بند کریں
منگل فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
زرداری کی کالی رات کب ختم ہو گی؟
بقول ان کے” ناانصافی “کی یہ” کالی رات “جلد ختم ہونے والی ہے۔ معلوم نہیں آصف علی زرداری کی یہ ”کالی رات“ کب ختم ہو گی ؟ سر دست کچھ کہنا قبل از وقت ہے
نواز رضا:
وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بر طانیہ کا ایک ہفتے کا دورہ مکمل کر لیا ہے ان کے دورہ برطانیہ کو اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کہ انہوں نے بر طا نوی قیادت سے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی تقاریر ، ڈاکٹر عمران فاروق کے مقدمہ قتل میں ملزماں کی حوالگی اور پاکستان کے اندرونی معاملات میں ”را“ کی مداخلت پر بات چیت کر کے اپنے موقف کو تسلیم کرا لیا جب سے انہوں نے وزارت داخلہ کا قلمدان سنبھالا ہے امریکہ کے بعد یہ ان کا دوسرا غیر ملکی دورہ تھا۔
ان یہ دورہ برطانیہ انتہائی کامیاب رہا ہے جس میں انہوں نے برطانوی قیادت کو اپنے نکتہ نظر پر قائل کر کے اہم اہداف حاصل کئے ہیں۔ اس دوران جہاں انہوں نے اپنے دورہ برطانیہ کے دوران اعلیٰ برطانوی قیادت سے ملاقاتیں کر کے دہشت گردی کے خلاف انہیں حکومت پاکستان کے اقدامات سے آگاہ کیا وہاں اسے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی سیاسی سرگرمیوں ، ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے مقدمہ قتل میں ملوث ملزماں کی حوالگی کے بدلے میں پاکستان کو مطلوب افراد کو پاکستان کے حوالے کرنے ،منی لانڈرنگ کیس اور پاکستان کے اندرونی معاملات میں بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را“ کی مداخلت کے بارے میں بھی حکومت پاکستان کے موقف سے آگاہ کیا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے برطانوی وزیرِداخلہ تھریسامے ، قومی سلامتی کے مشیر کم ڈارک اور وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ ن سے دو طرفہ دلچسپی کے امور ، خطے کی صورت حال، کشمیر پر برطانیہ کے نا مکمل ایجنڈے کی تکمیل اور پاکستان کی قومی سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے برطانوی قیادت کو بھارت کی ریشہ دوانیوں اور مذاکرات کے عمل کو سبوتاڑ کرنے سے پیدا ہونے والی صورت حال سے بھی آگاہ کیا۔
انہوں نے برطانوی قیادت پر واضح کر دیا مسئلہ کشمیر کے حل بغیر خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا ”کور ایشو“ کو مذاکرات کے ایجنڈے کا حصہ بنائے بغیر ڈائیلاگ کا عمل آگے نہیں بڑھ سکتا چوہدری نثار علی خان کو برطانوی قیادت کی طرف سے غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ وفاقی وز یرداخلہ سب سے پہلے برطانوی ہم منصب تھریسامے سے ملاقات کی۔
جس میں پاک برطانیہ تعلقات سیکیورٹی کے شعبے میں جاری دو طرفہ تعاون ، دہشت گردی کے خلاف جنگ، برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی خدمات و کردار اور دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کو مزید فروغ دینے کیلئے مستقبل کے لائحہ عمل پر بات چیت ہوئی دونوں وزرائے داخلہ نے سٹریٹیجک ڈائیلاگ کے تحت جاری تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ چوہدری نثار علی خان نے بین الاقوامی برادری برادری پر ” اسلام فوبیا “کا پرچار کرنے اور مسلمانوں کے مذہبی اقدار و جذبات کا تمسخر اڑانے والے عناصر کی حوصلہ شکنی پر زور دیا۔
ملاقات میں مفرور ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور پاکستان اور برطانیہ کے مابین سزایافتہ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر بھی سود مند بات چیت ہوئی ہے وفاقی وزیرداخلہ نے واضح کیا کہ دہشت گردی کو اسلام سے منسلک کیا جائے اور نہ ہی مدارس پرشدت پسندی کی تعلیم کا الزام عائد کیا جائے۔ شدت پسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلمانوں کو اس مسئلہ کی وجہ نہیں بلکہ اس مسئلہ کے حل کا حصہ سمجھا جائے۔

پیپلز پارٹی کے رہنماؤں قاسم ضیا اور رخسانہ بنگش کے بیٹے شوکت اللہ بنگش کی گرفتاری کے بعد حالیہ دنوں میں ریاستی اداروں کی جانب سے ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری پر پیپلز پارٹی کی جانب سے شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے۔پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی گرفتاری کیا ہوئی قیامت برپا ہو گئی اور عہد رفتہ کی طرح پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے آسمان سر پر اٹھا لیا ہے۔
ان گرفتاریوں کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت نے نوز شریف حکومت کو سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں سب سے پہلے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا رد عمل سامنے آیا ہے کہ اگر آصف زرداری پر ہاتھ ڈالا گیا تو یہ پیپلز پارٹی کے ساتھ جنگ کے مترادف ہو گا۔ جب کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف اپنی ”صفائی “ پیش کرنے کے لئے لیفٹننٹ جنرل (ر)عبدالقادر بلوچ کووزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے پاس بھجوا دیا ہے اور اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ آصف علی زرداری کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے جنرل عبد القادر بلوچ پیپلز پارٹی کی قیادت کو ”گرفتاریوں “کے معاملہ پر مطمئن نہیں کر سکے۔
جس کے باعث پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی ہے آصف علی زرداری نے مسلم لیگ(ن) کی حکومت کے خلاف ”اعلان جنگ“ کر دیا ہے مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے پیپلز پارٹی کے خلاف کوئی ”پوزیشن “لینے کی بجائے ”پسپائی “ اختیار کر لی ہے اور سیاسی محاذ پر ”گرما گرمی“ پیدا کرنے کی بجائے ’ ’وضاحتیں“ شروع کر دی ہیں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے بھی ہنگامی پریس کانفرنس کر کے کہا ہے آصف علی زرداری کو کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے۔
پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف 1990 کی دہائی کی سیاست دہرا رہے ہیں ہم نے 2013 کے عام انتخابات کو جمہوریت کی خاطر تسلیم کیا حالانکہ وہ آراوزکے انتخابات تھے۔ حال ہی میں الیکشن ٹربیونلز کے فیصلوں سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ مسلم لیگ(ن) کو انتخابات جیتنے کے لئے باہر سے مدد مل رہی تھی۔
قاسم ضیاء اور رخسانہ بنگش کے صاحبزادے کو گرفتار کیا گیا اور اب ڈاکٹر عاصم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہیں گرفتار کرنے کے فوراً بعد سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور مخدوم امین فہیم جو بیمار ہیں ان کو گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دئیے ہیں۔ بقول ان کے” ناانصافی “کی یہ” کالی رات “جلد ختم ہونے والی ہے۔ معلوم نہیں آصف علی زرداری کی یہ ”کالی رات“ کب ختم ہو گی ؟ سر دست کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔
بہر حال قرائن یہ بتاتے ہیں آنے والے دنوں میں پیپلز پارٹی کو ”گرم پانیوں“ سے گذرنا پڑے گا۔
گذشتہ ہفتے این اے125-کے بعد این اے 122 اور 154 میں مسلم لیگ (ن) کی تیسری وکٹ اڑی تو پورے ملک میں شور مچ برپا ہو گیا۔ عمران خان الیکشن ٹریبونلز کے فیصلوں کو اپنے موقف کی صداقت سے تعبیر کرنے لگے۔ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ سے اسے جو سیاسی نقصان پہنچا تھا ٹریبونلز کے فیصلوں سے اس کا بڑی حد تک ازالہ ہو گیا۔
لیکن وزیر اعظم محمد نواز شریف نے قازقستان سے واپسی کے اگلے روز ہی مسلم لیگ(ن) کا اعلیٰ سظح کا اجلاس طلب کر کے الیکشن ٹربیونلوں کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کرنے کی بجائے ”عوام کی عدالت“ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ این اے 125کے بارے میں اب خواجہ سعد رفیق بھی جلد فیصلہ کریں گے۔ تحر یک انصاف کے دو ارکان الیکشن ٹریبونلز کے فیصلوں کے خلاف عدالت عظمیٰ سے حکم امتناعی حاصل کر کے پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے ہیں۔
تاہم مسلم لیگی ارکان ریکارڈ کی درستگی کے لئے عدالت عظیٰ میں جائیں گے جس میں الیکشن ٹریبیونلز کے فیصلوں کے خلاف ”حکم امتناعی“ کی استدعا نہیں کی جائے گی۔ دوسری طرف عمران خان نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ارکان کے خلاف ”اعلان جنگ“ کر رکھا ہے الیکشن کمیشن کے ارکان کے مستعفی نہ ہونے کی صورت میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے دھرنا دینے کی کا ل بھی دی ہے اور کارکنوں کو 4 اکتوبر2015ء کو الیکشن کمیشن پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔
ایسا دکھائی دیتا ہے عمران خان کو ضمنی انتخاب لڑنے سے زیادہ پچھلے سوا دو سال کے دوران محض الزامات اور دھمکیوں سے دلچسپی رہی ہے۔ جوں ہی این اے 122- کا انتخاب کالعدم قرار دیا گیا عمران خان نے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے سردار ایاز صادق کا مقابلہ کرنے کا چیلنج قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اب وہ وزیر اعظم نواز شریف کو” انتخابی اکھاڑے“ میں اترنے کاچیلنج دے ر ہے ہیں۔ جس پر مسلم لیگ(ن) کی قیادت نے ان پر انتخاب سے فرار کی پھبتی کستے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف مسلم لیگ (ن) کے ہاتھوں مسلسل6 ضمنی انتخابات میں شکست کھا چکی ہے اس لئے اس کے قائد انتخابی معرکہ میں اترنے سے گریز کر رہے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-09-04

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان