بند کریں
اتوار فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
یوحنا آباد میں چرچز پر خودکش حملے
مسیحی بھائیوں کی دو دعائیہ تقاریب خون میں ڈوب گئیں
مسیحی بھائیوں کی دو دعائیہ تقاریب خون میں ڈوب گئیں۔۔۔۔ ان دھماکوں کے بعد سکیورٹی اداروں کی پلاننگ کا فقدان نظر آیا۔پولیس حکام موقع پرپہنچے
احسان شوکت
دہشت گردوں نے ایک دفعہ پھر صوبائی دارالحکومت لاہورمیں وار کیا ہے اور بزدلانہ کارروائی کرتے ہوئے دو چرچوں میں دعائیہ عباد ت میں مشغول مسیحی برادری کو نشانہ بنا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔افسوسناک واقعہ لاہورکے علاقہ یوحنا آباد میں پیش آیا۔ یوحنا آباد میں واقعہ کیتھولک چرچ اور کرائسٹ چرچ میں گزشتہ روز اتوار کو دعائیہ عبادت جاری تھی کہ اس دوران سو گیارہ بجے کے قریب ایک خودکش بمبار کرائسٹ چرچ کے اندر داخل ہوا اور اس نے چار دیواری کے اند ر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
جس کے پانچ سیکنڈ بعد ہی دوسرے خودکش حملہ آور نے قریب ہی واقع کیتھولک چرچ کے باہر پسٹل سے فائرنگ کی ، سکیورٹی گارڈز نے اسے روکنے کی کوشش کی اور اس نے بھی پھر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔دونوں خودکش دھماکوں میں رات گئے تک بچوں ،خواتین اور دو پولیس اہلکاروں سمیت 17افراد ہلاک جبکہ 95 زخمی ہو گئے۔ ہر طرف لاشیں،انسانی اعضاء ، خون ، ، دھواں اور آگ پھیل گئی جبکہ زخمی چیخ و پکار کر تے رہے۔
وہاں کھڑی متعدد موٹر سائیکلوں کو نقصان پہنچااور دوکانوں وعمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ دھماکے کہ باعث وہاں موجود افراد خوفزدہ ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ ہر طرف افراتفری اور بھگدڑ مچ گئی۔ دھماکے کی آواز میلوں دور تک سنائی دی گئی۔واقعہ کی اطلاع ملنے پر پولیس،ریسیکو 1122 ،ایدھی ،بم ڈسپوذل سکواڈ سمیت دیگرامدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ امدادی ٹیموں نے لاشوں اورزخمیوں کو ہسپتال پہنچایا۔
جہاں بیشتر زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے جبکہ 15افراد کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی گئی ہے۔دھماکوں کے بعدمسیحی برادری نے مشتعل ہو کر احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا اور وہاں موجود دو فرادکودہشت گرد قرار دے کر بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔پولیس اہلکاروں نے دونوں افرد کو بچانے کی کوشش کی تو مشتعل ہجوم نے انہیں پولیس سے چھین لیا اورپھر دونوں کو برہنہ کرنے کے بعد پٹرول پھینک کر زندہ جلا دیا۔
عینی شاہدین کے مطابق زوردار دھماکوں کے بعد آگ کا شعلہ بند ہوا، اس کے بعد کچھ پتہ نہیں چل سکا کہ کیا ہوا۔ دھماکہ ہوتے ہی زمین لرز گئی اور دھماکے کی شدت سے کانوں کے پردے شل ہو گئے۔وفاقی وزیر کامران مائیکل اورپولیس افسران موقع پرپہنچے تو مشتعل ہجوم نے ان سے بھی بدتمیزی اور گالم گلوچ کی اور انہیں جائے وقوعہ تک نہ جانے دیا۔پولیس حکام بھی مظاہرین کے ہاتھوں یرغمال بن گئے اور جائے وقوع تک پہنچ کر شواہدتک اکھٹے کرنے میں بے بس نظر و ناکام نظرآئے۔
