بند کریں
جمعہ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سندھ ون۔ سندھ ٹو
الطاف حسین کی پرانی خواہش نئے لبادے میں
ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین کی تقریر نے ایک بار پھر ااشتعال انگیزی کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے سندھ کو تقسیم کرنے اور سندھ ون۔ سندھ ٹوکے فامولاے کو اپنانے کی بات کی
مصنف : سید بدر سعید

بے سین:
بلدیاتی انتخابات کا موسم شروع ہوتے ہی لگ بھگ ہر سیاسی جماعت ”پوائنٹ سکورنگ“ کے چکر میں نظر آرہی ہے لیکن ایم کیو ایم نے نیا تنازعہ کھڑا کر کے توجہ حاصل کر نے کی کوشش کی ہے۔ الطاف حسین نے اپنی حالیہ تقاریر میں سندھ ون۔ سندھ ٹو فامولا کا مطالبہ کر کے وطن عزیز میں اشتعال انگیزی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ دوسری جا نب انہوں نے پرویز مشرف کے نام پر ” مہاجر کارڈ“ کھیلنے کی بھی کوشش کی۔

اس منظر نامے میں کئی سوال جنم لے رہے ہیں۔ ایم کیو ایم خود کو جمہوری جماعت کے طور پر متعارف کروا کر آمر کی پشت پناہ کررہی ہے جبکہ خود کو قومی سطح کی جماعت کہلوا کر سندھ تک سکڑتی جارہی ہے بلکہ اب سندھ سے بھی آدھے سندھ کی بات کی جارہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک ہم لسانیت اور صوبائیت کا زہر قوم کی رگوں میں انڈیلتے رہیں گے؟
ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین کی تقریر نے ایک بار پھر ااشتعال انگیزی کو جنم دیا ہے۔
انہوں نے سندھ کو تقسیم کرنے اور سندھ ون۔ سندھ ٹوکے فامولاے کو اپنانے کی بات کی ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ان کی بات نہ مانی گئی تو بات ملک تک بھی جا سکتی ہے۔ الطاف حسین کی تقریر کے بعد پاکستان بھر کے مختلف طبقہ ہائے فکر کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ اگر الطاف بھائی کے ماضی پر نظر ڈالیں تو واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کے حوالے سے ان کی یہ سوچ نئی نہیں ہے۔
ایم کیو ایم پر ماضی میں” جناح پور“ کی سازش کا الزام بھی لگا۔ ان پر لگنے والے الزامات میں جلسہ عام میں پاکستان کا جھنڈا جلانے کا الزام بھی موجود ہے۔ ٹی وی بیچ کر کلاشنکوف خریدنے کا حکم عام بھی جمہوری کلچر میں اچھا نہیں سمجھا جاتا ۔ ایک لمحہ کیلئے ایم کیو ایم اور الطاف حسین پر لگائے جانے والے ان تمام الزامات کو محض الزام قرار دے دیا جائے اور اس یقین کے ساتھ آگے بڑھا جائے کہ اب ہمیں ماضی کا ہر باب بند کر کے تعمیر وطن کیلئے آگے کی جانب بڑھنا ہے ۔
ممکن ہے کہ یہ الزامات سچ نہ ہوں لیکن صورتحال کو فریم میں فٹ کریں تو لگتا ہے کہ جیسے ایم کیو ایم اب بھی اسی نظریہ کو فروغ دے رہی ہے جسے وہ خود پر الزام قرار دیتی ہے۔ الطاف حسین کی مسلسل تقاریر کا جائزہ لیں تو لگ بھگ ہر تقریر میں کراچی یا سندھ کو الگ کرنے کا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ رویہ پاکستان سے محبت کرنے والوں کیلئے انتہائی تکلیف کا باعث ہے ۔
الطاف حسین کی تقاریر کے بعد پاکستان میں موجود ایم کیو ایم کے رہنما صفائیاں اور وضاحتیں دیتے نظر آتے ہیں۔
ایم کیو ایم نے چند سال قبل علاقائی جماعت سے ملکی جماعت بننے کا سفر شروع کیاتو اسے کئی طبقوں نے ملک و قوم کیلئے خوش آئند قرار دیا ۔ وجہ یہ تھی کہ ایم کیو ایم پر تشد کے رجحانات کو ہوا دینے اور خود بھی تشدد پسند جماعت ہونے کے الزامات تھے۔
یہ بھی کہا جاتا تھا کہ ایم کیو ایم خصوصاََ کراچی، حیدر آباد ار عموماََ سندھ تک کی سوچ رکھتی ہے اور اسے خوف لاحق ہے کہ کراچی ایم کیو ایم کے ہاتھ سے نکل گیا تو یہ جماعت اپنی حیثیت کھو بیٹھے گی۔ ایسے ماحول میں جب ایم کیو ایم نے پورے پاکستان سے اپنے نمائندے کھڑے کرنے کا اعلان کیا تو امید بندھی کہ شاید قومی دھارے میں شامل ہونے کے بعد ایم کیو ایم کی قیادت محتاط ہوجائے گی۔
یوں لسانیت اور صوبائیت کی بجائے پاکستانیت کی آواز اٹھے گی جس سے نہ صرف تشدد کی لہر کا خاتمہ ہوگا بلکہ یہ جماعت غیر ذمہ دارانہ بیانات سے بھی گریز کرے گی۔یہ ایک اچھی تبدیلی تھی لیکن بدقسمتی سے ایم کیو ایم قوم قومی دھارے میں شامل ہونے کی بجائے دوبارہ پرانے کول میں سمنٹنا شروع ہوگئی ہے۔
الطاف بھائی کی حالیہ تقاریر کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے پرانے طرز فکر کو ہی آگے بڑھا رہے ہیں جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کا عنصر اب محض نام کی حد تک رہ گیا ہے ۔
وہ قوم کو دھوکہ میں رکھ کر جذباتی ووٹ بینک حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بنیادی طور پر متحدہ قومی موومنٹ کے رنہما بلدیاتی انتخابات میں مہاجر کارڈ کھیلنا چاہتے ہیں۔ ایم کیو ایم خود کو جمہوری جماعت کہتی ہے لیکن پرویز مشرف یعنی آمر کے دور میں یہ جماعت کل کر ان کا ساتھ دیتی رہی اور امراعات حاصل کرتی رہی۔ اسی طرح ایم کیو ایم جمہوری جماعت کے دعویٰ کے ساتھ ساتھ آمر کے دفاع میں بھی کھڑی نظر آتی ہے ۔
ایم کیو ایم کے لیڈر کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کو مہاجر ہونے کی وجہ سے سزا دی جارہی ہے، سراسر جھوٹ اور قوم کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ وہ ایسے بیانات مہاجر کارڈ استعمال کرنے کیئے داغ رہے ہیں تاکہ بلدیاتی انتخابات میں جذبات کا سہارا لیا جاسکے۔
جنرل مشرف نے جو کیا انہیں اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے کہ یہی اصل بہادری ہے۔ ان کا معاملہ عدالت میں ہے۔
عدالت نے ہی حکومت سے فیصلہ کرنے کا کہا تھا کہ حکومت عدلیہ کو بتائے، جنرل مشرف کے خلاف غداری کا کیس چلانا ہے یا نہیں۔ جس پر حکومت نے پہلے عدلیہ سے وقت لیا اور پھر اپنی رائے دے دی۔ الطاف حسین کو غالباََ یہ بھی علم نہیں کہ جنرل مشرف کے دور میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی بھی کھل کر پرویز مشرف کے حق میں بیانات دے رہے ہیں۔ اتفاق سے چودھری برادران بھی مہاجر نہیں ہیں اور ان کا تعلق پنجاب سے ہی ہے۔
اس لئے یہ کہنا کہ جنرل مشرف کے خلاف کارروائی مہاجر ہونے کی وجہ سے کی جارہی ہے، لاعلمی کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر اشتعال انگیزی پھیلانے کی سازش ہوسکتی ہے۔ اسے عدلاتی عمل میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ الطاف حسین قومی سطح کے راہنما ہونے کے دعویدار ہیں تو انہیں اپنی تقاریر اور بیانات میں سے اشتعال انگیزی ، غیر ذمہ داری کا عنصر ختم کرنا ہوگا۔
جب الطاف حسین کراچی کو الگ کرنے یا سندھ ٹو بنانے کے ساتھ ساتھ بات ملک تک لے جانے کا کہتے ہیں تو یقینا وطن عزیز کیلئے جانیں قربان کرنے والوں کے خاندانوں کو شدید صدمہ پہنچتا ہے۔
الطاف حسین کو لندن میں قتل اور منی لانڈ رنگ کے مقدمات میں تحقیقات کا سامنا ہے۔ وہ اس حوالے سے اپنی تقاریر میں بھی بار بار اعلانات کر چکے ہیں غالباََ انکا خیال ہے کہ وہ ایک ایسے عالمی راہنما ہیں جنہیں پاکستان اسٹیبلشمنٹ ہی نہیں بلکہ لندن کی اسٹیبلشمنٹ بھی مروانا چاہتی ہے دوسری جانب الطاف حسین ہی نہیں ان کی جماعت کا کوئی قابل ذکر لیڈر بھی پاکستان کی وزارت عظمیٰ یا صدارت کے منصب تک نہیں پہنچ پایا۔
اگر زمینی حقائق کا جائزہ لیں تو ایم کیو ایم ابھی بھی قومی اسمبلی کی تین بڑی جماعتوں میں شامل نہیں ہے۔ پاکستان کے تین صوبوں میں اسے خاطر خواہ نمائندگی حاصل نہ ہو پائی ہے جبکہ سندھ میں بھی ایم کیو ایم مکمل نمائندگی حاصل نہیں کرسکی۔ اس کا ووٹ بینک چند علاقوں یا شہروں میں موجود ہے۔ جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اب الطاف حسین انہیں علاقوں کو سندھ ٹو بنوانا چاہتے ہیں۔ اس مطالبہ کا اصل مقصد کیا ہے وہ سارے پس منظر کو دیکھنے سے واضح ہوجاتا ہے۔

تاریخ اشاعت: 2014-01-21

(2) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان