بند کریں
منگل جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
آصف علی زرداری پھربرہم
الیکشن کمیشن اور پیپلز پارٹی کے درمیان ٹھن گئی
شہزاد چغتائی:
بدین کے بلدیاتی انتخابات پیپلز پارٹی اور سابق صوبائی وزیرذوالفقار مرزا کے درمیان شدید ترین اختلافات کاسبب بنے جہاں ذوالفقار مزرا جیت گئے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو انتخابی مہم چلانے خاص طور پر بدین گئے تھے۔لیکن مثبت نتائج نہیں مل سکے۔ آصف زرداری نے بدین کے 22 پولنگ اسٹیشنوں کوتبدیل کرنے پر تحفظات کااظہار کیااور ذوالفقار مرزا کوسیاسی یتیم قرار دیدیا۔
حقیقت یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کوذوالفقار مرزا ارباب غلام رحیم اور جتوئی گروپ کی کامیابی ہضم نہیں ہوئی جس کے بعد پیپلزپارٹی کے دوسرے رہنما بھی شریک چیئرمین کے ہمنوابن گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کاکہنا ہے کہ سندھ کے الیکشن میں ایک جماعت کافائدی پہنچانے کی کوشش ہورہی ہے۔ پیپلزپارٹی نے سندھ کے بلدیاتی انتخابات میں ایک بار پھر میدان مارلیا لیکن پیپلزپارٹی اور الیکشن کمیشن کے درمیان ٹھن گئی اور آصف زرداری الیکشن کمیشن پر برس پڑے کہ الیکشن کمیشن کوکوئی اور چلارہاہے۔
سید خورشید شاہ نے بھی الیکشن کمیشن پر عدم اعتماد کااظہارکردیاہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ الیکشن کمیشن اور پیپلزپارٹی کے درمیان اختلافات پیداہوئے ہیں اور اینٹ سے اینٹ بجادینے کے اعلان کے بہت عرصے کے بعد آصف زرداری طیش میںآ ئے ہیں۔ بدین میں پیپلزپارٹی کی ناکامی کاذمہ دار چاروزراء کوقراردیاگیا ہے جن پر یہ الزام بھی ہے کہ وہ ٹھٹھہ‘ سجاول اور بدین میں بلاول بھٹو کاشاندار استقبال کرانے میں ناکام رہے ہیں لیکن بلاول بھٹو نے سندھ کے طوفانی دورے کرکے پیپلزپارٹی کو14میں سے 13اضلاع میں کامیابی دلادی۔
انہوں نے صوبے میں کامیاب یلغار کرکے پیپلزپارٹی کیلئے نئی راہیں متعین کردی ہیں اور خوابیدگی میں پڑے جیالوں میں نئی جان ڈال دی ہے۔ بلاول نے ان سیاسی تجزیہ نگاروں کوبھی منہ توڑ جواب دیا ہے جویہ دعوے کررہے تھے کہ پیپلزپارٹی ختم ہوگئی اور اس باب بندہوگیاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سندھ پیپلزپارٹی کاگڑھ ہے جہاں پیپلزپارٹی کی پذیرائی کوسیاسی حلقے بہت زیادہ حیران کن قرار نہیں دے رہے۔
بلاول بھٹو کا حقیقی امتحان 2018ء میں ہوگیا۔یہ باتیں بھی ہورہی ہیں کہ بلاول بھٹو پنجاب میں کیوں نہیں نکل رہے؟ اس کاآسان جواب یہ ہے کہ پیپلزپارٹی حکمت عملی کے تحت بلاول بھٹو کوآئندہ الیکشن کے لئے بچاکررکھنا چاہتی ہے۔ آئندہ الیکشن میں جب بلاول بھٹو پورے ملک میں پیپلز پارٹی کاپرچم اٹھا کرنکلیں گے تونتائج بالگل مختلف ہوں گے کیونکہ پیپلزپارٹی کامستقبل ہونہ ہوبلاول بھٹو آئندہ کے رہنما اور حکمران ضرور ہیں۔

11مئی 2013کے انتخابات کی کوکھ سے تحریک انصاف مقبول جماعت کے طور پر اُبھر کرسامنے آئی تھی اور اس نے ملک کی دوسری بڑی جماعت ہونے کادعویٰ کیاتھا لیکن پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے تحریک انصاف کاصفایا کردیا۔ پیپلزپارٹی نے اپنی کھوئی ہوئی سیاسی ساکھ بحال کرلی ہے اور ب اس کی نظریں نئے انتخابات پرہیں۔
روزاگلے الیکشن کی تاریخ دینے والے عمران خان بھی اعتراف کرچکے ہیں کہ الیکشن 2018میں ہوں گے ۔ دو تین سال کی یہ مدت عمران خان کے لئے بہت اہم ہے۔ اس دوران وہ اپنی کھوئی ہوئی عزت ، وقار اور سیاسی ساکھ بحال کرسکتے ہیں اور پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کے مقابلے کی پوزیشن میں آسکتے ہیں لیکن پیپلزپارٹی مسلم لیگ (ن) اور ایم کیوایم کاخاموش اتحاد اور شاندار حکمت عملی عمران خان کی تحریک انصاف کوسانس لینے کاموقع نہیں دے گی۔
تینوں جماعتیں مشترکہ دشمن کے خلاف ایک ہوگئی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے پاس اقتدار کی طاقت بھی موجود ہے۔ عمران خان کے پاس کے پی کے میں اقتدار ہے لیکن وہاں ان کیلئے مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ پاکستان میں پہلی بار سیاسی جماعتوں کواقتدار کی سہولت حاصل ہے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے پاس 2008ء سے صوبائی حکومتیں ہیں جس کے باعث وہ طاقتور سے طاقتور ہورہی ہیں۔
اب اس انتظام میں تحریک انصاف بھی شامل ہوگئی ہے۔ جو جماعتیں سائڈلائن پر بیٹھی ہیں، وہ کمزور ہورہی ہیں جس کی سب سے بڑی مثال جماعت اسلامی اور جمعیت علماء پاکستان (نورانی گروپ) ہیں۔ فنکشنل مسلم لیگ بھی خسارے میں ہے۔ اُدھرحالیہ بلدیاتی انتخابات کے دوران سیاسی جماعتوں کے درمیان کشیدگی میں بہت زیادہ اضافہ ہواہے۔ فنکشنل لیگ کے سربراہ پیرپگارا خیرپورمیں 12افراد کی ہلاکت پر بہت برہم ہیں۔
انہوں نے پیپلزپارٹی پر نکتہ چینی کی اور یہاں تک کہہ دیا کہ وہ چاہیں تو ایک اشارے پرپورا سندھ بندکرادیں۔ پیپلزپارٹی بھی متوقع تشدد اور تصاوم سے خوفزدہ ہے۔ بلاول بھٹو کا نیاہدف کراچی ہے۔ لیکن کراچی میں تصادم اور محاذآرائی کی کیفیت نہیں ہے۔ بلاول بھٹو اعلان کرچکے ہیں کہ کراچی کامیئرجیالا ہوگالیکن اندرکی کہانی یہ ہے کہ کراچی میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں ہی تحریک انصاف سے خوفزدہ ہیں۔
دونوں کوانجانے وسوسے اور خدشات گھیرے ہوئے ہیں۔ دونوں جماعتیں اس بات سے آگاہ ہیں کہ تحریک انصاف جس نے 2013ء میں سات لاکھ ووٹ لئے تھے، کوئی اپ سیٹ نہیں کرسکتی ۔ اس بار تحریک انصاف کے حصے میں نصف ووٹ بھی آئیں گے۔ بعض روپورٹوں کے مطابق پیپلزپارٹی نے یہ مطالبہ کیاہے کہ اگرمئیر کامنصب ایم کیوایم کونہیں دیاجاتا تو پھر کراچی کی دوسری بڑی پارٹی ہونے کے ناطے یہ حق پیپلزپارٹی کاملنا چاہئے۔
تاہم اس درخواست کوقبولیت نہیں ملی ہے۔ اس تناظر میں کراچی کامنظرنامہ واضح نہیں ہے۔ کئی امکانات موجودہیں۔ دونوں جماعتیں متبادل آپشن پر غور کررہی ہیں۔ آنیوالے دنوں میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان مئیر کیلئے مفاہمت ہوسکتی ہے اور دباؤ کی صورت میں پیپلزپارٹی بادل نخواستہ تحریک انصاف کے ساتھ مل سکتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دونون جمارتیں منہ تکتی رہ جائیں۔
بلاول بھٹو کی جانب سے کراچی کامیدان کھلانہ چھوڑنے کے اعلان کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ کراچی میں ایم کوایم کانہیں تحریک انصاف کاراستہ روکنا چاہتے ہیں اور انکی خواہش ہے کہ تحریک انصاف کوسندھ میں پیرپھیلانے کاموقع نہ ملے۔
کراچی کابلدیاتی منظرنامہ بدستور غیر واضح ہے۔ ایم کیوایم کوسیاسی سرگرمیوں کی اجازت مل گئی اور اس لنے بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں بھی شروع کردیں لیکن معاملات بدستور اُلجھے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر فاروق ستارباربار تردید کررہے ہیں کہ ایم کیوایم انتخاب کابائیکاٹ نہیں کرے گی جس پر سیاسی حلقے پریشان ہیں کہ ایم کیوایم کووضاحت کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے۔ ان کاخیال ہے کہ کوئی گڑبڑ ضرور ہے اور بلدیاتی انتخابات کے بائیکاٹ کے امکانات 5دسمبر تک برقرار رہیں گے۔ دریں اثناء مسلم لیگ (ن) کے بعض رہنماؤں کی طرف سے آئی ایس پی آرکی جانب سے گڈگورننس کے بیان کارُخ سندھ کی جانب موڑنے کی کوششوں پر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان بدمزدگی پیدا ہوگئی لیکن سابق صدر کی جانب سے پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کوبیان بازی سے روکدیاگیا جس سے صورتحال بہتر ہوگئی۔
اس سے قبل وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ کے بیان پر سندھ حکومت برہم ہوگئی تھی اور حکومت سندھ نے مئوقف اختیارکیاتھا کہ عبدالقادر بلوچ کو غیر ذمہ دار نہ بیان نہیں دینا چاہئے۔ آئی ایس پی آرکے بیان اور اس پر عبدالقادربلوچ کے اس بیان پر کہ آرمی اور مسلم لیگ (ن) کے تعلقات میں سردمہری نہیں آئی‘ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کے تعلقات میں تناؤ پیداہوا۔
مسلم لیگ (ن) یہ دعوے کرتی رہی ہے کہ عسکری قیادت وفاقی حکومت سے خوش اور حکومت سندھ سے ناراض ہے۔ وفاقی حکومت اور مسلم لیگ (ن) کے حلقے وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کے بیانات پر بھی پریشان ہیں جوآئے دن کوئی سخت بات کہہ دیتے ہیں۔ آصف علی زرداری نے جب اینٹ سے اینٹ بجانے کااعلان کیا تھا مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے پیپلزپارٹی کے سربراہ کوبیانات نہ دینے پر آمادہ کرلیا تھا لیکن اس کے بعد وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ بے باک ہوگئے اور یہاں تک کہ دیاکہ ایف آئی اے اور نیب سندھ پر حملہ آور ہوگئی۔
حکومت سندھ کیلئے اچھی خبر ہے کہ جسٹس غلام سرور کورائی کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیشن سندھ حکومت کو 240 ارب کی کرپشن سے بری الذمہ قراردے چکاہے۔ کمیشن نے کہا ہے کہ کرپشن کے ٹھوس شواہد نہیں ملے۔ یہ صرف الزام تھا جس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ یہ رپورٹ گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کوپیش کردی گئی تھی۔ کمیشن کوکرپشن کے کوئی شواہد نہیں ملے۔
تاریخ اشاعت: 2015-11-28

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان