بند کریں
بدھ فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سندھی،بلوچی،پنجابی اورپٹھان ہم سب کی پہچان پاکستان
14اگست کے موقع پرگلیوں بازاروں سرکاری وغیر سرکاری عمارتوں کو سبز ہلالی پرچموں سے سجایا جاتا ہے،ننھے مْنے دوست جہاں عیدالفطر کے موقع پر ملبوسات کی خریداری میں مصروف نظر آتے ہیں وہاں جشن آزادی کے موقع پرسٹکر بیج اورجھنڈیاں خریدنے میں پیچھے نہیں رہتے
مظہر حسین شیخ:
اگست کے آغاز میں پورے ملک میں جشن آذادی کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں ملک کے کونے کونے میں یہ سلسلہ جاری رہتا ہے جوں جوں14اگست کادن قریب آتا ہے لوگوں کاجوش وجذبہ قابل دید ہوتا ہے،سندھی، بلوچی، پنجابی اور پٹھان ہم سب کی پہچان ہے پاکستان۔پاک وطن ہمیں جان سے بھی پیارا ہے۔
14اگست کے موقع پرگلیوں بازاروں سرکاری وغیر سرکاری عمارتوں کو سبز ہلالی پرچموں سے سجایا جاتا ہے،ننھے مْنے دوست جہاں عیدالفطر کے موقع پر ملبوسات کی خریداری میں مصروف نظر آتے ہیں وہاں جشن آزادی کے موقع پرسٹکر بیج اورجھنڈیاں خریدنے میں پیچھے نہیں رہتے۔
اس قومی تہوار کے موقع پربالخصوص بچوں کا جوش و جذبہ دیکھنے کے قابل ہوتا ہے جبکہ نوجوان لڑکے غیر ضروری مشاغل میں مصروف عمل رہتے ہیں۔ ٹولیوں کی ٹولیاں موٹر سائیکلوں پر نکلتی ہیں ون ویلنگ کرتے ہیں،ایک بائیک پر دو کی بجائے چار چار لڑکے سوار ہوتے ہیں،ایک دوسرے کے پیچھے اندھا دھند بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔تیزرفتاری کا مظاہرہ کرتے ہیں، زیادہ تر نے اپنی موٹر سائیکلوں کے سائیلنسرکی بفل نکالی ہوتی ہے جن کی آواز دور تک سنائی دیتی ہے گھر میں بیٹھے بیمار افراد‘ پڑھنے والے بچے ان آوازوں سے پریشان اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیتے ہیں۔
یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اسلام جس نے انسانیت کو جلا بخشی اور انسان کو انسان ہونے کا درجہ دیا۔ اخلاقیات کا درس دیا۔محبت و اخوت کا پیغام دیا۔ بھائی چارے کو فروغ دیا‘ ہم اس خوشی کے موقع پریہ باتیں یاد رکھتے ہیں؟ اس کا اندازہ ہمیں چودہ اگست کے روز ہو جاتا ہے۔ ہمارے نوجوان جو قوم کا مستقبل ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ اس قومی تہوار کو ادب اور اخلاق کے دائرے میں رہ کر منائیں اس دن اچھے اچھے پروگرام ترتیب دئیے جائیں جن میں بچوں اور نوجوان نسل کو پاکستان کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔
انہیں شعور دیا جائے کہ یہ ملک کتنی قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آیا۔ ہمیں اس کی حفاظت کیسے کرنی چاہئے۔ قدرت نے ہمیں آزادی جیسی عظیم نعمت عطا کی ہے‘ ہمیں اس نعمت کا تحفظ کیسے کرنا ہے۔ ہمیں دنیا کو بتانا ہے کہ ہم ایک باوقار قوم ہیں اور اس کیلئے اپنے عمل سے ثابت کرنا ہے۔
ہمارا پیارا وطن جہاں ہم آزاد زندگی بسر کر رہے ہیں پہلے ہندوستان کا حصہ تھا۔
اس خطے کو برصغیر کہتے ہیں۔ برصغیر پر مسلمانوں کی حکومت تھی پھر انگریز تجارت کے بہانے آئے اور اپنے قدم جمانے کیلئے انگریزوں نے ہندوستان کے باشندوں میں پھوٹ ڈالنا شروع کر دی پھر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے اورہندوستان پر قبضہ کر لیا۔ ہندوستان کے باشندوں کو انگریزوں کی چال کا پتہ چل چکا تھا انہوں نے انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کیلئے تحریکیں چلائیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہندو اور انگریز کبھی بھی مسلمانوں کے خیرخواہ نہیں ہو سکتے۔
قیام پاکستان سے قبل مسلمانوں کو ہندوستان میں یہ عزت و وقار حاصل نہ تھا جو اس آزاد وطن کے طفیل ہماری پہچان ہے۔ پاکستان ہماری پہچان اور ہمارا گھر ہے اس” گھر“ کوحاصل کرنے کے لئے ہمارے بڑوں نے بے شمار قربانیاں دیں،23 مارچ 1940سے لے کر 14اگست 1947ء تک تحریک پاکستان کی داستان بڑی طویل ہے جو طالب عملوں نے اپنی نصابی کْتب میں یقیناً پڑھی ہو گی۔
اس دن کو منانے کامقصد نئی نسل میں شعور پیدا کرنا ہے،ان کویہ سمجھانا ہے کہ پاک وطن کی آزادی کے لئے جس طرح ہمارے بڑوں نے قربانیاں دی ہیں ہمیں بھی چاہئے کہ ملک وقوم کی سلامتی کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار رہیں اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب ہم میں سے ہر کوئی اپنا فرض ایمانداری سے ادا کرے گا،نسل نو کو چاہئے کہ اپنے پیارے وطن کا نام روشن کرنے اور پاک وطن کی ترقی اورخوشحالی کے لئے خوب تعلیم حاصل کریں کیونکہ تعلیم کے بغیر انسان نامکمل ہے بعض بچوں کا خیال ہے کہ مال ودولت سے انسان بڑا آدمی بنتا ہے یہ بات بالکل غلط ہے۔
تعلیم اور اعلیٰ کردار کا مالک انسان ہی بڑا آدمی بنتا ہے بڑا آدمی بننے کے لئے ہمیں اپنے محسن اپنے قائد بانی پاکستان قائد اعظم کے نقش قدم پر چلنا ہوگا ان کے سنہری اقوال کو عملی جامہ پہنانا ہوگا۔جو قومیں اپنے محسنوں کو بھول جاتی ہیں، ناکا می ان کا مقدر بن جاتی ہیں۔تاریح گواہ ہے قائد اعظم کو تحریک پاکسان سے قیام پاکستان تک کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری اور جو فیصلہ کیاتھا اس پر عمل کر کے دکھایا 14 اگست کا تاریحی دن بڑوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی بڑے جوش وخروش سے مناتے ہیں۔
یہ دن ہماری قومی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب تحریک پاکستان کے رہنما اپنے عظیم لیڈر حضرت قائد اعظم کی قیادت میں لاہور کے اقبال پارک ( منٹو پارک تھا) میں جمع ہوئے اور آزاد وطن پاکستان بنانے کی قرار داد 23مارچ کومنظور ہوئی،اور پاکستان بنانے کا مطالبہ تسلیم کر لیاگیا چاہئے تو یہ تھا کہ اس کے چند ماہ بعد پاکستان بن جاتا لیکن دشمنوں کاخیال تھا کہ اس تحریک کو دبا دیا جائے گا وہ اپنی اس غلط فہمی میں مبتلا تھے،تحریک پاکستان نے اتنا زور پکڑا کہ دْشمنوں کو گھٹنے ٹیکنے پڑے آخر کار14 اگست1947ء کو آزادی کا سورج طلوع ہوا اورایک عظیم اسلامی ریاست دنیا کے نقشے پر ابھری۔
پاکستان کے حصول کیلئے دی جانے والی قربانیاں رنگ لائیں۔ لیکن ہر پاکستانی کو ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ ہماری آن بان، عزت، شہرت وقار وطن عزیز کی ہی وجہ سے ہے آج اگر کوئی جج ہے، سائنس دا ن ہے، ڈاکٹر، ہے،انجینئر ہے کارخانہ دار ہے،فیکٹریوں کا مالک ہے،دولت مند ہے تو صرف اور صرف پاکستان کی وجہ سے ہے۔پاکستان نے ہمیں بہت کچھ دیا، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے پاکستان کو کیا دیا؟یہ سب کو سوچنا چاہئے۔
ہمارا پیارا وطن پاکستان جہاں ہم آزادی کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور سکھ کا سانس لے رہے ہیں بے شمار قربانیوں اور جدوجہد کے بعد حاصل کیاگیا ہے۔
ننھے منے دوستو! یہ وطن ہمارا ہے اور ہم ہی اس کے پاسبان ہیں۔آیئے عہد کریں کہ گزشتہ برسوں میں ہم سے یا ہمارے ”بڑوں“ سے جو کوتاہیاں ہوئی ہیں ان کو ہر گزنہیں دہرائیں گے ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہمارا ہر قدم وطن کی خوشحالی اور استحکام کیلئے ہو اگر پاکستان ہے تو ہم ہیں ہماری عزت و آبرو محفوظ ہے اگر پاکستان نہیں تو پھر ہمارے وجود کا بھی کوئی مقصد نہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-08-13

(0) ووٹ وصول ہوئے