بند کریں
اتوار فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سوچی سمجھی لشکر کشی پر باغی کی تصدیق
پاکستان تحریک انصاف کے صدر جاوید ہاشمی نے عمران خان کے وزیر اعظم ہاؤس کی جانب بڑھنے کے فیصلے کا بھانڈہ پھوڑ دیا انہوں نے بتایا ہے تحرک انصاف کی کور کمیٹی نے وزیر اعظم ہاؤس کی طرف نہ بڑھنے کا فیصلہ کیا گیا
نواز رضا:
پاکستان تحریک انصاف کے ”آزادی مارچ“ اور پاکستان عوامی تحریک کے ”انقلاب مارچ ‘ جس نے پچھلے دو ہفتے سے شاہراہ دستور پر ”دھرنے“ کی شکل اختیار رکھی تھی اب پارلیمنٹ ہاؤس کا جنگلہ توڑ کر اس کے سبزہ زار میں ڈیرے ڈال ڈال لئے جس کے باعث پارلیمنٹ ہاؤس عملاً ”محاصرے “ کی حالت میں ہے۔ جہاں قومی اسمبلی کا اجلاس بھی اسی صورت حال میں جاری ہے۔
یہ انقلاب و آزادی مارچ کے مظاہرین کی خلاف ورزی ہی تھی کہ وزیر اعظم ہاؤس کی طرف پیش قدمی کے جواب میں پولیس کو وزیر اعظم ہاؤس کو مظاہرین کی توڑ پھوڑ سے بچانے کے لئے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کرنا پڑا۔ اس دوران پولیس کو مظاہرین کو روکنے کیلئے ربڑ کی گولیاں بھی چلانی پڑیں اور اس کارروائی میں دو افراد ہلاک ہوئے جب کہ 500سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
کون اس بات سے واقف نہیں کہ پولیس نے ہر ممکن رعایت سے کام لیا اور ” نا مکمل پولیس کارروائی “ سے دھرنے کے شرکاء کو پارلیمنٹ ہاؤس کے لان پر قبضہ کرنے کا موقع مل گیا۔ پولیس اور مظاہرین میں تصادم کا سلسلہ تھما تو فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت کور کمانڈرز کے غیر معمولی اجلا س کے حوالے سے طرح طرح کی قیاس آرئیاں کی جانے لگیں۔
پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا گویا آئندہ چند گھنٹوں میں کچھ ہونے والا ہے۔ کور کمانڈرز کے اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری ہوا تو اس میں واضح ہو گیا کہ طاقت کا استعمال مسئلہ کو مزید بگاڑ دے گا لہذا فوری طور اس کا سیاسی حل نکالا جائے۔ اس دوران عام تاثر یہی رہا کہ فوج کی طرف سے حکومت کو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے طاقت کے استعمال سے روک دیا گیا۔
بلا شبہ اس سے مظاہرین کے حوصلے بڑھ گئے اور مظاہرین نے پی ٹی وی سنٹر اسلام آباد پر قبضہ کر لیا جس کے باعث ٹی وی نشریات 40منٹ تک معطل رہیں۔
صورت حال انتہائی گھمبیر ہے کل کیا ہو نے والا ہے ؟ اس بارے میں کوئی” سیاسی پنڈت“ پیشگوئی نہیں کر سکتا وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے پی ٹی وی اسلام آباد سنٹر پر حملے کی ذمہ داری عمران خان اور طاہر القادری پر عائد کی ہے اور کہاان کی اشتعال تقاریر کی وجہ سے پارٹی کارکنوں نے سرکاری عمارت پر قبضہ کیا ہے۔
اگرچہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے پی ٹی وی اسلام آباد سنٹر پر قبضہ کرنے والے کارکنوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے لیکن حکومت نے دونوں رہنماؤں کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف کے بظاہر ”غیر مسلح سیاسی لشکر“ نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سبزہ زار میں ”خیمہ بستی آباد“ کر رکھی ہے میں نمایاں کمی کے باوجود حکومت انہیں وہاں سے نکالنے میں اس لئے کامیاب نہیں کہ اس کے” ہاتھ پاؤں“ باندھ دئیے گئے ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے تحریری یقین دہانی کے با وجود ریڈ زون عبور کر کے جہاں حکومت کے لئے مشکلات پیدا کیں وہاں پی ٹی وی اسلام آباد سنٹر پر قبضہ کر کے اپنے لئے بدنامی مول لے لی ہے۔ اس لئے دونوں جماعتوں کی قیادت کو بار بار وضاحت کرنا پڑ رہی ہے حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے ساتویں دور میں خاصی پیش رفت کے باوجود اچانک ڈیڈلاک پیدا کرنے کے پیچھے ”پس پردہ قوتوں “ کا بڑا عمل دخل ہے کیو نکہ جس شب حکومت نے وزیر اعظم محمد نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے استعفے کے سوا تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے تمام مطالبات تسلیم کر لئے تھے اگلے روز حکومت کی طرف سے جواب دیا جانا تھا لیکن اس سے قبل ہی دھرنے کے شرکا ء کی وزیر اعظم ہاؤس کی جانب پیش قدمی سے پولیس اور دھرنے کے شرکاء کے درمیان تصادم ہو گیا جس سے مذاکرات میں ایک بار پھر ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا۔
اگلے روز پاکستان تحریک انصاف کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے عمران خان کے وزیر اعظم ہاؤس کی جانب بڑھنے کے فیصلے کا بھانڈہ پھوڑ دیا انہوں نے بتایا ہے تحرک انصاف کی کور کمیٹی نے کنٹینر میں منعقدہ اجلاس میں وزیر اعظم ہاؤس کی طرف نہ بڑھنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن شیخ رشید اور سیف اللہ نیازی نے ان کے کان میں کوئی سرگوشی کی جس کے بعد انہوں نے وزیر اعظم ہاؤس جانے کا اعلان کر دیا ہے انہوں نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ ڈاکٹر طاہر القادری ،عمران خان کو جلوس کے آگے رکھنا چاہتے تھے جب کہ عمران خان، ڈاکٹر طاہر القادری کو قیادت کرنے پر اصرار کرتے رہے عمران خان نے اگلے ہی روز باغی مخدوم جاوید ہاشمی کو اپنی جماعت سے نکال باہر کیا سیاسی حلقوں میں یہ سوال ابھی تک موضوع گفتگو ہے وہ کون سا اشارہ ہے جس نے عمران خان کو پارٹی کے فیصلے کو ”ویٹو“ کرنے پر مجبور کر دیا مخدوم جاوید ہاشمی نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پریس کانفرنس کر کے عمران خان پر ایک ”ڈرون حملہ“ کیا اور انکشاف کیا عمران خان پارٹی اجلاسوں میں اس بات کا برملا اظہار کرتے رہے ہیں کے ان کے سیاسی ایجنڈے کو فوج کی تائید حاصل ہے جب کہ وہ عدلیہ سے ”ٹیکنو کریٹ کی حکومت “ کے بارے میں فیصلہ حاصل کر لیں گے مخدوم جاوید ہاشمی کے الزامات نے جہاں عمران خان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہیاور انہیں دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے وہاں دونوں اہم ریاستی ادروں کو بھی وضاحتیں کرنے پر مجبور کر دیا ہے مخدوم جاوید ہاشمی نے عمران خان کی سیاست کو ایکسپوز کر کے وزیر اعظم محمد نواز شریف کو موجودہ صورت حال میں” بیل آؤٹ “ کر دیا ہے انہوں شیخ رشید احمد کو بھی ”ناپسندیدہ شخص unwanted قرار دے کر ان کے سیاسی کیرئیر پر سوال کا نشان لگا دیا ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق جو سیاسی بحران حل کرانے کے لئے پچھلے تین ہفتوں سے سیاسی بحران کے حل کے لئے کوشاں ہیں کے طلب کردہ سیاسی جماعتوں کے اجلاس میں سیاسی بحران کا حل تلاش کرنے کے لئے از سرنو کوششیں شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس روز 12 پارلیمانی جماعتوں نے وزیراعظم نواز شریف نے ملا قات کی جس میں وزیر اعظم نے پارلیمانی جماعتوں کی قیادت کو یقین دلایا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اعتماد اور اپنے آئینی حلف پر آنچ نہیں آنے دیں گے وہ کسی دباؤ کے تحت استعفیٰ دیں گے اور نہ ہی رخصت پر جائیں گے اسی ملاقات میں سیاسی جماعتوں پر مشتمل ” سیاسی جرگہ “ تشکیل دینے اور سپریم کورٹ میں ممکنہ ماروائے عدالت کیس میں فریق بننے کا فیصلہ کیا گیا۔

