بند کریں
جمعرات فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
وزیراعظم نواز شریف کا دورہ کوئٹہ
ناراض بلوچ رہنماؤں کو منانے کے لئے کمیٹی بنانے کی ہدایت ہائیکورٹ نے شاہ زین بگٹی اور مہاجرین کو ڈیرہ بگٹی جانے کی اجازت دیدی
عدن جی :
بلوچستان میں ماہ فروری ہمیشہ سے بہت ٹھنڈا اور ویران ہوا کرتا ہے ۔ ان دنوں بھی برفباری اور بارشوں نے کوئٹہ کا جل تھل کر رکھا ہے ۔ گندگی اور کیچڑ نے صوبائی انتظامیہ کی کارگردگی کا پول کھول دیا ہے مگر ڈاکٹر مالک کی حکومت کی انتظامیہ پر گرفت برائے نا م کے کیونکہ یہ نہ تو لاہور ہے نہ وہاں کا وزیراعلیٰ کہ صبح تک سڑکیں صاف ہو جائیں۔
تعلیمی ادارے سردیوں کی تعطیلات کے لیے بند ہیں اور وزیراعلیٰ بھی حکمرانی کے معاملات دیکھ رہے ہیں۔صوبائی دارالحکومت کے معاملات کے حل کیلئے وزیراعلیٰ کے ہاتھ میں بلوچستان میں سب سے پہلے الیکشن کا کارڈ ہی کافی ہے۔میڈیا کی توجہ خضدار میں اجتماعی قبر پر مرکوز ہے کہ وہاں ایک قبر سے 13لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ اس بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ کیا یہ لاپتہ افراد کی لاشیں ہیں اور اس کیلئے ناراض بلوچوں اور ایجنسیوں کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔
یہ ایک یقینا غیر انسانی فعل ہے اور حقوق انسانی کی مختلف تنظیموں کی جانب سے بھی اجتجاج کی آواز آئے گئی۔ بعض سیاستدان بھی اس موضوع پر اپنی سیاست چمکا رہے ہیں مگر وفاقی حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ اس واقعہ کی عدالتی تحقیقات کروائی جائیں گئی ۔قومی اسمبلی کے اجلاس سے دوران وفاقی وزیر قادربلوچ نے بھی یقین دہانی کروائی ہے کہ چیف سیکرٹری بلوچستان نے یقین دلایا ہے کہ اس معاملے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کراوئی جائیں گی اور بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے بھی مطالبہ کیا جائے گا کہ اس معاملے پر نوٹس لے کر تحقیقات کروائی جاسکیں۔

بلوچستان کے معاملات پر عدم توجہی اور مسائل کا عارضی حل نکالنے کی وفاقی کی کوششوں نے صوبے کی صورتحال کی اس سطح پر پہنچا دیا ہے کہ نہ تو وہاں امن وامان کے حالات پر کسی کا کنٹرول ہے نہ کوئی صوبائی حکومت اس بارے سنجیدہ نظر آتی ہے ۔ اٹھارہویں ترمیم سے عوام کو کچھ امید آئی تھی کہ صوبے کے حقوق کا مسئلہ حل ہوگا مگر سب ” وعدے“ وفا نہیں ہوئے۔
کوئی بھی حکومت بلوچستان کے مسائل کا سنجیدگی سے ادراک کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی اور صوبے میں غیر ملکی طاقتوں کو اس کا موقع مل گیا کہ مداخلت کر کے بدامنی کی صورتحال پیدا کر سکیں۔ سابق وفاقی وزیر داخلہ نے تو افغانستان کے راستے سے بھارتی مداخلت کے ثبوت بھی دیئے اور کابل میں بھارتی قونصل خانوں کو بلوچوں کی تربیت گاہ بنایا گیا۔ بھارت نے تردید بھی کی ہے مگر ابھی کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں بارود کے گودام کیسے بنے ہیں؟ وہاں جدید اسلحہ اور گولہ بارود کہاں سے آتا ہے؟
مستونگ کا علاقہ روینگڑھ میں ہر بار زائرین کی بسوں کو بہت سکون سے بے دھڑک نشانہ بنایا جاتا ہے۔
سینکڑوں بے گناہوں کا خون گرتا ہے احتجاج ہوتا ہے یقین دہانی کے بعد نہ ملزم پکڑے جاتے ہیں نہ حقائق سامنے آتے ہیں۔ لاکھوں پنجابی بولنے والے یاتو ہجرت پر مجبور کردئیے گئے یا پھر ہر وقت خوف کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ روزگار کے ھوالے سے تو ان پر میرٹ کے باوجود ملازمت کے دروازے بند ہیں کہ وہ صرف بلوچوں کا حق ہے۔ ان کے گھر بار جائیدادیں اونے پونے خریدی جارہی ہیں۔
اصل حقیقت پر غور کرنے کا حکومت کے پاس وقت نہیں کہ نام نہاد کالعدم تنظیمیں کون چلا رہا ہے۔ کوئی بھی تنظیم ہو صرف فون کر کے واقعہ کہ ذمہ داری قبول کرتی ہے یہ نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں‘ کون ہیں یا ایک ہی تنظیم نے مختلف نام رکھے ہیں۔ جب بلوچوں کا ایک شخص لاپتہ ہوتا ہے تو لانگ مارچ اور احتجاجی کیمپ لگتے ہیں۔ یقینا پیاروں کا نہ ملنا دکھ کا باعث ہے لیکن صرف کسی قوم پرست یا بلوچ کا ہی دکھ اہم نہیں ہوتا جب ہزارہ یا پنجابیوں کا خون بہا یا جاتا ہے تو وہ بھی پورے خاندان کو تباہ کرنے کا باعث ہوتا ہے۔
یہ ایک المی نہیں کہ پنجاب میں تو ایک لاکھ سے زائد بلوچ پر امن زندگی گزار ہے ہیں الیکشن بھی لڑتے ہیں۔ سیاست او کاروبار بھی لیکن بلوچستان میں کاغذی سطح یا سرکاری طور پر آباد کار کہا جاتا ہے اور ان پر ملازمتوں کاروبار تعلیم رہائش کے دروازے ایسے بند کردئیے جاتے ہیں کہ وہ دوسرے درجے کے شہری ہیں۔
یہ بھی ایک دلچسپ بات ہے کہ بلوچستان میں پنجابیوں کی ٹارگٹ کلنگ کی حمایت کرنے والے پنجاب آکر پنجابیوں سے ملتے ہوئے محبت کے ڈونگرے برساتے ہیں اور تمام حالات کا ذمہ دان کون ہے؟ حالات جس رخ پر جارہے ہیں اس کیلئے صرف کمیٹیاں بنانے سے کام نہیں چلے گا۔
بلوچستان کو بچانا ہے تو پیکج دینے کی بجائے سنجیدگی سے مسئلے کا حل نکالنے کی ضرورت ہے اور سیاستدانوں سمیت سب کے بارے میں اصل حقیقت دیکھی جائے کہ کس کے ہاتھ دشمن کے ہاتھ سے ملے ہوئے ہیں۔ سرحدیں کتنی محفوظ ہیں صرف پسماندگی اور محرومی کی سیاسی باتوں سے متاثر ہوکر بلوچستان کی مالی امداد کرنے سے صورتحال بہتر نہیں ہوگی اور کھرے اور کھوٹے کی پہچان کی ذمہ داری کسی کو تو ادا کرنی ہوگی۔
تاریخ اشاعت: 2014-02-20

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان