بند کریں
جمعرات جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ضربِ عضب
نقل مکانی کرنے والے محب وطن پاکستانی ہماری مدد کے منتظر ہیں۔۔۔۔ آئی ڈی پیز اس وقت بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ فوجی آپریشن کے ساتھ ہی ٹرانسپورٹ کے کرائے آسمانوں سے باتیں کرنے لگے ہیں
مصنف : سید بدر سعید
آپریشن ضرب عضب کی کامیابی اپنی جگہ لیکن اس کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے سے محب وطن پاکستانیوں کے مسائل سے بھی نظریں نہیں چرائی جا سکتیں۔ اس وقت لاکھوں لوگ متاثرہ علاقوں سے ہجرت کر رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اُن کی مدد کرنے اور انہیں سہولیات فراہم کرنے کے اعلانات کیے گئے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ سہولیات ناکافی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سلسلے میں ہنگامی بنیادوں پر مزید اقدامات کیے جائیں۔

آپریشن ضرب عضب پاک فوج کے جوانوں کو جرأت اور قربانیوں کی داستانیں تاریخ میں رقم کرتا چلا جا رہا ہے۔ اس بار بھر پور منصوبہ بندی کے بعد آپریشن شروع کیا گیا اور شمالی وزیرستان کو عملاََ باقی علاقوں سے کاٹ دیا گیا ہے۔ فوج نے سب سے پہلے داخلی راستوں کوسیل کیا تھا تاکہ شدت پسند یہاں سے فرار نہ ہو سکیں۔ دوسر ی جانب افغان حکام کو بھی پاک فوج سرحد سیل کرنے کا کہا گیا تھا جس کی یقین دہانی بھی کرائی گئی لیکن عملی طور پر افغان حکام کی جانب سے یہ عدہ مکمل طور پر پورا نہیں کیا گیا۔
فوج نے اس آپریشن میں فضائی نگرانی اور حملوں کو بھی یقینی بنایا اور شدت پسندوں کی اسلحہ ساز فیکٹری، گودام اور مواصلات کا نظام تباہ کر دیا ۔ ابتدائی مرحلے میں فوج کاپلان شدت پسندوں کی طاقت کو توڑنا اور اُن کے رابطوں کو محدود کرنا تھا ۔ اس مقصد کیلئے حکومت نے افغانستان سے جاری ہونے والی موبائل فون کی سمیں بھی بند کروا دی ہیں۔
فوجی کار روائی کا جائزہ لیا جائے تو اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ پاک فوج ایک کامیا ب آپریشن کر رہی ہے اور جلد ہی شمالی وزیرستان سے عسکریت پسندوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔
پاک فوج کافی حد تک مکمل کامیابی کے نزدیک پہنچ چکی ہے۔ پاک فوج کے جوان جانوں کے نذرانے بھی پیش کر رہے ہیں اور عسکریت پسندوں پر کاری ضرب بھی لگا رہے ہیں لیکن دوسری جانب ایسے مسائل بھی درپیش ہیں جن کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرنا بہت ضروری ہے۔ ان میں سب سے بڑا مسئلہ مقامی آبادی کا ہے ۔شمالی وزیرستان کے رہائشی محب وطن پاکستانی ہیں ۔ اس علاقے میں فوج آپریشن شروع ہونے کے بعد یہ مقامی خاندان سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
انہیں آئی ڈی پیز یعنی انٹرنل ڈسپلیس پر سنز بھی کہاجاتا ہے۔
اچانک شروع ہونے والے آپریشن اور کرفیو کے اعلان کے بعد یہ لوگ اپنے اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے تھے۔ اس بار فوج اور حکومت نے شدت پسندوں کا راستہ روکنے کیلئے ہر قسم کی نقل مکانی روک دی اور ایک خاص لائحہ عمل کے تحت اعلان کردہ دنوں میں رجسٹریشن کروا کر ہی علاقہ چھوڑنے کی اجازت دی ۔
اس سے جہاں شدت پسندوں کے فرار کا رستہ رُکا رہیں مقامی آبادی کے انخلا م میں بھی مشکلات بڑھ گئیں۔
آئی ڈی پیز اس وقت بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ فوجی آپریشن کے ساتھ ہی ٹرانسپورٹ کے کرائے آسمانوں سے باتیں کرنے لگے ہیں جس کی وجہ سے آبادی کا بیشتر حصہ 18 سے 20 گھنٹے پیدل سفر کر کے مخصوص مقامات تک پہنچ رہا ہے ۔ یہ سفر اس قدر مشکل ہے کہ اس دوران کئی بچے سختیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو چکے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق صرف بنوں میں ہی 10 لاکھ سے زائد لو گ رہتے ہیں جبکہ آپریشن کے نتیجے میں ہجرت کرنے والوں کی تعداد ساڑھے پانچ لاکھ سے بھ تجاوز کر چکی ہے۔ ان میں42 فیصدبچے ہیں جبکہ خواتیں اور بزرگوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔ شمالی وزیرستان کے لوگ اپنی جانیں بچانے اور محفوظ علاقوں تک پہنچنے کیلئے اپنے مویشی آدھی سے بھی کم قیمت پر فروخت کر رہے ہیں۔
ان میں سے بعص افراد ایسے ہیں جن کے عزیز پاکستان کے کسی نہ کسی علاقے میں موجود ہیں۔ یہ خاندان اپنے عزیزوں کے پاس پناہ لینے جا رہے ہیں لیکن سندھ اور پنجاب نے دہشت گردی کے خطرے میں پیش نظر اپنے داخلی راستوں پر مزید سختی کر دی ہے۔ ان بڑے صوبوں میں داخلے سے قبل حکام کی تسلی ضروری ہے۔ سکیورٹی کے نقطہ نظر سے یہ فیصلہ درست ہے کہ شدت پسند مہاجرین کے روپ میں شہروں میں داخل نہ ہو سکیں لیکن اس سے آئی ڈی پیز کیلئے مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔
دوسری جانب سینکڑوں ایسے خاندان بھی ہیں جا کا کوئی عزیز پاکستان کے دیگر علاقوں میں نہیں رہتا ۔ یہ خاندان انتہائی پریشانی کا شکار ہیں۔
حکومت کی جانب سے آئی ڈی پیز کیلئے کیمپ لگائے گئے ہیں جہاں ان کی عارضی رہائش سمیت دیگر انتظامات کئے گئے ہیں۔ یہاں آنے والوں کو رجسٹریشن کے بعد دو ماہ کا راشن بھی دیا جا رہاہے لیکن اگر ہم نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے سماجی اور علاقائی پس منظر کو دیکھیں تو اُن کے لئے یہ کیمپ قابل قبول نہیں ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ سرکاری کیمپوں کا رُخ کرنے والوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔ ان کیمپوں میں مناسب سہولیات کافقدان ہے اور بجلی و پانی کا انتظام بھی ناقص ہے۔ اسی طرح قبائلی پس منظر سے آگہی رکھنے والے جانتے ہوں گے کہ اُن کہ ہاں خواتین کے پردے کا اہتمام کیا جاتا ہے لیکن کیمپوں میں اس حوالے سے کوتاہی کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ فوجی آپریشن سے قبل ہی شمالی وزیرستان کے گُل بہادر گروپ کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ متوقع آپریشن کے خطرے کی وجہ سے جو لوگ ہجرت کرنا چاہیں وہ احتیاطاََ پاک افغان سرحدی علاقوں کی جانب نقل مکانی کریں اور سرکاری کیمپوں کا رُخ نہ کریں ۔
حکومت کی جانب سے سرکاری کیمپوں کی سکیورٹی کا خاطر خواہ انتظام کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود یہاں آنے والوں کو تعداد نقل مکانی کرنے والوں کی نسبت بہت کم ہے۔ حکومت ایک بھر پور لائحہ عمل کے تحت اس آپریشن کو تکمیل تک پہنچا رہی ہے۔ اسلئے آئی ڈی پیز کے لئے تین مقامات متعین کیے گئے ہیں جن میں بنوں سپورٹس کمپلیکس ، بوری والا کا اعلاقہ اور مخاخیل کا علاقہ شامل ہیں۔
آئی ڈی پیز کو یہاں پہنچنا ہوتا ہے لیکن ٹرانسپورٹ کی کمیابی اور دیگر مسائل کی وجہ سے ان مقامات تک آنا بھی جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے۔ ضرورت اس اَمر کی ہے کہ ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیاجائے اور ایسے انتظامات کئے جائیں جو اُن کے علاقائی رسم و رواج کے برعکس نہ ہوں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت آئی ڈی پیز کے مسائل کی جانب توجہ دے رہی ہے اورا نہیں حل کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے ۔
یہ ہمارے محب وطن پاکستانی ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ابھی تک اُن کے مسائل کم نہیں ہوسکے۔ ابتدائی طور پر فی خاندان 7 ہزار امدادی رقم دی جاری کی گئی ہے لیکن دوسری جانب سچ یہ ہے کہ آئی ڈی پیز کا ایک خاندان 13 سے 14 افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔ 13 سے 14 افراد پر مشتمل گھرانہ 7 ہزار میں کیسے گزارہ کر سکتا ہے؟ اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ آئی ڈی پیز کے لئے ہونے والی مالی امداد کے اعلانات میں وفاقی حکومت نے ابتدائی طورپر ڈیڑھ ارب روپے جاری کئے تھے لیکن اب مزید 50 کروڑ روپے جاری کرنے کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے۔
بریگیڈ ئیر مظہر کیانی نے بتایا کہ اب نقل مکانی کرنے والوں کے لئے کیمپوں کی تعداد بڑھا کر 9 کر دی گئی ہے جبکہ ائیر فورس کی جانب سے بھی روز مررہ اشیاء کے ایک ہزار راش پیکٹ جمع کرائے گئے ہیں۔ فوج پہلے ہی اپنی تنخواہ کا بڑا حصہ آئی ڈی پیز کے لئے دینے کا اعلان کر چکی ہے۔ اسکے علاوہ سندھ حکومت نے 5 کروڑ روپے امداد کا اعلان کیاہے۔ پنجاب حکومت بھی امدادی ٹرک راونہ کر چکی ہے۔
خیبر پختونخواہ حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے لئے 5 ہزار روپے فی خاندان ادا کرنے اور اُن کے گھرون کا کرایہ برداشت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عمران خان نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ آئی ڈی پیز کے لیے کولیشن سپورٹ فنڈ کے 175 ارپ روپے میں سے خیبر پختوانخواہ حکومت کو فوری طور پر 6ارب روپے جاری کر دیں تاکہ متاثرین کی بحالی کے لئے کام کیاجا سکے۔
اس علاوہ عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ میں بھی تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اجلاس ہو ا جس میں آئی ڈی پیز خواتین کے مسائل حل کرنے کے لیے فوزیہ قصوری کو نگران مقرر کیا گیا اور عمران خان فاوٴنڈیشن کی جانب سے اس سلسلے میں خصوصی فنڈریزنگ مہم بھی شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والوں کی مدد کیلئے فوج اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں اور مختلف اداروں کو امدادی اشیاء اور رقم دے رہے ہیں تاکہ متاثرین تک پہنچائی جا سکیں۔
بحریہ ٹاوٴن کے چیئرمین ملک ریاض کی جانب سے بھی متاثرین کیلئے 50 کروڑ روپے کی امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔
آپریشن ضرب عضب کو پوری قوم کی حمایت حاصل ہے اور اس آپریشن کے نتیجے میں مشکلات کا سامنا کرنے والے آئی ڈی پیز سے پوری قوم محبت کا اظہار کر رہی ہے۔ اس کے باوجود یہ تلخ حقیقت ہے کہ آئی ڈی پیز سخت مشکل حالات سے گز رہے ہیں۔ ضرورت اس اَمر کی ہے کہ ترجیحی بنیادوں پر اُن کے مسائل حل کئے جائیں اور آبادکاری تک اُن کا خاص خیال رکھا جائے۔
اس سلسلے میں خصوصی مراعات اور انتظامات بہت ضروری ہیں۔ یاد رہے کہ اگر انہیں بروقت سہولیات فراہم نہ کی گئیں اور اُن خصوصی خیال نہ رکھا گیا تو انہی کیمپوں کے محب وطن پنا ہ گزینوں میں سے ہی مستقبل کے دہشت گرد تیار ہو سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ لوگ اپنا سب کچھ کھو چکے ہیں۔ ان کی نظریں پاکستانی عوام، فوج اور حکومت کی جانب ہے۔ اگر اس بار بھی انہیں مایوسی اور دُکھ کا سامنا کرنا پڑا تو یہ پاکستانی عوام کے لئے مزید مشکلات کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ حکومت کو فوری طورپر اس جانب توجہ دینی ہو گئی
تاریخ اشاعت: 2014-07-05

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-