بند کریں
جمعرات فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ترک کمپنی نے کراچی میں میٹرو بسیں چلانے سے معذرت کیوں کی؟
حکومت سندھ نے ترک کمپنی کے انکار کے بعد چین اور کوریا کی کمپنیوں سے رابطہ کرلیاحکومت سندھ کی ذمہ دار شخصیات نے ترک کمپنی کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا تھا
سالک مجید:
پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کی دیکھا دیکھی سندھ میں پیپلز پارٹی کو بھی بالآخر عوام کی حالت پر ترس آگیا اور جدید ٹرانسپورٹ مہیا کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا گیا۔ پیپلز پارٹی کی ہائی کمان کی ہدایت پر وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے محکمہ ٹرانسپورٹ، محکمہ خذانہ، محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سمیت کے ایم سی اور دیگر متعلقہ حکام کو ہنگامی طور پر شہر قائد اعظم میں نئی پبلک ٹرانسپورٹ کی فراہمی یقینی بنانیکا حکم صادر فرمایا ہے اس سلسلے میں فوری طور پر مصطفیٰ کمال کے زمانے میں آنے والی گرین بسوں(سی این جی) کو ڈپوؤں سے نکال کر ٹھیک کر کے سڑکوں پر لانے کا فیصلہ ہوگیا ہے جبکہ شہر کے تین بڑے روٹس کا تعین کرتے ہوئے انہیں گرین لائن، ریڈ لائن اور یلو لائن کا نام دے دیا گیا ہے۔
اور معروف سڑکون کے بیچوں بیچ گرین بیلٹ ختم کر کے جنگلے لگا کر(درمیان میں) جدید بسیں چلائی جائیں گی جن کا مجموعی نیٹ ورک 74کلو میٹر پر پھیلا ہوگا۔ کچھ راستہ بالائی گزرگاہوں کی شکل میں طے ہوگا باقی گراؤنڈ ٹریولنگ کہلائے گی البتہ ہر بس اسٹاپ (ٹرمینل)پر ایلوٹیڈ راستے ہوں گے جہاں سے مسافر آجاسکیں گے۔ کورنگی کے ڈپو کی 24ایکڑ اراضی پر رینجرز کا قبضہ بھی ختم کرایا جائے گا اور وہان نئی بسوں کو اسٹیشن کیا جائے گا۔

کراچی شہر میں سب سے طویل روٹ ریل لائن کا ہوگا جس کی کل مسافت 26کلو میٹر ہوگی۔ یہ روٹ کورنگی انڈسٹریل ایریا 8000چوک نزد مانسہرہ کالونی سے براستہ جام صادق علی پل، کورنگی روڈ، ایف ٹی سی، شاہراہ فیصل ، شاہرا قائدین، پیپلز چورنگی مزار قائد اعظم پرانی نمائش تک آئے گا اور ایم اے جناح روڈ کے روٹ سے منسلک ہوجائے گا۔ اس یلو لائن روٹ کو پبلک پرائیویٹ پارٹنز شپ کے تحت مکمل کیا جائے گا اس پر محکمہ ٹرانسپورٹ نے ٹینڈر بھی دے دئیے ہیں اور اظہار دلچسپی کی درخواستیں وصول کی جارہی ہیں۔
شہر کا دوسرا بڑا روٹ ”گرین لائن“ کہلائے گا جو 25کلو میٹر طویل ہوگا یہ روٹ سرجانی چورنگی سے براستہ یوپی موڑ، ناگن چورنگی ، سخی حسن، بورڈ آفس، پٹرول پمپ، لسبیلہ، پٹیل پاڑہ نمائش چورنگی ایم اے جناح روڈ سے جامع کلاتھ مارکیٹ تک آئے گا۔ اسے حکومت سندھ اپنی اے ڈی پی سے خود مکمل کرے گی۔
تیسرا روٹ ”ریڈ لائن“ کہلائے گا۔ یہ 23طویل ہوگا اور ماڈل کالونی سے شروع ہو کر صفورا چورنگی، کراچی یونیورسٹی، نیپا چورنگی، حسن اسکوائر، نمائش تک آئے گا۔
اسے ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی فنڈنگ سے بنایا جائے گا۔
حکومت سندھ کے پلان کے مطابق مذکورہ بالا تینوں بڑے روٹس کو جدید ٹراسنپورٹ وژن کے مطابق بہترین سہولتوں سے آراستہ کیا جائے گا۔ ان روٹ پرسفر کو محفوظ ترین اور تیز رفتار بنایا جائے گا ۔ مجموعی طور پر 150سے 180جدید بسیں چلائی جائیں گی۔
ان پراجیکٹس کی خاص بات یہ ہے کہ ان کو تین مختلف مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔
پہلا مرحلہ انفراسٹرکچر کی تیاری کا ہوگا، دوسرا مرحلہ بسیں لانے اور چلانے اک ہوگا اور تیسرا مرحلہ فیئر کاسٹنگ (کرائے کی وصولی کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کی تنصیب و عملدرآمد) سے متعلق ہوگا۔ ان تینوں مراحل کو ایک کمپنی یا گروپ بھی دلچسپی ظال کر کے حاصل کرسکے گا اور الگ اگ مراحل پر دلچسپی رکھنے والی کمپنیاں گروپ بھی اس مقابلے میں شامل ہوسکیں گی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ لاہور کے بعد راولپنڈی میں میٹرو بس منصوبہ چلانے والی ترک کمپنی نے کراچی میں میٹرو بسیں چلانے سے انکار کردیا ہے اس سلسلے میں حکومت سندھ کی ذمہ دار شخصیات نے ترک کمپنی کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا تھا اور کراچی میں بھی میٹرو بس چلانے کے منصوبہ پر کام شروع کرنے کی پیشکش کی تھی لیکن ترک کمپنی نے معذرت کرلی بظاہر سندھ کے حالات کو غیر تسلی بخش قرار دیا گیا ہے لیکن حکومت سندھ کے ذمہ دارذرائع نے ندائے ملت کو بتایا ہے کہ ترک کمپنی کے لوگوں نے صاف جواب دیا ہے کہ وہ بھائی شہباز شریف کے مشورے کے بغیر پاکستان میں کسی بھی پراجیکٹ میں ہاتھ نہیں ڈالیں گے۔
گویا شہباز شریف اگر کہیں گے تو وہ کسی اور شہر کی طرف دیکھیں گے ورنہ نہیں۔
حکومت سندھ نے اس حوالے سے شہباز شریف سے تو رابطہ نہیں کیا البتہ چین اور کوریا سمیت دیگر ملکوں کی بعض کمپنیوں سے کراچی میں نئی جدید بسیں چلانے کے منصوبے کے حوالے سے بات چیت ضرور شروع کردی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ کس قدر تیزی کے ساتھ ان منصوبوں کو شرو کرایا جاتا ہے بظاہر منصوبے تو بہت اچھے ہیں لیکن ان کو مکمل ہونے میں کافی وقت لگے گا۔
ضرورت اس بات ہے کہ جلد از جلد ان منصوبوں کو حتمی شکل دے کر بغیر کوئی وقت ضائع کیے کام کا آغاز کردیا جائے کیونکہ کراچی میں پبلک ٹراسپورٹ کا بحران ہر گزرنے والے دن کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے۔ لوگوں کو گھر سے کام کاج کی جگہ آنے جانے میں شدید مشکلات اور مسائل کا سامنا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-05

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان