بند کریں
ہفتہ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
وزیرآباد: تباہی و بربادی کے ”انمٹ نقوش“
تاریخ کے بدترین سیلاب نے وزیرآباد سمیت گردونوا ح کے 50 سے زائد دیہات میں تباہی وبربادی کے ان مٹ نقوش ثبت کر دیئے، متعدد افراد ہلاک، 300کے قریب گا ئے بھینسیں اور قیمتی مویشی تندوتیز لہروں کی نذر ہو گئے
افتخار بٹ:
تاریخ کے بدترین سیلاب نے وزیرآباد سمیت گردونوا ح کے 50 سے زائد دیہات میں تباہی وبربادی کے ان مٹ نقوش ثبت کر دیئے، دس افراد ہلاک، 300کے قریب گا ئے بھینسیں اور قیمتی مویشی تندوتیز لہروں کی نذر ہو گئے، درجنوں مکانات زمین بوس اور سینکڑوں ایکڑ زرعی رقبہ زیرآب آنے کی وجہ سے کروڑوں روپے مالیت کی فصل دھان تباہ ہو گئی۔ تین روز قبل 9 لاکھ کیوسک سے زائد پانی کا ریلا دریائے چناب سے گزرا جب کہ شہر سے متصل نالہ پلکھو سے 50 ہزارکیوسک کے قریب گزرنے والے سیلابی ریلے نے نتھو کوٹ، ہری پور، لویری والہ، بہرام، دولت آباد، ناہرکے، ٹاہلی والا، بیلہ، بنسی پورہ، گورالی، جعفر کوٹ، کوٹ شیرعلی، شیرگڑھ، ٹھٹھی بلوچ، رتو کی، نو گرا، معراج کے چٹھہ، رسول نگر، سوہدرہ، ڈپئی حسن والے، تلواڑہ، پاتوکے، بہرام، رانا، کو ٹلہ پیراں دا، رام گڑھ سمیت دیگر دیہات میں 8 فٹ سے زائد سیلا بی پانی گھروں میں داخل ہو گیا۔
جس کے نتیجہ میں درجنوں گھرصفحہ ہستی سے نابود ہوگئے جبکہ دریا ئے چناب، نالہ پلکھو اور نالہ ایک لاڈوکی پلی کا سیلابی پانی اکٹھا ہونے کے بعد شہر کی طرف رخ کرنے والے سیلابی ریلے نے اے سی کورٹ، سول کورٹ، ریلوے سٹیشن، ٹی ایم اے آفس، تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال، چیف سیکرٹری پنجاب کا آبائی گھر، ونجووالی، چیمہ کالونی، گھکامیتر، تاج گارڈن، کرم آباد، حاجی پورہ، چیمہ کالونی، ارائیں کالونی، ماڈل کالونی، مین بازار، کچہری چوک، محلہ شیشیانوالہ، سکندرپورہ، کریم پورہ، میا نی محلہ، محلہ کانوانوالہ، محلہ شیرو، لالہ زارکالونی، مثمن برج، پرا نی سراں، غلہ منڈی، مسلم روڈ، کالج روڈ، مظفرپورہ، سیا لکوٹ روڈ، ڈسکہ روڈ، شیش محل، حیدر کالونی، پیر مٹھا، غریب پورہ، دھوبی گھاٹ، محمدنگر سمیت شہر کے کے بیشتر علا قوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
پانچ فٹ تک سیلا بی پانی گھروں میں داخل ہونے کی وجہ سے کروڑوں روپے مالیت کا قیمتی گھریلو سامان تباہ وبرباد ہو گیا۔ بھوکے پیاسے معصوم بچوں مردوخواتین اور بوڑھوں نے جان بچا نے کی خاطر اونچی چھتوں اور محفوظ مقامات پر پناہ حاصل کرکے رات گزاری۔ خون آشام سیلا بی لہروں اور بجلی کا کرنٹ لگنے کی وجہ سے دس افراد جن میں یوسف ولد رحمت علی، طفیل باجوہ، ماجد ولدجاوید، سیدصفدر علی ولد منیرعلی، مشتاق، طاہر انصاری، بشیر مسیح، شہزاد، احسان اللہ، احمد علی شامل ہیں جو اپنی زندگی کی بازی ہار گئے۔
تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال ایک کمرے کی چھت گرنے سے دو ملازم زخمی محکمہ بلڈنگ نے ہسپتال کے آوٴٹ ڈور حصہ کو ناقابل استعمال قرار دیا ہے کیونکہ بلڈنگ خستہ حال ہونے کی وجہ سے کسی بھی وقت چھت گرنے کا احتمال ہے۔ سیلابی پانی کی لپیٹ میںآ نے کے باعث سیالکوٹ روڈ، جی ٹی روڈ، ڈسکہ روڈ، ریلوے ٹریکس ہر قسم کی ٹریفک کے لئے معطل رہیں اور عملاً وزیرآباد کا رابطہ پورے ملک سے کٹ کر رہ گیا۔
خون آشام سیلابی رات سے قبل مقامی انتظامیہ کی جانب سے گاڑیوں پر لاوٴڈ سپیکر اور شہر کے گلی کوچوں کی مساجد مسلسل اعلانات کئے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ سیلاب کے دوران پاک فوج کے جوان، ریسکیو 1122، عملہ ٹی ایم اے اور سماجی تنظیموں کے کارکنان کشتیوں، ہیلی کاپٹر اور موٹر بوٹس کے ذریعے سیلاب میں پھنسے افراد کو نکالتے، خوراک پہنچا تے اور مدد کرتے رہے۔
سیکرٹری صحت جوادرفیق، ڈی سی او گوجرانوالہ عظمت محمود، اسسٹنٹ کمشنر راوٴ سہیل اختر، وفاقی وزیر خرم دستگیر، ایم این اے جسٹس (ر) افتخار احمد چیمہ، ٹی ایم او میڈم گلشن نورین، تحصیلدار غلام مصطفیٰ انصاری، ایریا مینجر مسلم ہینڈز انٹرنیشنل خرم رضا نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور ہنگامی طور پر سیلاب زدگان کی فوری مددکے لئے اقدامات کئے۔
اگرچہ مقامی انتظامیہ، منتخب نمائندوں اور مخیر حضرات نے اپنے تئیں متاثرین کی ہرممکن مددکی ہے لیکن تباہی وبربادی اس قدر زیادہ ہے کہ سیلاب سے متاثرہ افراد نے اسے اونٹ کے منہ میں زیرہ قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ مختلف علا قوں اور دیہا ت سے تعلق رکھنے والے متا ثرین کا موٴقف ہے کہ تاحال خوراک اور ادویات توکجا کسی سرکاری وغیر سرکاری شخص نے ہماری خیریت تک دریا فت نہیں کی۔
متا ثرین کاکہنا ہے کہ وزیراعظم میاں نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف وزیرآباد کا فوری زمینی دورہ کرکے سیلاب سے متاثرہ افراد کی حالت زار اب چشم خود دیکھیں اور فوری طور پر سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا جائے اور تحصیل وزیرآبادکوآفت زدہ علاقہ قرار دیا جائے اورکسانوں کا مالیہ وآبیانہ معاف کیا جائے۔
تاریخ اشاعت: 2014-09-11

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان