بند کریں
اتوار فروری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
آصف زرداری کی پریس کانفرنس وزیراعظم سے ملاقات کی منہ بولتی داستان
آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے”ہارڈ لائنرز“ میں تشویش کی لہر پیدا کر رکھی ہے۔ دوسری طرف عمران خان کو یہ کہنے کا موقع مل رہا ہے
نواز رضا:
قومی اسمبلی کے دوسرے پارلیمانی سال کے ایام کار مکمل ہو گئے ہیں لیکن اس کے باوجود دو روز کے لئے قومی اسمبلی کا 22واں سیشن طلب کیا گیا جسمیں”منقسم اپوزیشن“کے شدید احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے دوران گیس انفراسٹرکچر ترقیاتی محصول بل 2014 کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے سابق دور حکومت سے یہ بل پہلے ہی آرڈیننس کی شکل میں نافذ العمل تھا۔
بل سے حکومت کو ملک میں گیس انفراسٹرکچر کی ترقی اور پاک افغان ترکمانستان نے گیس پائپ لائن کی تعمیر کیلئے سالانہ 100 ارب روپے وصول ہوں گے ‘حکومت کی کامیاب حکمت عملی کے باعث اپوزیشن ”منقسم“ ہو گئی ‘ وفاقی حکومت نے پیپلز پارٹی کی ترامیم کو بل کا حصہ بنا کر اس کی حمایت حاصل کر لی یہ بات قابل ذکر ہے پاکستان تحریک انصاف‘ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے ارکان نے بل کی مخالفت کی ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا۔
لیکن اس کے باوجود وفاقی حکومت نے بل کثرت رائے سے منظور کرو الیا اور ایم کیو ایم کے ارکان نے” مک مکا نا منظور ‘ کالا قانون نا منظور ‘ شرم کرو ڈوب مرو اور سندھ ‘کے پی کے‘ بلوچستان کے حقوق پر ڈاکہ نا منظور کے نعرے لگاتے رہے۔ سپیکر نے شدید نعرے بازی میں بل کی شق وار منظوری کا عمل جاری رکھا۔ پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر کی 4 ترامیم کو بھی بل کا حصہ بنا دیا گیا۔
حکومت کی طرف سے ترامیم نہیں کی گئی۔ حیران کن بات یہ ہے جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف کی تو گاڑھی چھنتی ہے لیکن دونوں جماعتوں کی ایم کیو ایم سے نہیں بنتی۔ یہ تینوں جماعتیں اس بل کی مخالفت میں تو کمر بستہ رہیں مگر پارلیمنٹ کے باہر جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف بدستور ایم کیو ایم کی حریف ہیں۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔
اس کے بوجود پاکستان مسلم لیگ (ن) پاکستان پیپلز پارٹی کو رام کر لینے میں کامیاب رہی اور بل کی حمایت حاصل کر لی۔ پاکستان پیپلز پارٹی جسے پاکستان تحریک انصاف ’فرینڈلی اپوزیشن‘ کا طعنہ دیتی رہی ہے اس کے خلا ف ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی نے بھی مک مکا کے نعرے لگائے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے پچھلے ایک ہفتے سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں جہاں ان کی سیاسی قیادت سے ہونے والی ملاقاتوں کو ملکی سیاست کیلئے نیک شگون قرار دیا گیا ہے۔
پارلیمانی جماعتوں کے قائدین کو پاک چین اقتصادی راہداری پر وزیر اعظم کی موجودگی میں دی جانے والی بریفنگ میں سابق صدر زرداری کی شرکت خاص اہمیت کی حامل ہے۔ پھر اس کے بعد وہ وزیراعظم محمد نواز شریف کے ہمراہ اسماعیلی کمیونٹی کے سربراہ کی رہائش گاہ پر تعزیت کے لئے بھی گئے اور اسلام آباد واپسی پر وزیراعظم محمد نواز شریف سے ایک تفصیلی ملاقات کی۔
وزیر اعظم سے ان کی مسلسل ملاقاتوں کی تفصیلات تو منظر عام پر نہیں آئیں لیکن باور کیا جاتا ہے ان دنوں آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد نواز شریف کے درمیان ”گاڑھی“ چھن رہی ہے آصف علی زرداری ہر قیمت پر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف 5میگا سکینڈلز کی تحقیقات بند کروانا چاہتے ہیں ان سکینڈلز کی ایف آئی اے تحقیقات کر رہی ہے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اس تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں آصف علی زرداری نواز شریف حکومت کو گذشتہ سال بچانے کی بھاری ”قیمت“ وصول کرناچاہتے ہیں۔
آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے”ہارڈ لائنرز“ میں تشویش کی لہر پیدا کر رکھی ہے۔ دوسری طرف عمران خان کو یہ کہنے کا موقع مل رہا ہے وہ نواز شریف اور آصف علی زرداری کی”پارٹنر شپ“ ختم کر کے دم لیں گے۔ تاہم پی ٹی آئی کی ان خوش گمانیوں کے باوجود اسے آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد نواز شریف کے درمیان ملاقات کا نتیجہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے کہ سابق صدر نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ سندھ میں گورنر راج نافذ نہیں ہو گا۔
اسی طرح انہوں نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ پا ک پاک چین اقتصادی راہدری منصوبہ پر کسی کو بلا وجہ اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔
سینیٹ کا 115واں سیشن تاحال جاری ہے قومی اسمبلی سے گیس انفراسٹرکچر ترقیاتی محصول 2014ء منظوری کے بعد سینیٹ میں پیش کیا جائے گا چیئرمین نے بروقت اجلاس شروع کرنے کی ایک اچھی روایت قائم کی ہے جس کو پارلیمانی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے۔
چیئرمین سینیٹ روزانہ کی بنید پر ایوان کا ایجنڈا نمٹانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔4جون 2015ء کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے صدر مملکت ممنون حسین کے خطاب کے بعد قومی اسمبلی کے تیسرے پارلیمانی سال کا ا?غاز ہو جائے گا۔ قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس 5جون 2015ء کو طلب کیا جائے گا جو جون2015ء کے اواخر تک جاری رہے گا ۔عوامی جمہوریہ چین کے صدر شی جن پنگ کے دورہ کے دوران پاکستان اور چین نے پاک چین اقتصادی راہداری ، بجلی گھروں اور شاہراہوں کی تعمیر سے متعلق 46ارب ڈالر کے منصوبوں پر دستخط کر کے اپنے وطن جا چکے ہیں لیکن ان منصوبوں کے خلاف جہاں پاکستان کے پڑوسی ممالک سے اس کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں وہاں پاکستان کے اندر بھی بعض سیاسی قوتیں اسے متنازعہ بنانے کیلئے سرگرم عمل ہو گئی ہیں۔
بھارت میں ”را“ نے پاک چین راہداری منصوبہ کو ناکام بنانے کے لئے اربوں ڈالرز کے فنڈز مختص کر دئیے ہیں۔ بیشتر جماعتوں کے پاس جب کوئی سیاسی نعرہ نہیں رہا لہٰذا اب وہ ایک نئے نعرے کے ساتھ سیاست میں زندہ رہنا چاہتی ہیں۔ وہ اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل میں پاکستان کی اقتصادیات میں انقلاب برپا کرنے والے منصوبہ کو متنازعہ بنا نے پر تلی ہوئی ہیں تاحال پاک چین اقتصادی راہداری کے روٹ پر پارلیمنٹ میں بھی تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے وزیر اعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی بریفنگ دی گئی لیکن ایسا دکھائی دیتا تھا کہ بعض علاقائی اور قوم پرست جماعتوں نے اس منصوبہ کو ہر حال میں متنازعہ بنانے کا پروگرام بنا رکھا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے حکومت اور اپوزیشن میں شامل جماعتوں کے قائدین کو اپنی رہائش گاہ پر مدعو کیا جس میں طے پایا کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کی موجودگی میں پارلیمانی سیاسی جماعتوں کے قائدین کو وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات پروفیسر احسن اقبال از سر نو بریفنگ دیں گے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات پروفیسر احسن اقبال نے پونے دوگھنٹے کی طویل بریفنگ میں پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبہ کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور روٹ سے متعلق بعض سیاسی قائدین کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کے جواب بھی دئیے انہیں بھرپور تیاری کے ساتھ بریفنگ دینے پر وزیر اعظم محمد نواز شریف نے ”شاباش“ بھی دی لیکن جن سیاسی رہنماؤں کی ”سوئی“ پہلے نقطے پر اٹکی ہوئی ہے بریفنگ کے باوجود وہیں اٹکی چلی آ رہی ہے۔
پروفیسر احسن اقبال تا حال پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبہ پر ان کے تحفظات کو دور نہیں کر سکے پاک چین اقتصادی راہداری کے روٹ کے خلا ف دھرنا دینے والے وزیراعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک سیاسی جماعتوں کے اجلاس میں اپنے صوبے کا کیس پیش نہ کرسکے اور خاموش بیٹھے رہے۔ پروفیسر احسن اقبال نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ مغربی روٹ سب سے پہلے مکمل ہو گا اس کے باوجود بعض سیاسی جماعتیں یہ سوال اٹھا رہی ہیں کہ راہداری کوئٹہ ڑوب ڈیرہ اسماعیل خان سے گزرے گی یا نہیں؟ عوامی نیشنل پارٹی جو پختون عوام کا ترجمان ہونے کی دعویدار تھی کالاباغ ڈیم کی تعمیر او ر صوبے کانام خیبر پختونخوا رکھنے کا ایشو ختم ہونے کے بعد اپنے تن مردہ میں ”پاک چین اقتصادی راہداری “ کو متنازعہ بنا کر جان ڈالنا چاہتی ہے۔
اسی وجہ سے ان کا سیاسی جماعتوں کے اجلاس میں رویہ قدرے سخت تھا۔ بہر حال سیاسی حکومت نے پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبہ کو متنازعہ ہونے سے بچانے کے لئے پارلیمنٹ کی جائزہ کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے جو اس کے روٹ کے بارے میں اٹھنے والے سوالات کا جائزہ لے کر حل تلاش کر ے گی۔ اسفند یار ولی خان اور شاہ محمود قریشی نے نے کہا ہے کہ ” سولات جوں کے توں موجود ہیں آج بھی ترجیحی روٹ کے بارے میں نہیں بتایا گیا یہ بھی نہیں بتایا جارہا ہے کہ سرمایہ کاری اور معاہدوں کی شرائط کیا ہونگی۔
تینوں روٹس پر بیک وقت کام شروع ہوگا یاپسماندہ علاقوں کو طویل المدتی منصوبے میں شامل کیا جائے گا“ بعض قوم پرست جماعتیں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ متنازعہ بنا نے کی کو شش کر رہی ہیں اب دیکھنا یہ ہے و فاقی حکومت ان کے عزائم کو ناکام بنے کے لئے کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-22

(0) ووٹ وصول ہوئے