بند کریں
پیر فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
وزیراعظم اور آرمی چیف کوآپریشن کے علاوہ دیگر اقدامات بھی کرنے ہوں گے
اگرہم پاکستان میں موجود عسکریت پسند خصوصاً طالبان گروپوں کے رحجانات کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ پاکستان کے اکثر طالبان گروہ افغانستان طالبان کے امیر ملا محمد عمر مجاہد کو ہی اپنا اصل امیر مانتے ہیں
پاکستان دہشتگردی کے خلاف واضح اور فیصلہ کن قدم اُٹھا چکا ہے۔ اب ہمیں وطن عزیزکو دہشتگردی سے پاک کرنا ہے لیکن اس کا واحد حل آپریشن ہی نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف آپریشن بہت ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات بھی کرنے چاہئیں جو مستقبل بنیادوں پر شدت پسندی کی اس لہر کے خاتمہ کا باعث بنیں۔ یہ فیصلے وزیراعظم او ر چیف آف آرمی سٹاف دونوں کو ہی کرنے ہیں۔

اگرہم پاکستان میں موجود عسکریت پسند خصوصاً طالبان گروپوں کے رحجانات کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ پاکستان کے اکثر طالبان گروہ افغانستان طالبان کے امیر ملا محمد عمر مجاہد کو ہی اپنا اصل امیر مانتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ملا عمر اب بھی یہ طاقت رکھتے ہیں کہ ان گروپوں کو اپنے احکامات پر چلا سکیں۔ اس سلسلے میں ملا عمر کو اس بات پر قائل کر سکتی ہے کہ وہ واضح طور پر اپنے زیر اثر گروہوں کو پاکستان میں کارروائیوں سے روکنے کا حکم جاری کریں اورحکومتِ پاکستان سے تعاون پر آمادہ کریں۔
اگر ملا عمر اس پر آمادہ ہو گئے تو پاکستان میں موجود متعدد عسکری گروہ فورسز کے خلاف جنگ سے باز آجائیں گے۔ اُنہیں قومی دھارے میں شامل کیاجاسکتا ہے۔ ملا عمر کے حوالے سے آئی ایس آئی کے سابق سر براہ جنرل (ر) حمید گل کو خصوصی اسائمنٹ دی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں جی ایچ کیو سے باقاعدہ طور پر اُنہیں احکامات جاری کیے جا سکتے ہیں۔ جنرل حمید گل رو س افغان جنگ میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں اور اب بھی ملا عمر اور افغان طالبان اُنہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
جنرل حمید گل کو ملا عمر سے رابطہ کرنے اور اُنہیں اس بات پر آمادہ کرنے کے مشن پر روانہ کیا جا سکتا ہے۔ جنرل حمید گل کے مطابق وہ اب بھی فوجی ہیں اور جب بھی ملک کو اُن کی ضرورت پڑی وہ میدان میں اُتر آئیں گے ۔ا ب وہ اپنے پرانے رابے، افغان کلچر اور سیاست سے واقفیت کی بنا پر یہ مشن بخوبی پورا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔
یہ بات بھی واضح ہے کہ عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن ہو تو وہ افغانستان فرار ہو جاتے ہیں اوربعد میں دوبارہ آجاتے ہیں۔
اس کے علاوہ اُنہیں افغانستان کے راستے کے کمک بھی ملتی رہتی ہے ۔اس کی وجہ پاک افغان طویل بارڈر ہے۔ اب یہ ضروری ہے کہ پاک افغان سرحد پر خاردار تاریں لگا کراسے مکمل طور پر سیل کر دیا جائے ۔ اس کے علاوہ اس کی نگرانی کا پھر پور بندوبست کیا جائے اور غیر قانونی آمد ورفت کو مکمل طور پر روک دیا جائے۔ اس سے جہاں عسکریت پسندوں کو مدد ملنا بند ہو جائے گی وہیں اُن کے فرار کا راستہ بھی مسدود ہو جائے گا ۔
اس کے علاوہ افغانستان کے راستے پاکستان میں ملک دشمن عناصر اور را کے ایجنٹوں کا داخلہ بھی نا ممکن ہو جائے گا۔ پاک فوج کے حالیہ آپریشن کے دوران سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا مقامی آبادی کو ہے۔ اس آپریشن اور کرفیو نے ان کی زندگیوں کو جامد کر دیاہے۔اسی طرح نقل مکانی کرنے والوں کے مسائل کا حل اور اُن کی دوبارہ آبادی بھی بہت ضروری ہے۔ اس مقصد کیلئے خصوصی فنڈز اجرا بہت ضروری ہے۔
پاکستان اس سلسلے میں دیگر عالمی اداروں سے بھی مدد طلب کر سکتا ہے اور بجٹ میں ان کیلئے زیادہ حصہ مختص کیاجاسکتا ہے۔ ان محب وطن پاکستانیوں کے مسائل حل کرنا حکومت کا فرض ہے۔
پاک فوج کے آپریشن سے قبل متعدد عسکریت پسند قبائلی علاقوں سے فرار ہو کر پاکستان کے بڑے شہروں میں پناہ لے چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے بہت سے مقامی عسکری گروہوں اور جرائم پیشہ عناصر سے بھی روابط ہیں۔
پاکستان کے متعدد مذہبی ادارے اورافراد بھی ان کی مدد کرتے رہے ہیں۔ اگر ہمیں پاکستان سے شدت پسندی کا مکمل طور پر خاتمہ کرنا ہے تو شہری علاقوں میں چھپے ان عناصر پر نظر رکھنا اور غیر قانونی اقدامات پر ان کے خلاف فوری کارروائی بہت ضروری ہے۔ اس مقصد کیلئے عام شہریوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے اور گلی محلے کی سطح پر آگہی مہم چلانا بہت ضروری ہے۔
یہ سچ ہے کہ پورے پاکستان میں ہر گھر پر نظر رکھنا اتنا آسان نہیں لیکن آگہی مہم کے ذریعے شہریوں کی تربیت کی جاسکتی ہے کہ وہ رضا کارانہ طور پر اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر رکھتے ہوئے غیر قانونی اقدامات اور مشکوک افراد کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ یہ ہنگامی نوعیت کے فیصلے ہیں جو وزیراعظم اور آرمی چیف کو کرنے ہیں۔ محفوظ اور پُر امن پاکستان کاجو خواب ہم دیکھ رہے ہیں اس کی تعبیر کے لیے فوجی آپریشن کے علاوہ دیگر اقدامات بھی بہت ضروری ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-06-28

(1) ووٹ وصول ہوئے