بند کریں
بدھ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
شہداء ستمبر کی یادوں کے چراغ
وطن عزیز کی حرمت‘ عزت‘ تکریم , سربلندی اور سبز ہلالی پرچم کی حفاظت کیلئے لڑتے لڑتے جان‘ جان آفرین کے سپرد کرنا وہ عدیم المثال کارنامہ ہے جس پر قوم دھرتی کے فرزندوں پر ہمیشہ ناز کرتی ہے۔

ایم ریاض اختر:
وطن عزیز کی حرمت‘ عزت‘ تکریم , سربلندی اور سبز ہلالی پرچم کی حفاظت کیلئے لڑتے لڑتے جان‘ جان آفرین کے سپرد کرنا وہ عدیم المثال کارنامہ ہے جس پر قوم دھرتی کے فرزندوں پر ہمیشہ ناز کرتی ہے۔یہ درست ہے کہ نشان حیدر کا اعزاز پانے والے شہداء کی یادوں کے چراغ ستمبر میں زیادہ شدت سے روشن ہو جاتے ہیں جب ہر پاکستانی اپنے شہداء کو عقیدت و محبت کا خراج پیش کرتا ہے۔

اللہ کریم ان کے درجات بلند کرے ذیل میں ان دس شہداء کی زندگی پر طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔
۱۔ کیپٹن راجہ محمد سرور شہید (10 نومبر 1910 ء 27 جولائی 1948 ء)
آپ کا تعلق پنجاب کی سب سے بڑی تحصیل گوجرخان سے ہے آپکی ولادت گوجرخان (موضع سنگھوری) میں ہوئی۔ آپ راجہ محمد حیات خان کے سب سے چھوٹے فرزند ہیں۔ آپ نے کچھ عرصہ لائل پور‘ تاندلیانوالہ میں بھی گزارا۔
فوج میں جانے کی خواہش بچپن سے تھی۔1941 ء میں آپ نے رائل انڈین آرمی میں بطور جونیئر کمشنڈ آفیسر ترقی پائی۔ 27 اپریل 1944 ء کو آپ لیفٹیننٹ بن گئے۔ 1948۔ 27 جولائی 1948 ء کو بھارتی گولہ باری میں شدت آ گئی۔ کیپٹن سرور نے پیش قدمی کرتے ہوئے اپنے ساتھی فرمان علی کی برین گن خود پکڑ لی اور دشمن پر دیوانہ پور گولیاں برسانے لگے۔ پلک جھپکتے ہی انہوں نے کئی بھارتیوں کو جہنم رسید کر دیا۔
حق و باطل کے اس معرکہ میں آپ 27 جولائی کو شہادت کے رتبے پر سرفراز ہوئے۔
2۔ میجر طفیل محمد شہید( 22 جولائی 1914 ء ‘ 7 اگست 1958 ء)
میجر طفیل محمد پاکستان کی دوسری شخصیت ہیں جنہیں نشان حیدر سے نوازا گیا۔ میجر طفیل کا تعلق دیر اور بہادر خاندان سے ہے آپ کے خاندان کے بیشتر لوگ فوج سے منسلک رہے۔ آپ کی پیدائش 22 جولائی 1914 ء کو ہو شیار پور میں ہوئی۔
جب آپ 18 سال کے تھے تو آپ نے 1932 ء میں فوج میں شمولیت اختیار کی۔ 1947 ء میں پاکستان بننے پر آپ کیپٹن کے عہدے پر فائز تھے۔ اگست 1958 ء بھارت کے ساتھ جنگی معرکہ میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب آپ بھارتی فوج کی گولیوں کی زد میں آ گئے۔ آپ نے اپنے ہواس قائم رکھے اور ان پر جوابی دستی بم پھینک کر دشمن کی مشین گن کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش کر دیا۔ بہادری کے اسی معرکے میں آپ نے جان جان آفرین کے سپرد کر دی سات اگست 1958 ء کو آپ شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہو گئے لیکن اس سے قبل لکشمی پور میں ایک مرتبہ پھر پاکستان کا پرچم لہرا رہا تھا۔

3۔ میجر عزیز بھٹی شہید( 6 اگست 1923 ء 12 ستمبر 1965 ء)
میجر عزیز بھٹی کی قابلیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1950 ء میں آپ نے فوج میں شامل ہونے کے بعد دو سالہ تربیتی کورس مکمل کیا اور سیکنڈ لیفٹیننٹ بن کر پنجاب رجمنٹ کا حصہ بنے پھر 1951 ء میں کمپنی کمانڈر بنا دیئے گئے۔ کشمیر کے محاذ پر پاک بھارت جنگ زوروں پر تھی۔ ستمبر 1965 ء میں بھارتی فوج نے لاہور کی طرف مسلسل پیش قدمی تو اسے روکنے کا ایک ہی حل تھا کہ بی آر بی لنک کنال کا پل توڑ دیا جائے۔
آفرین ہے میجر عزیز بھٹی شہید پر جنہوں نے بارہ ستمبر 1965 ء تک محض 200 سپاہیوں کے ساتھ 7 روز تک بھارتی فوج کی پیش قدمی کو روکے رکھا اور وطن پر اپنی جان قربان کر کے دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا۔
4۔ راشد منہاس شہید(17 فروری 1951 ء 20 اگست 1971 ء)
پاکستان کی عسکری تاریخ میں چوتھا نشان حیدر پانے والے سب سے کم عمر فوجی افسر تھے۔ جن کی اس وقت عمرمحض 20 برس تھی۔
راشد کے والد کا اپنے بھائیوں میں نمبر چوتھا تھا۔ آپ 17 فروری 1951 ء کو پیدا ہوئے۔ 1968 ء میں آپ نے ائرفورس جائن کی۔ 15 اگست 1971 ء کو پائلٹ آفیسر بنے۔ یہی آپ کا بچپن کا خواب تھا۔ 20 اگست 1971 ء کو رسالپور اکیڈمی سے تربیت یافتہ کیڈکس کی 3 پروازوں پر روانہ ہوئے تو راشد منہاس نے اپنے طیارے کو رن وے پر دوڑانا شروع کیا اس دوران راشد کے انسٹرکٹر مطیع الرحمان اچانک طیارے میں سوار ہو گیا جو حساس نوعیت کی دستاویزات سمیت طیارے کو دشمن ملک کی طرف لے جانا چاہتا تھا۔
چنانچہ نوجوان راشد منہاس نے خطرے کی بو سونگھ کر طیارے کا رخ زمین کی طرف کر دیا اور چند ہی منٹوں بعد مذموم منصوبہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ناکام ہو گیا۔ اس طرح راشد منہاس نے جان کی قربانی دے کر قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔
5۔ میجر محمد اکرم شہید( 4 اپریل 1938 ء 13 دسمبر 1971 ء)
میجر محمد اکرم کا سپاہ گر خاندان سے تعلق تھا۔ آپ چار اپریل 1938 ء کو ڈنگہ گجرات میں پیدا ہوئے۔
1951 ء میں آپ نے فوج میں شمولیت حاصل کی۔ 1965 ء میں آپ کیپٹن اور 1970 ء میں میجر بنے۔ 1971 ء کی پاک بھارت جنگ میں 13 دسمبر کو بھارت نے تانگیل کے علاقہ میں اپنی چھاتہ بردار فوج اتاری۔ اس محاذ پر پاک فوج کی کمان میجر محمد اکرم کے ہاتھ میں تھی۔ یہ جنگ کا 21 واں روز تھا۔ اس سیکٹر میں میجر صاحب کی قیادت میں پاکستانی شاہینوں نے بھارتی خوابوں کو چکنار چور کیا۔
اس دوران میجر محمد اکرم بھی شہید ہو گئے۔
6۔ میجر شبیر شریف شہید (28 اپریل 1943 ء ۔ 6 دسمبر 1971 ء)
میجر شبیر شریف کے والد فوجی تھے۔ اس حوالے سے فوج سے محبت ان کے خون میں شامل تھی1964 ء میں آپ نے پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول سے کمیشن حاصل کیا۔ بھارتی فوج نے 3 دسمبر 1971 ء کو مغربی پاکستان کی سرحدوں کی محاذ جنگ میں تبدیل کر دیا مگر پاکستانی فوجیوں نے بھارت کی پیش قدمی روکے رہی۔
6 دسمبر کو آپ نے کمال مہارت سے بھارتیوں کا ٹھیک ٹھاک نقصان کیا۔ اس دوران ایک گولہ آپ کے سینے پر لگا اور آپ شہید ہو گئے۔
7۔ سوار محمد حسین شہید (18 جون 1948 ء ۔ 10 دسمبر 1971 ء)
سوار محمد حسین شہید کا تعلق بھی گوجر خان سے ہے۔ 65 کی جنگ کے بعد آپ نے فوج میں بطور سپاہی شمولیت اختیار کی۔ 5 دسمبر 1971 ء کو پاک بھارت جنگ زوروں پر تھی۔ اس جنگ میں آپ ڈرائیور بھی تھے اور سپاہی بھی۔
۔۔!!! بھارتی فوج نے پاکستانی مورچہ ”کجگل“ پر قبضہ کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ سوار محمد دیگر ساتھیوں کے ہمراہ اس مورچہ پر ڈٹ گئے اس دوران دشمن کی ایک مشین گن کی گولیاں آپ کو لگیں اور آپ شہید ہو گئے۔
8۔ لانس نائیک محمد محفوظ شہید(1942 ء ۔ 16 دسمبر 1971 ء)
راولپنڈی کے مضافات میں ایک گاوٴں ”پنڈ ملکاں“ ہے جہاں 1942 ء میں لانس نائیک محمد محفوظ پیدا ہوئے۔
آپ کی شہادت کے بعد یہ بستی آپ کے نام سے منسوب ہے۔ آپ نے 1961 ء میں میٹرک کیا اور پھر فوج میں بطور سپاہی بھرتی ہو گئے۔ مشرقی پاکستان میں 1971 ء میں اناری سیکٹر کے موضع سانکے اور دہرا کے مقام پر خونریز جنگ ہوئی۔ پاک فوج کی 15 پنجاب رجمنٹ نے پل کنجری والا پر قبضہ کر لیا۔ اسی محاذ پر لانس نائیک بھارتی گولہ باری سے شدید زخمی ہوئے۔ مگر آپ آگے بڑھتے ہوئے دشمن کے مورچے تک گئے اور گن مین کی گردن توڑ دی۔
ایک بزدل بھارتی فوجی نے پشت سے وار کر کے آپ کو شہید کر دیا۔
9۔ کیپٹن کرنل شیر خان شہید(یکم جنوری 1970 ء ۔ 29 جون 1999 ء)
کیپٹن کرنل شیر خان کا خاندان صوبہ خیبر پختونخوا میں ضلع صوابی میں آباد ہے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم گاوٴں سے حاصل کی۔ آپ نے 8 نومبر 1992 ء کو آپ بطور کیڈٹ پاکستان ملٹری کاکول چلے گئے۔ یکم جنوری 1999 ء کو کیپٹن کرنل شیر خان کو ناردرن لائٹ انفنٹری کی ایک یونٹ میں تعینات کر دیا گیا۔
یونٹ محاذ کشمیر پر بھارت کے خلاف نبردآزما تھا ۔ جہاں مئی 1999 ء بھارت کی جانب سے زبردست گولہ باری ہوئی۔ آپ نے پوری منصوبہ بندی سے حملہ کر کے آن واحد میں دشمن کے 40 سے زائد سپاہی ہلاک کئے کئی زخمی ہوئے۔ بھارت کا اس چیک پوسٹ پر قبضہ کا خواب چکنا چور ہو گیا۔ آپ بھارتی فوجی کی مشین گن سے شدید زخمی ہوئے اور اسی پوسٹ پر شہید ہو گئے۔
10۔ حوالدار لالک جان (1967 ء تا 7 جولائی 1999 ء)
آپ 1967 ء میں اس علاقہ میں پیدا ہوئے جو سطح سمندر سے آٹھ دس ہزار کی بلندی پر ہے۔
شمالی علاقہ جات کے ایک چھوٹے سے گاوٴں ”ہندور“ کا یہ فوجی مئی 1999 ء کے دوران چھٹی پر اپنے گھر والوں سے ملنے آیا۔ ابھی چھ دن باقی تھے کہ کارگل کے محاذ پر جنگ شروع ہونے کی خبر ملی۔ جون 1999 ء میں دشمن کی ایک پوری بٹالین نے اس چوکی پر زبردست حملہ کر دیا۔ چھ جولائی 99 ء کو پھر دشمن نے حملہ کیا گیا۔ ہر بار اسے بھرپور جواب دے کر خاموش کیا گیا۔ 7 جولائی 1999 ء کو تین اطراف سے حملہ ہوا۔ حوالدار لالک جان اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وطن کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ آپ نشان حیدر پانے والے دسویں جانباز ہیں۔

تاریخ اشاعت: 2014-09-06

(0) ووٹ وصول ہوئے