بند کریں
ہفتہ فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
شہریوں کی محافظ پولیس
دہشت گردوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔۔۔۔۔۔فوج یا رینجرز کسی بڑے آپریشن میں تو ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں لیکن شہروں اور دیہات میں پولیس کو ہی عوام کو دہشت گردوں سے محفوظ رکھنا ہوتا ہے
مصنف : سید بدر سعید
پاکستان کو دہشت گردی کای جس لہر کا سامنا ہے وہ صرف قبائلی علاقوں تک محدود نہیں دہشت گرد شہروں اور دیہات میں بھی کارروائیاں کررہے ہیں۔ یہاں عوام کو محفوظ رکھنے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی ذمہ داری پولیس پر ہوتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ پولیس ناقص تربیت، غیر معیاری اسلحہ، فنڈ کا غلط استعمال اور کرپشن جیسے مسائل کی وجہ سے تربیت یافتہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی اہل ہی نہیں ہے۔
جو کچھ محکمہ پولیس کی فائلوں میں لکھا جاتا ہے اگر وہ عملی طور پر بھی نظر آنے لگے تو حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان ان دنوں دہشت گردی کی جس لہر سے گزررہا ہے اس کا مقابلہ پولیس کو ہی کرنا ہے۔ فوج یا رینجرز کسی بڑے آپریشن میں تو ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں لیکن شہروں اور دیہات میں پولیس کو ہی عوام کو دہشت گردوں سے محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔
دہشت گرد اگر شہر میں داخل ہوں تو وہاں بھی ناکوں پر ان کا سامنا پولیس سے ہی ہوتا ہے۔ اسی طرح شہر میں داخل ہونے اور کارروائیاں کرنے والوں کی تلاش اور انہیں گرفتار کرنے کا فرض بھی پولیس کا ہی ہے۔ دہشت گردی کی اس جنگ میں شہریوں کی جان و مال کی محافظ پولیس ہی ہے لیکن یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا پولیس ان تربیت یافتہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ اگر ہم پولیس کی موجودہ صورت حال اور اب تک کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت جس پولیس کو سونپی گئی ہے وہ نہ تو اس قدر جدید اسلحہ سے لیس ہے کہ خطرناک دہشت گردوں کا مقابلہ کرسکے اور نہ ہی اسے اس سطح کی تربیت دی جاتی ہے۔
اس حوالے سے خود پولیس اہلکاروں کی سستی، کاہلی اور غفلت بھی بڑی وجہ ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب پولیس کے 50فیصد پولیس جوان ایلیٹ فورس ٹریننگ چھوڑ کر بھاگ گئے۔ جہاں حب الوطنی اور جذبہ خدمت کی بجائے طاقت، اختیار اور رشوت کی غرض سے بھرتی ہونے والوں کی لائنیں لگی ہوں میرٹ کی جگہ سفارش کلچر چلنے لگے وہاں اسی طرح کی رپورٹس منظر عام پر آتی ہیں۔

پولیس کے شہریوں کی حفاظت میں ناکام رہنے کی متعدد وجوہات ہیں۔ ان میں سرفہرست تو اعلیٰ افسروں کے ساتھ ساتھ نچلے درجے کے اہلکاروں تک اکثریت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ اور طاقت کا گھمنڈ ہی ہے۔ لیکن بعض ایماندار افسروں اور اہلکاروں کو بھی کئی شکایات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام کے تحت بعض حوالوں سے پولیس کے بھی ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔
اکثر تھانے پرانے روایتی نظام کے تحت کام کررہے ہیں جبکہ اب آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے ۔ پولیس کے اندر باقاعدہ انٹیلی جنس کا نظام ایسا نہیں کہ دپشت گردوں کی شہر آمد پر ان کے ٹھکانوں کا بروقت علم ہوسکے اور اس کے خلاف بروقت کارروائی عمل میں آسکے۔ اسی طرح آبادی کے تناسب سے اس کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے۔ اس وقت 13سو شہریوں کے حصہ میں صرف ایک اہلکار آتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ لاہور جیسے شہر میں بھی دن دیہاڑے ڈاکو راج قائم ہے۔ کم نفری اور غیر معیاری اسلحہ سمیت دیگر انتظامی کوتاہیوں پر اہلکاروں سے زیادہ افسروں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ انہی افسروں پر پولیس فنڈ کا بڑ احصہ خرچ ہوتا ہے لہٰذا اہلکار کو اسی حالت میں ڈیوٹی پر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ پویس کے بعض افسروں کا یہ بھی کہناہے کہ پولیس کے پاس مکمل اختیارات نہیں ہیں جن کی وجہ سے مجرموں کو فائدہ ہوتاہے۔
اگر پولیس کو سو فیصد طاقت استعمال کرنے کی اجازت دی جائے تو چند ہی روز میں 50فیصد تک جرائم کا خاتمہ ممکن ہے۔ اس حوالے سے دیگر بہت سے طبقوں کے تحفظات موجود ہیں۔ اس سے انکار ممکن نہیں کہ کہیں نہ کہیں پولیس افسروں اور اہلکاروں میں حب الوطنی، ایمانداری اور بہادری کا عنصر ملتا ہے لیکن اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پولیس موجودہ حالات کا مقابلہ کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔
محکمہ پولیس مسلسل بھاری فنڈز وصول کررہا ہے اور اضافی فنڈز کیلئے بھی سمریاں بھیجی گئی ہیں۔ اگر پولیس افسروں کی جانب سے تیار کردہ فائلوں کا جائزہ لیا جائے تو یوں لگتا ہے جیسے محکمہ تیزی سے ترقی اور کامیابی کا سفر کررہا ہے۔ ان فائلوں میں نہ صرف یہ کہ جدید اسلحہ کی خریداری، جدید تربیت کا ذکر ملتا ہے بلکہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مجرموں کا ریکارڈ اکٹھا کرنے کیلئے بھی جدیدی سسٹم متعارف کروایا جارہا ہے۔
دوسری جانب زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس کو کرپشن سے پاک کیا جائے اور محکمانہ سطح پر ہونے والی بڑی کرپشن کا سراغ لگا کر بڑے مگرمچھوں کی نشاندہی کی جائے۔ اعلیٰ طرز زندگی گزارنے والے بڑے افسروں پر بھاری فنڈز خرچ کیے جاتے ہیں جبکہ عام اہلکا جو کہ عوام کی حفاظت کیلئے شاہراہ پر کھڑا ہوتا ہے اس کے پاس اتنی گولیاں بھی نہیں ہوتیں کہ خود پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو چند منٹوں کیلئے ہی روک سکے۔
صورتحال یہ ہے کہ عوام ہی نہیں عوام اہلکار بھی غیر محفوظ ہوچکے ہیں جبکہ پولیس کے افسر بھاری فنڈ منظور کروا رہے ہیں۔ جس کا براہ راست عوام پر اثر نظر ہی نہیں آتا۔ یہ فنڈ کس کی جیب میں جاتا ہے اس کا بہترین جواب بھی وہی دے سکتے ہیں جو فائلوں میں سب اچھا لکھ کر آگے بڑھانے کے عادی ہوچکے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-06-24

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان