بند کریں
جمعہ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
وزیراعظم کی خود کو ہولی میں رنگوانے کی خواہش
وزیراعظم نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے ہولی میں بھی بلائیں اور مجھ پر رنگ پھینکیں۔ یہ رنگ محبت کی علامت ہیں۔آئین کے تحت بلاشبہ تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں اور اقلیتوں کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے
وزیراعظم نواز شریف نے ہندو برادری کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان پر ظلم ہوتا ہے اور ظالم مسلمان ہے تو وہ ہندو برادری کے ساتھ کھڑے ہونگے۔ گزشتہ روز کراچی میں ہندوؤں کے تہوار دیوالی کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں رہنے والے ہر شخص کو یکساں اور مساوی حقوق حاصل ہیں۔ ہم اقلیتوں کا تحفظ کرینگے۔
انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ہندو برادری انہیں بھی اپنی خوشیوں میں شریک کیا کرے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے ہولی میں بھی بلائیں اور مجھ پر رنگ پھینکیں۔ یہ رنگ محبت کی علامت ہیں۔آئین کے تحت بلاشبہ تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں اور اقلیتوں کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے جبکہ اس ذمہ داری کی ادائیگی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت بھی نہیں کیا جا رہا تاہم اسلامی جمہوریہ کی حیثیت سے پاکستان کا الگ تشخص، الگ کلچر اور الگ روایات ہیں اور مذہبی تہواروں کے حوالے سے بھی مسلم اور غیر مسلم کی حدود و قیود موجود ہیں۔
انسانی ہمدردی کا جذبہ اپنی جگہ مگر شریعت کے تقاضے کے تحت کسی غیر مسلم کیلئے مسلمانوں کے مذہبی تہوار عید قربان میں شرکت ممنوع ہے۔ اسی طرح کوئی مسلمان غیر مسلموں کی عبادات پر مبنی انکے کسی تہوار میں شریک نہیں ہو سکتا۔ میاں نواز شریف ایک اسلامی مملکت کے سربراہ حکومت ہی نہیں اس مملکت کی خالق جماعت مسلم لیگ کے صدر بھی ہیں اس لئے انہیں اپنے اس منصب کے تقاضے کے تحت بالخصوص شعائر اسلامی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے محتاط رہناچاہئے۔
پہلے انہوں نے لاہور میں منعقدہ سکھوں کی ایک تقریب میں یہ تک کہہ دیا کہ ہماری ثقافت اور کلچر ایک ہے اور ہم ایک خدا کی پوجا کرنیوالے ہیں جبکہ اب وہ ہندو برادری کی دیوالی کی تقریب میں شریک ہو کر ہندوؤں کے ہولی کے مذہبی تہوار میں شامل ہونے اور اپنے اوپر رنگ پھینکے جانے کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں جس سے انکے بقول بھائی چارہ بڑھے گا۔ غالباً وہ خود کو لبرل تسلیم کرانا چاہتے ہیں جس کیلئے وہ گزشتہ ہفتے لبرل پاکستان کا درس بھی دے چکے ہیں۔
انہیں یہ ہرگز نہیں بھولنا چاہئے کہ پاکستان کا قیام دو قومی نظریہ کی بنیاد پر عمل میں آیا ہے۔ اگر وزیراعظم کے بقول ہمارا کلچر ایک ہوتا اور بالخصوص ہندوؤں میں مسلمانوں کیخلاف کسی قسم کا تعصب موجود نہ ہوتا تو بانیان پاکستان قائد و اقبال کو مسلمانوں کیلئے ایک الگ مملکت کی جدوجہد کی ضرورت ہی کیوں محسوس ہوتی اس لئے لبرل بننے کے شوق میں وزیراعظم کو نہ اپنی تاریخ مسخ کرنی چاہئے اور نہ ہی غیر مسلم مذاہب کے ساتھ دانستاً یا نادانستاً اپنا کوئی ناطہ جوڑنا چاہئے۔
آج بھارت میں ہندو انتہا پسند مودی کے ہاتھوں مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ ہے اور وہ پاکستان کی سلامتی ختم کرنے کے بھی اس لئے درپے ہیں کہ یہ مسلم معاشرہ ہے تو وزیراعظم نواز شریف کو مسلمانوں کیخلاف یہ ہندو تعصب بہرصورت پیش نظر رکھنا چاہئے۔ اسلامی مملکت ہونے کے ناطے یہاں نہ لبرل ازم چل سکتا ہے نہ ہمارا دین ہمیں خود کو دوسرے مذاہب کے ساتھ خلط ملط ہونے کی اجازت دیتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-11-14

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان