں 26 امام بارگاہیں شامل ہیں پر پولیس افسران و جوانوں کی بائی نیم ڈیوٹیاں لگائی ہیں۔ چاند رات کوشہر کے مختلف بڑے شاپنگ سینٹروں، مارکیٹوں میں اضافی نفری لگائی گئی۔ شہر کے لاری اڈا جات، قبرستانوں اور ریلوے اسٹیشن پر بھی پولیس کی ڈیوٹی لگائی گئی اور فیصل مسجد میں خصوصی نفری تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ عید پر پولیس کے ساتھ پاکستان رینجرز ملازمین بھی سکیورٹی ڈیوٹیاں سرانجام دیں گے۔ جبکہ ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کیلئے اسلام آباد ٹریفک پولیس نے جامع ٹریفک پلان ترتیب دیا۔ پولیس کمانڈوز اور رینجرز کے دستے اسلام آباد پولیس کی معاونت کرتے رہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-08-08

(0) ووٹ وصول ہوئے