بند کریں
جمعرات فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
توانائی بچت…تجارتی سرگرمیاں اور توانائی کمیٹی کافیصلہ
تجارتی مراکز کو ایک مرتبہ پھر رات آٹھ بجے بند کرنے کا فیصلہ کرلیاگیاہے۔ اس سے پہلے بھی گزشتہ دور حکومت میں ایک دو مرتبہ ایسے فیصلے سامنے آچکے ہیں۔ جن پر عملدرآمد کم ہی ہوتا رہاہے۔ پرویزمشرف کے دور میں تو۔۔۔۔
احمد جمال نظامی:
تجارتی مراکز کو ایک مرتبہ پھر رات آٹھ بجے بند کرنے کا فیصلہ کرلیاگیاہے۔ اس سے پہلے بھی گزشتہ دور حکومت میں ایک دو مرتبہ ایسے فیصلے سامنے آچکے ہیں۔ جن پر عملدرآمد کم ہی ہوتا رہاہے۔ پرویزمشرف کے دور میں تو گھڑیوں کو ایک گھنٹہ آگے کردیاگیاتھا اور اس کا مقصد توانائی بچت قرار دیاگیاتھا لیکن اس کے باوجود توانائی کی تو بچت نہیں ہوسکی تھی البتہ سکول ‘ کالج ‘دفاتر ‘ ہسپتال ‘ تجارتی مراکز ‘ صنعتوں غرضیکہ ہر معمول زندگی بری طرح متاثر ہو کر رہ گیاتھا۔
چوہدری پرویز الٰہی کے دور حکومت میں بھی 2002ء کے عام انتخابات کے بعد ایک موقع پر تجارتی مراکز کو رات آٹھ بجے اور ریستوران ہوٹلز کو بالترتیب رات دس بجے بند کرنے کا فیصلہ کیاگیاتھا جس پر زیادہ عملدرآمد سامنے نہیں آسکا تھا اور ایک دو ہفتوں کی پابندی کے بعد یہ حکم قطعاً تسلیم ہوتا نظر نہیں آسکا تھا اور بالآخر اس وقت کی حکومت پنجاب نے اس فیصلے کو موخر ہی کر دیا تھا۔
پرویزمشرف کے دور اقتدار کے دوران وفاقی سرکاری محکمہ جات کی ہفتہ میں دو یوم تعطیل کا بھی فیصلہ کیاگیاتھا جو کہ آج بھی بدستور قائم ہے۔اس کے کتنے دو ر رس فوائد حاصل ہوسکے یا ہو رہے ہیں اس کا فیصلہ تو بہر طور عوام اور خود حکومت کرسکتی ہے۔ہفتے میں دو یوم تعطیل کے باوجود بجلی کا بحران نہ صرف اپنے طورپر موجود ہے بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں مزید سنگینی سامنے آئی ہے۔
تاہم 2008ء کے انتخابات کے بعد جب پنجاب میں وزیراعلیٰ میاں محمدشہباز شریف بنے تو اس وقت بھی توانائی کی بچت کیلئے مختلف اقدامات اٹھائے گئے جس میں کیمپ آفس کا مینار پاکستان میں لگا کر احتجاج کرنا بھی شامل ہے۔ مگر مختلف سامنے آنے والے خبروں کے مطابق کیمپ آفس کے ذریعے روایتی سیاسی احتجاج خود حکومت پنجاب کے اخراجات پر ایک نیا بوجھ بن گیا اور اس کے عملاً کوئی فوائد حاصل نہیں کئے جاسکے اب ایک مرتبہ پھر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیرصدارت کابینہ کے اجلاس میں تجارتی مراکز کو رات آٹھ بجے ‘شادی ہالز رات 10بجے اور ریستوران 11بجے رات بند کئے جانے کا فیصلہ کیاگیاہے۔
حکومت نے توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے مذکورہ فیصلہ کیاہے جس کا اطلاق پنجاب اور اسلام آباد میں ہوگا۔اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف‘ وفاقی وزراء شاہد خاقان عباسی‘ اسحاق ڈار ‘ خواجہ آصف ‘احسن اقبال ‘ عابد شیر علی ‘ جام کمال شاہ ‘ مصدق ملک ‘ سرتاج عزیز ‘ طار ق فاطمی سمیت وزارت پٹرولیم ‘ وزارت پانی و بجلی اور وزارت خزانہ کے دیگر حکام بھی موجود تھے۔
اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ پنجاب میں بھی اسی پلان پر عملدرآمد کیاجائے گا۔ وزیراعظم کو ایل این جی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایاگیاہے کہ ایک ٹرمینل قائم کیاگیاہے اور اس منصوبے سے پاکستانی کمپنیوں نے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کی ہے۔ 3600میگا واٹ بجلی کے منصوبے کی جلد تکمیل کیلئے وزیراعظم نے ہدایات جاری کی ہیں اورکہا ہے کہ اس میں سستی نہیں ہونی چاہئے۔
اجلاس میں بجلی کی قیمتوں کو کنٹرول اور صنعتوں کے آڈٹ اور ان کے تحفظ کی بھی منظوری دی گئی۔
ملک شدید انرجی کے بحران کاشکار ہے اور اس دلدل سے نکالنے کیلئے حکومت کو دن رات کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جبکہ تاجروں کی طرف سے رات آٹھ بجے مارکیٹیں بندکرنے کے فیصلہ کو ناقابل عمل قرار یاجارہاہے اوران کا موقف ہے کہ حکومت ایسے فیصلوں کے بجائے بجلی کی پیداوار بڑھانے کیلئے اقدامات کرے ۔
موجودہ حکومت نے 2013میں ہونے والے عام انتخابات کی انتخابی مہم کے دوران بجلی کے بحران کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے بہت سارے دعوے کئے تھے مگر حکومت کی طرف سے تاحال اس انداز میں یعنی اپنے وعدوں کے عین مطابق بجلی کابحران تو حل کیاجاتانظر نہیں آرہا۔تاہم حکومت نے جن منصوبوں پر کام شروع کررکھاہے اس سے 10000میگا واٹ بجلی حاصل ہونے کی قوی امید ہے۔
حکومت کو چاہئے کہ اپنی کوششیں جاری رکھے اور پاکستان کے دوست ملک چین کے ساتھ اسی طرح صنعتی اور توانائی کے شعبے میں اپنا کردار ادا کرتی رہے۔ تاجروں کو بھی چاہئے کہ وہ توانائی بچت کیلئے حکومت کی مہم میں اپنا کردار اداکریں۔ چائنا اس وقت دنیا میں سب سے بڑی معاشی ترقی کے طورپر ابھر چکاہے اور مزید ابھر رہاہے۔چائنا دنیا کا واحد ملک ہے جہاں پیداواری شعبے کو اس قدر وسعت اور ترقی دی جارہی ہے کہ اس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں شاید نہیں ملتی۔
راقم کو 2011میں چائنا جانے کا موقع ملا تھا چائنا نے بھی تجارتی مراکز اور دوکانیں رات آٹھ بجے بند کی جاتی ہیں۔ گھروں اور دیگر مقامات پر فالتو لائٹس رات آٹھ بجے بند کردی جاتی ہیں۔ ہوٹل وغیرہ کسی کسی مقام پر کھلے رہتے یا پھر سرکاری سطح کا کوئی شاپنگ مال رات کو حد 10بجے تک کھلا رکھاجاتاہے۔ ہوٹلز وغیرہ میں ٹھہرے ہوئے مہمانوں کے کمروں کے علاوہ ہوٹل لابیز اور اس کے اکثر ریستوران وغیرہ رات 8بجے یا حد 10بجے تک بند کردیئے جاتے ہیں۔
لہٰذا حکومت اگر ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں 8بجے تجارتی مراکزبند کروانا چاہتی ہے تو اس کیلئے تجارتی ایسوسی ایشنوں کو اعتماد مین لینا ہو گا۔ اس طرح کابینہ اجلاس کے فیصلے پر عملدرآمد کرنا زیادہ مشکل کام نہیں رہے گا اور عوام بھی اپنے آپ کو ان اوقات کے مطابق ڈھال لیں گے۔تاہم اس بات کی اہمیت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ حکومت بے شک عارضی بنیادوں پر اس فیصلے پر عملدرآمد شروع کردے مگر دیگر وزراء اعلیٰ کو بھی اعتماد میں لے کر اس پروگرام کا دائرہ کار باقی صوبوں تک وسیع کرے، تاکہ توانائی کی بچت کی اس مہم میں دوسر ے صوبے بھی اپنا کردار ادا کر سکیں۔
اس مقصد کیلئے حکومتی سطح پر مختلف ڈویڑنوں ، اضلاع ‘ تحصیلوں اور قصبوں کی تجارتی ایسوسی ایشنز کی منتخب باڈیز کو مدعو کرکے ان کے ساتھ افہام وتفہیم کی فضا پیدا کرنا ہو گی اسی میں ملک اور قوم کا مفاد ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-04-14

(0) ووٹ وصول ہوئے