بند کریں
پیر جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
آصف زرداری کی سیاسی چومکھی اور اندرون خانہ لاحق خطرات
ایک اور بحث جو کبھی پارٹی کے اندرونی دھڑوں میں اور اکثر بحث و مباحثوں کا موضوع رہی ہے وہ یہ کہ کیا نام بدلنے سے ذاتیں تبدیل ہو سکتی ہیں یا ایسے لوگوں کا خیال ہے کہ بلاول یا تو بلاول بھٹو ہو سکتے ہیں
سلیم بخاری:
آصف علی زرداری سیاسی شطرنج کے اچھے کھلاڑی ہیں اور سیاسی مفاہمت کے نام پر انہوں نے جو معرکے سر کیے ہیں اور اپنے ذاتی مفاد کی خاطر پاکستان پیپلز پارٹی کو جو نقصان پہنچایا ہے وہ ناقابل تلافی ہے بے نظیر بھٹو کی لیاقت باغ میں ہلاکت کے بعد جس طرح انہوں نے پارٹی کی قیادت سنبھالی اور ایک غیر مصدقہ وصیت نامے کو بنیاد بنا کر کیسے اپنی بساط بچھائی اس نے سب کو حیران کر دیا اور سینئر پارٹی رہنماوٴں کے منہ بند کر دیئے اور یوں وہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے سیاسی گدی نشین بن بیٹھے۔
پارٹی کے اندر اور باہر ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو سمجھتے ہیں کہ آصف علی زرداری اور بھٹو خاندان میں کبھی تعلقات مثبت نہیں رہے وہ بیگم نصرت بھٹو کی بیٹی بے نظیر سے دوری اور مرتضےٰ بھٹو کے سیاسی منظر سے ہٹا دیئے جانے کا ذمہ دار بھی زرداری کو ہی گردانتے ہیں ان پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے بھٹو لورز کو پارٹی کے اہم عہدوں سے ایک ایک کرکے الگ کیا اور اپنی مرضی کے افراد کو اہم ذمہ داریاں سونپ دیں امین فہیم جنہیں بے نظیر بھٹو کی زندگی میں پارٹی معاملات چلانے میں اہمیت حاصل تھی انہیں زیرو کر دیا گیا یاد رہے کہ بے نظیر بھٹو نے الیکشن کمیشن میں پیپلز پارٹی پارلیمنٹریرین کو امین فہیم کے نام سے ہی رجسٹر کرایا تھا اور وہ یہ بھی واضح طور پر کہتی تھیں کہ اگر انہیں تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے میں کوئی رکاوٹ ہوئی تو امین فہیم ہی آئندہ پارٹی کے نامزد وزیر اعظم ہوں گے۔
آج وہی امین فہیم کہاں کھڑے ہیں وہ سب کے سامنے ہے بے نظیر کی زندگی میں کوئی تصور نہیں کر سکتا تھا کہ فریال تالپور یا مظفر ٹپی کو پارٹی کے اندر یہ مقام مل جائے گا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ منظور وٹو جیسا شخص جسے ایک وقت میں ولن سمجھا جاتا تھا وہ پنجاب جیسے صوبے میں پارٹی کا صدر ہو گا۔ خود پارٹی کے دیرینہ کارکن یہ سوال پوچھتے پھرتے ہیں کہ کیا پارٹی میں کوئی ایسا وفادار نہیں تھاکہ پارٹی کی صدارت کے لیے باہر سے ایک فرد کو امپورٹ کرنا پڑا۔
آخر کار قاسم ضیاء اور اشرف سوہنا جیسے لوگ کہاں ہیں کیا ان کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ اونچی آواز میں بھٹو کی روایات کے امین ہیں الطاف قریشی جنہیں پارٹی کا دانشور چہرہ تصور کیا جاتا تھا وہ پس منظر میں کیوں چلے گئے ہیں یہ ایسے سوالات ہیں کہ جن کا جواب ایک دن آصف زرداری یا آخر کار بلاول زرداری کو دینا پڑے گا۔
ایک اور بحث جو کبھی پارٹی کے اندرونی دھڑوں میں اور اکثر بحث و مباحثوں کا موضوع رہی ہے وہ یہ کہ کیا نام بدلنے سے ذاتیں تبدیل ہو سکتی ہیں یا ایسے لوگوں کا خیال ہے کہ بلاول یا تو بلاول بھٹو ہو سکتے ہیں یا بلاول زرداری کسی صورت بھی بلاول بھٹو زرداری نہیں ہو سکتے۔
آصف زرداری نے بحیثیت شریک چیئر مین بلاو ل کو بڑے طمطراق سے چیئر مین کے عہدے پر فائز کیا تھا اور آغاز میں تو دونوں کے درمیان ہوا گزرنے کی گنجائش موجود نہیں تھی مگر جوں جوں بلاول کو پارٹی امور کی سمجھ آتی گئی توں توں باپ بیٹے کے بیچ فاصلے بڑھنے لگے حتیٰ کہ بلاول ناراض ہو کر لندن چلے گئے اور کوشش بسیار کے باوجود واپس نہیں آئے ان کی اپنی والدہ کی برسی پر گڑھی خدا بخش میں غیر حاضری اور حال ہی میں 4اپریل کو اپنے نانا اور پارٹی کے خالق ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر لاڑکانہ میں موجود نہ ہونے سے تو بات اظہر من شمس کی طرح واضح ہو گئی کہ باپ بیٹے میں کچھ نہ کچھ گڑ بڑ ضرور ہے۔
پارٹی کے سینئر رہنماوٴں امین فہیم اور خورشید شاہ کو علیحدہ علیحدہ لندن بھیجا گیا جو بلاول کو منانے میں ناکام لوٹے اور آخر کار آصف زرداری خود بھی لندن گئے مگر بلاول اپنی ضد پر اڑے رہے۔ آصف زرداری جو بلاول کی تقریروں پر تالیاں بجاتے تھے اب کہہ رہے ہیں کہ ان میں سیاسی پختگی نہیں۔ اگر یہ درست بھی مان لیا جائے کہ بلاول کے متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کے خلاف سخت گیر بیانات وجہ تنازعہ ہیں تو قائد تحریک نے اپنی تقریروں میں جس طرح بلاول کو بلو اور منے جیسے القابات سے نوازا اسے بھی مد نظر رکھا جانا چاہیے۔

لیاری کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آصف زرداری نے اسے اپنی انتخابی مہم کا آغاز قرار دیا ہے اور دیگر شہروں میں جلسے کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے حیرت ہے کہ وہ پارٹی امور کو فوقیت دینے کی بجائے عام انتخابات سے ڈھائی سال قبل ہی انتخابی مہم شروع کر رہے ہیں انہیں علم ہے کہ پنجاب جیسے بڑے صوبے میں منظور وٹو کے خلاف کتنی مزاحمت ہے اور لوگ بلاول کے منظر عام پر آنے کے کتنی شدت سے منتظر ہیں اسی طرح پارٹی میں فریال گوہر اور مظفر پٹی کے فیصلوں پر تحفظات ہیں ادھر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا خوفناک نوعیت کے الزامات کے ساتھ ہر چینل پر زرداری پر لاٹھی چارج کر رہے ہیں اور ماڈل ایان علی جو 5لاکھ ڈالر سمگل کرنے کے الزام میں گرفتار ہیں کو زرداری کی داشتہ قرار دے رہے ہیں اب پیپلز پارٹی کے رہنماوٴں نے جو اب آہ غزل پیش کرنا شرع کر دی ہے اور ذوالفقار مرزا کو آستین کا زہریلا سانپ قرار دے دیا ہے۔

آصف زرداری نے ایک اور پینترا بدلا ہے اور عمران خان کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ساتھ ہی ساتھ نواز شریف کی حمایت شروع کر دی ہے ہر چند کہ اپنی چرب زبانی کا ہنر استعمال کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ بھارت کے ساتھ ان کے کوئی تجار تی تعلقات نہیں یہ کھلا اشارہ نواز شریف کی بھارت پرستی پر ایک گھمبیرطنز تھا تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین کے ساتھ ہونے والے حالیہ معاہدوں کی تکمیل کو یقینی بنائیں گے اور انہیں نقصان پہنچانے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔

آصف زرداری جہاں ہر طرح کی سیاسی چومکھی کھیل رہے ہیں وہیں انہیں اندرون خانہ کی طرف سے لاحق خطرات نے پریشان کر رکھا ہے اپنے بیٹے بلاول کی اپنی خالہ صنم بھٹو سے قربت ان کے لیے فرسان روح بنی ہوئی ہے خاندانی ذرائع کا خیال ہے کہ بلاول بے نظیر کی زندگی میں بھی صنم کے بہت قریب تھے اور اکثر لندن میں قیام کے دوران ان کی والدہ بچوں کو اکثر ان کی خالہ کے پاس ہی قیام پذیر رہنے دیتی۔
یہ اطلاعات بھی موجود ہیں کہ پارٹی کی دیرینہ قیادت بھی صنم بھٹو کو ہی پارٹی کی اصل وارث سمجھتی ہے دوسری طرف سوشل میڈیا نے بھی زرداری کے ناک میں دم کر رکھا ہے کہیں ان کے ولی عہد سجاول کی باتیں اور اب ہیلو میگزین نے اور بھی بھانڈے پھوڑے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنی پارٹی اور خاندان کو توڑ پھوڑ کے عمل سے بچانے کی جلد تدبیر کریں اور آئندہ عام انتخابات سے پہلے پٹڑی سے اتری ہوئی پی پی پی کی گاڑی کو دوبارہ ٹریک پر ڈالیں کیونکہ ایک تو جلد پارٹیاں بنتی نہیں بن جائیں تو پیپلز پارٹی کی طرح عوامی پذیرائی انہیں نصیب نہیں ہوتی اور اگر ایک بار ٹوٹ جائیں تو پھر کوئی خدائی معجزہ ہی اسے دوبارہ پنپنے کا موقع دے سکتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-01

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان