بند کریں
جمعہ جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اجنبی کون؟ فیصلے کے لئے میدان میں اترنے کا عزم۔۔
جوڈیشل کمیشن کے قیام کے بعد ملکی سیاست میں کچھ ٹھہراؤ آگیا تھا لیکن خواجہ سعد رفیق کے حلقہ این اے125 کا الیکشن کا لعدم قرار دئیے جانے کے بعد ایک بار پھر سیاسی ماحول میں گرما گرمی پیدا ہو گئی ہے
نواز رضا:
جوڈیشل کمیشن کے قیام کے بعد ملکی سیاست میں کچھ ٹھہراؤ آگیا تھا لیکن خواجہ سعد رفیق کے حلقہ این اے125 کا الیکشن کا لعدم قرار دئیے جانے کے بعد ایک بار پھر سیاسی ماحول میں گرما گرمی پیدا ہو گئی ہے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت جو اس وقت” انٹرا پارٹی الیکشن “ میں ہونے والی بے ضابطگیوں کے لئے جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد کی سربراہی میں قائم ہونے والے ٹریبونل کے فیصلے اور کنٹونمنٹ بورڈ ز کے انتخابات میں شکست سے سے پریشان دکھائی دے رہی ہے اسے این اے 125 میں دوبارہ انتخاب کرانے کے فیصلہ نے بظاہر ایسی ”آکسیجن “ فراہم کر دی ہے جسے وہ اپنی اخلاقی برتری اور حق کی فتح قرار دے رہی ہے۔
پوری قوم کی نظریں جب جوڈیشل کمیشن پر لگی ہو ئی ہیں اور کمیشن کو 45روز میں اپنی تحقیقات مکمل کر نے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے اس دوران سیاسی جماعتوں کی جانب سے ثبوت فراہم کرنے میں لیت ولعل سے کام لیا جا رہا ہے۔اس طرز عمل سے اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ جو ڈیشل کمیشن اپنا کام شاید ہی مقررہ ایام میں مکمل کر پائے۔ بہرحال جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ 2013ء کے انتخابات کا تعین کر دے گی اوراس رپورٹ کے مسلم لیگ (ن) یا تحریک انصاف میں سے کسی ایک کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
این اے 125کا الیکشن کالعدم قرار دینے کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے طوفان برپا کر دیا ہے لیکن دوسری طرف اس کے چیئرمین عمران خان این اے 125کے ضمنی انتخاب سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ این اے125کا ضمنی انتخاب نہ کرایا جائے شاید وہ ”متوقع نتائج “ سے آگاہ ہیں وہ انتخاب کالعدم قرار دینے سے حاصل ہونے والی” سیاسی برتری “کو الیکشن لڑے بغیر قائم رکھنا چاہتے ہیں۔

وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کا الیکشن کالعدم قرار دینے کے بعد اسلام آباد میں وزیر اعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ (ن) کا اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم ان کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) میں کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابی نتائج کو پیش نظر رکھتے ہوئے انتخابی معرکہ کا میدان میں میں جواب دینا چاہتی ہے، تا کہ اس بات کا فیصلہ ہو ہی جائے کہ منتخب پارلیمنٹ میں اجنبی کون ہے۔
جہاں تک میری ذاتی اطلاع ہے پاکستان مسلم لیگ(ن) جو” سائنٹفک بنیادوں “پر انتخاب لڑتی ہے وہ خاموشی سے اس حلقہ کا سروے کروا رہی ہے جس کے بعد وہ پوری تیاری کے ساتھ اس انتخابی معرکہ کیلئے میدان میں اتر سکتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان الیکشن ٹربیونل کے فیصلے پر خوشی سے پھولے نہیں سماتے انہوں نے فیصلے کے فوراً بعد اسلام آباد میں زور دار پریس کانفرنس کر ڈالی اور کہا کہ” میں بہت خوش ہوں لوگ دھاندلی کے خلاف سڑکوں پر نکلے اگر وہ 126دن کا دھرنا نہ دیتے تو حکومت 5سال پورے کر جاتی۔

اس دوران جب جہانگیر ترین کے حلقے کا فیصلہ بھی جلد سامنے آنے والا ہے عمران خان اس بات پر بضد ہیں کہ 2015انتخابات کا سال ہے۔ عمران خان سیاسی طور پر بڑے دعوے کرتے ہیں اب وہ خواجہ سعد رفیق کو قومی اسمبلی میں” اجنبی“ قرار دے رہے ہیں اور اس بات پر بضد ہیں جلد وزیراعظم بھی قومی اسمبلی میں اجنبی ہو جائیں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ الیکشن ٹربیونل کے فیصلے میں کہیں نہیں کہا گیا کہ خواجہ سعد رفیق نے دھاندلی کی ہے این اے 125 میں ہم پر دھاندلی کے الزامات لگائے گئے لیکن ثابت نہیں کئے گئے ، این اے 125 میں انتخابات سے چند گھنٹے قبل 50 سے زائد ریٹرننگ افسران پی ٹی آئی کے کہنے پر تبدیل کئے گئے ،پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما ء خواجہ سعد رفیق جو ہر وقت پاکستان تحریک انصاف پر برستے رہتے ہیں کا کہنا ہے کہ ”لندن پلان اور دھرنا سیاست کا سانپ ابھی مرا نہیں اور ہم اس بات سے خبردار ہیں ٹاسک دینے والے چلے گئے لیکن ایسٹیبلشمنٹ کے ”بچے جمورے “کو جمہوری اور انتخابی عمل پر سوالیہ نشان لگانے اور لوگوں میں بے یقینی پھیلانے کا جو ٹاسک ملا تھا وہ آج تک اس پر عمل پیرا ہیں۔

قومی اسمبلی کا21 واں سیشن غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہو گیا جب کہ اگلا سیشن بلانے کا ابھی امکان نظر نہیں آتا قومی اسمبلی کا تیسرا پارلیمانی سال شروع ہونے سے ماہ رواں کے اواخر یا جون کے اوائل میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے گا جس سے صدر مملکت ممنون حسین خطاب کرکے اس کا رسمی طور پر آغاز کریں گے۔ سینیٹ کا 115واں سیشن بھی شروع ہو چکا ہے یہ اجلاس 17مئی تک جاری رہے گا۔
ان دنوں دونوں ایوان حاضری کے اعتبار سے مایوس کن تاثر رکھتے ہیں۔ جس کے باعث اکثر کورم کا مسئلہ رہتا ہے قومی اسمبلی میں تو اس مسئلہ پر بار بار شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ سینیٹ میں ہیئت ترکیبی تبدیل ہو جانے کے بعد حکومتی بنچوں پر تعداد بہتر ہونے سے کورم کا مسئلہ درپیش نہیں تاہم دونوں ایوانوں میں وزراء کی عدم موجودگی حکومت کے لئے مسائل پیدا کر رہی ہے۔
اس کی بنیادی وجہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کادونوں ایوانوں میں کم کم جاناہے جس کے بعد حکومتی ارکان بھی ایوان کی کارروائی میں کم دلچسپی لیتے ہیں، اب تو پاکستان تحریک انصاف بھی قومی اسمبلی میں واپس آگئی ہے قو می اسمبلی میں اس کے ارکان ”ہارڈ لائن “ اختیار کر کے حکومت کے لئے پریشان کن صورت حال پیدا کرنے کی کو شش کرتے رہتے ہیں ۔
ایک طرف پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان اپنے آپ کو ”حقیقی “ اپوزیشن “ثابت کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹ میں اکثریت رکھنے والی جماعت ہی کو اجنبی ثابت کرنے کی رٹ لگائے ہوئے ہے۔ اس دوران پارلیمنٹ سے اہم خبر یہ ہے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان بوجوہ دو اڑھائی ماہ سے سیاسی منظر پر نظر نہیں آرہے تھے بھی پارلیمنٹ کی سرگرمیوں میں بھر پور حصہ لے رہے ہیں۔
انہوں نے ایوان بالا کا غیر ”اعلانیہ بائیکاٹ “ کر رکھا تھا ایوان بالا کی کارروائی میں حصہ لینے لگے ہیں۔ اگرچہ وزیر اعظم محمد نواز شریف اور وفاقی وزیرداخلہ کے درمیان ” فاصلے “ ختم ہونے کی کوئی مصدقہ اطلاع موصول نہیں ہو ئی لیکن دونوں اطراف ”برف پگھل“ رہی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے وسائل کی کمی کے باوجود اپنی وزارت کو اس حد تک متحرک کر دیا ہے کہ وہ گڈ گورنس قائم کرنے میں اپنا بھر پور کردار ادا کر ہی ہے وسائل فراہم نہ کئے جانے کی وجہ سے ابھی نیکٹا کو فعال نہیں کیا جاسکا ، تاہم وفاقی وزیر داخلہ سیکیورٹی کے دیگر اداروں کی مدد سے اپنے تحت فورسز کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے تربیت دلوا رہے ہیں۔
چوہدری نثار علی خان جو پارٹی امور پر کبھی پبلک میں بات نہیں کرتے ان کے بارے میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں افسانے گھڑے جا تے رہے ہیں یہی وجہ ہے انہوں نے ان خبروں کا نوٹس لیا ہے اور نہ ہی وہ کوئی جواب دینے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف جو پاکستان مسلم لیگ (ن) یکساں سوچ رکھتے ہیں دونوں پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان بڑھتے ہوئے ”رومانس“ کے خلاف انہیں خواجہ سعد رفیق ، مشاہد اللہ اور احسن اقبال کی حمایت حاصل ہے چوہدری نثار علی خان وزیر اعظم محمد نواز شریف کے” اوپننگ بیٹسمین “ کی حیثیت سے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کو ایک آنکھ نہیں بھاتے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کسی دباؤ کے تحت پاکستان پیپلز پارٹی کے قائدین کے خلاف پانچ” میگا سکینڈل“ کی تحقیقات بند کرنے کے لئے تیار نہیں شنید ہے وزیر اعظم محمد نواز شریف تمام تر” فاصلوں “کے باجود چوہدری نثار علی خان کی غیر معمولی صلاحیتوں سے استفادہ کر نا چاہتے ہیں۔
شنید ہے وہ ”ڈپٹی پرائم منسٹر“ کا منصب تخلق کرنے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں ماضی میں بھی چوہدری نثار علی خان وفاقی وزیر کے علاوہ وزیر اعظم کے خصوصی معاون کی حیثیت سے کار سرکار نمٹانے میں ان کی معاونت کرتے رہے ہیں۔ آئین میں ”ڈپٹی پرائم منسٹر “ کے منصب کی گنجائش نہیں لیکن یہ منصب اسی طرح تخلیق کیا جاسکتا ہے جس طرح پاکستان پیپلز پارٹی نے چوہدری پرویز الہیٰ کو قواعد و ضوابط میں ترمیم کرکے ڈپٹی پرائم منسٹر بنایا گیا تھا۔ سوال یہ ہے کیا چوہدری نثار علی خان یہ منصب قبول کریں گے بھی یا نہیں ؟چوہدری نثار علی خان اس قدر گہرے آدمی ہیں کہ وہ اپنے دل کی بات بھی کسی کو نہیں بتاتے لہذا اس سوال کا کسی کے پاس جواب نہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-08

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان