بند کریں
بدھ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
توانائی کا بحران
عوام بجلی اورگیس کو ترس گئے پاکستان توانائی کے شدید بحران کی زد میں ہے گرمیوں میں ہی نہیں بلکہ اب تو سردیوں میں بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ دوسری طرف گیس بھی نایاب ہوتی جا رہی ہے
اسعد نقوی :
پاکستان توانائی کے شدید بحران کی زد میں ہے گرمیوں میں ہی نہیں بلکہ اب تو سردیوں میں بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ دوسری طرف گیس بھی نایاب ہوتی جا رہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ بروقت اہم فیصلے نہ کرنا اور کمشن مافیا کی اجارہ داری ہے جس نے پورا نظام درہم برہم کر دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بروقت درست فیصلے کئے جائیں اور کمیشن مافیا کا خاتمہ کیا جائے۔

حقیقت سے نظریں نہ چرائی جائیں تو یہ تسلیم کرنا ہوگاکہ پاکستان اس وقت توانائی کے شدید بحران کا شکار ہے۔ بجلی کی لوڈشیدنگ تو عروج پر تھی ہی لیکن اب گیس کی بندش بھی معمول کی بات ہے اب ہمارے ہاں گرمیوں میں بجلی کمیاب ہوتی ہے تو سردیوں میں گیس نایا ب ہوجاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہرگز نہیں کہ پاکستان میں توانائی کے ذرائع ختم ہو گئے ہیں بلکہ اس کی وجہ کمیشن مافیا کی ہٹ دھرمی اورہمارے پالیسی سازوں کی نا اہلی ہی ہے۔
یہی کمیشن مافیا دولت کمانے کے چکر میں اہم فیصلوں کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
پاکستان معدنی وسائل کی دولت سے مالا مال ہے لیکن ان معدنی وسائل کو استعمال میں لانے کے حوالے سے ٹھوس پالیسی اور طریقہ کار وضع نہیں کا جاسکا۔ ہمارے ہاں آبادی کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جبکہ اس کی نسبت وسائل استعمال میں لانے کی صلاحیت میں اتنا اضافہ نہیں ہو سکا۔
پاکستان اپنی توانائی کی ضرورت کو پورا کرنے اور خاص طورپر بجلی کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے لیکن اندورنی سیاسی اختلافات، علاقائی سیاست اور غیر ذمہ دارانہ رویے کے ساتھ کمشن مافیا کی اجارہ داری کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ ہمارے ہاں توانائی کا بحران ختم کرنے کے لئے ایسے منصوبے بھی بنائے گئے جن سے یہ بحران تو ختم نہ ہوا لیکن مہنگائی میں اضافہ ہو گیا۔
اس کی ایک مثال رینٹل پاور پلانٹس اور بجلی کی پیداوار کے لئے مہنگے فرنس آئل کا استعمال بھی ہے ۔ اس سے بجلی پر لاگت سے کہیں زیادہ بڑھ گئی جس سے فائدہ کی بجائے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستان اب توانائی کے اس بحران سے نکلنے کے لیے ترکی اور چین کے ساتھ منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ پاکستان اور چین نے خصوصاََ پن بجلی کے منصوبوں پر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس حوالے سے پاک چین جوائنٹ انرجی ورکنگ گروپ نے باہمی تعاون اس سلسلے کو آگے بڑھانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ پن بجلی کے منصوبے اپنی جگہ لیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان قدرتی گیس کے حوالے سے بھی شدید بحران کا شکا ر ہو شکا ہے۔ ملک میں گیس کی بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے گیس پائپ لائن منصوبے بہت ضروری ہیں ۔اس حوالے سے دو اہم منصوبے بعض وجوہات کی بنا پر کھٹائی میں پڑے ہوئے ہیں۔
ایک منصوبے میں ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور بھارت شامل ہیں جنہیں ” ٹی اے پی اے “ بھی کہا جاتا ہے جبکہ دوسرے میں ایران اور پاکستان شریک ہیں۔اسے ” آئی پی“ بھی کہا جاتا ہے۔ ”ٹی اے پی اے“ منصوبے کے حوالے سے مستقبل میں حالات زیادہ بہتر نظر آرہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 2014 ء کے بعد کے افغانستان کے حالات کے بارے میں ابھی تک کوئی واضح صورتحال سامنے نہیں آئی۔
غالب امکان یہی ہے کہ افغانستان سکیورٹی مسائل کا شکار ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں اس گیس پائپ لائن منصوبے کے حوالے سے شدید تحفظات موجود ہیں۔ دوسری طرف بھارت اور پاکستان بھی روایتی حریف کے طور پر جانے جاتے ہیں اور یہ دونو ں ملک اس منصوبے کا حصہ ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان اس وقت بھی پانی کے مسئلہ پر شدید اختلافات موجود ہیں اور دونوں ممالک اس معاملے پر عالمی عدالت کا رخ بھی کر چکے ہیں ۔
اس منظر نامے کو دیکھتے ہوئے پاکستان اور بھارت سے مشترکہ گیس پائپ لائن کا خیال اپنی جگہ کئی تحفظات رکھتا ہے۔ گیس پائپ لائن کے حوالے دوسرا منصوبہ آئی پی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایران اور پاکستان تک محدود ہے۔ اس لیے اسے بہتر منصوبہ سمجھا جا رہا تھا ۔ بد قسمتی سے اس منصوبے کو آغاز سے ہی مختلف تنازعات میں اُلجھا دیا گیا ۔ ایک طرف بھارت نے انکار کیا تھا تو دوسری جانب امریکی پابندیاں بھی عائد کر دی گئیں۔
ایران امریکی پابندیوں سے آزاد ہوا تو بھی یہ معاملہ سلجھ نہیں پایا۔ صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ اب پاکستان ایک معاہدے سے مکمل طور پردستبردار ہو چکا ہے۔
پاکستان اس وقت گیس اور بجلی دونوں حوالوں سے ہی مشکلات کا شکار ہے۔ لوڈشیڈنگ کا اثر حکومت پر بھی پڑتا ہے اور عوام کی جانب سے غصہ اور نفرت کا اظہار بھی کیا جاتا ہے۔ہمارے ہاں کسی ترتیب اورطریقہ کار کے بغیر وسائل کا بے دریغ استعمال خود ہمارے سامنے ہی سنگین مسئلہ کی صورت آگیا ہے ۔
گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ روز مرہ اشیا کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔
توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے طویل مدتی منصوبے تیار کئے جائیں اورا ن کے فوائد و نقصانات کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جائے۔وقتی طور پر ” ڈنگ ٹپاو“ پالیسی سے کچھ دن کے لئے تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں لیکن اس کے بعد حکومتی کار کردگی کا بول کھل جاتا ہے۔ اسی طرح وقتی پالیسیوں سے ملنے والا چند روز فائدہ بعد میں حکومت کے گلے پڑ جاتا ہے جب تک اس سیکٹر سے کمیشن مافیا کا خاتمہ نہیں ہو گا اور ایماندار پالیسی ساز بروقت اہم فیصلے کر کے عملی اقدامات شروع نہیں کریں گے تب تک صورتحال بہتر ہونا مشکل ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-02-10

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان