بند کریں
جمعہ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سندھ سے پنجاب تک ہزاروں جعلی بھرتیاں!
طلباء کو ان جعلی بھرتیوں کا ”میرٹ “ کون بتائے گا؟۔۔۔یہ افراد ٹی ایم اوز، ٹاوٴن افسر، اسٹنٹ، جونئیر کلرک، ڈرائیور، چوکیدار، چپراسی ، کمپیوٹر آپریٹر سے لے کر خاکروب تک کی آسامیوں پر بھرتی کیے گئے
شاہ جی:
سرکاری محکموں میں گرپشن اب ضرب المثل بن چکی ہے۔ اب تو صورت حال یہ ہے کہ اگر کوئی سرکاری محکموں کی کرپشن پر انگلی اٹھائے تو ڈھٹائی سے کچھ ایسا ہی جواب ملتا ہے کہ ”امی کہتی ہیں جو کہتا ہے وہی ہوتاہے“ ۔سناہے کہ کسی زمانے میں رشوت لینے والا منہ چھپاتا پھرتا تھا۔ اب یہ کام وہ کرتا ہے جو روشوت نہ لیتا ہو۔ سرکاری ملازمین ڈھٹائی سے اپنی کرپشن کی داستانیں سناتے نظر آتے ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ آخرسرکاری محکموں میں کرپشن کا آغاز کب ہوتا ہے۔ اس کا جواب ایک حالیہ رپورٹ سے مل جاتا ہے ۔سرکاری محکموں میں بھرتی کے پہلے دن ہی سے کرپشن کا آغاز ہو جاتا ہے ۔ اس کی وجہ جعلی بھرتیا ں ہیں رپورٹ کے مطابق 2012 اور2013 کے درمیان محکمہ بلدیات سندھ میں سفارش اور رشوت کے بل پر ہزاروں افراد بھرتی ہوئے۔ یہ افراد ٹی ایم اوز، ٹاوٴن افسر، اسٹنٹ، جونئیر کلرک، ڈرائیور، چوکیدار، چپراسی ، کمپیوٹر آپریٹر سے لے کر خاکروب تک کی آسامیوں پر بھرتی کیے گے۔
یاد رہے کہ ان بھرتیوں کے متعلق انکشاف ہوا تھا کہ 13 ہزار سے زائد افراد کو جعلی طریقے سے بھرتی کیا گیا۔جس پر وزیراعلیٰ انسپکشن ٹیم نے تحقیقات کا آغاز کیا اور ابتدا میں ہی بلدیات میں 600 سے زائد افراد کی بھرتیوں کی جعلی اور بوگس قرار دے دیا۔ اس سلسلے میں کہا جاسکتا ہے کہ بھلا خاکروب کی سطح پر جعلی بھرتیوں سے کسی کو کیا ملے گا لیکن یہ بات نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ گریڈ 20کے افسر سے لے کر خاکروب تک ایک شخص کا ایک ہی ووٹ ہوتا ہے ۔
عموماََ دوجہ چہارم کے ملازمین کا ووٹ زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ ووٹ دینے کے باوجود سوال کی جرات نہیں رکھتے۔ محکمہ بلدیات سندھ میں ہونے والی یہ بوگس بھرتیاں کئی اضلاع میں ہوئی ہیں ۔یہ صرف ایک مثال ہے رونہ صورت حا ل تو یہ ہے کہ جس محکمہ کی جانب دیکھیں وہیں سے شکایات سامنے آنی لگتی ہیں ۔ پنجاب میں تو سیکرٹریٹ کے ملازمین بتاتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی جانب سے باقاعدہ فہرست تک بھیجی جاتی رہی ہے ۔
گزشتہ دور حکومت میں ایک وزیر کی نوکریاں بانٹنے والی مشین تک کہا جاتا تھا۔ وزیر موصوف اب مفرور ہو کر بیرون ملک جاچکے ہیں لیکن ان کی نوکریاں لینے والے آسمان سے گر کر کھجور میں اٹک چکے ہیں اور کھجور کے درخت کے نیچے شیر بیٹھا ہے ۔سند سے لے کر پنجاب تک ایک ہی کہانی دوہرائی جار ہی ہے۔ صوبہ بدلتے ہی کردار بدل جاتے ہیں لیکن پلاٹ وہی رہتا ہے۔
سپریم کورٹ میں پنجاب پولیس میں بوگس بھرتیوں کا کیس چل تو آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا نے بھی اعتراف کر لیا کہ انتظامی کو تاہیوں سے بوگس بھرتیاں ہوئی ہیں۔ لاہور سمیت متعدد اضلاع میں 136 سے زائد بوگس کا نسٹیبل بھرتی ہوئے ہیں۔ صورت حال اس قدر بھیانک ہے کہ جسٹس اعجاز احمد چودھری کی سربراہی میں فل بیچ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بوگس بھرتیوں کے ذریعے دہشت گرد اور ”را“ کے ایجنٹ پولیس میں شال ہو گے تو کون ذمہ دار ہوگا؟ یہ دونوں کیس محض بوگس بھرتیوں کی ہلکی سی جھلک ہیں ورنہ یہاں ہر محکمہ ہی ایسی کہانیاں لیے ہوئے ہیں سوال یہ ہے کہ اگر اسی طرح بوگس بھرتیاں ہی کرنی ہیں تو پھر طالب علموں کے لیے بھی کوئی اعلان فرما دیا جائے۔
کای ہی اچھا ہو کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور رشوت دینے اور تعلقات بنانے کے طریقے سکھائے جائیں۔ کیونکہ یہ طالب علم تمام تر قابلیت اور ذہانت کے باوجود بوگس بھرتیوں سے ہار جاتے ہیں۔ ریاست اگر آئین پر عمل کرتے ہوئے انہیں مفت تعلیم مہیا نہیں کر سکتی تو کیا ملازمت کے لیے مساوی حق فراہم کرنے سے بھی قاصر ہے؟ ہمارے سیاسی نعرے آج بھی زندہ ہیں لیکن تعلیم حاصل کر کے بیروزگاری کی زندگی گزارنے والے طالب علم ہر سال خودکشی کر لیتے ہیں کیونکہ ان کا حق جعلی بھرتیوں کے ذریعے ختم کردیا جات ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-10-20

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان