بند کریں
منگل جنوری

مزید سیاسی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
30 ارکان پنجاب اسمبلی کے استعفوں کا معاملہ ایوان کے سپرد
لاہور ہائی کورٹ نے کنٹونمنٹس بورڈ کے بلدیاتی الیکشن جماعتی بنیادوں پر کروانے کا حکم دیا ہے اگر کسی اپیل کے نتیجے میں سپریم کورٹ اس کے برعکس غیر جماعتی الیکشن کروانے کا حکم بھی دے دے
فرخ سعید خواجہ
مرکز اور پنجاب میں حکمران جماعت مسلم لیگ ن اور خیبر پختونخواہ کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے درمیان الیکشن 2013ء میں جو انتخابی معرکہ ہوا تھا اس کے نتائج کو تسلیم کرنے کے باوجود پاکستان تحریک انصاف نے دھاندلی تسلیم نہ کرنے کا نعرہ لگا کر احتجاجی تحریک شروع کی۔ مارچ، دھرنا، جلسے سب کچھ ہوتا رہا اور اس دوران تحریک انصاف کے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی ماسوائے خیبرپختونخواہ اسمبلی نے اسمبلیوں کی رکنیت سے استعفے دے دیئے۔
تاہم سیاسی ماحول کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے سپیکر حضرات نے استعفوں کی منظوری کے عمل کو زیر التواء رکھا۔ پشاور کے آرمی پبلک سکول میں قیامت آنے کے بعد ملک کی سیاست نے کروٹ لی اور سیاسی ماحول کی گرمی کم ہونے لگی۔ قوم نے شکر ادا کیا کہ ملک کی تمام اہم جماعتیں جو مرکز اور صوبوں میں کسی نہ کسی شکل میں حکومت کا حصہ ہیں اب آپس میں صحت مند مقابلہ کرتے ہوئے عوام کی خدمت کریں گی اور ملک اور اپنے صوبے کے مسائل حل کرنے کی طرف توجہ دیں گی۔

ملک بھر میں موجود کنٹونمنٹس بورڈ میں بلدیاتی الیکشن کروانے کے عدالتی فیصلے کے بعد لاہور کے دو کنٹونمنٹس بورڈ ”کینٹ کنٹونمنٹ بورڈ“ اور ”والٹن کنٹونمنٹ بورڈ“ سمیت ملک بھر کے 42 کنٹونمنٹس بورڈ کے لئے 25 اپریل کو بلدیاتی انتخاب کروانے کا الیکشن شیڈول الیکشن کمیشن کی طرف سے سامنے آ چکا ہے۔ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کی حد تک دونوں کنٹونمنٹس بورڈ کے 20 وارڈوں میں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے امیدوار ہی سامنے آئے ہیں چند ایک آزاد امیدوار ہیں جبکہ دیگر جماعتوں کا خال خال امیدوار بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے کنٹونمنٹس بورڈ کے بلدیاتی الیکشن جماعتی بنیادوں پر کروانے کا حکم دیا ہے اگر کسی اپیل کے نتیجے میں سپریم کورٹ اس کے برعکس غیر جماعتی الیکشن کروانے کا حکم بھی دے دے تو بھی سیاست جماعتوں سے وابستہ موجودہ امیدوار ہی الیکشن لڑیں گے جو کہ الیکشن لڑنے کے لئے کاغذات سے نامزدگی داخل کروانے کی آخری تاریخ 31 مارچ تک کاغذات نامزدگی داخل کروا چکے ہیں۔
ان بلدیاتی انتخابات کے باعث سیاسی ماحول میں کسی قدر گرما گرمی دیکھنے میں آئی ہے لیکن اس سے بڑا دھماکہ 27 مارچ سے جاری پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ہوا جب 31 مارچ کو پنجاب اسمبلی کے قائم مقام سپیکر سردار شیر علی خان گورچانی نے پنجاب اسمبلی کے قواعد و ضوابط کار کے قاعدہ 36 سب رول ون کے تحت تحریک انصاف کے 30 ممبران اسمبلی کے 40 روز سے زیادہ عرصے تک مسلسل غیر حاضر رہنے کا معاملہ ایوان کے سامنے پیش کر دیا۔
یہ وہی 30 ممبران اسمبلی ہیں جنہوں نے پچھلے برس 27 اگست کو تحریک انصاف کے مرکزی نائب صدر اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید کی قیادت میں اپنے استعفے اسمبلی سیکرٹریٹ میں سیکرٹری پنجاب اسمبلی رائے ممتاز حسین بابر کے پاس جمع کروائے تھے سیکرٹری اسمبلی نے یہ استعفے کارروائی کے لئے سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال خاں کے حوالے کر دیئے تھے۔
سپیکر رانا محمد اقبال خان جو آج کل قائم مقام گورنر پنجاب کے عہدہ جلیلہ پر فائز ہیں ان کی جانب سے تحریک انصاف کے ممبران کے استعفوں کی منظوری کا عمل زیر التواء رکھا گیا۔
قائم مقام سپیکر سردار شیر علی گورچانی کا اچانک قواعد و ضوابط کار پنجاب اسمبلی کے قاعدہ 36 سب رول ون کے تحت کہ اگر کوئی ممبر چھٹی لئے بغیر مسلسل 40 روز تک غیر حاضر رہے تو اس کی نشست خالی قرار دی جا سکتی ہے قائم مقام سپیکر صاحب کا اس قاعدے کو استعمال میں لانا سیاسی حلقوں میں دھماکے کا باعث بنا ہے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مسلم لیگ ن نے بھی جیسے کو تیسا کی سیاست کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے حالانکہ ہماری اپنی اطلاع ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف افہام و تفہیم کی سیاسی پالیسی پر گامزن رہنے کے خواہاں ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کنٹونمنٹس بورڈ کے بلدیاتی الیکشن کے بعد ستمبر میں ہونے والے پنجاب بھر میں بلدیاتی الیکشن کے علاوہ ستمبر میں ہونے والے پنجاب بھر میں بلدیاتی الیکشن کا سیاسی ماحول بنانا مقصود ہے یا سپیکر صاحب نے ہلکی پھلکی موسیقی لگائی ہے۔

سپیکر پنجاب اسمبلی کے معاملہ ایوان کے نوٹس میں لانے کے بعد پنجاب اسمبلی کے قواعد و ضوابط کار کے مطابق اسمبلی کاکوئی بھی ممبر ایوان میں یہ تحریک لا سکتا ہے کہ چالیس روز سے مسلسل غیر حاضر شخص یا اشخاص کی رکنیت ختم کی جائے۔ کسی ممبر کی طرف سے یہ تحریک آنے کے بعد سپیکر سات دن میں اس تحریک پر ایوان میں ووٹنگ کروانے کے پابند ہوں گے۔
قواعد کے مطابق یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مسلسل غیر حاضر رہنے والے شخص یا اشخاص کے خلاف تحریک لانے کا متحرک ممبر اس بات کا تقاضا کرے کہ معاملہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے سو قواعدو ضوابط کار معطل کر کے اسے فوری طور پر ایوان میں پیش کیا جائے۔ ایسا ہو یا سات دن میں سپیکر ایوان میں لائیں اس پر سپیکر اکثریتی رائے کے مطابق ایسے غیر حاضر شخص یا اشخاص کی ممبر شپ کی معطلی یا رکنیت ختم کرنے کا فیصلہ کرے گا اور ڈی نوٹیفائی کرنے کے لئے معاملہ الیکشن کمیشن کو بھجوا دے گا۔

اب ہم لاہور میں کنٹونمنٹس بورڈ کے بلدیاتی الیکشن کی طرف آتے ہیں کہ یہاں کے دونوں کنٹونمنٹ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 125 میں آتے ہیں۔ این اے 125 سے وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے تھے جب کہ ان کے قریبی حریف تحریک انصاف کے امیدوار حامد خان تھے۔ حامد خان انتخابی ٹربیونل میں اپیل کئے ہوئے ہیں۔ تاہم کینٹ کنٹونمنٹ بورڈ کی دس وارڈوں اور والٹن کنٹونمنٹ کی دس وارڈوں کے لئے امیدواروں کے فیصلے میں مسلم لیگ ن کی طرف سے مرکزی کردار خواجہ سعد رفیق نے ادا کیا ہے جبکہ تحریک انصاف کی طرف سے ان کے صدر لاہور عبدالعلیم خان چھائے ہوئے ہیں۔
ٹکٹیں بانٹنے میں ان کی اصل معاونت شعیب صدیقی اور حافظ فرحت عباس نے کی ہے۔ مسلم لیگ ن کی طرف سے یوں تو بہت سے سیاسی کارکن امیدوار ہیں لیکن مسلم لیگ ن لیبر ونگ پنجاب کے سینئر نائب صدر اور آواری ہوٹل ایمپلائی یونین سی بی اے کے صدر چودھری محمد سجاد اور سینئر مسلم لیگی کارکن قاری محمد حنیف نمایاں ترین ہیں۔ تحریک انصاف نے اپنے کچھ نوجوانوں کو بھی امیدوار بنایا ہے تاہم انہوں نے خواجہ سعد رفیق اور ہمایوں اختر خان کے بہت سے مسلم لیگی ساتھیوں سے بھی استفادہ کیا ہے۔ ہماری رائے میں ان دونوں کنٹونمنٹس بورڈ میں بلدیاتی الیکشن خاصے دلچسپ رہیں گے۔
تاریخ اشاعت: 2015-04-04

(0) ووٹ وصول ہوئے