قومی اسمبلی کی گیارہ پارلیمانی جماعتوں نے تحریک انصاف اور عوامی تحریک سے حکومت کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کیلئے جو ” سیاسی جرگہ“ تشکیل دیا ہے اس نے عمران خان اور طاہرالقادری سے بات چیت شروع کر دی ہے یہ جرگہ وزیراعظم نواز شریف سے بھی ملاقات کرے گا۔سیاسی جرگہ میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق‘ ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار‘ بی این پی کے میر حاصل بزنجو‘ پیپلزپارٹی کے رحمن ملک اور مسلم لیگ (ضیاء) کے اعجازالحق از سر نو بات چیت کی کامیابی کے لئے کوشاں ہیں۔

پچھلے کئی روز سے عملاً پارلیمنٹ ،وزیر اعظم آفس ،سپریم کوٹ اور ایوان صدر ”محاصرے “ کی حالت میں ہیں سپریم کورٹ نے ممکنہ غیر آئینی اقدامات کیس کی سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف اورپاکستان عوامی تحریک سمیت دیگر جماعتوں کو نوٹس جاری کر رکھے ہیں۔ سپریم کورٹ اس بحران کو حل کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہے وزیر اعظم محمد نواز شریف کی جانب سے موجودہ سیاسی صورت حال میں تمام پارلیمانی جماعتوں کی تائید حاصل کرنے کے لئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جاری ہے جس میں تمام جماعتیں آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوریت کے تحفظ کے لئے وزیر اعظم محمد نواز شریف کی پشت پر کھڑے ہونے کے عزم کا اعادہ کر رہی ہیں۔
پارلیمنٹ کا اجلاس موجودہ سیا سی بحران کے حل ہونے تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے انعقاد سے جہاں وزیر اعظم محمد نواز شریف کی سیاسی پوزیشن مستحکم ہو گئی ہے وہاں پارلیمنٹ کی بساط لپیٹ دینے کے خواہشمند عناصر کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے موجودہ صورت حال میں ” سیاسی لشکر“ کو پسپائی اختیار کرنا پڑے گی اگر اس کی قیادت نے حقیقت پسندانہ طرز عمل اختیار کر کے حکومت سے کوئی معاہدہ کر لیا تو اسی میں اس کی واپسی کے لئے ”محفوظ راستہ“ ہے بصورت دیگر سرکاری عمارات پر قبضے کی روش پورے جمہوری نظام کی بساط لپیٹ دینے کا باعث بن سکتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-09-05

(0) ووٹ وصول ہوئے