اس دوران مظاہرین نے تین پولیس اہلکاروں کوایک دوکان میں بند کر کے تالے لگا دئیے اور پھر انہیں دوکان سے نکال کر مار مار کر ادھ موا کر دیا۔جس کے بعد مشتعل مطاہرین جلوس کی شکل میں فیروز پور روڈ پر آگئے انہوں نے متعددشہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے اور گاڑیوں کے شیشے توڑنے و نقصان پہنچانے کے علاوہ میٹروبس روٹ کے جنگلے توڑدئیے،میٹرو بس ٹرمینل،دیگر املاک و دوکانوں اور دو ایدھی ایمبو لینسز کو بھی شدید نقصان پہنچایا،لوٹ مار بھی کی۔
متعدد دکانوں سے کھانے پینے کا سامان بھی لوٹ لیا۔علاقہ میں خودکش حملوں اور مظاہرین لوٹ مار اور توڑ پھوڑ سے شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔یوحنا آباد کے علاقہ میں خودکش حملوں میں ہلاک ہونیوالے والوں میں ہیڈ کانسٹیبل اصغر ،اہلکار راشد، سیکورٹی گارڈ قیصر،8سالہ بچہ ابھیشک ،رمضان ،عبید ،الیاس بھٹی ،آکاش ،ندیم ،ساجد ،ممتاز ،محمدصادق ،شیخ محمد ارشد ،تاجر رہنماگوگا وغیرہ شامل ہیں۔
ہلاک ہونے والوں میں جنرل ہسپتال کی نرس امبرین بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آوروں نے جیکٹس میں دیسی ساخت کا 8سے10کلو دھماکہ خیز مواداستعمال کیا گیا۔ دھماکے کے بعد ہسپتالوں میں اپنے پیاروں کو تلاش کرنے کیلئے لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی اور وہ چیخ و پکار کرتے رہے۔ ہسپتالوں میں قیامت کبریٰ کا منظر نظر آرہا تھا۔ زخمیوں و جاں بحق ہونے والے افراد کے رشتے داروں کے ساتھ زخمیوں اور خون کے عطیات دینے والوں کا بڑا رش تھا اور ہسپتال میں آنے والے افراد شدید پریشانی میں مبتلا تھے جبکہ محکمہ صحت اور پولیس کی جانب سے زخمیوں کو خون کے عطیات دینے کیلئے اپیل کی گئی۔
اس واقعہ کے بعدمسیحی برادری نے شہر بھر میں احتجاجی مظاہرے اور ٹائر جلا کر نظام زندگی مفلوج کر دیا۔ صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت ملک بھر میں کے مختلف علاقوں میں مظاہرے شروع ہو گئے۔مشتعل مظاہرین نے یوحنا آبادکے علاوہ پیکو روڈکوت لکھپت ،بہار کالونی ،ملتان روڈ ،چوہنگ ،باگڑیاں چوک ،شادباغ رنگ روڈ ،سانڈہ بند روڈ ،مزنگ و دیگر علاقوں میں شدید احتجا ج کیا۔
مظاہرین ہاتھوں میں ڈنڈے اٹھائے، نعرے بازی کرتے رہے شہر میں احتجاج کے باعث مختلف مقامات پر ٹریفک جام ہو گئی جبکہ احتجاج اور توڑ پھوڑ کے باعث شہریوں کی بڑی تعداد خوف کے باعث گھروں میں ہی رہی۔ مظاہرین حکومت کی جانب سے سیکورٹی کی عدم فراہمی کا شکوہ کرتے رہے اور حکومت کیخلاف نعرے بازی کرتے ر ہے۔مطاہرین نے احتجاج کرتے ہوئے پکا میل کے قریب موٹر وے بھی بند کر دی۔
واہگہ بارڈ پر ہونے والے خود کش حملے اطلاع ملتے ہی سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) محمد امین وینس اورڈی آئی جی آپریشنزڈاکٹر حیدر اشرف،ایس ایس پی انویسٹی گیشن رانا ایاز سلیم فوری موقع پر پہنچ گئے اور مظاہرین سے مزاکرات کرتے رہے۔مگر مشتعل مظاہرین نے احتجاج جاری رکھا۔کیپٹن امین وینس جائے وقوعہ سے وائرلیس کے ذریعے شہر کے تمام ایس پیز کو ہدایات دیتے رہے کہ وہ اپنے اپنے ڈویڑنزمیں حساس مقامات کی سیکورٹی کو سخت کر دیں اور چرچوں کی سیکورٹی کے لیے اضافی نفری لگا دیں اور کسی کو بھی بغیر چیکنگ کے چرچوں میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔
سکیورٹی زرائع کے مطابق حملہ کے حوالے سے پہلے ہی اطلاعات موجود تھیں۔ جس کے لئے یہاں سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر رکھا تھا۔ سکیورٹی ہائی الرٹ ہونے کے باعث حملہ آور نے خود کو چرچ کے باہر اڑایا۔اگر وہ چرچ کے اندر پہنچ جانے میں کامیاب ہو جاتے تو بہت ذیادہ نقصان ہوتا اور ہلاکتیں زیادہ ہو سکتی تھیں۔ حملہ آور یہاں جائے وقوعہ پر کیسے پہنچے اس کیلئے انکوائری شروع کردی گئی ہے۔
خودکش دھماکوں میں بیرونی وطن دشمن عناصر بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس پہلو پر بھی غور کررہے ہیں کہ دہشت گرد یہیں کسی گھر میں چھپے بیٹھے ہوں، مقامی لوگوں کی مدد کے بغیر ایسا ممکن نہیں۔واقعہ کی تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بھی بنا دی گئی ہے۔
تشویشناک بات یہ ہے کہ دہشت گردوں نے پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کوچرچوں پر حملے کی منصوبہ بندی کی اطلاعات ملنے کے حوالے سے باخبر ہونے کے باوجود اپنا ٹارگٹ حاصل کیا اور اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کے لئے دو چرچوں کونشانہ بنایا۔
مگر افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ دو دہشت گرد خودکش حملہ آور شہر بھر کی پولیس کے نام نہاد سکیورٹی ناکے عبور کرتا ہوا 16 سے20 بارودی مواد اور خودکش جیکٹس لے کراپنے ٹارگٹ تک پہنچ گئے۔ان دھماکوں کے بعد سکیورٹی اداروں کی پلاننگ کا فقدان نظر آیا۔پولیس حکام موقع پرپہنچے تو مشتعل ہجوم نے انہیں جائے وقوعہ تک نہ جانے دیا۔جس سے موقع سے فرانزک شواہدتک اکھٹے نہیں کئے جاسکے۔
دھماکوں کے حوالے سے حملہ آوروں کی پوری ریکی اور منصوبہ بندی تھی۔جس وجہ سے وہ اپنے ٹارگٹ تک پہنچ گئے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس واقعہ کے کافی دیر بعد تک بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مہارت نظر نہ آئی۔ فرانزک شواہد، موبائل فرانزک لیبارٹری ٹیسٹ اور واقعاتی و طبعی شواہد کو اکٹھا اور محفوظ کرنا تو دور کی بات، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تو یہ بھی نہیں پتا تھا کہ ایسی صورتحال میں کیا لائحہ عمل ہونا چاہئے۔
انسددادہشت گردی فورس اور کوئیک رسپانس فورس کے قیام کے صرف دعوے نظر آئے۔ وطن عزیز کے دشمنوں نے اپنے مذموم ارادوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے چرچوں میں عبادت کرتے ہوئے معصوم بچوں، عورتوں اور نوجوانوں کونشانہ بنا کر قوم کو دکھ اور کرب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ملک دشمن عناصر کی جانب سے اقلیتوں پر ایسی دہشت گردی کی کارروائیاں کرکے ہمیں آپس میں لڑانے اورایک دوسرے کے ساتھ الجھانے کی سازش کی جا رہی ہے۔مگر انشااللہ پوری قوم ملی یکجہتی اوریگانگت سے دشمنوں کے مذموم ارادوں کوخاک میں ملا دے گی اور جو بھی مادر وطن کی جانب میلی آنکھ سے دیکھے گا اسے منہ کی کھانی پڑے گی۔
تاریخ اشاعت: 2015-03-17

(1) ووٹ وصول ہوئے