بند کریں
بدھ فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
توانائی بحران ختم ہوجائے تو۔۔۔
یہ ملکی معیشت کو مستحکم بنادے گا۔۔۔۔۔ 2025ء تک مکمل کئے جانے والے ان منصوبوں پر 45ارب ڈالرز لاگت آئے گی۔ 34ارب ڈالرز کے منصوبے توانائی کے شعبے میں شروع کئے جائیں گے
علیزہ چودھری:
اس وقت پاکستان کو توانائی کے بدترین بحران کا سامنا ہے، ساتھ ہی بڑھتی ہوئی آبادی اور معیشت میں پھیلاؤ کے باعث توانائی کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس سلسلے میں اس سال سے ویسٹ ٹو انرجی، سمال ہائیڈرو اور شوگر کو جنریشن سے بجلی کے پیداواری منصوبے شروع کئے جارہے ہیں۔ چین کے ساتھ حالیہ سرمایہ کاری اور منصوبوں کے تحت 10ہزار میگاواٹ بجلی کا حصول بھی متوقع ہے۔

توانائی بحران کے خاتمے کے ساتھ ہی پاکستان کے مسائل پر بڑی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔ دوسرا مرحلہ ان منصوبوں کی تکمیل میں شفافیت اور غیر جانبداری ہے۔ پاکستان میں توانائی بحران سے پیدا ہونے والے مسائل کی ایک لمبی فہرست ہے۔
ماضی میں رینٹل پاور پلانٹ کی بدترین مثال سے سبق لینا چاہئے۔ یہ ایک ایسا باب ہے جس میں پاکستان تاریخ کی بدترین کرپشن کی گئی۔
رینٹل پلانٹس کے ناکام ہونے کی وجہ ایندھن کی کمیابی تھی جبکہ ان کا کرایہ کئی ملین ڈالر ادا کر کے ملکی معیشت پر بھاری بوجھ ڈالا گیا۔
دراصل حکومت کو ایک بڑا بحران ملک میں سیاسی حالات کے طور پر بھی درپیش ہے۔ معاشی ترقی کے عمل میں سب سے اہم بات سیاسی استحکام سے ہوتی ہے۔ حکومت کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ جن نئے منصوبوں کو وہ چین یا جرمنی کی مد سے آگے بڑھانا چاہتی ہے ان پر کتنی دیر میں عمل درآمد ہگا کیونکہ پہلے بھی حکومت نے کئی منصوبوں پرعمل درآمد شروع کیا تھا لیکن نظام میں کمزوری کے باعث خاطر خواہ تنائج برآمد نہیں ہوسکے۔
اب بھی جو نئے منصوبے حکومت نے شروع کرنے کا ارادہ کیا ہے ان منصوبوں کا نتیجہ فوری طور پر نہیں نکلے گا۔ اس کیلئے تین سے چار برس انتظار کرنا ہوگا۔ پاکستان کو اندھیروں سے نکالنے اور ترقی کے روشن راستے پر ڈالنے کیلئے وزیراعظم نوازشریف کے دورہ چین میں اربوں ڈالرز کے 19معاہدے طے پائے اور دس ہزار چار سو میگاوٹ بجلی کی پیداوار کے منصوبے پہلا ہدف ہے۔
وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ملک میں بجلی آگئی تو سمجھو سب کچھ آگیا۔ پاکستان کو اندھیروں سے نکال کر ترقی کے روشن راستے پر چلنے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔
2025ء تک مکمل کئے جانے والے ان منصوبوں پر 45ارب ڈالرز لاگت آئے گی۔ 34ارب ڈالرز کے منصوبے توانائی کے شعبے میں شروع کئے جائیں گے۔ ان میں پہلے مرحلے میں دس ہزار چار سو میگاواٹ بجلی بنانے کے وہ منصوبے ہیں جن پر فوری کام شروع کیا جائے گا۔
ملک میں بجلی آگئی تو پاکستان کے بہت سے مسائل کا خاتمہ ہوجائے گا۔ کیونکہ توانائی کے منصوبوں پر عمل درآمد سے تھر مستقبل میں میں توانائی کا پارک بن جائیگا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق چین سے 45ارب ڈالر کے جو سمجھوتے ہوئے ہیں ان میں سے 34ارب ڈالر توانائی اور 11ارب ڈالر بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں شامل ہیں۔ ان میں قائداعظم سولر پارک میں شمسی توانائی پیدا کرنے کے معاہدے سمیت ساہیوال میں کوئلے سے ایک ہزار 320میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے معاہدے بھی شامل ہیں۔
علاوہ ازیں کوئلے کی کان کنی، پن بجلی اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کو بھی اس معاہدے کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اسی طرح 1320میگاواٹ کا سینو ہائیڈرو ریسورس پاور پراجیکٹ، 2600میگاواٹ کا ساہیوال کول فائر پراجیکٹ، 2300 میگاواٹ کا اینگرو تھرکول پاوار پراجیکٹ نیز مظفر گڑھ رحیم یار خان اور ایس ایس آر ایل 1320میگاواٹ کے کول پاور پراجیکٹ سمیت کئی نئے منصوبے شامل ہیں اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی ترقی اور فنی معاونت منصوبے بھی شامل ہیں۔
ان منصوبوں میں رانی کوٹ سے اسلام آباد تک 440کلو میٹر قراقرم ہائی وے روڈ کی تعمیر کراچی لاہور موٹروے، حویلیاں ڈرائی پورٹ کراس بارڈر، آپٹیکل فائبر سمیت دیگر معاہدے بھی کئے گئے ہیں۔
دونوں ممالک میں تھر سے 65لاکھ میٹرک ٹن کوئلہ نکالنے کا معاہدہ بھی کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ چین نے وعدہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں 4ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدوں کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے میں اپنا دوستانہ کردار ادا کرے گا۔

توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے پاکستان میں 3200 میگاواٹ کے 45ونڈ پاور پراجیکٹس پر کام جاری ہے۔ وزارت پانی و بجلی آئندہ سال 2ارب ڈار سے مزید 10ونڈ انرجی کے علاوہ ویسٹ ٹو انرجی، سمال ہائیڈرو اور شوگر کو جنریشن پراجیکٹس شروع ہوں گے۔
اس وقت دنیا میں 1.3ارب افراد بجلی کی سہولت کے بغیر رہ رہے ہیں۔ جبکہ 2030ء میں ان کی تعداد ایک ارب رہ جائے گی۔
ان میں 70کروڑ افراد کا تعلق جنوبی ایشیاء کے ممالک سے ہوگا۔ متبادل توانائی کے ماہرین نے کہا ہے کہ توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے روایتی طریقوں کی بجائے غیر روایتی اور متبادل ذرائع سے بجلی اور توانائی کے حصول کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے وسیع مواقع موجود ہیں جبکہ صرف صوبہ پنجاب میں باؤگیس کی مدد سے 5400میگاواٹ سے ذائع بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔
بائیوگیس کی مدد سے بجلی پیدا کر کے زرعی ٹیوب ویلوں کو چلا کر توانائی کی نمایاں بچت کر کے توانائی بحران پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ وزارت پانی و بجلی کے ذرائع کے مطابق ملک میں 3200 میگاواٹ پیداواری گنجائش والے 45ونڈ پاور پراجیکٹس پر کام جاری ہے جس سے 106میگاواٹ بجلی کی کمرشل پیداوار جلد شروع ہوجائے گی اس کے علاوہ 150میگاواٹ کے ونڈ انرجی پراجیکٹ زیر تعمیر ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-01-06

(0) ووٹ وصول ہوئے