بند کریں
منگل جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اسمبلیوں میں وفاداری خریدنے کے خلاف ترمیم کی تیاری
پاکستان میں 1973ء کے آئین کے تحت پچھلے 42سال سے سینیٹ قائم ہے البتہ مارشلائی ادوار میں پارلیمنٹ کا دوسرا اہم حصہ ایوان ِ زیریں کبھی معطل رہا کبھی تحلیل کر دیا گیا۔ آئین کے تحت ایوان بالا کے اختیارات محدود ہوتے ہیں
نواز رضا:
پچھلے دو ماہ کے دوران سیاسی افق پراستحکام دیکھنے میں آیا ہے سیاسی جماعتوں نے جہاں ایجی ٹیشن کی سیاست ترک کرکے دوبارہ مذاکرات کی راہ لی ہے وہاں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت ،اپوزیشن اور فوج بھی ایک ”صفحہ“ پر کھڑی ہے قومی ایکشن پلان کی منظوری کے بعد سے پلوں کے نیچے دریاؤں سے بڑا پانی بہہ چکا ہے پاکستان کی سیاسی قیادت دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے فوج کی پشت پر کھڑی ہے قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے تناظر میں فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے دورے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے دورہ ء امریکہ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ پر امریکی حکام کی عسکری قیادت کے بعد پاکستان کی سیاسی قیادت کے ساتھ بات چیت اس امر کا اشارہ ہے کہ وہ پاکستان کی سیاسی قیادت کو بھی غیر معمولی اہمیت دے رہے ہیں۔ یہ دورہ بظاہر ”پر تشدد انتہا پسندی کے انسداد پر وائٹ ہاؤس میں سربراہی کانفرنس “ سے خطاب کے لئے تھا جس میں 60 سے زائد ممالک کی قیادت نے کانفرنس میں شرکت کی۔
جہاں چوہدری نثار علی خان نے وفاقی وزیر داخلہ کی حیثیت سے حکومت پاکستان کا کیس پیش کیا وہیں انہیں ”ڈومور“ کا تقاضا کرنے والی امریکی انتظامیہ کو اپنے موقف پر قائل کرنے کا بھی موقع ملا۔ سربراہی کانفرنس میں دنیا نے پہلی مرتبہ تسلیم کیا ہے کہ دہشتگردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اس حوالے سے پہلی مرتبہ بین الاقوامی سطح پر اتفاق رائے سے ایک قرارداد منظور کی گئی کہ دہشتگردی کو اسلام سے منسلک نہیں کیا جا سکتا اسلام اور دہشتگردی دو متضاد چیزیں ہیں اوبامہ نے کانفرنس میں اس بات کا اعلان کیا کہ امریکہ اسلام کے خلاف حالت جنگ میں نہیں بلکہ ان لوگوں کے خلاف جنگ کر رہا ہے جنہوں نے مذہب کا چہرہ مسخ کر دیا ہے چوہدری نثار علی خان نے بین الاقوامی برادری کو بتا یا کہ دہشتگردی کے واقعات میں جاں بحق ہونے والے 99%مسلمان ہیں۔
پاکستان کا روز اول سے یہی موقف رہا ہے کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ، یہی بات چوہدری نثار علی خان نے واشنگٹن سمٹ کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے اجاگر کی ہے۔ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکی اقدامات پر تنقید کرتے رہے ہیں اور امریکی پالیسیوں پر برملا اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں گو کہ چوہدری نثار علی خان نے سربراہی کانفر نس میں شرکت کے لئے واشنگٹن گئے تھے لیکن ان کے دورہ کی اہمیت میں اس وقت اضافہ ہو گیا جب امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری اور امریکی صدر کی قومی سلامتی کی مشیر سوسن ایلزبتھ نے بھی اس دوران ان کی پذ یرائی کی۔
وائٹ ہاؤس میں منعقد ہونے والی سربراہی کانفرنس میں جہاں امریکی صدر باراک اوباما کے کلیدی خطاب میں اسلام اور دہشت گردی کے بارے میں پاکستان کے موقف کو تائید حاصل ہوئی وہاں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کھل کر دہشت گردی کے جنگ میں اپنے قومی موقف کا اعادہ کیا۔ چوہدری نثار علی خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ ” اکثر ایسا شخص جس نے داڑھی رکھی ہوئی ہو یا جس خاتون نے اسکارف اوڑھ رکھا ہو انتہاء پسند تصور کئے جاتے ہیں حالانکہ ایسا طرز عمل، پالیسیوں کی تشکیل میں گمراہ کن ثابت ہو سکتا ہے “ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے واشنگٹن میں انسداد دہشت گردی پر سربراہی کانفرنس میں خطاب کے بعد امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات کی انہوں نے اقوام متحدہ کی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر سوسن رائس اور صدر اوبامہ کے خصوصی معاون برائے افغانستان جیف ایگرز سے بھی ملاقات کی۔
امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد انہوں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ چوہدری نثار علی خان نے اس وقت امریکہ کا دورہ کیا ہے جب امریکی کانگریس کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین ایلیٹ زاوئے نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے حکومت کو تجویز پیش کی کہ دہشت گرد تنظیموں سے تعلقات ختم کرنے تک پاکستان پر سفری پابندیاں عائد کر دی جائیں۔
اس خط میں لشکر طیبہ،لشکر جھنگوی اور جیش محمد کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے اور الزام عائد کیا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے ان کالعدم تنظیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ چوہدری نثار علی خان نے ایک ایسے ماحول میں پاکستان کا ”مقدمہ“ لڑا ہے جب ملک میں بھی دہشت گردوں کے خلاف سخت جوابی کارروائی جاری ہے۔ چوہدری نثار علی خان جو ببانگ دہل ہر ”طالب “ کو دہشت گرد سمجھتے ہیں اور نہ ہی طالبان کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں، ان کا موقف ہے کہ دہشت گرد دہشت گرد ہوتا ہے اس کا کوئی مذہب ،رنگ ونسل یا علاقہ نہیں ہوتا۔
اور یہ بات تعصب پر مبنی اٹھنے والی آوازوں کو خاموش کر نے کیلئے کافی ہے۔
پاکستان میں 1973ء کے آئین کے تحت پچھلے 42سال سے سینیٹ قائم ہے البتہ مارشلائی ادوار میں پارلیمنٹ کا دوسرا اہم حصہ ایوان ِ زیریں کبھی معطل رہا کبھی تحلیل کر دیا گیا۔ آئین کے تحت ایوان بالا کے اختیارات محدود ہوتے ہیں اس کے باوجود جہاں سیاسی جماعتں زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں وہاں ”سینیٹر“ بننے کے خوا ہش مند ”آزاد امیدواروں “ نے اپنی ”تجوریاں“ کھول دی ہیں جس سے سیاسی حلقوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے شنید ہے خیبر پختوخوا میں ایک ووٹ کا مول 2کروڑ اور بلوچستان میں ایک ووٹ کا 5کروڑ روپے کا تقاضا کیا کیا جا رہا ہے جب کہ فاٹا سے سینیٹر بننے کے لئے 40کروڑ روپے تک بولی لگ گئی ہے اگرچہ بلوچستان میں مسلم لیگ(ن) نے جنرل نشست پر 4امیدوار وں نعمت اللہ زہری ،سردار یعقوب ناسر،میر افضل مندوخیل اور سیدال ناصر کو پارٹی ٹکٹ دیا ہے مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر ثناللہ زہری نے اپنے قریبی عزیز کو ٹیکنو کریٹ کا ٹکٹ دلوا دیا اسی طرح ایک خاتون سینیٹر مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیا ر کئے بغیر خاتون نشست پر پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔
بلوچستان میں ٹکٹوں کی بندر بانٹ نے مسلم لیگی ارکان صوبائی اسمبلی میں” بغاوت “ کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ سردار یعقوب ناسر مشکل صورت حال سے دوچار ہیں جب کہ سیدال ناصر جیسے دیرینہ کارکن جس نے پرویز مشرف کے مارشلائی دور میں بلوچستان میں مسلم لیگ(ن) کا جھنڈا سربلند کئے رکھا پرویز مشرف کے ریفرنڈم کے خلاف کوئٹہ میں جلسہ کرنے کی پاداش میں محمد خان اچکزئی عبدالحئی بلوچ ،ثناللہ بلوچ ہمراہ سیدال ناسر کو بھی ”بغاوت“ کے مقدمہ میں جیل میں ڈال دیا گیا لیکن انہیں بھی ”متبادل امیدوار“ ہی بنایا گیا ہے۔
بلوچستان میں وزیر اعظم محمد نواز شریف کے طلب کردہ صوبائی اسمبلی کے ارکان کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے6 اور مسلم لیگ(ق) کے 5ارکان نے آنے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کی۔ اسی طرح کی صورت حال سے خیبر ْختونخوا میں تحریک انصاف دوچار ہے وزیر اعظم محمد نواز شریف نے سینیٹ کے انتخابات میں ارکان کی ”منڈی“ لگنے کی اطلاعات کا سخت نوٹس لیا دوسری طرف تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خاننے بھی سینیٹ کے انتخابات ”شو آف ہینڈز سے کرانے کا مطالبہ کر دیا ہے جس کے بعد وزیر اعظم محمد نواز شریف نے وفاقی کابینہ کا غیر معمولی اجلاس طلب کر لیا جس میں سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کیلئے 22ویں آئینی ترمیم لانے کا فیصلہ کیا گیا جس کے تحت خفیہ رائے شماری کے بجائے شوآف ہینڈکے ذریعے سینٹ کے ارکان کا انتخاب کرایا جائے گا وزیر اعظم نوازشریف نے انوشہ رحمان کی سربراہی میں اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ، خواجہ ظہیر احمد اور بیرسٹر ظفراللہ پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو آئینی ترمیم کے لئے سفارشات تیار کرے گی آئینی ترمیم کی منطوری کے لئے ایک اور کمیٹی قائم کی گئی ہے تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ کرے گی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سینٹ کے انتخابات میں فاٹا میں ہارس ٹریڈنگ کی اطلاعات کا بھی خصوصی طور پر تذکرہ ہوا اور فاٹا سے تعلق رکھنے والے وفاقی و زیر ٹیکسٹائل انڈسٹری عباس آفریدی نے تجویز پیش کی کہ اگر 5 مارچ 2015ء سے قبل آئینی ترمیم منظور نہ ہو سکے تو فاٹا کیلئے سینٹ کے انتخابات خفیہ رائے شماری کی بجائے شو آف ہینڈز کے ذریعے کرانے کیلئے صدارتی آرڈیننس جاری کیا جائے۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے بتایا ہے آئینی ترمیم کی منظوری کیلئے تحریک انصاف ‘ پیپلز پارٹی ‘ ایم کیو ایم ‘ اے این پی ‘ جے یو آئی سمیت دیگر جماعتوں سے رابطے کئے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزراء نے آئینی ترمیم کی منظوری کے لئے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں سے رابطہ کیا ہے سر دست پیپلز پارٹی نے واضح جواب نہیں دیا آصف علی زردار ی آئینی ترمیم کی حمایت کر رہے ہیں جب کہ سید خورشید شاہ مخالفت۔
مسلم لیگ (ن) کے پاس ایوان بالا میں دو تہائی اکثریت نہیں اگرچہ حکومت نے سینیٹ اورقومی اسمبلی کے اجلاس علی الترتیب 27فروری اور4مارچ 2015کو طلب کر لئے ہیں اگر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے 4مارچ 2015ء کو آئینی ترمیم منظور ہوگئی تو 5مارچ 2015ء کو” شو آف ہینڈز“ کے ذریعے انتخاب کرایا جائے گا۔ دریں اثناء سیاسی جرگہ ایک بار پھر سرگرم عمل ہو گیا ہے سراج الحق نے سعودی عرب روانگی سے قبل رحمٰن ملک سے ملاقات کی ہے تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین سے ملاقات کے بعد تحریک انصاف کا ایک خط اسحقٰ ڈار کو پہنچا یا ہے شنید ہے تحریک انصاف اپنے مطالبات میں ایک قدم پیچھے ہٹی ہے تاہم حکومت اور تحریک کے درمیان جو ڈیشل کمیشن کے قیام پر تا حال کو ئی واضح پیش رفت نہیں ہو ئی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ فریقین کے درمیا ن جوڈیشل کے قیام پر اصولی اتفاق رائے کے باوجود ”ٹرمز آف ریفرنس “ پر شدید اختلافات کے باعث بات آگے بڑھتی ہے کہ نہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-02-27

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان