بند کریں
بدھ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
تعلیمی بجٹ میں پنجاب دوسرے صوبوں پر سبقت لے گیا
بجٹ میں مختلف شعبہ ہائے زندگی بارے مخصوص کی جانے والی رقم حکومت کی ترجیحات کا تعین کرتی ہے۔اگر ایک حکومت صحت اور تعلیم کو اپنی اولین ترجیح ہونے کا دعویٰ کرتی ہے تو اس دعوے کی تصدیق ان شعبوں کیلئے
عثمان اکرم
بجٹ کسی مخصوص مالی سال کیلئے حکومت کا مالیاتی منصوبہ ہوتا ہے۔ یہ مالی سال میں آمدنی اور اخراجات کا تخمینہ پیش کرتا ہے۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کا 1973ء کا آئین صوبائی حکومت کیلئے لازم قرار دیتا ہے کہ وہ مالیاتی سال کے آغاز سے قبل صوبائی اسمبلی سے منظوری کیلئے بجٹ تجاویز تیار اور پیش کرے۔ پنجاب میں امسال 12جون 2015ء کو صوبے کی پہلی خاتون وزیر خزانہ عائشہ غوث پاشا نے مجموعی طور پر 1447.2 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا۔

بجٹ میں مختلف شعبہ ہائے زندگی بارے مخصوص کی جانے والی رقم حکومت کی ترجیحات کا تعین کرتی ہے۔اگر ایک حکومت صحت اور تعلیم کو اپنی اولین ترجیح ہونے کا دعویٰ کرتی ہے تو اس دعوے کی تصدیق ان شعبوں کیلئے بجٹ میں مختص کی جانے والی رقم سے کی جائے گی۔ حکومت پنجاب ہمیشہ سے تعلیم کیلئے بجٹ میں تاریخی رقم مختص کرنے کے حوالے سے جانی جاتی ہے اور اس سال اس نے یہ اعزاز برقرار رکھا ہے۔
حکومت پنجاب نے تعلیم کیلئے بجٹ میں 310ارب 20کروڑ روپے کی ریکارڈ رقم مختص کی ہے جو دوسرے تمام صوبوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ پنجاب کے بعد خیبر پختونخوا کی حکومت نے تعلیم کیلئے 19.6فیصد جبکہ سندھ نے 19.6فیصد بجٹ مختص کیا ہے۔ یہ اعداد و شمار بخوبی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ تعلیم حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔ اگرچہ پنجاب حکومت نے بجٹ میں 310ارب 20کروڑ روپے تعلیم کیلئے مختص کئے ہیں لیکن اگر سپیشل ایجوکیشن ،غیررسمی تعلیم اور ٹیکنیکل ایجوکیشن کو تعلیم کیلئے بجٹ میں شامل کرلیا جائے تو یہ مجموعی طور پر 400ارب روپے کی رقم بنتی ہے۔
پنجاب حکومت کے مخالفین اعتراض کرتے ہیں کہ یہ ترقیاتی منصوبوں پر بہت زیادہ رقم خرچ کرتی ہے۔اگر مالی سال 2015-16کے بجٹ کا تجزیہ کیا جائے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ پنجاب کا ترقیاتی بجٹ 400ارب روپے ہے جبکہ اتنی ہی رقم تعلیم کیلئے بھی مختص کی گئی ہے۔ چنانچہ پنجاب حکومت تعلیم کو ترقیاتی منصوبوں سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی پر ترجیح دیتی ہے۔2015-16کے بجٹ میں کئی تعلیمی منصوبے شامل ہیں جن میں سے کچھ کا مختصر ذکر ضروری ہوگا۔

پنجاب کے پسماندہ علاقوں میں 4نئے دانش سکولوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا جبکہ پنجاب انڈومنٹ فنڈ کیلئے مزید 2ارب روپے کا اضافہ کیا گیا۔پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت 500 نئے پرائمری سکولوں کی تعمیرکی جائے گی اورپنجاب کے سکولوں میں عدم دستیاب سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔پنجاب بھر کے سکولوں میں 22,000اضافی کلاس رومز کی تعمیرکی جائے گی جبکہ پنجاب میں سکولوں کی 74,000خطرناک عمارات کی دوبارہ تعمیرممکن بنائی جائے گی۔
1.8ملین بچوں کیلئے تعلیمی واؤچرزکا اجراء کیا جائے گا تاکہ وہ سرکاری خرچ پر اپنی مرضی کے نجی سکول سے تعلیم حاصل کرسکیں۔پنجاب کے سیکنڈری /ہائیرسیکنڈری سکولوں میں 990آئی ٹی /سائنس لیبارٹریوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی اورمیرٹ پر مبنی نظام کے ذریعے طالب علموں کو ایک لاکھ لیپ ٹاپس فراہم کئے جائیں گے۔لاہور نالج پارک کا قیام عمل میں لایا جائے گا جبکہ جھنگ اور اوکاڑہ میں نئی یونیورسٹیاں بنائی جائیں گی۔
وہاڑی میں بہاؤالدین زکریایونیورسٹی کے ضمنی کیمپس کی تعمیرہوگی اور لاہور میں ہائیرایجوکیشن کمپلیکس تعمیرکیا جا ئے گا۔کالاشاہ کاکو کے مقام پر جی سی یونیورسٹی، لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی، سیالکوٹ میں وویمن یونیورسٹی اور ڈیرہ غازی خان میں غازی یونیورسٹی کے ضمنی کیمپس تعمیر کئے جائیں گے۔پنجاب ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے ذہین طلبہ کیلئے وظائف کی تعداد کو ایک لاکھ تک لے جایا جائے اورپنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے زیراہتمام پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ کے تحت سکولوں کی تعداد کو بڑھاکر 6000تک لے جایا جائے گا۔
پنجاب کے 3,50,000سے زائد اساتذہ کی تربیت کیلئے ایک ارب روپے کی رقم کا مختص کی گئی۔
درج بالانکات ان اقدامات میں سے چند ایک کی جھلک ہے جو حکومت پنجاب اگلے مالی سال کے دوران معیاری تعلیم کی فراہمی کیلئے اٹھائے گی۔
وزیراعلیٰ پناب محمد شہباز شریف کی سربراہی میں حکومت پنجاب کو یہ اعزاز حاصل رہا ہے کہ اس نے نہ صرف پنجاب بلکہ ملک کے ہونہار طلبہ کی حوصلہ افزائی کی ہے۔
چنانچہ لیپ ٹاپس کی تقسیم ہو یا ہونہار طلبہ میں نقد انعامات کی تقسیم یا پھر بیرون ممالک کا مطالعاتی دورہ، ہرموقع پر تمام صوبوں کے طلبہ کو مواقع فراہم کرنا پنجاب حکومت کی انفرادیت ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی علم دوستی کا ثبوت ہے کہ انٹرنیٹ پر ٹیکس کا نوٹیفکیشن یہ کہہ کر منسوخ کر دیا گیا کہ انٹرنیٹ کے ذریعے طلبہ اپنی علمی و تحقیقی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں۔
پنجاب میں بچوں کے سکولوں میں 100فیصد داخلے کو یقینی بنانے کیلئے ”پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب“ کے نام سے جامع پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے جس کے تحت ارکان پارلیمنٹ اپنے اپنے حلقے میں ایک ایک سکول اڈاپٹ کریں گے جس سے سکولوں کی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور سکول انرولمنٹ میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ پنجاب ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کا قیام ایک تاریخی اقدام ہے۔
مالی سال 2011-12میں اس ادارے کا قیام عمل میں آیا جس کا مقصد تھا کہ کوئی بھی ذہین طالب علم وسائل کی کمی کی وجہ سے اپنی تعلیم ادھوری نہ چھوڑے۔
2015-16ء کے بجٹ میں PEEF کیلئے مزید 2ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے اور اس کا مجموعی حجم 15.5ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔ اس پروگرام کے تحت ابھی تک 62,439 وظائف دیئے جاچکے ہیں جبکہ آئندہ برس تک اس سے مستفید ہونے والے طلبہ کی تعداد بڑھ کر ایک لاکھ ہوجائے گی۔
پنجاب حکومت نے ہونہار طلبہ کی حوصلہ افزائی کی انوکھی مثال قائم کی ہے۔ وزراء اور اعلیٰ حکومتی عہدیداران کو پیش کیا جانے والا گارڈ آف آنر اب پوزیشن ہولڈرز کو پیش کیا جاتاہے جبکہ وزیراعلیٰ فلیگ شپ پروگرام کے تحت ان دنوں پوزیشن ہولڈرز کا وفد جرمنی ، سویڈن اور برطانیہ کی 22جامعات کے مطالعاتی دورے پر ہے۔دانش سکولوں میں مزدوروں ، کسانوں او ر غریبوں کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم اور رہائش مفت مہیا کی گئی ہے اور یہاں پڑھنے والے بچوں نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔
ملک میں بڑھتے ہوئے توانائی بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پنجاب نے آئندہ مالی سال میں ہزاروں سکولوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا پروگرام بنایا ہے اور اس مقصد کیلئے بجٹ بھی مختص کیا گیا ہے۔مختصر یہ کہ پنجاب حکومت تعلیم کے فروغ کیلئے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ بجٹ 2015-16ء میں تعلیم کیلئے مختص بجٹ یقینا صوبے میں معیاری تعلیم کی فرا ہمی کے ویڑن میں سنگ میل ثابت ہوگا۔
تاریخ اشاعت: 2015-07-14

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان